کیا جدوجہد کامیاب ثابت ہو رہی ہے؟
”اس سیّارے کا خیال رکھو، یہ ہمارے پاس ایک ہی ہے۔“ یہ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ماحول کیلئے عالمی فنڈ) کے صدر، برطانیہ کے پرنس فلپ کی جذبات کو اُبھارنے والی اپیل تھی۔
ہزاروں سال پہلے، زبورنویس نے لکھا: ”آسمان تو خداوند کا آسمان ہے لیکن زمین اُس نے بنیآدم کو دی ہے۔“ (زبور ۱۱۵:۱۶) خدا نے زمین ہمیں ہمارے گھر کے طور پر عطا کی، اور ہمیں اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ علمِماحول اِسی سے متعلق ہے۔
لفظی مفہوم میں لفظ ”علمِماحول“ کا مطلب ”گھر کا مطالعہ“ ہے۔a دی امریکن ہیریٹج ڈکشنری کی طرف سے پیشکردہ ایک تشریح یہ ہے ”تحفظ کے ذریعے بچاؤ یا اِس کے برعکس خیال کے پیشِنظر، ماحول پر جدید تہذیب کے مُضر اثرات کا مطالعہ۔“ سادہ الفاظ میں، علمِماحول کا مطلب اُس نقصان کو دریافت کرنا ہے جو انسان نے پہنچایا ہے اور پھر اسکی تلافی کرنے کے طریقے تلاش کرنا۔ ان میں سے کوئی کام بھی آسان نہیں ہے۔
علمِماحول کی تین دُکھتی رگیں
ماہرِحیاتیات، بیری کومنر، اپنی کتاب میکنگ پیس وِید دی پلینٹ، میں ماحولیات کے تین سادہ قوانین تجویز کرتا ہے جو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ زمین غلط استعمال کیلئے اس قدر غیرمحفوظ کیوں ہے۔
ہر چیز دوسری چیز کیساتھ مربوط ہے۔ جیسےکہ ایک خراب دانت ہمارے سارے جسم پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اسی طرح کسی خاص قدرتی ذریعے کا نقصان ماحولیاتی مسائل کے ایک سلسلے کا آغاز کر سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، گزشتہ ۴۰ سال کے دوران، نیپال میں ہمالیہ کے ۵۰ فیصد جنگلات ایندھن کیلئے یا پھر عمارتی لکڑی کی مصنوعات کیلئے کاٹے جا چکے ہیں۔ ایک بار جب درخت اُکھاڑ دیئے گئے اور جب مونسُون کی بارشیں شروع ہوئیں تو پہاڑ کی ڈھلانی مٹی جلد ہی بہہ گئی۔ بالائی مٹی کے بغیر، نئے درخت آسانی سے جڑ نہیں پکڑ سکتے تھے، اور یوں بہت سے پہاڑ بنجر ہو گئے۔ جنگلات کے خاتمے کی وجہ سے، نیپال ہر سال لاکھوں ٹن بالائی مٹی ضائع کر رہا ہے۔ اور مسائل صرف نیپال تک ہی محدود نہیں ہیں۔
بنگلادیش میں موسلادھار بارشیں، جو کبھی درختوں کے ذریعے جذب ہو جاتی تھیں، بِلاروکٹوک جنگلات سے محروم پہاڑوں اور پھر ساحل کی طرف رُخ کرتی ہیں، جہاں وہ تباہکُن سیلاب پیدا کرتی ہیں۔ ماضی میں، بنگلادیش کے اندر ۵۰ سال میں ایک مرتبہ شدید سیلاب آتا تھا؛ اب ہر ۴ سال یا اس سے کم وقت میں آتا ہے۔
دُنیا کے دوسرے حصوں میں، جنگلات کا خاتمہ بیابان بنانے اور مقامی آبوہوا میں تبدیلیوں کا باعث بنا ہے۔ جنگلات قدرتی وسائل میں سے صرف ایک ہے جس سے انسان انتفاع کر رہا ہے۔ جیسےکہ ماہرِماحولیات ابھی بھی ہمارے خطرناک ماحولیاتی نظام کو باہم جوڑنے والے حصوں کی بابت نسبتاً بہت کم جانتے ہیں، لہٰذا اس مسئلے پر شاید اُس وقت تک توجہ ہی نہ دی جائے جبتککہ شدید نقصان نہیں ہو جاتا۔ یہ فاضل مادّے پھینکے جانے کے معاملے میں سچ ہے، جو ماحولیات کے دوسرے قانون کو بہت اچھی طرح بیان کرتا ہے۔
ہر چیز کو کہیں نہ کہیں جانا ہے۔ تصور کریں کہ ایک مثالی گھر کیسا نظر آئیگا اگر کوڑےکرکٹ کا اتلاف نہیں کِیا جاتا۔ ہمارا سیّارہ ایک ایسا ہی مخصوص نظام ہے—ہمارے تمام کوڑےکرکٹ کو ہمارے زمینی گھر کے اردگرد کہیں نہ کہیں ختم ہونا ہے۔ اوزون پرت کی جزوی بربادی ظاہر کرتی ہے کہ بظاہر بےضرر گیسیں بھی، جیسےکہ کلوروفلوروکاربنز (CFCs) یکسر ہوا میں تحلیل نہیں ہوتیں۔ CFCs امکانی طور پر سینکڑوں خطرناک اشیاء میں سے صرف ایک ہے جوکہ فضا میں، دریاؤں اور سمندروں میں چھوڑی جا رہی ہیں۔
سچ ہے کہ بعض اشیاء—جو ”حیاتیاتی طور پر خراب“ کہلاتی ہیں—وقت آنے پر قدرتی طریقۂعمل کے ذریعے تبدیل ہو سکتی ہیں، لیکن دیگر کو تبدیل نہیں کِیا جا سکتا۔ دُنیا کے ساحلوں پر پلاسٹک کے ڈبے بکھرے ہوئے ہیں جو آئندہ عشروں کے دوران وہیں پڑے رہینگے۔ کم نظر آنے والا انڈسٹری کا زہریلا فاضل مادّہ ہے، جوکہ عموماً کہیں نہ کہیں دبا دیا جاتا ہے۔ اگرچہ آنکھ اُوجھل پہاڑ اُوجھل ہوتا ہے لیکن اسکی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ اب بھی زمیندوز پانیوں کی فراہمی میں داخل ہو سکتا اور انسانوں اور جانوروں کی صحت کیلئے بڑے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ”ہم نہیں جانتے کہ جدید صنعت کے ذریعے پیداشُدہ کیمیکلز کیساتھ کیا کریں،“ ہنگری کے بوڈابُھلکِنّاسٹس انسٹیٹیوٹ آف ہائیڈرولاجی کے ایک سائنسدان نے تسلیم کِیا۔ ”ہمیں تو ان کا علم بھی نہیں ہو سکتا۔“
سب سے خطرناک فاضل مادّہ، نیوکلیئر پاور سٹیشن کی ضمنی پیداوار، فاضل تابکاری مادّہ ہے۔ ہزاروں ٹن فاضل نیوکلیئر مادّہ عارضی جگہوں پر جمع کِیا جاتا ہے، اگرچہ کچھ پہلے ہی سمندروں میں دفن کر دیا گیا ہے۔ سالہاسال کی سائنسی تحقیق کے باوجود، ابھی تک، مستقل ذخیرہ کرنے یا تلف کرنے کا کوئی محفوظ حل نہیں مل سکا۔ اور نہ ہی ابھی دُور دُور تک نظر آتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ ماحولیاتی ٹائم بم کب پھٹ سکتے ہیں۔ یقیناً مسئلہ ختم نہیں ہوگا—فاضل مادّہ صدیوں یا آنے والے ہزاروں سال، یا جبتک خدا کارروائی نہیں کرتا، تابکار رہیگا۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۸) فاضل مادّے کو تلف کرنے کے سلسلے میں انسان کی غفلت بھی ماحولیات کے تیسرے قانون کی یاددہانی ہے۔
فطرت کو اپنا کام کرنے دیں۔ باالفاظِدیگر، اپنی سمجھ کے مطابق کسی بہتر چیز کے لئے ان سے بچ نکلنے کی بجائے، انسان کو قدرتی نظاموں سے تعاون کرنا چاہئے۔ بعض کیڑےمار ادویہ اس کی ایک مثال ہیں۔ جب پہلی بار انہیں متعارف کرایا گیا تو انہوں نے کسانوں کو جڑیبوٹیوں کو کنٹرول کرنے اور عملاً تباہکُن کیڑوں کو تلف کرنے کے قابل بنایا۔ غیرمعمولی فصلیں یقینی دکھائی دیتی تھیں۔ لیکن پھر کام خراب ہو گیا۔ جڑیبوٹیاں اور کیڑےمکوڑے یکےبعددیگرے کیڑےمار ادویہ کے خلاف مدافعت کرنے والے ثابت ہوئے، اور یہ واضح ہو گیا کہ کیڑےمار ادویہ کیڑوں کے قدرتی شکاروں، حیوانیزندگی اور خود انسان کو بھی زہریلا بنا رہی تھیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ بھی کیڑےمار ادویہ کے زہریلےپن سے مثاتر ہوئے ہوں۔ پھرتو آپ بھی پوری دُنیا کے کمازکم اُن لاکھوں متاثرین میں سے ایک ہیں۔
آخری ستمظریفی اس بات کا بڑھتا ہوا ثبوت ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کیڑےمار ادویہ انجامکار بہتر فصل بھی نہ دے سکیں۔ ریاستہائے متحدہ میں، حشرات جیساکہ وہ کیڑےمار ادویہ کے انقلاب سے پہلے کرتے تھے اُس کی نسبت اب فصل کا زیادہ حصہ ہڑپ کر لیتے ہیں۔ اسی طرح، فلپائن میں قائم، انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے یہ معلوم کِیا ہے کہ جنوبمشرقی ایشیا میں کیڑےمار ادویہ چاول کی پیداوار کو مزید بہتر نہیں بنا رہی ہیں۔ درحقیقت، انڈونیشیا کی حکومت کے تعاون سے چلنے والے ایک پروگرام نے جو کافی حد تک کیڑےمار ادویہ پر بھروسہ نہیں رکھتا، ۱۹۸۷ سے لیکر کیڑےمار ادویہ کے استعمال میں ۶۵ فیصد کمی کے باوجود، چاول کی پیداوار میں ۱۵ فیصد اضافہ حاصل کِیا ہے۔ اسکے باوجود، ہر سال دُنیا کے کسان ابھی تک وسیع پیمانے پر کیڑےمار ادویہ استعمال کرتے ہیں۔
علمِماحول کے مندرجہبالا تین قوانین یہ واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ کام کیوں خراب ہو رہا ہے۔ دیگر اہم سوالات یہ ہیں، کتنا نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے، اور کیا اسکی درستی کی جا سکتی ہے؟
کتنا نقصان ہو چکا ہے؟
اس کے ساتھ پیش کِیا گیا دُنیا کا نقشہ (دیکھیں صفحات ۸-۹) چند بنیادی ماحولیاتی مسائل کو نمایاں کرتا ہے اور یہ کہ وہ کہاں پر زیادہ تشویشناک ہیں۔ واضح طور پر، جب کسی جانور یا پودے کے اصلی علاقے کا یا دیگر عناصر کا نقصان پودے یا جاندار اشیاء کی تباہی کا سبب بنتا ہے تو انسان اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ دیگر نقصان—جیسے اوزون پرت کی خرابی—پہلے ہی واقع ہو گیا ہے۔ جاری ماحولیاتی تنزلی کی بابت کیا ہے؟ کیا اسے روکنے یا کمازکم اسکی رفتار کو کم کرنے میں کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے؟
ماحولیاتی نقصان کے دو نہایت اہم پیمانے زراعت اور ماہیگیری ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کی افزائش کا انحصار صحتمند ماحول پر ہے اور اسلئے کہ ہماری زندگیاں قابلِبھروسہ خوراک کی دستیابی پر انحصار کرتی ہیں۔
دونوں حلقے بگاڑ کی علامات ظاہر کر رہے ہیں۔ یونائیٹڈ نیشنز فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے حساب لگایا کہ دُنیا کے ماہیگیر بیڑے مچھلیوں کے ذخائر کو شدید نقصان پہنچائے بغیر ۱۰۰ ملین ٹن سے زیادہ مچھلی نہیں پکڑ سکتے۔ ۱۹۸۹ میں یہ تعداد بڑھ گئی، اور یقینی طور پر، اگلے ہی سال عالمگیر پیمانے پر، ماہیگیری میں چار ملین ٹن کی کمی واقع ہوئی۔ مچھلیاں پکڑنے کے بعض مقامات پر بڑی تیزی سے کمی پائی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، شمالمشرقی اٹلانٹک میں، گزشتہ ۲۰ سال کے اندر ماہیگیری میں ۳۲ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ بنیادی مسائل حد سے زیادہ مچھلیاں پکڑنا، سمندروں کی آلودگی اور انڈے دینے کی جگہوں کی بربادی ہیں۔
یہ خطرناک رجحان فصل کی پیداوار سے بھی منعکس ہو رہا ہے۔ ۶۰ اور ۷۰ کے عشروں میں، فصل اور اسکے ساتھ ساتھ آبپاشی کی اصلاحشُدہ خصوصیات اور کیڑےمار ادویہ اور کیمیاویکھادوں کے وسیع استعمال نے دُنیا کی اناج کی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کِیا۔ اب، کیڑےمار ادویہ اور کیمیاویکھادیں اپنی تاثیر کھو رہی ہیں اور پانی کی کمی اور آلودگی بھی خراب فصل کا باعث بن رہی ہے۔
اگرچہ ہر سال تقریباً ۱۰۰ ملین اضافی اشخاص کو خوراک مہیا کرنا پڑتی ہے، گزشتہ دہے کے دوران فصل پیدا کرنے والے زمین کے کُل رقبے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اور یہ قابلِکاشت زمین اپنی زرخیزی کھو رہی ہے۔ ورلڈواچ انسٹیٹیوٹ نے تخمینہ لگایا ہے کہ زمین کے کٹاؤ نے گزشتہ ۲۰ سال کے دوران کسانوں کو ۵۰۰ بلین ٹن بالائی مٹی سے محروم کر دیا ہے۔ لازمی طور پر، خوراک کی پیداوار میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی ہے۔ سٹیٹ آف دی ورلڈ ۱۹۹۳ کی رپورٹ تبصرہ کرتی ہے کہ ”۱۹۸۴ اور ۱۹۹۲ کے درمیان اناج کی برآمد میں فیکس ۶ فیصد کمی آجکل کی دُنیا میں شاید سب سے زیادہ پریشانکُن معاشی میلان ہے۔“
واضح طور پر، انسان کی ماحول سے غفلت کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں پہلے ہی خطرے میں ہیں۔
کیا انسان مسائل سے نپٹ سکتا ہے؟
اگرچہ اب انسان اسکی بابت کچھ سمجھتا ہے کہ خرابی کہاں پر ہے، توبھی اسے حل کرنا آسان نہیں ہے۔ پہلی مشکل تو یہ ہے کہ ۱۹۹۲ میں زمین کی بابت کانفرنس میں پیشکردہ قابلِفہم تجاویز کو عمل میں لانے کیلئے—بہت زیادہ پیسہ درکار ہوگا—کمازکم ۶۰۰ بلین ڈالر سالانہ۔ حقیقی قربانیاں بھی ضروری ہونگی—قربانیاں جیسےکہ کم ضائع کرنا اور زیادہ کو دوبارہ استعمال کرنا، پانی اور توانائی کو بچانا، پرائیویٹ کی بجائے عوامی سواری استعمال کرنا، اور سب سے مشکلترین بات، اپنے ذاتی فائدے کی بجائے سیّارے کی بابت سوچنا۔ آبی ماحول کے نظاموں کو بحال کرنے کیلئے، یو.ایس. کمیٹی کے جونیئر چیئرمین، جان کیرنز، مسئلے کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں: ”جوکچھ ہم کر سکتے ہیں اسکی بابت مَیں پُراُمید ہوں۔ جوکچھ ہم کرینگے اسکی بابت مَیں نااُمید ہوں۔“
پوری طرح سے صاف کرنے کی قیمت صرف اتنی ہے کہ زیادہتر ممالک اسے بعد کے کسی وقت کیلئے ملتوی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ معاشی بحران کے دوران، ماحولیاتی اقدام کو ملازمتوں کیلئے یا معیشت کو کمزور کرنے کیلئے خطرے کے طور پر خیال کِیا جاتا ہے۔ کہنا، کرنے سے آسان ہے۔ کتاب کیئرنگ فار دی ارتھ اس وقت تک کے ردِعمل کو ”ایسے شاندار وعدے جن میں عمل کی کمی ہو“ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ پورے جوشوخروش کیساتھ کام کرنے میں ناکامی کے باوجود،—اگر اُسے وقت دیا جائے—تو کیا نئی ٹیکنالوجی سیّارے کی بیماری کا بغیردرد علاج تلاش نہیں کر سکتی تھی؟ بظاہر نہیں۔
ایک مشترکہ بیان میں یو.ایس. نیشنل اکیڈمی آف سائنسز اور رائل سوسائٹی آف لندن نے صافگوئی سے تسلیم کِیا: ”آبادی کے اضافے کی بابت حالیہ پیشینگوئیاں اگر صحیح ثابت ہو جاتی ہیں اور سیّارے پر انسانی کارگزاری کے طریقے لاتبدیل رہتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی بھی ماحول کی ناگزیر تنزلی یا کافی حد تک دُنیا کی مسلسل غربت کو روکنے کے قابل نہ ہوں۔
فاضل نیوکلیئر مادّے کو تلف کرنے کی جگہ نہ ہونے کا خوفناک مسئلہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ سائنس بےپناہ طاقت نہیں ہے۔ ۴۰ سال تک سائنسدان بڑی مقدار میں فاضل تابکاری مادّوں کو مستقل طور پر ذخیرہ کرنے کیلئے محفوظ جگہوں کی تلاش میں سرگرداں رہے ہیں۔ یہ تلاش اتنی کٹھن ثابت ہو رہی ہے کہ بعض ممالک، جیسےکہ اٹلی اور ارجنٹینا، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ۲۰۴۰ کے سال سے قبل تک اُنکے پاس کوئی جگہ تیار نہیں ہوگی۔ اس میدان میں سب سے زیادہ رجائیتپسند مُلک جرمنی، ۲۰۰۸ کے سال تک منصوبے کو عملیجامہ پہنانے کی توقع کرتا ہے۔
نیوکلیئر فاضل مادّہ اتنا بڑا مسئلہ کیوں ہے؟ ”کوئی بھی سائنسدان یا انجینئر اس بات کی حتمی ضمانت نہیں دے سکتا کہ تابکاری فاضل مادّہ بہترین گوداموں میں سے کبھی بھی خطرناک مقدار میں بہہ نہیں نکلے گا،“ ماہرِاراضیات کونراڈ کراسکوپفٹ بیان کرتا ہے۔ لیکن فاضل مادّے کو تلف کرنے کی دشواری کی بابت پیشتر آگاہیوں کے باوجود، حکومتیں اور نیوکلیئر صنعت خوشیخوشی آگے ہی بڑھتی رہیں، یہ فرض کرتے ہوئے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کوئی حل نکال لیگی۔ وہ کل کبھی نہیں آیا۔
اگر ٹیکنالوجی کے پاس ماحولیاتی بحران کیلئے فوری حل نہیں آ جاتا تو دیگر متبادل کونسے ہیں؟ کیا ضرورت انجامکار قوموں کو سیّارے کو بچانے کیلئے ملکر کام کرنے پر اُکسائے گی؟
[فٹنوٹ]
a یونانی اوقوس (مکان، گھر) اور لوغیا (مطالعہ) سے۔
[بکس]
قابلِتجدید توانائی کے ذرائع کی تلاش
ہم میں سے زیادہتر جبتک بلیکآؤٹ یا تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو—توانائی کو یقینی سمجھتے ہیں۔ تاہم، توانائی کا استعمال، آلودگی کی ایک سب سے بڑی وجہ ہے۔ استعمال کی جانے والی زیادہتر توانائی لکڑی یا پودے یا جانور کے ڈھانچوں کو جلانے سے حاصل ہوتی ہے، ایک ایسا عمل جو لاکھوں ٹن کاربن ڈائیآکسائیڈ فضا میں خارج کرتا ہے اور دُنیا کے جنگلات کو ختم کرتا ہے۔
ایک اَور متبادل، نیوکلیئر توانائی حادثات کے خطرات اور تابکاری فاضل مادّے کو ذخیرہ کرنے کی مشکل کی وجہ سے، زیادہ سے زیادہ نامقبول ہوتا جا رہا ہے۔ دیگر متبادل قابلِتجدید توانائی کے ذرائع کے طور پر مشہور ہیں چونکہ وہ قدرتی طور پر پیداشُدہ توانائی کے اُن ذرائع کو کام میں لاتے ہیں جو آسانی سے دستیاب ہیں۔ ان کی پانچ بنیادی اقسام ہیں۔
شمسی توانائی۔ اسے حرارت کے لئے آسانی سے حاصل کِیا جا سکتا ہے، اور بعض ممالک میں، جیسےکہ اسرائیل، بہت سے گھروں میں پانی گرم کرنے کیلئے سولر بُھلکِنّانلز (فوٹوولٹک سیل جو سورج کی روشنی کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے کے قابل ہوتے ہیں) ہیں۔ سورج کو بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنا زیادہ مشکل ہے، لیکن جدید فوٹوولٹک سیلز پہلے ہی سے دیہی علاقوں میں بجلی فراہم کر رہے ہیں اور زیادہ کمخرچ ہوتے جا رہے ہیں۔
پون توانائی۔ دُنیا کے زیادہ ہوا چلنے والے حصوں میں بہت بڑی بڑی پونچکیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس پیداشُدہ توانائی سے فراہمکردہ پون توانائی، جیسےکہ اس کا نام ہے، اسکی قیمت متواتر کم ہوتی رہی ہے اور اب بعض علاقوں میں عام توانائی کی فراہمی سے کم قیمت ہے۔
پن بجلی۔ پہلے ہی دُنیا کی بجلی کا ۲۰ فیصد پنبجلی کے پلانٹوں سے آتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ترقییافتہ ممالک کے زیادہتر اُمیدافزا مقامات پہلے ہی ناجائز نفع کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے ڈیم بھی خاطرخواہ ماحولیاتی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بالخصوص ترقیپذیر ممالک میں، بہت سے چھوٹےچھوٹے پنبجلی کے کارخانے تعمیر کرنے کا بہتر امکان دکھائی دیتا ہے۔
جیوتھرمل توانائی۔ بعض ممالک، بالخصوص آئسلینڈ اور نیوزیلینڈ، زمیندوز گرم پانی کے نظام تک پہنچنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ زیرِزمین آتشفشانی کی کارگزاری پانی کو گرم کرتی ہے، جسے گھروں کو گرم رکھنے اور بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ اٹلی، جاپان، میکسیکو، فلپائن اور ریاستہائے متحدہ نے بھی کسی حد تک قدرتی توانائی کے اس ذریعے کو ترقی دی ہے۔
مدوجزر کی توانائی۔ بعض ممالک میں، جیسےکہ برطانیہ، فرانس، اور روس میں سمندر کی لہروں کو بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کِیا جا رہا ہے۔ تاہم، دُنیا بھر میں چند ایسے مقامات ہیں جو توانائی کی اس فراہمی کو کمقیمت پر بہم پہنچانے کیلئے تیار ہیں۔
[بکس/تصویر]
دُنیا کے چند اہم ماحولیاتی مسائل
جنگلات کی بربادی۔ دُنیا کے تین چوتھائی معتدل جنگلات اور نصف گرمسیر جنگلات پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں، اور گزشتہ دہے کے دوران جنگلات کے خاتمے کی شرح خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ تازہترین اندازے گرمسیر جنگلات کی بربادی کو ۱۵۰،۰۰۰ اور ۲۰۰،۰۰۰ مربع کلومیٹر سالانہ کے درمیان بتاتے ہیں، تقریباً یوروگوئے کے برابر۔
زہریلے فاضل مادّے۔ حال ہی میں تیار ہونے والے ۷۰،۰۰۰ کیمیاوی مرکبات کے نصف کی زہریلے ہونے کے طور پر درجہبندی کی گئی ہے۔ صرف ریاستہائےمتحدہ ہر سال ۲۴۰ ملین ٹن زہریلا فاضل مادّہ پیدا کرتا ہے۔ اعدادوشمار کی کمی عالمگیر طور پر مجموعی تعداد کا تخمینہ لگانے کو ناممکن بناتی ہے۔ مزیدبراں، سِن ۲۰۰۰ تک، عارضی مقامات پر تقریباً ۲۰۰،۰۰۰ ٹن تابکاری فاضل مادّہ محفوظ ہوگا۔
زمین کی تنزلی۔ دُنیا کے زرخیز علاقے کے ایک تہائی حصے کو بیابان بنا دیئے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ افریقہ کے بعض حصوں میں، محض ۲۰ سال کے اندر اندر صحارا ریگستان نے ۳۵۰ کلومیٹر پیشقدمی کی ہے۔ پہلے ہی لاکھوں لوگوں کی روزی کو خطرہ درپیش ہے۔
پانی کی قلت۔ تقریباً دو بلین لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ہمیشہ پانی کی قلّت رہی ہے۔ اس قلّت میں اضافہ ہزاروں کنوؤں کے خشک ہو جانے سے ہوا ہے جو پانی کے اُن ذخائر میں پانی کی سطح کم ہو جانے کی وجہ سے ہے جن پر یہ انحصار کرتے ہیں۔
انواعِجاندار کے ناپید ہو جانے کا خطرہ۔ اگرچہ اعدادوشمار کسی حد تک قیاسی ہیں، سائنسدان اندازہ لگاتے ہیں کہ جانوروں، پودوں اور حشرات کی ۵۰۰،۰۰۰ اور ۱۰۰۰،۰۰۰ کے درمیان اقسام ۲۰۰۰ کے سال تک ناپید ہو چکی ہونگی۔
فضائی آلودگی۔ ۱۹۸۰ کے دہے کے ایک اوائلی مطالعہ میں اقوامِمتحدہ نے یہ دریافت کِیا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے ایک بلین لوگ روزانہ دھوئیں کے ذرات یا زہریلی گیسوں، جیسےکہ سلفر ڈائیآکسائیڈ، نائیٹروجن ڈائیآکسائیڈ، اور کاربن مونوآکسائیڈ کی وجہ سے صحت کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ گزشتہ عشرے میں شہروں میں تیزی کیساتھ اضافے نے یقینی طور پر اس مسئلے کو بدترین بنا دیا ہے۔ مزیدبراں، ہر سال ۲۴ بلین ٹن کاربن فضا میں چھوڑی جاتی ہے، اور یہ اندیشہ ہے کہ یہ ”سبز مکانی گیس“ کُرۂارض کے گرم ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
[نقشہ]
(For fully formatted text, see publication)
زمین کی تنزلی
انواعِجاندار کا خطرے میں مبتلا ہونا
پانی کی قلّت
فضائی آلودگی
زہریلے فاضل مادّے
جنگلات کا خاتمہ