یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏1 ص.‏ 27-‏30
  • جو خاندان واقعی مجھ سے محبت رکھتا تھا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جو خاندان واقعی مجھ سے محبت رکھتا تھا
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • میرا خاندان مجھے نکال دیتا ہے
  • دوسری مرتبہ باہر نکالا جانا
  • آزمائش میں ڈالنے والی پیشکش
  • ایک اَور خاندان پانا
  • اُس خاندان کی مدد کرنا جس نے مجھے نکال دیا تھا
  • ‏”‏اب مَیں دوسروں کی مدد کر رہا ہوں“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏1 ص.‏ 27-‏30

جو خاندان واقعی مجھ سے محبت رکھتا تھا

کسی ایک بچے کیلئے، خاندان بہت اہم ہوتا ہے۔ ایک پُرتپاک، محبت‌آمیز خاندان بچے کی جسمانی اور جذباتی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تربیت، تعلیم اور نشوونما کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بچے کو احساسِ‌تحفظ دیتا ہے۔ اپنے خاندان سے نکال دیا جانا، جیسے مجھے نکال دیا گیا تھا، کسقدر تکلیف‌دہ امر ہے!‏

میری پیدائش مشرقی نائجیرؔیا میں ایک بڑے خاندان میں ہوئی تھی۔ میراوالد سات بیویوں کیساتھ قبیلے کا سردار تھا۔ وہ ۳۰ بچوں کا باپ بنا اور مَیں ۲۹واں تھا۔‏

۱۹۶۵ میں ایک دِن، جب مَیں دس سال کا تھا، تو مَیں نے سکول سے گھر واپس آ کر اپنے والد کو برآمدے میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ دو شخص بریف‌کیس اُٹھائے ہوئے صحن میں داخل ہوئے اور پُرتپاک مصافحے کے بعد، اُنہوں نے اپنا تعارف یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر کرایا۔ میرے والد نے بڑی توجہ کیساتھ اُنکی بات‌چیت سنی۔ جب اُنہوں نے اُسے دو رسالے پیش کئے تو میرے والد نے میری طرف دیکھا اور پوچھا کہ آیا مَیں اُنہیں لینا چاہتا ہوں۔ مَیں نے ہاں میں سر ہلایا تو اُس نے میرے لئے رسائل لے لئے۔‏

گواہوں نے دوبارہ آنے کا وعدہ کِیا اور وہ آئے بھی۔ اگلے دو سال کیلئے وہ میرے ساتھ بائبل میں سے گفتگو کرنے کیلئے آتے رہے۔ تاہم، اُنکی ملاقاتیں باقاعدہ نہیں تھیں، چونکہ جہاں وہ رہتے تھے وہاں سے میرا گاؤں دس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔‏

میرا خاندان مجھے نکال دیتا ہے

مَیں ۱۲ برس کا تھا جب میرے والد بیمار پڑ گئے اور وفات پا گئے۔ تدفین کے آٹھ دِن بعد، میرے سب سے بڑے بھائی نے خاندان کو ایک میٹنگ کیلئے بلا‌یا۔ کوئی ۲۰ لوگ حاضر تھے۔ ہم سب کا خیال تھا کہ شاید وہ تجہیزوتکفین کے اخراجات کی بابت بات‌چیت کریگا۔ تاہم، میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اُس نے کہا کہ اُس نے اپنے چھوٹے بھائی—‏میرے لئے میٹنگ بلا‌ئی تھی!‏ اُس نے اُنہیں بتایا کہ مَیں چند روپوں کیلئے اِدھراُدھر ”‏بھیک“‏ مانگنے میں دلچسپی رکھتا ہوں، گویا خاندان کے پاس مجھے کھلانے کیلئے پیسے نہیں تھے۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ اردگرد کے علاقہ میں چار روپوں کیلئے رسالے فروخت کرتے پھرنا خاندان کی عزت کو خاک میں ملا ڈالنے کے مترادف تھا۔ اُس نے کہا کہ مجھے انتخاب کرنا ہوگا کہ مَیں کس سے تعلق رکھنا چاہونگا—‏گواہوں سے یا اپنے خاندان سے۔‏

میری والدہ فوت ہو چکی تھی لیکن میری ایک سوتیلی ماں رو پڑی اور میرے لئے منت‌سماجت کی۔ اُس نے درخواست کی کہ وہ مجھے میری میراث کے حصے سے محروم کرنے کیلئے اس عذر کو استعمال نہ کریں۔ لیکن اُن کیلئے ایک عورت کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ خاندان نے میرے بھائی کی حمایت کی اور مجھ سے فیصلے کا تقاضا کِیا۔‏

مَیں نے معاملے پر سوچ‌بچار کرنے کیلئے وقت مانگا۔ اُنہوں نے مجھے اگلی شام تک کی مہلت دی۔ مَیں نے اپنے کمرے میں تنہا رونا شروع کر دیا۔ مَیں نے اپنے‌آپ کو کمزور، رد کِیا ہوا اور خوفزدہ محسوس کِیا۔ مَیں پریشان تھا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا۔‏

اُس وقت تک مَیں کبھی کنگڈم ہال نہیں گیا تھا اور نہ ہی گواہوں کیساتھ منادی میں حصہ لیا تھا۔ میرے پاس بائبل تعلیمات کا محض سطحی علم تھا اور میرے گاؤں میں کوئی گواہ نہ تھا جس سے مَیں بات‌چیت کر سکتا۔‏

مَیں نے یہوؔواہ سے دُعا کی، اپنی زندگی میں پہلی بار اُسکا نام لیکر اُس سے دُعا کی۔ مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں سیکھ رہا تھا کہ وہ سچا خدا ہے۔ مَیں نے اُس سے درخواست کی کہ وہ میری حمایت کرے اور مجھے دُرست فیصلہ کرنے میں مدد دے، ایک ایسا فیصلہ جو اُسے ناخوش نہیں کریگا۔‏

اگلی شام خاندان نے پھر اجلاس طلب کِیا اور میرا فیصلہ سننا چاہا۔ مَیں نے واضح کِیا کہ میرا باپ جس نے مجھے زندگی عطا کی تھی، اُسی نے گواہوں کیساتھ میرا مطالعہ شروع کرایا تھا۔ اُس نے میرے رسالوں اور بائبل کیلئے رقم ادا کی تھی۔ چونکہ اُسے کوئی اعتراض نہیں تھا کہ مَیں گواہوں کیساتھ مطالعہ کر رہا ہوں، مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ میرے بڑے بھائی کو اسے میرے خلاف عذر کے طور پر کیوں استعمال کرنا چاہئے۔ پھر مَیں نے کہا کہ مجھے پروا نہیں کہ وہ میرے ساتھ کیا کرتے ہیں، مجھے تو یہوؔواہ کی خدمت کرنی ہے۔‏

وہ اس بات‌چیت سے ناخوش تھے۔ اُن میں سے ایک نے کہا:‏ ”‏ہمارے ساتھ اسطرح کلام کرنے والا یہ چھوٹا چوہا کون ہوتا ہے؟“‏ فوری طور پر میرا بھائی غصے سے پاؤں پٹختا ہوا میرے کمرے میں داخل ہوا، میرے کپڑے، میری کتابیں اور میرا چھوٹا گتے کا سوٹ‌کیس اُٹھایا اور اُنہیں باہر زمین پر پھینک دیا۔‏

مجھے ایک ہم‌مکتب کے پاس جو گاؤں ہی میں رہتا تھا پناہ مل گئی اور مَیں تقریباً پانچ مہینوں تک اُس کے خاندان کیساتھ رہا۔ اسی اثنا میں، مَیں نے لاگوؔس میں اپنے ماموں کو لکھا، جس نے مجھے اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔‏

کئی ماہ تک مَیں نے کھجوریں جمع کرنے اور بیچنے سے پیسے جمع کئے۔ میری سوتیلی ماں جو میری حمایت میں بولی تھی اُس نے بھی مجھے کچھ پیسے دئیے۔ جب میرے پاس کافی پیسے جمع ہو گئے تو مَیں لاگوؔس روانہ ہو گیا۔ کچھ سفر مَیں نے ریت کے ٹرک میں بیٹھ کر کِیا۔‏

دوسری مرتبہ باہر نکالا جانا

جب مَیں لاگوؔس پہنچا تو مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرا ماموں بھی گواہوں کیساتھ مطالعہ کر رہا تھا۔ مَیں نے فوری طور پر کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر حاضر ہونا شروع کر دیا۔ تاہم، یہوؔواہ کی خدمت کرنے میں میرے ماموں کی دلچسپی جلد ہی ختم ہو گئی جب میرا بڑا بھائی اُس سے ملنے کو آیا۔ اُس نے میرے ماموں کو بتایا کہ یہ خاندان کا فیصلہ تھا کہ نہ تو میری مدد کی جانی چاہئے اور نہ ہی مجھے سکول جانے کی اجازت ملنی چاہئے، اسلئے کہ مَیں یہوؔواہ کے گواہوں سے رفاقت رکھتا ہوں۔ اُس نے میرے ماموں کو دھمکایا اور پھر واپس چلا گیا۔‏

میرے بھائی کے جانے کے ایک ہفتہ بعد، میرے ماموں نے مجھے آدھی رات کو جگایا اور ایک تحریری کاغذ میری طرف اُچھال دیا۔ اُس نے ایک قلم میرے ہاتھ میں تھمایا اور تقاضا کِیا کہ مَیں اپنے دستخط کروں۔ جب مَیں نے اُس کے چہرے کے بگڑے ہوئے تیور دیکھے تو مَیں نے بھانپ لیا کہ کوئی خاص بات ہے۔ مَیں نے کہا:‏ ”‏ماموں جان آپ صبح کے وقت اس پر میرے دستخط کیوں نہیں کروا لیتے؟“‏

اُس نے کہا کہ مَیں اُسے ”‏ماموں“‏ نہ کہوں بلکہ فوری طور پر کاغذ پر دستخط کر دوں۔ مَیں نے جواب دیا کہ ایک خونی کو بھی اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو جاننے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یقیناً مجھے بھی کاغذ پر دستخط کرنے سے پہلے اُسے پڑھنے کا حق حاصل ہے۔‏

تب وہ جھنجلاہٹ میں مان گیا کہ مجھے اسے پڑھنے دیگا۔ عبارت کچھ اسطرح کی تھی:‏ ”‏مَیں یو.‏یو.‏اُودو، نے وعدہ کِیا ہے کہ مَیں یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک نہیں بنونگا۔ مَیں اپنا بیگ اور کتابیں جلانے کو تیار ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ کوئی تعلق نہیں رکھونگا .‏ .‏ .‏۔“‏ پہلی چند سطریں پڑھنے کے بعد، مَیں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ مَیں نے جلدی سے وضاحت کی کہ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ اُس کیساتھ بدتمیزی کروں لیکن مَیں اس دستاویز پر قطعاً دستخط نہیں کر سکتا۔‏

میرا ماموں بہت غصے میں تھا اور مجھے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ مَیں نے جلدی سے اپنے کپڑے اور کتابیں اپنے سوٹ‌کیس میں رکھیں اور اُس کے اپارٹمنٹ کے باہر برآمدے میں چلا گیا اور سونے کیلئے فرش پر لیٹ گیا۔ جب میرے ماموں نے مجھے وہاں دیکھا تو کہا کہ چونکہ جس حصے کا وہ کرایہ ادا کرتا ہے اُس میں برآمدہ بھی شامل ہے اسلئے مجھے بلڈنگ سے ہی نکلنا ہوگا۔‏

آزمائش میں ڈالنے والی پیشکش

مجھے لاگوؔس میں آئے صرف دو ہفتے ہوئے تھے اور نہیں جانتا تھا کہ کہاں جاؤں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ بھائی کہاں رہتا ہے جو مجھے کنگڈم ہال لیجایا کرتا تھا۔ پس جب صبح ہوئی تو مَیں نے یہوؔواہ سے یہ دُعا کرتے ہوئے کہ میری مدد کر، پیدل چلنا اور اِدھراُدھر چلناپھرنا شروع کر دیا۔‏

دِن غروب ہونے پر، مَیں نے خود کو ایک پٹرول پمپ پر پایا۔ مَیں مالک سے ملا اور اُس سے درخواست کی کہ آیا وہ ایک رات کیلئے میرا سوٹ‌کیس اپنے دفتر میں رکھ لے گا تاکہ چوراسے مجھ سے چھین کر نہ لے جائیں۔ اس درخواست نے اُسے یہ پوچھنے کیلئے بہت زیادہ متجسس بنا دیا کہ مَیں گھر کیوں نہیں جاتا۔ مَیں نے اُسے اپنی کہانی سنائی۔‏

وہ آدمی بہت ہمدرد تھا اور اُس نے مجھے اپنے گھر میں نوکر کے طور پر ملازمت کرنے کی پیشکش کی۔ اُس نے تو یہانتک کہا کہ اگر مَیں اُس کے گھر میں کام کرونگا تو وہ مجھے سکول بھی بھیجیگا۔ یہ ایک آزمائش میں ڈالنے والی پیشکش تھی لیکن مَیں جانتا تھا کہ گھر میں نوکر کے طور پر کام کرنے کا مطلب صبح سے رات تک کام کرنا تھا۔ نیز، گھر میں ملازم لڑکوں کی باہر کے لوگوں کیساتھ رفاقت کی حوصلہ‌شکنی کی جاتی تھی، اس خطرے کے پیشِ‌نظر کہ کہیں وہ چوروں کیساتھ سازباز کرکے چوری نہ کروا دیں۔ بڑی حد ہوئی تو مجھے پورے مہینے میں غالباً اتوار کی ایک چھٹی دی جائیگی۔ اسلئے مَیں نے پُرخلوص طور پر اُسکی خواہش کی قدر کی لیکن اُسکی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ مَیں نے کہا کہ اگر مَیں اُس کے گھر میں ملازم بن کر کام کرتا ہوں تو میرے لئے کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر حاضر ہونا مشکل ہوگا۔‏

اُس آدمی نے کہا:‏ ”‏جب تمہارے پاس رہنے کو جگہ نہیں تو تم اجلاسوں کی بابت کیسے بات کر سکتے ہو؟“‏ مَیں نے جواب دیا کہ اگر مَیں اجلاسوں پر نہ جانے کیلئے رضامند ہو جاتا تو مَیں اپنے باپ کے گھر میں ہی رہ سکتا تھا۔ یہ میرے مذہب ہی کی وجہ سے تھا کہ مجھے گھر سے نکال دیا گیا ہے۔ اُس سے مجھے صرف اپنا سوٹ‌کیس رکھنے کیلئے جگہ چاہئے۔ اس بات پر وہ اسے حفاظت سے رکھنے کیلئے راضی ہو گیا۔‏

ایک اَور خاندان پانا

تین دِن تک مَیں پٹرول پمپ کے باہر سوتا رہا۔ میرے پاس کھانا خریدنے کیلئے پیسے نہیں تھے اسلئے میرے پاس اُس دوران کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ چوتھے دِن، جب مَیں اِدھراُدھر بھٹک رہا تھا تو مَیں نے ایک نوجوان شخص کو سڑک پر راہگیروں کو واچ‌ٹاور اور اویک!‏ رسالے پیش کرتے ہوئے دیکھا۔ مارے خوشی کے مَیں اُس کی طرف دوڑا اور اُس سے پوچھا کہ آیا وہ بھائی گڈؔون ایڈا کو جانتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ مَیں کیوں اُس کی بابت پوچھ رہا ہوں اسلئے جوکچھ مجھ پر بیت چکی تھی مَیں نے اُس سب کی وضاحت کی۔‏

جب مَیں نے بات ختم کی تو اُس نے فوراً اپنے رسالے اپنے بیگ میں ڈالے اور سوال کِیا:‏ ”‏لاگوؔس میں ہزاروں یہوؔواہ کے گواہوں کے ہوتے ہوئے تم کیوں تکلیف اُٹھاتے ہو؟“‏ اُس نے ایک ٹیکسی کو اشارہ کِیا اور میرا سوٹ‌کیس لینے کیلئے مجھے پٹرول پمپ پر لے گیا۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنے اپارٹمنٹ میں لے گیا اور میرے لئے کھانا لگایا۔ اسکے بعد اُس نے بھائی ایڈا کو پیغام بھیجا جوکہ قریب ہی رہتا تھا۔‏

جب بھائی ایڈا آئے تو وہ آپس میں اسکی بابت بحث کرنے لگے کہ مجھے اُن میں سے کس کیساتھ رہنا چاہئے۔ دونوں مجھے رکھنا چاہتے تھے!‏ بالآخر وہ میرے بٹوارے پر متفق ہو گئے—‏کچھ وقت مَیں ایک کیساتھ رہونگا اور کچھ وقت دوسرے کیساتھ۔‏

اسکے بعد جلد ہی مجھے قاصد لڑکے کے طور پر ملازمت مل گئی۔ جب مجھے اپنی پہلی تنخواہ ملی تو مَیں نے دونوں بھائیوں سے بات‌چیت کی اور اُن سے پوچھا کہ وہ کتنا چاہینگے کہ مَیں کھانے اور کرایے کیلئے دُوں۔ وہ ہنسنے لگے اور کہا کہ مجھے کچھ ادا نہیں کرنا ہوگا۔‏

جلد ہی مَیں نے شام کے سکول میں داخلہ لے لیا اور آخرکار مَیں نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کر لی۔ مالی طور پر میرے حالات بہتر ہو گئے۔ مجھے سکریٹری کے طور پر اچھی ملازمت مل گئی اور وقت آنے پر مَیں نے اپنے لئے ذاتی رہائش کا بھی بندوبست کر لیا۔‏

مَیں نے اپریل ۱۹۷۲ میں بپتسمہ لیا۔ مَیں ۱۷ برس کا تھا۔ یہوؔواہ نے جوکچھ میرے لئے کِیا ہے، بالخصوص اُس مشکل وقت کے دوران، اُس کیلئے قدرافزائی کا مظاہرہ کرنے کیلئے مَیں پائنیر خدمت کرنا چاہتا تھا۔ جب بھی مَیں کر سکتا تھا تو مَیں امدادی پائنیر کے طور پر نام درج کروا لیتا تھا، لیکن مستحکم ہونے کیلئے کچھ سال لگے۔ انجام‌کار، ۱۹۸۳ میں، مَیں نے باقاعدہ پائنیر کے طور پر نام درج کروایا۔‏

اس وقت تک مَیں پوری طرح سے اپنے روحانی خاندان کی قدر کرنے لگا تھا۔ یسوؔع کے یہ الفاظ میرے حق میں یقیناً سچ ثابت ہوئے:‏ ”‏مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایسا کوئی نہیں جس نے گھر یا بیوی یا بھائیوں یا ماں‌باپ یا بچوں کو خدا کی بادشاہی کی خاطر چھوڑ دیا ہو۔ اور اس زمانہ میں کئی گنا زیادہ نہ پائے اور آنے والے عالم میں ہمیشہ کی زندگی۔“‏—‏لوقا ۱۸:‏۲۹، ۳۰‏۔‏

گواہوں نے واقعی میرے لئے محبت دکھائی تھی اور میری خبرگیری کی تھی۔ اُنہوں نے اُس وقت مجھے پناہ دی جب میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اُنکی اور اپنے آسمانی باپ کی مدد کیساتھ، مَیں نے روحانی طور پر ترقی کی تھی۔ مَیں نے نہ صرف دُنیاوی تعلیم ہی حاصل کی بلکہ مَیں نے یہوؔواہ کے طورطریقے بھی سیکھ لئے تھے۔‏

یہ وہ لوگ تھے جنہیں ترک کرنے کیلئے میرے اپنے خاندان نے دباؤ ڈالا تھا۔ جب مَیں نے انکار کِیا تو میرے خاندان نے مجھے نکال دیا۔ کیا اب میرے روحانی بہن اور بھائی اپنے خاندان کو چھوڑنے کیلئے میری حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بائبل سکھاتی ہے:‏ ”‏جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم بھی اُنکے ساتھ ویسا ہی کرو۔“‏—‏لوقا ۶:‏۳۱‏۔‏

اُس خاندان کی مدد کرنا جس نے مجھے نکال دیا تھا

میرے گھر چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد، نائجیرؔیا میں خانہ‌جنگی شروع ہو گئی۔ میرا گاؤں تباہ‌وبرباد ہو گیا تھا۔ میری سوتیلی ماں سمیت جس نے میری خاطر منت‌سماجت کی تھی میرے بہت سے دوست اور رشتے‌دار اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ معیشت تباہ ہو رہی تھی۔‏

جب جنگ ختم ہو گئی تو مَیں گھر گیا اور اپنے بھائیوں میں سے ایک سے ملا جو اُس وقت مجھے گھر سے نکالنے میں شریک تھا جب مَیں چھوٹا تھا۔ اُس کی بیوی اور دو بیٹیاں بیمار تھیں اور ہسپتال میں زیرِعلاج رہی تھیں۔ اسلئے مَیں نے اُس کیساتھ ہمدردی ظاہر کی اور پوچھا کہ اُسکی مدد کرنے کیلئے مَیں کیا کر سکتا ہوں۔‏

شاید مجرمانہ ضمیر کی وجہ سے، اُس نے مجھے تبایا کہ اُسے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ مَیں نے اُس پر واضح کِیا کہ اُسے یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ خاندان نے میرے ساتھ جوکچھ کِیا ہے شاید مَیں اُس کا انتقام لونگا۔ مَیں نے اُسے بتایا کہ مجھے معلوم ہے کہ اُنہوں نے انجانے میں ایسا کِیا ہے اور یہ کہ مَیں واقعی اُسکی مدد کرنا چاہتا ہوں۔‏

تب اُس نے رونا شروع کر دیا اور اعتراف کِیا کہ اُس کے پاس پیسے نہیں ہیں اور یہ کہ اُسکے بچے تکلیف میں ہیں۔ مَیں نے اُسے ۳۰۰ (‏یو.‏ایس.‏)‏ ڈالر کے برابر رقم دی اور پوچھا کہ آیا وہ لاگوؔس میں کام کرنا پسند کریگا۔ جب مَیں لاگوؔس واپس آیا تو مَیں نے اُس کیلئے ملازمت تلاش کی اور اُسے آنے اور اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔ پیچھے گھر میں اپنی بیوی بچوں کو بھیجنے کیلئے پیسے کماتے ہوئے وہ دو سال تک میرے ساتھ رہا۔ اُس وقت کے دوران مَیں نے خوشی سے اُس کی رہائش اور کھانے کا خرچ اُٹھایا۔‏

اُس نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ یہوؔواہ کے گواہ سچے مذہب پر چل رہے ہیں۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ دُنیا میں اسقدر گم نہ ہو گیا ہوتا تو وہ بھی گواہ بن جاتا۔ لیکن اُس نے وعدہ کِیا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کیلئے بائبل مطالعہ کرنے کا بندوبست بنائیگا۔‏

۱۹۸۷ میں، مجھے سرکٹ کا کام کرنے کی دعوت دی گئی۔ اپریل ۱۹۹۱ میں، مَیں نے ساؔرہ اوکپونگ سے شادی کر لی۔ ۱۹۹۳ میں، ہمیں سرکٹ کے کام کو چھوڑنے اور نائجیرؔیا برانچ میں خدمت کرنے کی دعوت دی گئی۔ ہم نے اس دعوت کو قبول کِیا اور میری بیوی کے حاملہ ہونے تک ہم نے وہیں خدمت کی۔‏

اگرچہ میرے بچپن میں میرے خاندان نے مجھے باہر نکال دیا تھا، ایک روحانی خاندان—‏والدین، بھائیوں، بہنوں اور بچوں نے مجھے گلے لگایا۔ اس منفردعالمگیر خاندان کا جس سے مَیں واقعی پیار کرتا ہوں اور جو واقعی مجھ سے پیار کرتا ہے، حصہ ہونا کیا ہی خوشی کی بات ہے!‏—‏از اؔودم اودو۔‏

‏[‏تصویر]‏

اؔودم اور ساؔرہ اودو

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں