ہمارے سیّارے کو بچانے کیلئے کوشش
سپین میں جاگو! کے مراسلہ نگار سے
روس، کے شہر کاراباش میں رہنے والے یورے کے دو بچے ہیں اور وہ دونوں بیمار ہیں۔ وہ پریشان تو ہے لیکن حیران نہیں۔ ”یہاں تو کوئی بھی بچہ صحتمند نہیں ہے،“ وہ وضاحت کرتا ہے۔ کاراباش کے لوگوں کو زہر دیا جا رہا۔ ہر سال ایک مقامی فیکٹری ۱۶۲،۰۰۰ ٹن زہریلے اجزا ہوا میں خارج کرتی ہے—وہاں رہنے والے ہر مرد، عورت اور بچے کیلئے ۹ ٹن۔ آرکٹک سرکل کے شمال میں، کولا کے جزیرے پر، نیکل اور مانچگورسک، ”دُنیا کے دو بڑے اور انتہائی پُرانے نکل کو پگھلانے والے . . . روس میں ایسی دیگر تمام فیکٹریوں کی نسبت ہر سال ہوا میں زیادہ بھاری دھاتیں اور سلفر ڈائیآکسائڈ خارج کرتے ہیں۔“—دی نیو یارک ٹائمز۔
میکسیکو سٹی کی فضا صحتافزا بالکل نہیں ہے۔ ڈاکٹر مارگریٹا کیسٹیلیجو کے سروے سے یہ دریافت ہوا کہ شہر کے متموّل علاقے میں بھی، بچے ۵ میں سے ۴ دن بیمار تھے۔ اُس نے بیان کِیا کہ ”بیمار ہونا اُن کا عام معمول بن گیا ہے۔“ وہ بیان کرتی ہے کہ ایک خاص مجرم وہ پھیلنے والا شدید دُھواں ہے جو ہزاروں گاڑیاں چھوڑتی ہیں جن سے شہر کی سڑکیں بھری پڑی ہیں۔ اوزون کے ارتکاز ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے چار گُنا زیادہ رہبر خطوط ہیں۔
آسٹریلیا میں خطرہ آنکھوں سے اوجھل ہے—مگر اتنا ہی مُہلک ہے۔ سکول کے کھیل کے میدان میں کھیلتےکودتے وقت بچوں کو اب ٹوپیاں پہننی پڑتی ہیں۔ نصفکرۂ جنوبی میں اوزون کی محفوظ پرت کے بڑے حصے کی تباہی نے آسٹریلیا کے رہنے والوں کو سورج کو دوست کی بجائے دُشمن خیال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اُنہوں نے پہلے ہی جِلد کے کینسر میں تین گُنا اضافے کا تجربہ کِیا ہے۔
دُنیا کے دیگر حصوں میں، وافر مقدار میں پانی تلاش کرنا روزمرّہ کی کشمکش ہے۔ جب امیلیا ۱۳ برس کی تھی تو خشک سالی نے موزمبیق کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پہلے سال وہاں بمشکل کافی پانی تھا اور اُس سے اگلے سال بہت ہی کم۔ سبزی کی فصلیں مُرجھا گئیں اور تباہ ہو گئیں۔ امیلیا اور اُس کا خاندان جنگلی پھل کھانے اور جو قیمتی پانی وہ حاصل کر سکتے تھے اُسکی تلاش میں ریتلے ساحلوں کو کھودنے پر مجبور ہو گئے۔
انڈیا کی ریاست راجستھان میں، چراگاہیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ فجو، ایک خانہبدوش قبائلی، اکثر مقامی کسانوں کیساتھ بحث کرتا رہتا ہے۔ اُسے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ریوڑ کیلئے چراگاہ نہیں ملتی۔ زرخیز زمین کی شدید کمی کی وجہ سے، کسانوں اور خانہبدوشوں کے درمیان صدیوں سے پُرامن طریقے سے مِلجُل کر رہنا ختم ہو گیا ہے۔
افریقہ میں صحارا کے جنوبی کنارے پر، نیم بنجر زمین کے وسیع خطے ساحل میں، حالت اس سے بھی ابتر ہے۔ جنگلات کے تلف کئے جانے اور بعدازاں خشکسالی کے نتیجے کے طور پر، پورے کے پورے گلّے ختم ہو گئے ہیں اور زرعی اراضی کے اَنگنت قطعات بڑھتے ہوئے صحرا کی ریت میں دفن ہو گئے ہیں۔ اپنی باجرے کی فصل کو ساتویں بار تباہ ہوتے دیکھ کر نائجیر سے ایک فولانی کسان نے عہد کِیا، ”مَیں دوبارہ فصل کی بوائی نہیں کرونگا۔“ اُس کے مالمویشی پہلے ہی چراگاہ کی گھاس کی کمی کی وجہ سے مر گئے تھے۔
بڑھتا ہوا خطرہ
حالیہ خشک سالیوں، ہدف پورا نہ کرنے والی فصلوں اور آلودہ ہوا جو یکےبعددیگرے شہروں میں دم گھٹنے کا باعث بن رہی ہے، کی پُشت پر ایک ہی آگاہی ہے۔ یہ بیمار سیّارے کی علامات ہیں، سیّارہ جو اُن تمام تقاضوں کو مزید پورا نہیں کر سکتا جن کا انبار انسان اس پر لگا رہے ہیں۔
ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں، خوراک جو ہم کھاتے ہیں اور پانی جو ہم پیتے ہیں، ان سے بڑھ کر زمین پر کوئی چیز بھی ہماری بقا کیلئے زیادہ اہم نہیں ہے۔ زندگی کو برقرار رکھنے والی ان ضروری چیزوں کو سنگدلی کیساتھ یا تو آلودہ کِیا جا رہا ہے یا انسان خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ ختم کر رہا ہے۔ بعض ممالک میں ماحولیاتی حالت پہلے ہی زندگی کیلئے خطرناک ہے۔ جیسےکہ سابق سویت صدر میخائل گورباچوف نے بڑے واضح الفاظ میں اسے بیان کِیا، ”ماحولیات نے ہمیں گردن سے دبوچ لیا ہے۔“
یہ ایسا خطرہ نہیں ہے جسے معمولی خیال کِیا جائے۔ دُنیا کی آبادی بتدریج بڑھ رہی ہے، اور محدود وسائل پر تقاضے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ورلڈواچ انسٹیٹیوٹ کے صدر، لیسٹر براؤن، نے حال ہی میں بیان کِیا کہ ”ہمارے مستقبل کے لئے ناقابلِبرداشت خطرہ عسکری جارحیت نہیں بلکہ سیّارے کی ماحولیاتی تنزلی ہے۔“ کیا اس حادثے سے بچنے کیلئے کافی کچھ کِیا جا رہا ہے؟
سیّارے کو محفوظ رکھنے کیلئے جدوجہد
کسی ایسے شرابی کی مدد کرنا انتہائی مشکل ہے جسے یہ یقین ہے کہ اُسے شرابنوشی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اسی طرح، سیّارے کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے پہلا قدم غیرصحتمندانہ حالت کی وسعت کو تسلیم کرنا ہے۔ ممکنہ طور پر، حالیہ برسوں میں تعلیم غیرمعمولی ماحولیاتی کامیابی ہے۔ آجکل زیادہتر لوگ اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ ہماری زمین ناکارہ اور آلودہ ہو رہی ہے—اور یہ کہ اسکی بابت کچھ کِیا جانا چاہئے۔ اس وقت نیوکلیئر جنگ کے خطرے کی نسبت ماحولیاتی تنزلی کا خطرہ زیادہ منڈلا رہا ہے۔
دُنیا کے لیڈر مسائل سے غافل نہیں ہیں۔ ۱۹۹۲ میں ارتھ سمٹ میں [زمین سے متعلق کانفرنس]، کوئی ۱۱۸ سربراہانِمملکت شریک ہوئے، جس میں فضا اور بتدریج گھٹنے والے زمین کے وسائل کو بچانے کیلئے چند اقدام کئے گئے۔ بیشتر ممالک نے ایک موسمی معاہدے پر دستخط کئے جس میں وہ کاربن کے اخراج میں تبدیلیوں کی رپورٹ دینے کیلئے ایک نظام قائم کرنے پر متفق ہوئے، اس نصبالعین کیساتھ کہ مستقبل قریب میں اسکے تمام اخراج کو ختم کر دینگے۔ اُنہوں نے ہمارے سیّارے کے حیاتیاتی اختلاف، پودوں اور جاندار اشیاء کی کُل تعداد کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی غور کِیا۔ دُنیا کے جنگلات کو محفوظ رکھنے پر اتفاق نہ ہو سکا، لیکن کانفرنس نے دو دستاویز تیار کیں—”ریئو ڈیکلریشن“ اور ”ایجنڈا ۲۱،“ جن میں رہبر اُصول وضع کئے گئے ہیں کہ کیسے ممالک ”زندہ رکھنے کے قابل نشوونما“ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
جیسےکہ ماہرِماحولیات ایلن ہیمنڈ نشاندہی کرتا ہے کہ ”تشویشناک آزمائش یہ ہوگی کہ آیا ریئو میں کئے گئے وعدوں پر قائم رہا جاتا ہے—آیا آئندہ مہینوں اور سالوں کے دوران بلند دعوے افعال پر منتج ہوتے ہیں۔“
تاہم، آگے کی جانب ایک اہم قدم، ۱۹۸۷ کا مونٹرئیل پروٹوکال تھا، جس میں محدود وقت کے اندر اندر کلوروفلوروکاربنز (CFCs) ختم کرنے کی بابت ایک بینالاقوامی معاہدہ شامل تھا۔a یہ فکرمندی کیوں؟ کیونکہ CFCs کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کی تحفظاتی اوزون پرت کو بڑی تیزی کے ساتھ ختم کر دینے کا باعث بنتی ہیں۔ زمین کے بالائی کرۂہوائی میں اوزون سورج کی بنفشی شعاؤں کو، فلٹر کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، جو کہ جِلد کے کینسر اور موتیے کا سبب بنتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف آسٹریلیا ہی کا نہیں ہے۔ حال ہی میں، سائنسدانوں نے نصفکرۂ شمالی کے بعض معتدل علاقوں کے اُوپر موسمِسرما میں اوزون کے ارتکاز میں ۸ فیصد کمی کا انکشاف کِیا ہے۔ پہلے ہی بیس ملین ٹن CFCs بالائی فضا کی جانب اُڑ گئی ہے۔
فضا کی اس تباہکُن آلودگی کے مقابل، دُنیا کی اقوام نے اپنے اختلافات کو بالائےطاق رکھ دیا ہے اور فیصلہکُن کارروائی کی ہے۔ خطرے کی شکار جاندار اشیاء کو بچانے، انٹارکٹکا کا تحفظ کرنے اور زہریلے فاضل مادّوں کی ناجائز تجارت کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک اَور بینالاقوامی کارروائی بھی ہونے والی ہے۔
بہتیرے ممالک اپنے دریاؤں کو صاف کرنے کیلئے (سامن اب واپس انگلینڈ کے دریا کُہنییمز میں آ گئی ہے)، ہوا کی آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے (بدترین دُھند کیساتھ یہ ریاستہائے متحدہ کے شہروں میں ۱۰ فیصد کم ہو گئی ہے)، ماحول کی معاون توانائی وسائل کو حاصل کرنے کیلئے (آئسلینڈ میں ۸۰ فیصد گھر جیوتھرمل انرجی (ارضیحرارت کی توانائی) سے گرم رکھے جا رہے ہیں)، اور اُن کے قدرتی ورثے کو بچانے کیلئے (کوسٹا ریکا اور نیمبیا نے اپنے سارے مُلک کے ۱۲ فیصد علاقے کو نیشنل پارکوں میں تبدیل کر دیا ہے) اقدام اُٹھا رہے ہیں۔
کیا یہ مثبت علامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوعِانسان خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے؟ ہمارے سیّارے کو ایک بار پھر اچھی حالت میں آنے کیلئے کیا تھوڑا ہی سا وقت لگے گا؟ اگلے مضامین ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرینگے۔
[فٹنوٹ]
a CFCs کو بڑی وسیع مقدار میں ایروسل اسپرے، ریفریجریشن، ائیرکنڈیشننگ یونٹس، کلیننگ ایجنٹس اور فوم انسولیشن کی صنعت میں استعمال کِیا جاتا ہے۔ دیکھیں جاگو! جنوری، ۱۹۹۵، ”جب ہماری فضا کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔“