ہمارا نازک سیّارہ مستقبل کی بابت کیا ہے؟
دو سو سال پہلے، امریکی مدبّر پیٹرک ہنری نے کہا: ”مستقبل کا اندازہ لگانے کیلئے میرے پاس ماضی کے علاوہ اَور کوئی طریقہ نہیں ہے۔“ ماضی میں، انسان نے ماحول کو پامال کِیا ہے۔ کیا وہ مستقبل میں کچھ بہتر کریگا؟ ابھی تک تو علامات حوصلہافزا نہیں ہیں۔
اگرچہ کسی حد تک قابلِتعریف ترقی ہوئی ہے، تاہم، اسباب کی بجائے علامات سے نپٹتے ہوئے، یہ بنیادی طور پر سطحی رہی ہے۔ اگر ایک مکان کو گھن لگ گیا ہے تو لکڑی کو رنگوروغن کرنا اسے گرنے سے نہیں بچائیگا۔ صرف ڈھانچے میں بڑی تبدیلی ہی اسے بچا سکتی ہے۔ اسی طرح، انسان جس طریقے سے اس سیّارے کو استعمال کرتے ہیں اُسکو دوبارہ ترتیب دیا جانا چاہئے۔ محض نقصان پر قابو پانا ہی کافی نہیں ہوگا۔
ریاستہائےمتحدہ میں ماحولیاتی کنٹرول کے ۲۰ سال کے نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے، ایک ماہر نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ”ماحول پر حملے کو مؤثر طور پر قابو میں نہیں رکھا جا سکتا، لیکن اسے روکنا ضرور چاہئے۔“ واضح طور پر، آلودگی کو روکنا اس کے مُضر اثرات کا تدارک کرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔ لیکن ایسے نصبالعین کو حاصل کرنا یقینی طور پر انسانی معاشرے میں بنیادی تبدیلی اور بڑے بڑے کاروبار کا تقاضا کرے گا۔ کتاب کیئرنگ فار دی ارتھ تسلیم کرتی ہے کہ زمین کی دیکھبھال کرنا ”آج مروجہ معاشروں، معیشتوں اور اقدار سے غیرمتشابہ“ اشیاء کا تقاضا کرتا ہے۔“ سیّارے کو بچانے کے لئے چند ایک کونسی اقدار ہیں جنہیں بدلنے کی ضرورت ہے؟
بحران کے عمیق اسباب
خودغرضی۔ سیّارے کے مفادات کو ناجائز فائدہ اُٹھانے والے انسانوں سے مقدم رکھنا ماحول کو بچانے کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔ تاہم، اگرچہ یہ امیرانہ طرزِزندگی شاید اِس سیّارے کو آئندہ نسلوں کیلئے تباہ کر رہا ہے تو بھی چند لوگ ہی اِسے ترک کرنے پر آمادہ ہیں۔ مغربی یورپ کے ایک انتہائی آلودہ مُلک—نیدرلینڈز کی حکومت نے جب—آلودگی کے خلاف مہم کے ایک جُز کے طور پر کار کے سفر کو محدود کرنے کی کوشش کی تو وسیع پیمانے پر مخالفت نے منصوبے کو سبوتاژ کر دیا۔ اگرچہ نیدرلینڈز کی سڑکیں دُنیا میں سب سے زیادہ پُرہجوم ہیں، توبھی گاڑیوں والے اپنی آزادی کو ترک کرنے کیلئے بالکل رضامند نہیں تھے۔
ذاتی مفاد فیصلہ کرنے والوں اور عوام دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ سیاستدان ایسی ماحولیاتی پالیسیوں کو عمل میں لانے سے ہچکچاتے ہیں جو اُن کے ووٹوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں، اور صنعتکار ان تجاویز کی مخالفت کرتے ہیں جو منافع اور معاشی ترقی کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔
لالچ۔ جب منافعوں اور تحفظ میں انتخاب کی بات آتی ہے، تو عموماً پیسہ زیادہ بولتا ہے۔ مستحکم صنعتیں بحیثیتِمجموعی آلودگی پر کنٹرول کو کم کرنے یا حکومتی ضوابط سے کنارہکشی کرنے کیلئے اثرورسوخ استعمال کرتی ہیں۔ اوزون پرت کا نقصان اس مسئلے کی مثال پیش کرتا ہے۔ پیچھے مارچ ۱۹۸۸ میں، ایک بڑی یو.ایس. کیمیکل کمپنی کے چیئرمین نے بیان کِیا: ”اس وقت، سائنسی شہادت CFC کے اخراج میں ڈرامائی کمی کی ضرورت کی نشاندہی نہیں کرتی۔“
تاہم، اُسی کمپنی نے، کلوروفلوروکاربنز (CFCs) کی پیداوار کو بالکل بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ رویے میں تبدیلی؟ ”خواہ ماحول کو نقصان پہنچ رہا تھا یا نہیں اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں،“ یونائیٹڈ نیشنز انوائرنمنٹ پروگرام (یواینایپی) کے ڈائریکٹر جنرل مصطفیٰ طالب نے وضاحت کی۔ ”سارا زور اس بات پر تھا کہ کون کس پر [معاشی] سبقت لیجائیگا۔“ اب بہت سے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ اوزون پرت کی بربادی تاریخ میں انسانساختہ ماحولیاتی آفات میں سے ایک بدترین آفت ہے۔
جہالت۔ جوکچھ ہم جانتے ہیں وہ اُس کے مقابلے میں کہیں کم ہے جو ہم نہیں جانتے۔ ”ہم ابھی بھی گرمسیر برساتی جنگلات میں باافراط جاندار چیزوں کی بابت نسبتاً بہت کم جانتے ہیں،“ پیٹر ایچ. راون، ڈائریکٹر آف میسوری بوٹینیکل گارڈن وضاحت کرتا ہے۔ ”ہم حیرانکُن طور پر چاند کی سطح کی بابت—زیادہ—بہت زیادہ جانتے ہیں۔“ فضا کے سلسلے میں بھی یہ سچ ہے۔ کرۂارض کی آبوہوا کو متاثر کئے بغیر ہم کتنی زیادہ کاربن ڈائیآکسائڈ فضا میں چھوڑ سکتے ہیں؟ کوئی نہیں جانتا۔ لیکن جیسےکہ ٹائم میگزین نے بیان کِیا، ”کائنات کو ایسے خطرناک تجربات کے تابع کرنا غیرمحتاط طریقہ ہے جنکا انجام معلوم نہیں اور ممکنہ نتائج پر غور کرنا بھی انتہائی دہشتناک ہے۔“
یواینایپی کے اندازوں کے مطابق، اس دہے کے آخر تک اوزون کا نقصان انجامکار ہر سال جِلد کے کینسر کے ہزارہا نئے مریض پیدا کرنے کا باعث بنیگا۔ فصلوں اور ماہیگاہوں پر اثرات ابھی تک معلوم نہیں، لیکن اُنکے کافی زیادہ ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔
کوتاہنظر نظریات۔ دیگر آفات کے برعکس، ماحولیاتی مسائل خفیتہً دبے پاؤں ہمیں آ دبوچتے ہیں۔ یہ دائمی نقصان پہنچنے سے پہلے متحدہ کارروائی کی کوششوں کو عمل میں لانے کی راہ میں رُکاوٹ ڈالتے ہیں۔ کتاب سیونگ دی پلینٹ ہماری موجودہ حالت کا موازنہ ۱۹۱۲ میں شکستہ ٹیٹانک پر موت کے مُنہ میں جانے والے مسافروں سے کرتی ہے: ”چند ایک امکانی حادثے کے تناسب سے باخبر ہیں۔“ ئنن یقین رکھتے ہیں کہ سیّارے کو صرف اسی صورت میں بچایا جا سکتا ہے اگر سیاستدان اور کاروباری حضرات حقیقت کا سامنا کرتے ہیں اور قلیلاُلمدتی کی بجائے طویلاُلمدتی فوائد کو سامنے رکھ کر سوچتے ہیں۔
نفسانفسی کے رجحانات۔ ۱۹۹۲ میں ارتھ سمٹ کانفرنس میں، ہسپانوی پرائم منسٹر فالیپا گونزلز نے نشاندہی کی کہ ”مسئلہ عالمگیر ہے، اور حل بھی عالمی پیمانے پر ہونے کے علاوہ اَور کچھ نہیں ہو سکتا۔“ یہ بالکل سچ ہے، لیکن ایسے حل تلاش کرنا جو عالمی پیمانے پر قابلِقبول ہوں ایک حوصلہشکن کام ہے۔ ارتھ سمٹ کے ایک یو.ایس. مندوب نے دوٹوک بات کی: ”امریکی طرزِزندگی پر گفتوشنید نہیں کی جا سکتی۔“ اسکی دوسری جانب، بھارتی ماہرِماحولیات مونیکا گاندھی نے شکایت کی کہ ”مغرب میں ایک بچہ اُتنا کھاتا ہے جتناکہ مشرق میں ۱۲۵ بچے کھاتے ہیں۔“ اُس نے دعویٰ کِیا کہ ”مشرق میں تقریباً تمام ماحولیاتی تنزلی مغرب میں صرف ہونے والی مقدار کی وجہ سے ہے۔“ ماحول کو بہتر بنانے کی بینالاقوامی کوششیں اکثر، خودپسند قومی مفادات کے سامنے کمزور پڑ گئی ہیں۔
ان تمام بنیادی مسائل کے باوجود، اعتماد کے ساتھ مستقبل پر آس لگانے کی وجوہات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ہمارے سیّارے کے دفاعی نظام کی استقامت ہے۔
زمین کا صحتیاب ہونا
انسانی بدن کیطرح، زمین میں بھی خود کو صحتمند رکھنے کی حیرتانگیز صلاحیت موجود ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال گزشتہ صدی میں واقع ہوئی۔ ۱۸۸۳ میں انڈونیشیا کا کراکاٹوا کا آتشفشانی جزیرہ ایک بڑے دھماکے کیساتھ پھٹ پڑا جوکہ تقریباً ۵،۰۰۰ کلومیٹر تک سنائی دیا۔ ۲۱ مکعب کلومیٹر کے لگبھگ مادہ آسمان کی طرف اُڑ گیا، اور جزیرے کا دو تہائی سمندر میں غرق ہو گیا۔ نو مہینے بعد زندگی کی واحد علامت ایک خوردبینی مکڑا تھا۔ آج سارا جزیرہ گرمسیر نباتات سے بکثرت بھرا ہوا ہے، جوکہ پرندوں، ممالیات، سانپوں، اور حشرات کی سینکڑوں اقسام کی خوراک ہیں۔ یقیناً اس بحالی کی اعانت اُس حفاظت سے ہوئی ہے جس سے جزیرہ یوجن کولون نیشنل پارک کے حصے کے طور پر استفادہ کرتا ہے۔
انسانی ضیائع کی بھی تلافی کی جا سکتی ہے۔ کافی وقت دیا جائے تو زمین ازخود صحتیاب ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے، کیا انسان زمین کو اُتنی مہلت دینگے جتنی اُسے درکار ہے؟ غالباً نہیں۔ لیکن ایک ایسی ہستی ہے جو ہمارے سیّارے کو خود کو صحتمند بنانے کا وقت دینے کا ارادہ رکھتی ہے—وہ جس نے اسے خلق کِیا۔
”زمین شادمان ہو“
خدا کا کبھی یہ مقصد نہیں تھا کہ انسان زمین کو تباہ کریں۔ اُس نے آدم کو باغِعدن کی ’باغبانی اور نگہبانی‘ کرنے کا حکم دیا تھا۔ (پیدایش ۲:۱۵) ماحول کو محفوظ رکھنے میں یہوواہ کی دلچسپی اُن بہت سے قوانین سے بھی ظاہر کی گئی تھی جو اُس نے اسرائیلیوں کو دیئے۔ مثال کے طور پر، اُنہیں حکم دیا گیا تھا کہ ہر ساتویں سال—سبت کے سال زمین کو کاشت نہ کریں۔ (خروج ۲۳:۱۰، ۱۱) جب اسرائیلیوں نے اُسے اور دیگر الہٰی احکام کو مسلسل نظرانداز کِیا تو انجامکار یہوواہ نے بابلیوں کو مُلک کو برباد کرنے کی اجازت دے دی، جو ۷۰ سال تک کے عرصہ کیلئے جبتک کہ ”مُلک اپنے سبتوں کا آرام پا لے“ ویران پڑا رہا۔ (۲-تواریخ ۳۶:۲۱) اس تاریخی واقع کے پیشِنظر، یہ کوئی حیرانکُن بات نہیں کہ بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا ”زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“ کریگا تاکہ زمین انسان کے ماحولیاتی حملے سے دوبارہ طاقت پکڑ سکے۔—مکاشفہ ۱۱:۱۸۔
تاہم، یہ کارروائی محض پہلا قدم ہوگی۔ جیسےکہ ماہرِحیاتیات بیری کومنر درست طور پر نشاندہی کرتا ہے، سیّارے کی بقا ”کا انحصار یکساں طور پر فطرت کیساتھ لڑائی کو ختم کرنے اور اپنے درمیان لڑائیوں کو ختم کرنے پر ہے۔“ اس نصبالعین کو حاصل کرنے کے لئے، لازم ہے کہ زمین کے لوگ ایک دوسرے کی پرواہ کرنے اور اپنے زمینی گھر کی دیکھبھال کرنے کے لئے ”یہوؔواہ سے تعلیم“ پائیں۔ نتیجے کے طور پر، اُن کی سلامتی ”کامل“ ہوگی۔—یسعیاہ ۵۴:۱۳۔
خدا ہمیں یقیندہانی کراتا ہے کہ زمین کے ماحولیاتی نظاموں کی درستی ہوگی۔ بنجر علاقوں میں اضافے کی بجائے، بیابان ”نرگس کی مانند شگفتہ“ ہونگے۔ (یسعیاہ ۳۵:۱) خوراک کی قلّت کی جگہ ”زمین پر اناج کی کثرت ہوگی۔“ (زبور ۷۲:۱۶) آلودگی کی وجہ سے ختم ہونے کی بجائے زمین کے دریا ”تالیاں بجائینگے۔“—زبور ۹۸:۸۔
ایسی تبدیلی کب ممکن ہوگی؟ جب ”خداوند سلطنت کرتا ہے۔“ (زبور ۹۶:۱۰) خدا کی حکمرانی زمین پر ہر ذیحیات کے لئے خوشی کی ضمانت ہوگی۔ ”زمین شادمان ہو،“ زبورنویس بیان کرتا ہے۔ ”سمندر اور اُس کی معموری شور مچائیں۔ میدان اور جوکچھ اُس میں ہے باغباغ ہوں۔ تب جنگل کے سب درخت خوشی سے گانے لگیں گے۔“—زبور ۹۶:۱۱، ۱۲۔
ایسی زمین جس پر اُسکے خالق کی برکت ہے اور صداقت سے حکومت کی جاتی ہے شاندار مستقبل رکھتی ہے۔ بائبل نتائج بیان کرتی ہے: ”شفقت اور راستی—باہم مل گئی ہیں۔ راستی زمین سے نکلتی ہے اور صداقت آسمان پر سے جھانکتی ہے۔ جوکچھ اچھا ہے وہی خداوند عطا کریگا اور ہماری زمین اپنی پیداوار دیگی۔“ (زبور ۸۵:۱۰-۱۲) جب یہ دن طلوع ہوتا ہے تو ہمارا سیّارہ ہمیشہ کیلئے خطرے سے باہر ہوگا۔
[تصویر]
انسانی بدن کی طرح، زمین بھی خود کو صحتیاب کرنے کی حیرانکُن صلاحیت رکھتی ہے