سب کیلئے کافی خوراک!
براؔزیل میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
وافر، نہایت عمدہ خوراک سے لطفاندوز ہونا اور پھربھی ناخوش رہنا ممکن ہے۔ حقیقی اور دائمی خوشی حاصل کرنے کیلئے، کسی اَور چیز کی ضرورت ہے—روحانی خوراک۔ یسوؔع نے بیان کِیا: ”آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہیگا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“—متی ۴:۴۔
اسکے برعکس، خدا کے کلام کو ٹھکرانا روحانی بھوک کا سبب بنتا ہے، جیسےکہ عاموس ۸:۱۱ میں پہلے سے بیان کِیا گیا ہے: ”مَیں اس مُلک میں قحط ڈالونگا۔ نہ پانی کی پیاس اور نہ روٹی کا قحط بلکہ خداوند کا کلام سننے کا۔“ تاہم، روحانی غذا کی کمی سے بچا جا سکتا ہے۔ یسوؔع نے بیان کِیا: ”مبارک ہیں وہ جو اپنی روحانی ضروریات سے باخبر ہیں . . . مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہونگے۔“ (متی ۵:۳، ۶، اینڈبلیو) جیسےکہ مناسب مقدار میں غذائیت سے بھرپور خوراک ہمارے جسم کو تسکین بخشتی ہے، صحتبخش روحانی خوراک مستقبل کیلئے ہمارے ایمان اور ہماری اُمید کو تقویت بخشتی ہے۔ ہم کس قسم کی دُنیا کی توقع کر سکتے ہیں؟
سب کیلئے باافراط خوراک
باافراط خوش ذائقہ اور صحتبخش خوراک والی دُنیا کا تصور کریں۔ جنگیں، آفات یا حادثات سے خالی دُنیا جو فاقہزدگی یا ناقص غذا کا سبب بنتے ہیں، جو لوگوں کو کمزور یا افسردہ کرتے ہیں۔ پھر کبھی صرف سوپ یا مُفت تقسیم کی جانے والی چیزوں پر گزارا کرنے والے بےخانماں یا بیروزگار لوگ نہیں ہونگے، نہ ہی خوراک کی گرانی لوگوں کو پیٹ بھرنے کے لئے کچھ بھی کھا لینے پر مجبور کرے گی۔ ”زمین پر اناج کی افراط ہوگی؛ پہاڑوں کی چوٹیوں پر فراوانی ہوگی۔“ (زبور ۷۲:۱۶، اینڈبلیو) لیکن یہ کیونکر واقع ہوگا؟ کون غذائیقلّت کے مسئلے کو حل کرے گا؟
ہمارا خالق مناسب خوراک کیلئے انسان کی ضرورت پر محبتآمیز توجہ دیگا۔ اس بات کا یقین دِلاتے ہوئے کہ پھر کبھی فصلیں ناقص نہ ہونگی زمین کا موسم بھی قابو میں ہوگا۔ ”جو کچھ اچھا ہے وہی خداوند عطا فرمائیگا اور ہماری زمین اپنی پیداوار دیگی۔“ (زبور ۸۵:۱۲) مزیدبرآں، اگرچہ زمین کافی خوراک پیدا کرنے کے قابل ہے، صرف خدا کی بادشاہت ہی لالچ اور استبداد کا خاتمہ کریگی جو نامناسب تقسیم، غذائیقلّت اور سخت تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
جیہاں، یہوؔواہ کی آسمانی حکومت اس بات کا یقین کریگی کہ ہر طرح کے زرعی اور نقلوحمل کے دستیاب انتظامات اُس جگہ صحتبخش خوراک پہنچائینگے جہاں اسکی ضرورت ہوگی۔ بادشاہت کی انتظامیہ چند افراد کو امیر اور اکثریت کو مشکل سے گزربسر کرنے کیلئے نہیں چھوڑے گی۔ حسرتویاس کی بجائے، بادشاہتی برکات وہ خوشی لائینگی جسے یسعیاہ ۲۵:۶ میں پہلے سے بیانکردہ اچھی چیزوں کی بڑی ضیافت سے ظاہر کِیا گیا ہے: ”ربالافواج اس پہاڑ پر سب قوموں کیلئے فربہ چیزوں سے ایک ضیافت تیار کریگا بلکہ ایک ضیافت تلچھٹ پر سے نتھری ہوئی مے سے۔ ہاں فربہ چیزوں سے جو پُرمغز ہوں۔“
اب، تصور کریں کہ آجکل کی مقابلہباز، تکلیفدہ، بےحس طرزِزندگی ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئی ہے۔ کوئی بھی شخص غذائیقلّت کا شکار یا بیمار نہ ہوگا۔ اسلئے، اگر آپ واقعی اُس نئی دُنیا میں زندگی سے لطف اُٹھانا چاہتے ہیں تو یسوؔع کے الفاظ پر دھیان دیں: ”فانی خوراک کیلئے محنت نہ کرو بلکہ اُس خوراک کیلئے جو ہمیشہ کی زندگی تک باقی رہتی ہے۔“—یوحنا ۶:۲۷۔