گریک آرتھوڈکس چرچ ایک منقسم مذہب
یونان میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
یونان میں گریک آرتھوڈکس چرچ کی موجودہ صورتحال، بِلامبالغہ، اُن خلوصدل لوگوں کیلئے بڑی خوفزدہ کر دینے والی ہے جو خدا اور سچائی سے محبت رکھتے ہیں اور جو اُسکی پرستش کیلئے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ افسوسناک عدمِاتحاد، چرچ کے جھگڑالو گروہوں کے مابین فسادات، شرمناک اخلاقی سکینڈلوں کی بھرمار، اور روحانی پیشوائی فراہم کرنے کیلئے مذہب کی نااہلی—جو خود کو ”خدا کے سچے چرچ“ کے طور پر بیان کرتا ہے—بہتیرے یونانیوں کیلئے مایوس اور بیزار ہو جانے کا باعث بن رہے ہیں۔
اِس صورتحال کے باعث عام لوگ دلشکستہ، بلکہ غضبناک ہیں۔ یونان کے مشہور اخبار میں لکھنے والا یونیورسٹی کا ایک پروفیسر گریہزاری کرتا ہے: ”یونان کا چرچ اپنی شدت اور طوالت میں بینظیر بحران سے پاش پاش ہو گیا ہے، جو [چرچ کے] اختیار کو مشکوک بناتا اور اسکے دستورات کی حقیقی قدروقیمت کو ختم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے نقصان جاری ہے۔“
یہ صورتحال کیسے پیدا ہوگئی؟ کیا حکومت کیساتھ قریبی تعلقات جن سے گریک آرتھوڈکس چرچ نے مزہ اُٹھایا واقعی مفید ثابت ہوئے ہیں؟ چرچ اور حکومت کے ان تعلقات کا مستقبل کیا ہے؟ مسیح کی سچی، متحد کلیسیا کے متلاشی لوگوں کیلئے کونسا متبادل موجود ہے؟ آئیے حقائق کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ بائبل اس معاملے میں کیا کہتی ہے۔
اقتدار کے لئے جدوجہد
جب ایک فوجی آمریت نے ۱۹۶۷-۱۹۷۴ کے سالوں کے دوران یونان پر حکمرانی کی تو اس نے اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کی خاطر گریک آرتھوڈکس چرچ کے معاملات میں عملاً مداخلت کی۔ مکمل قبضہ کرنے کی اپنی کوشش میں، فوجی حکمران پارٹی نے پہلی منتخبشُدہ پاک کلیسیائی مجلس—گریک آرتھوڈکس چرچ کی اعلیٰ مجلسِعاملہ—کو توڑ دیا اور ”اہلیت کے مطابق،“ جیسے اسے نام دیا گیا، اپنی کلیسیائی مجلس مقرر کی۔ جب ۱۹۷۴ میں جمہوریت بحال ہوئی تو چرچ کی برسرِاقتدار مجلس کو اسکے مذہبی منشور کی مطابقت میں ازسرِنو منتخب کِیا گیا۔ نتیجتاً، وہ بشپ جنہوں نے حکمران پارٹی کی مقررکردہ کلیسیائی مجلس کو تشکیل دیا تھا معزول کر دئیے گئے اور اُنکی جگہ دوسروں نے لے لی۔
تاہم، ۱۹۹۰ میں منظور ہونے والے حکومت کے ایک بِل کے ذریعے معزولشُدہ بشپوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ دُنیاوی عدالتوں اور انجامکار اعلیٰ انتظامی عدالت، حکومتی کونسل کے سامنے اپنے عہدوں کی بحالی کے لئے درخواست دیں۔ ان میں سے تین پادریوں نے ایسا ہی کِیا، اور انجامکار وہ اپنے مقدمات جیت گئے۔ نتیجتاً، آجکل، یونان میں تین علیٰحدہعلیٰحدہ آرتھوڈکس بشپوں کے بڑے حلقوں میں سے ہر ایک میں دو بشپ ہیں—ایک وہ جسے صرف گریک آرتھوڈکس چرچ نے باضابطہ طور پر مقرر کِیا ہے اور دوسرا وہ جسے حکومت کی کونسل نے باضابطہ طور پر منظور کِیا ہے۔
”جنگجو مسیحی“
سابقہ معزولکردہ بشپوں نے اپنے عہدوں کو دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور وہ باضابطہ چرچ کی طرف سے مقرر کئے جانے والے دیگر بشپوں کے وجود کو تسلیم کرنے سے قطعاً انکار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان میں سے ہر ایک کو ”مذہبی جنونیوں“ کی—جیسےکہ ایک اخبار نے انہیں بیان کِیا—بہت زیادہ حمایت حاصل ہے، جو اپنے بشپ کے مقصد کی پُرجوش نعروں سے حمایت کر رہے ہیں۔ جب ملک بھر میں ٹیلیوژن پر تشدد کے مناظر میں ”جنگجو مسیحیوں“ کی خاصی تعداد کو گرجاگھروں میں زبردستی گھستے، مذہبی مورتوں کی توڑپھوڑ کرتے اور مخالف دھڑوں کے پادریوں اور عام لوگوں پر حملہآور ہوتے دکھایا تو ایسی صورتحال نے مشتعل اور شدید جوابی کارروائیوں کی آگ بھڑکا دی۔ اس طرح کے بیشتر معاملات میں، فسادات پر قابو پانے والی پولیس کو امنوامان بحال کرنے کی غرض سے دخلاندازی کرنی پڑی۔ اکتوبر اور نومبر ۱۹۹۳ میں متموّل اہتھیںچُکھنز میں کیفسیا کی نواحی بستیوں کے مقامی گرجاگھروں میں اور بعدازاں جولائی اور دسمبر ۱۹۹۴ میں لارِسا کے شہر میں واقعات انتہا کو پہنچ گئے، جبکہ اندھے مذہبی جنون کے ہنگامہخیز واقعات نے یونانی عوام کو سراسیمہ کر دیا۔
جولائی ۲۸، ۱۹۹۴ کو، پاک کلیسیائی مجلس کی طرف سے مقررکردہ لارِسا کے بشپ، اِگناتیئس کی مسندنشینی کے دوران نہایت متشدّد تصادم وقوعپذیر ہوئے۔ سرِورق پر جلی حروف میں اس شہسُرخی کو نمایاں کرتے ہوئے کہ ”نئے بشپ کیلئے لارِسا میدانِجنگ بن گیا—قرونِمظلمہ کی نشاۃِثانیہ،“ اخبار ایتھنوس نے بیان کِیا: ”صرف ایک ہی اصطلاح موزوں ہے: قرونِمظلمہ۔ کل لارِسا میں جوکچھ واقع ہوا اُن تمام باتوں کو ممکنہ طور پر کوئی شخص اَور کیسے بیان کر سکتا ہے، . . . گلیکوچوں میں لڑائیاں، ہنگامہخیز تصادم، جسمانی نقصانات؟“
چند ہفتوں کے بعد، مخالفین نے ”ایک سخت تعاقب کے بعد، لوہے کی سلاخیں اور بیٹ استعمال کرتے ہوئے،“ بشپ اِگناتیئس کی کار پر حملہ کِیا۔ ایک صحافی نے حیرت کا اظہار کِیا: ”کیا ایک شخص کیلئے یہ قبول کرنا ممکن ہے کہ اس میں ملوث مُرتکب اشخاص مسیحی احساسات سے معمور ہیں جبکہ اسکے ساتھ ہی ساتھ، اُنکا جنون اُنہیں مجرمپیشہ لوگوں کے مشابہ کام، تشدد کے کام کرنے کی راہ پر ڈال دیتا ہے جو موت کا باعث بن سکتے ہیں؟ . . . اور چرچ کے ممتاز پیشوا ان کاموں کی حوصلہافزائی کرتے ہیں اور ان سے چشمپوشی کرتے ہیں۔“
کرسمس کے موسم میں صورتحال اَور بھی بدتر ہو گئی۔ دسمبر ۲۳-۲۶، ۱۹۹۴ کو لارِسا میں ہونے والے صدمہخیز واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے، اخبار ایلفتھیروتیپیا نے لکھا: ”لارِسا میں یہ شرمناک کرسمس تھا، جہاں، ایک دفعہ پھر، طویل، بہت بڑے، جھگڑے نے [تقریب] کو داغدار کر دیا۔ . . . جب چرچ کی گھنٹیوں نے ولادتِمسیح کا اعلان کِیا تو پولیس کی لاٹھیاں ’نیکوں اور بدوں‘ کے سروں پر برس رہی تھیں۔ فسادات، تصادم، فضیحتآمیز تقاریر، اور گرفتاریوں نے لارِسا میں مُقدس قسطنطین کے چرچ کے آنگن میں کرسمس کی مبارکبادیوں اور برکات کی بخشش کی جگہ لے لی۔ . . . [اِگناتیئس کے خلاف] مظاہرے جلد ہی زبانی اہانت اور پھر پولیس کیساتھ تصادم کی شکل اختیار کر گئے۔ . . . اُنہوں نے چرچ کے آنگن کو میدانِجنگ میں بدل دیا۔“
اس کی بابت لوگوں کا ردِعمل کیا تھا؟ ایک آرتھوڈکس شخص نے تبصرہ کِیا: ”مَیں اس بات کو سمجھ نہیں سکتا کہ وہ لوگ جو خود کو مسیحی کہتے ہیں مُقدس مذہبی تہواروں کے دوران ایسے پُرتشدد کاموں کا ارتکاب کیسے کر سکتے ہیں۔ مَیں کیسے چرچ جا سکتا ہوں جبکہ مجھے وہاں پر زدوکوب کئے جانے کا خطرہ ہے؟“ اور ایک عقیدتمند آرتھوڈکس خاتون نے بیان کِیا: ”ان تمام واقعات کے بعد اب مجھے چرچ جانے سے ڈر لگتا ہے۔“
مزیدبرآں، گریک آرتھوڈکس چرچ سے متعلق اخلاقی الزامتراشیوں کا بھی تانتا بندھا رہتا ہے۔ ذرائعابلاغ بارہا پادری طبقے کے بعض ارکان کی اخلاقی تنزلی کے واقعات کو منظرِعام پر لائے ہیں—ہمجنسپسند اور بچوں سے بدفعلی کرنے والے پادری، روپےپیسے میں غبن، اور اشیائےعہدِپارینہ کی ناجائز تجارت۔ مؤخرالذکر ممکن ہے کیونکہ بہتیرے پادریوں کو بیشقیمت مورتیوں اور دیگر قیمتی دستکاریوں کے خزانوں تک بِلانگرانی آزادانہ رسائی حاصل ہے۔
یہ صورتحال مسیحیوں کیلئے پولس کی دی ہوئی اس پُختہ مشورت کے کسقدر برعکس ہے کہ وہ آدمیوں کے پیروکار نہ ہوں کیونکہ یہ ”جھگڑوں“ اور ”تفرقوں“ کا باعث بنتا ہے!—۱-کرنتھیوں ۱:۱۰-۱۳؛ ۳:۱-۴۔
چرچ اور حکومت کے تعلقات—مستقبل کیا ہے؟
یونانی حکومت کی ابتدا ہی سے، گریک آرتھوڈکس چرچ نے بااثر مذہب ہونے کے متشرف مرتبے سے لطف اُٹھایا ہے۔ یونان میں، ابھی تک، چرچ اور حکومت کی علیٰحدگی جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ آئین بذاتِخود گریک آرتھوڈکس چرچ کی حیثیت کی یونان کے ”مروجہ مذہب“ کے طور پر تائید کرتا ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ گریک آرتھوڈکس چرچ عوامی نظمونسق، عدالتی نظام، پولیس، عوامی تعلیم، اور عملاً معاشرے کے ہر دوسرے پہلو سمیت، عوامی زندگی کے تمام حلقوں میں سرایت کر گیا ہے۔ ہر سُو چرچ کی اس موجودگی کا مطلب یونان میں مذہبی اقلیتوں کے لئے استبداد اور ناقابلِبیان مشکلات ہوا ہے۔ اگرچہ آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے توبھی جب کبھی کوئی مذہبی اقلیت اپنے حقوق کا دعویٰ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ تقریباً ہمیشہ خود کو مذہبی میلان، تعصّب، اور مخالفت کے ناقابلِگزر جال میں پھنسا ہوا پاتی ہے جو چرچ اور حکومت کے تعلق نے بُن رکھا ہے۔
آئین میں ترمیم کا مستقبل قریب میں واضح امکان دکھائی دیتا ہے، اور اسلئے چرچ اور حکومت کی علیٰحدگی کا زبردست مطالبہ پہلے ہی سے سننے میں آیا ہے۔ بااثر یونانی آئینی ماہرین اور تحلیلی نفسیات کے ماہرین چرچ اور حکومت کے مابین اس قریبی رفاقت سے پیداشُدہ مسائل پر توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ان دو عناصر کی مکمل علیٰحدگی ہی واحد مستقل حل ہوگا۔
اسی اثنا میں، چرچ کے پیشوا ایسی مشروط علیٰحدگی پر اپنے اعتراضات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک حساس مسئلے پر مختصراً باتچیت کرتے ہوئے جو چرچ اور حکومت کے تعلقات میں ایسے فروغ سے بُری طرح متاثر ہوگا، ایک آرتھوڈکس بشپ نے لکھا: ”نتیجے کے طور پر، کیا حکومت پادریوں کو تنخواہ دینا بند کر دے گی؟ . . . اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بہت سے کلیسیائی حلقے پادریوں کے بغیر خالی ہو جائیں گے۔“—مقابلہ کریں متی ۶:۳۳۔
یونان میں چرچ اور حکومت کے درمیان قریبی تعلق کا ایک اَور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یونان کا قانون—یورپی اتحاد کے ضوابط اور انسانی حقوق کی یورپی کنونشن کی شقوں کی براہِراست مخالفت میں، جنکی پابندی یونان پر لازم ہے—تقاضا کرتا ہے کہ یونان کے تمام شہریوں کے ذاتی شناختی کارڈ کو اُس مذہب کی نشاندہی کرنی چاہئے جس سے ہر شہری وابستہ ہے۔ وسیعالنظر لوگ اس پر زبردست اعتراض کرتے ہیں کیونکہ مذہبی اقلیتوں کے ارکان عموماً مذہبی امتیاز کا شکار بنتے ہیں۔ ایک صحافی نے بیان کِیا: ”جہاں تک مذہبی آزادی کو عمل میں لانے کے قابل ہونے کے لئے مذہبی اقلیت کے حقوق کا تعلق ہے تو یہ حقیقت غالباً منفی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔“ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے، اخبار دا نیا نے لکھا: ”کسی مرد یا عورت کے ذاتی شناختی کارڈ پر اپنے مذہب کا لازماً اندراج کرانے جیسے معاملات میں حکومت کو چرچ کے تحکمانہ طریقوں اور جوابی کارروائیوں سے قطعنظر اپنے فیصلے کرنے چاہئیں اور قوانین کی منظوری دینی چاہئے۔“
ایسی علیٰحدگی کی فوری ضرورت پر اصرار کرتے ہوئے، دیمیترس تساتسوس، آئینی قانون کے پروفیسر اور یورپی پارلیمان کے رُکن نے بھی بیان کِیا: ”[یونان کے] چرچ کو چاہئے کہ سماجی، سیاسی، اور تعلیمی زندگی پر حکومت جتانا بند کر دے۔ جس طریقے سے یونانی چرچ عمل کر رہا ہے وہ استبدادی ہے۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے معاشرے پر جابر حاکم ہے۔“ ایک دوسرے انٹرویو میں اسی پروفیسر نے کہا: ”یونان میں چرچ خوفزدہ کرنے والی طاقت رکھتا ہے، جو بدقسمتی سے بیرحم قدامتپسندی کے اسکے آبائی علاقے تک محدود نہیں ہے بلکہ یونانی معاشرے کے روادار حلقے میں بھی سرایت کرنے کے قابل ہوا ہے۔ ذاتی طور پر، مَیں چرچ اور حکومت کی علیٰحدگی کا مطالبہ کرتا ہوں۔ میرا مطالبہ ہے کہ آرتھوڈکس یونانیوں کو دیگر مذاہب جیسا درجہ دیا جائے اور یونان میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے مساوی رکھا جائے۔
سچے مسیحی متحد ہیں
گریک آتھوڈکس چرچ میں سچی مسیحیت کے نشان کا دکھائی دینا یقیناً مشکل ہے۔ یسوع کا مقصد مسیحیت کے اندر تفرقوں اور اختلافات کو فروغ دینا نہیں تھا۔ اپنے باپ سے دُعا کرتے ہوئے، اُس نے التجا کی کہ اُسکے شاگرد ”سب ایک ہوں۔“ (یوحنا ۱۷:۲۱) اور ان شاگردوں کو ’اپنے درمیان محبت رکھنی‘ تھی، یہ محبت مسیح کے حقیقی پیروکاروں کا امتیازی نشان ہے۔—یوحنا ۱۳:۳۵۔
اتحاد گریک آرتھوڈکس چرچ سے کافور ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، یہ آجکل کے منظم مذہب میں ایک لاثانی معاملہ ہونے سے کہیں بعید ہے۔ اسکی بجائے، یہ فرقہواریت کا نمائندہ ہے جو دُنیائےمسیحیت کے مذاہب کو دِق کئے ہوئے ہے۔
خلوصدل محبانِخدا معاملات کی اس افسوسناک حالت کو ۱-کرنتھیوں ۱:۱۰ میں پولس رسول کے ان الفاظ سے ہمآہنگ کرنا مشکل پاتے ہیں: ”اب اَے بھائیو! یسوؔع مسیح جو ہمارا خداوند ہے اُسکے نام کے وسیلہ سے مَیں تم سے التماس کرتا ہوں کہ سب ایک ہی بات کہو اور تم میں تفرقے نہ ہوں بلکہ باہم یکدل اور یکرای ہوکر کامل بنے رہو۔“
جیہاں، یسوع کے سچے شاگرد اپنے درمیان اٹوٹ اتحاد سے استفادہ کرتے ہیں۔ چونکہ وہ مسیحی محبت کے بندھن کے باعث متحد ہیں اسلئے اُن میں کسی طرح کے سیاسی، فرقہوارانہ، یا عقائد سے متعلق اختلافات نہیں ہیں۔ یسوع نے صاف طور پر بیان کِیا کہ ہر کوئی ”اُنکے پھلوں،“ یا کارگزاریوں سے اُس کے پیروکاروں کو پہچاننے کے قابل ہوگا۔ (متی ۷:۱۶) اس رسالے کے ناشرین آپکو یہوواہ کے گواہوں کے ”پھلوں“ کی جانچ کرنے کی دعوت دیتے ہیں، جو یونان سمیت دُنیا کے ہر حصے میں حقیقی مسیحی اتحاد سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔
[تصویر]
پادری پولیس سے متصادم ہوئے