بائبل کا نقطۂنظر
کیا مریم ”خدا کی ماں“ ہے؟
”اَے خدا کی پاک ماں! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں۔ ہماری اپنی ضروریات کی طلبی کے وقت ہماری التجاؤں کو حقیر نہ جان بلکہ ہم کو سب خطروں سے بچا۔ اَے جلالی اور مبارک کنواری۔“
ایسی دُعا اُن لاکھوں مردوں اور عورتوں کے جذبات کا خلاصہ پیش کرتی ہے جو یسوع مسیح کی ماں، مریم کیلئے عقیدت رکھتے ہیں۔ اُن کی نظروں میں وہ ایک مہربان ماں کی حیثیت رکھتی ہے جو اُن کی خاطر خدا سے شفاعت کر سکتی اور کسی نہ کسی طرح اُن کیلئے اُسکی سزاؤں میں لچک پیدا کر سکتی ہے۔
تاہم، کیا مریم واقعی ”خدا کی ماں“ ہے؟
مریم—جس پر خدا کی طرف سے ”فضل ہوا“
بِلاشُبہ مریم پر ”فضل“ ہوا تھا—درحقیقت، آج تک جو بھی عورت اِس زمین پر رہ چکی ہے، اُس پر سب سے زیادہ فضل ہوا ہے۔ (لوقا ۱:۲۸) جبرائیل فرشتہ اُسے دکھائی دیا اور وضاحت کی کہ وہ کتنی متشرف ہوگی۔ ”دیکھ!“ اُس نے کہا۔ ”تُو حاملہ ہوگی اور تیرے بیٹا ہوگا۔ اُسکا نام یسوؔع رکھنا۔ وہ بزرگ ہوگا اور خداتعالےٰ کا بیٹا کہلائیگا۔“ یہ معجزانہ کام کیسے ممکن تھا؟ جبرائیل بیان کو جاری رکھتا ہے: ”رُوحاُلقدس تجھ پر نازل ہوگا اور خداتعالےٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالیگی اور اس سبب سے وہ مولودِمُقدس خدا کا بیٹا کہلائیگا۔“—لوقا ۱:۳۱، ۳۲، ۳۵۔
”دیکھ مَیں خداوند کی بندی ہوں،“ مریم نے کہا، ”میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو۔“ (لوقا ۱:۳۸ جےبی) یوں مریم نے فروتنی کیساتھ اُس الہٰی راہنمائی کیلئے رضامندی کا اظہار کِیا اور وقت آنے پر یسوع کو جنم دیا۔
تاہم، بعد میں کئی صدیوں کے دوران، اُس کے عقیدتمندوں نے اُسے ایک فروتن ”خداوند کی بندی“ کے مرتبے سے بہت بلند کر کے آسمانوں میں انتہائی اثرورسوخ رکھنے والی ”ملکہ ماں“ کے مرتبے کو پہنچا دیا۔ چرچ کے پیشواؤں نے سرکاری طور پر ۴۳۱ س.ع. میں افسس کی کونسل میں اُسکے ”خدا کی ماں“ ہونے کا باضابطہ اعلان کِیا۔ کیا چیز اس تبدیلی کا باعث بنی؟ ایک عنصر کی وضاحت پوپ جان پال دوئم کرتا ہے: ”سچ ہے کہ خدا کی ماں کیلئے حقیقی عقیدت . . . مبارک تثلیث کے بھید میں بہت گہری جڑیں پیوستہ رکھے ہو ئے ہے۔“—کراسنگ دی تھرشہولڈ آف ہوپ۔
لہٰذا، تثلیث پر ایمان رکھنے کا انحصار مریم کو ”خدا کی ماں“ تسلیم کرنے پر ہے۔ تاہم، کیا تثلیث بائبل کی تعلیم ہے؟a براہِمہربانی، غور کریں کہ پطرس رسول نے بائبل میں کیا لکھا۔ اُس نے آگاہ کِیا کہ ”جھوٹے اُستاد . . .لالچ سے باتیں بنا کر تُم کو اپنے نفع کا سبب ٹھہرائینگے۔“ (۲-پطرس ۲:۱، ۳) ایک ایسی بدعت تثلیث کی تعلیم تھی۔ جب ایک بار یہ تسلیم کر لیا گیا تو یہ نظریہ کہ مریم ”خدا کی ماں“ تھی (یونانی: تھیوٹوکوس، بمعنی ”خدا کو پیدا کرنے والی“) بالکل منطقی بات تھی۔ اپنی کتاب دی ورجن، میں جیفری ایش بیان کرتا ہے کہ ”اگر تثلیث کا دوسرا اقنوم، مسیح خدا تھا،“ جیسےکہ تثلیث کے معتقد استدلال کرتے ہیں ”توپھر اُس کی ماں اُس کے انسانی ظہور میں خدا کی ماں تھی۔“
اگر یسوع ہی ”مکمل اور کُل خدا،“ ہوتا جیسےکہ نئی کیٹیکزم آف دی کیتھولک چرچ بیان کرتی ہے، توپھر مریم کو واجب طور پر ”خدا کی ماں“ کہا جا سکتا تھا۔ تاہم، یہ کہنا پڑتا ہے کہ پہلےپہل جب اسے تجویز کِیا گیا تو بہت سے ابتدائی تثلیثپرستوں نے اس تعلیم کو قبول کرنا بہت مشکل پایا—بالکل ویسے ہی جیسے آجکل تثلیث کے خلاف احتجاج کرنے والوں کیلئے ہے۔ اسے ایک ”عقیدتمندانہ ظاہری تناقض کہا گیا ہے، ’وہ جو آسمانوں میں سما نہیں سکتا تھا اُس کے رحم میں سما گیا۔“ (دی ورجن)—مقابلہ کریں ۱-سلاطین ۸:۲۷۔
لیکن کیا یسوع مسیح واقعی ”مکمل اور کُل خدا“ ہے؟ ہرگز نہیں۔ اُس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کِیا تھا۔ اسکی بجائے، اُس نے اپنے باپ کے مقابلے میں اپنی کمتر حالت کو تسلیم کِیا۔—دیکھیں متی ۲۶:۳۹؛ مرقس ۱۳:۳۲؛ یوحنا ۱۴:۲۸؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۷، ۲۸۔
’اُس طریقے سے پرستش کریں جو ذیشعور مخلوق کے شایانِشان ہے‘
تاہم، بائبل مسیحیوں کی حوصلہافزائی کرتی ہے کہ پرستش میں اپنی قوتِاستدلال کو استعمال کریں۔ ہم سے کسی ایسی چیز پر جسے بھید کہا گیا ہے اندھا ایمان رکھنے کا تقاضا نہیں کِیا جاتا۔ اسکی بجائے، پولس رسول بیان کرتا ہے کہ ہمیں ’اُس طریقے سے پرستش کرنی چاہئے جو ذیشعور مخلوق کے شایانِشان ہے۔‘—رومیوں ۱۲:۱، جےبی۔
”اس کی بابت سوچنے کے لئے ہماری کبھی بھی حوصلہافزائی نہیں کی گئی تھی،“ این بیان کرتی ہے، جس کی پرورش ایک کیتھولک کے طور پر ہوئی تھی۔ ”ہم نے کبھی اس پر سوال نہیں اُٹھایا تھا۔ ہم صرف یہ ایمان رکھتے تھے کہ یسوع خدا تھا، اسلئے مریم ’خدا کی ماں‘ تھی—یہ عجیب بات تھی!“ یاد رکھیں، کیٹیکزم آف دی کیتھولک چرچ بیان کرتی ہے کہ ”الہٰی اتحاد“ کا ہر رُکن ”مکمل اور کُل خدا“ ہے۔ وہ بیان کرتی ہے کہ تین الگ خدا نہیں ہیں۔ توپھر، کیا ہمیں یہ ایمان رکھنا چاہئے کہ مریم کے رحم میں زندگی رکھنے والے خلیے تقسیمدرتقسیم ہوئے، تو ”مکمل اور کُل خدا“ اُس جنین کے اندر تھا جو اُس کے حمل کے پہلے مہینے کے دوران لمبائی میں ایک انچ کے چوتھے حصے کے برابر بڑھا تھا اور صرف نامکمل آنکھیں اور کان ہی رکھتا تھا؟
یاد رکھیں کہ جبرائیل فرشتے نے مریم سے کہا تھا کہ بچہ ”خداتعالےٰ کا بیٹا“ اور ”خدا کا بیٹا“ کہلائے گا ”خدا بیٹا“ نہیں۔ درحقیقت، اگر یسوع ہی قادرِمطلق خدا تھا تو جبرائیل فرشتے نے وہی اصطلاح کیوں نہ استعمال کی جو آجکل تثلیث پرست استعمال کرتے ہیں—”خدا بیٹا“؟ جبرائیل نے یہ اصطلاح اس لئے استعمال نہیں کی تھی کیونکہ یہ تعلیم بائبل میں نہیں پائی جاتی۔
بِلاشُبہ، ہم خدا کے کاموں کی بابت اپنی سمجھ میں محدود ہیں۔ لیکن صحائف کی صحیح سمجھ ہمیں یہ ایمان لانے میں مدد دیتی ہے کہ قادرِمطلق خدا، تمام زندگی کا خالق، اپنے پیارے بیٹے، یسوع مسیح کی زندگی کو معجزانہ طور پر، مریم کے رحم میں منتقل کرنے اور پھر اپنی سرگرم قوت، یا رُوحاُلقدس کے ذریعے اُس وقت تک اُسکی نشوونما کی حفاظت کرنے کی قوت رکھتا تھا جبتک مریم یسوع—خدا کے بیٹے کی ماں نہ بن گئی۔
جیہاں، مریم پر اُس شخص کی ماں کے طور پر جو مسیح بنا بہت زیادہ فضل ہوا تھا۔ بائبل کی واضح تعلیم کو—بشمول مریم کی اپنی فروتنی—جو اُسے ”خدا کی ماں“ کا لقب دینے کو خلافِقاعدہ قرار دیتی ہے، تسلیم کرنا اُس کیلئے احترام کی کمی نہیں ہے۔
[فٹنوٹ]
a براہِمہربانی واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کے شائعکردہ شُڈ یو بیلیو اِن دی ٹرینیٹی؟ کو دیکھیں۔