یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏1 ص.‏ 23-‏26
  • ہندوستان کی خواتین ۲۱ویں صدی میں داخل ہو رہی ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہندوستان کی خواتین ۲۱ویں صدی میں داخل ہو رہی ہیں
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ملازمت میں نئی آسامیاں
  • ازدواجی حلقے میں تبدیلیاں
  • چھوٹی بچیوں کا زیادہ توجہ حاصل کرنا
  • دیہی اور شہری فرق
  • ۲۱ویں صدی میں داخل ہونا!‏
  • عورتیں خدا کے سائے میں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • عورتیں کیا آجکل ان کا احترام کیا جاتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏1993ء
  • عورتیں گھر میں عزت پاتی ہیں؟‏
    جاگو!‏—‏1993ء
  • خواتین کیلئے مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟‏
    جاگو!‏—‏1998ء
مزید
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏1 ص.‏ 23-‏26

ہندوستان کی خواتین ۲۱ویں صدی میں داخل ہو رہی ہیں

ہندوستان میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

وہ لمبی ہیں، وہ ناٹی ہیں۔ وہ دُبلی ہیں، وہ موٹی ہیں۔ وہ خوش‌مزاج ہیں، وہ تندمزاج ہیں۔ وہ بہت زیادہ امیر ہیں، وہ مکمل طور پر مفلوک‌الحال ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم‌یافتہ ہیں، وہ بالکل اَن‌پڑھ ہیں۔ وہ کون ہیں؟ ہندؔوستان کی خواتین۔ اور وہ کس طرف رُخ کئے ہوئے ہیں؟ وہ ۲۱ ویں صدی میں داخل ہو رہی ہیں۔‏

ہندوستان سے باہر رہنے والے زیادہ‌تر لوگوں کیلئے، ایک ہندوستانی عورت کا تصور حسن‌وجمال، خوبصورتی، خلوص اور دلکشی والا ہے۔ بہتیرے مرد بیویاں تلاش کرنے کیلئے ہندوستان کا رُخ کرتے ہیں، کسی حد تک اس نظریے کے پیشِ‌نظر کہ ہندوستانی عورتیں زیادہ خودمختار اُنکی مغربی بہنوں کی نسبت زیادہ تابعدار، اپنے شوہروں کو خوش کرنے اور اچھی خاتونِ‌خانہ بننے کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ تاہم، مختلف نسلی، مذہبی اور معاشرتی پس‌منظر والی اس بڑی آبادی میں کسی واحد مثالی ہندوستانی عورت کیلئے ایسا کہنا غلط ہے۔ اس دلکش مُلک میں تمام قسم کی عورتیں رہتی ہیں۔‏

ہندوستان کی تاریخ بہت سی تہذیبوں پر مشتمل ہے جو پُرامن طور پر یا جبراً شامل ہوئی ہیں۔ اسکی بابت قیاس‌آرائی کی جاتی ہے کہ بہت شروع میں آباد ہونے والے دراوڑ کہاں سے آئے تھے۔ اُن کی اصل آسٹریلیا اور جنوبی بحیرۂ روم کے لوگوں سے مل کر بنی دکھائی دیتی ہے جنکا خاص تعلق کرؔیتے سے ہے۔ جونہی شمال‌مغرب کیطرف سے آریہ اور فارسی اور شمال‌مشرق کی طرف سے منگول ہندوستان میں داخل ہوئے تو دراوڑ جنوب کی طرف جا بسے۔ اسلئے عام طور پر، ہم دیکھتے ہیں کہ شمال کی عورتوں کی نسبت جوکہ زیادہ درازقد اور گوری چٹی ہوتی ہیں، جنوبی ہندوستان کی عورتیں چھوٹے قد اور کالی رنگت والی ہوتی ہیں لیکن اسکے باوجود بال اور آنکھیں کالی ہوتی ہیں۔ شمال‌مشرق میں لوگوں کے نقوش اکثر مشرقی ہوتے ہیں۔‏

ہندوستان میں عورت کے مقام کا یقین کرنے میں مذہب نے بنیادی کردار ادا کِیا ہے۔ چونکہ موجودہ ہندوستان ایک سیکیولر مُلک ہے، اسلئے اُن روایتی نظریات کو بدلنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جنہوں نے عورتوں کو ترقی کرنے سے محروم رکھا ہے۔ نہ صرف امیر یا بااثر خواتین کیلئے بلکہ سب عورتوں کیلئے تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کیلئے بڑے بڑے اقدام کئے جا رہے ہیں۔ دیہاتوں میں خواندگی کے درس، ملازمت سے متعلق تربیت، اور لڑکیوں کیلئے مُفت تعلیم ہندوستانی عورتوں کے وقار کو بڑھا رہے ہیں۔‏

۲۲ جون، ۱۹۹۴ کو، مہاراشٹرا کی ریاست میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہوئی جب عورتوں کی بابت ایک سرکاری پالیسی شائع کی گئی۔ ہندوستان کے وائس پریذیڈنٹ، کے.‏ آر.‏ ناؔرائن نے اسے بطور ”‏اہم“‏ اور ”‏انقلابی“‏ بیان کِیا، اس نے خواتین کی مشترکہ ملکیت کے حقوق، سرپرستی کے حقوق، رہائشی وظائف اور ملازمت کے سلسلے میں یکساں مواقع جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دلائی۔‏

جب زیادہ‌تر عورتیں کالج جاتی اور کاروباری میدان میں اُترتی ہیں تو وہ گھر تک محدود نہیں رہتیں، یوں اخلاقیات میں تبدیلی پر سوال کِیا گیا ہے۔ کالجوں میں منشیات کے ناجائز استعمال اور اخلاقیات میں تنزلی کی رپورٹیں سامنے آتی ہیں۔ بعض نوجوان ہندوستانی عورتوں کی انقلابی تبدیلی کے سلسلے میں ذرائع‌ابلا‌غ ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ ہندوستان کی ۳۰ سال پُرانی فلموں کا آجکل کی فلموں کیساتھ مقابلہ کرتے ہوئے، بہتیروں نے خواتین کی تصویرکشی کو بڑی حد تک تبدیل پایا ہے۔ ایک ہندوستانی خاتون نے تبصرہ کِیا:‏ ”‏جب مَیں سکول میں تھی تو اُس وقت کی شرمیلی، شریف‌النفس، خودایثار ہیروئین کی جگہ جدید لڑکی نے لے لی ہے، جوکہ جب ناراض ہوتی ہے تو اپنے شوہر اور سُسرال کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے اور اپنے حقوق اور آزادی کیلئے لڑتی ہے۔“‏

لیکن بہتیرے ممالک کیساتھ موازنے میں، ہندوستان ابھی تک بحیثیتِ‌مجموعی، چال‌چلن اور لباس میں اعتدال‌پسند ہے۔ عام طور پر سب سے زیادہ پہنا جانے والا لباس، خوبصورت ساڑھی حیاداری سے زیادہ‌تر جسم کو ڈھانپ لیتی ہے۔ خاص طور پر شمال میں، نوجوان عورتوں میں شلوار قمیض بہت مقبول ہیں۔ بمبئیؔ، گوؔا اور کلکتہؔ میں نظر آنے والے مغربی ملبوسات عموماً حیادار لباس ہوتے ہیں۔‏

ملازمت میں نئی آسامیاں

ہندوستان کی عورتوں کو کس قسم کی ملازمت دستیاب ہے جبکہ وہ ۲۱ویں صدی میں داخل ہوتی ہیں؟ ہندوستان کی آبادی کا بڑا تناسب دیہاتوں میں رہتا ہے اور اُنکا کام کھیتی‌باڑی ہے۔ لاکھوں عورتیں کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ کھیتی‌باڑی کا ہر طرح کا کام کرتے ہوئے عورتیں مردوں کے شانہ‌بشانہ کام کر رہی ہیں۔ وہ دُور دُور سے دریاؤں اور کنوؤں سے پانی لاتی ہیں اور مشقت کیساتھ لکڑی اور ایندھن بھی جمع کرتی ہیں۔ کام کے دوران، بچے کولہے پر بٹھا لئے جاتے ہیں یا پھر درختوں سے باندھے ہوئے جھولوں میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔‏

۲۰ویں صدی میں داخل ہونے کے وقت سے لیکر، دیہی ہندوستانی خاندان ملازمت کی تلاش میں بڑی تعداد میں شہری علاقوں میں نقل‌مکانی کر گئے ہیں۔ عورتیں کپڑے کی ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں۔ تاہم، صنعت کو نئے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینے نے، مردوں کی نسبت کام کرنے والی عورتوں کو زیادہ متاثر کِیا ہے۔ مردوں کو فنی تربیت دی گئی لیکن عورتوں کو محروم رکھا گیا۔ اس چیز نے خواتین کیلئے خاصی مشکل پیدا کر دی۔ وہ تعمیراتی جگہوں پر باربرداری کرنے، بھاری بوریوں سے لدی ہوئی ہتھ گاڑیاں دھکیلنے، استعمال‌شُدہ کپڑے فروخت کرنے یا دیگر کم اُجرتی کام کرنے تک محدود ہو کر رہ گئیں۔‏

معاشرتی مصلحین نے خواتین کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کیں۔ ایس‌ای‌ڈبلیواے (‏سیلف امپلائڈ ویمنز ایسوسی‌ایشن)‏ جیسی تحریکیں چلیں، اُنکا مقصد اَن‌پڑھ کام کرنے والی عورتوں کو اپنی صحت کی نگہداشت کرنے میں مدد دینا تھا تاکہ وہ کام کر سکیں، بُرے کاموں میں پڑنے سے بچنے کیلئے کافی تعلیم حاصل کر سکیں، کام کرنے کی اپنی مہارتوں کو بہتر بنا سکیں اور بچت کرنا سیکھیں تاکہ خود اپنا سرمایہ بچا سکیں اور بددیانت سودخوروں کے بہت زیادہ شرح سود وصول کرنے سے بچ سکیں۔ جب مساواتِ‌نسواں کو ایک معاشرتی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی بابت سوال کِیا گیا تو ممتاز ماہرِعمرانیات زؔرینہ بھٹی نے بیان کِیا:‏ ‏”‏ہندوستان میں مساواتِ‌نسواں کا مطلب خواتین کے مسائل کو سننا، اُنہیں منظم کرنا، صحت اور خوراک کیساتھ ساتھ اُنہیں فنی تعلیم دینے کی کوشش کرنا ہے۔“‏

تاہم، معاشرتی طبقے میں افضل خیال کی جانے والی متموّل گھرانوں کی تعلیم‌یافتہ خواتین کی بابت نیز متوسط طبقے کے گھرانوں کی خواتین کی بابت بھی نظریات بدلتے رہے ہیں۔ اب دونوں پس‌منظر کی خواتین نہ صرف تعلیم دینے یا طبّی میدان میں بلکہ کام کے ہر شعبے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہ ہوا بازوں، ماڈلوں، فضائی میزبانوں اور پولیس کے پیشے اختیار کئے ہوئے ہیں اور اعلیٰ ایگزیکٹو عہدوں پر فائز ہیں۔ کئی سالوں تک ہندوستان میں ایک خاتون، دُنیا کی ایک بڑی جمہوریت میں بطور ایک منتخب وزیرِاعظم تھی۔ ہندوستانی خواتین مسلح افواج میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور وکیل اور چیف جسٹس ہیں اور ہزاروں کاروباری منتظمین کے طور پر کاروبار میں داخل ہو گئی ہیں۔‏

ازدواجی حلقے میں تبدیلیاں

خودمختارانہ ملازمتوں کے لئے اس میلان کے ساتھ، جدید ہندوستانی عورت شادی کی بابت کیسا محسوس کرتی ہے؟ ۱۹ویں اور ۲۰ویں صدی شادی‌شُدہ خواتین کے لئے بڑی تبدیلیاں لائی‏۔ ستی کی ایک قدیم رسم کو جس میں ایک بیوہ عورت اپنی خوشی سے اپنے شوہر کے جنازہ کی چتا پر جل مرتی تھی، برطانوی حکومت کے تحت ختم کِیا گیا تھا‏۔ بچپن کی شادی پر قانون کے مطابق پابندی عائد کر دی گئی ہے اس لئے اب ۱۸ سال سے کم عمر لڑکی کی قانونی طور پر شادی نہیں ہو سکتی۔ لڑکی کے خاندان سے جہیز کا مطالبہ کرنے پر بھی قانونی طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے لیکن یہ لعنت ابھی تک موجود ہے۔ ہزارہا جوان دُلہنوں کو کسی نہ کسی طرح قتل کر دیا گیا ہے‏، یا تو اس لئے کہ اُن کا خاندان کافی زیادہ جہیز دینے میں ناکام رہا یا پھر اس لئے کہ دوسری شادی سے اَور زیادہ دولت حاصل کی جا سکے۔‏

بتدریج، جہیز سے متعلق اموات کی بنیادی وجوہات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ روایتاً، ایک ہندوستانی لڑکی شادی کے وقت اپنے شوہر کے ساتھ اُس کے والدین کے گھر جاتی اور پھر تاحیات وہیں رہتی ہے‏۔ کسی بھی طرح کے حالات کے تحت اُس کے والدین اُسے واپس اپنے گھر نہیں لے جاتے تھے۔ باقاعدہ تعلیم کی کمی کے باعث، زیادہ‌تر عورتیں اپنے شوہر کے گھر کو چھوڑ نہیں سکتی تھیں اور اپنی کفالت کے لئے ملازمت نہیں کر سکتی تھیں۔ اسلئے اکثر نوجوان عورتوں کو اذیت دی جاتی تھی اور موت ہر وقت اُن کے سر پر منڈلاتی رہتی تھی اور اگر اُن کے والدین حریص سُسرال والوں کو مطمئن کرنے کے لئے زیادہ رقم یا چیزیں نہ دے سکتے تو دُلہنیں اکثر خاموش ذہنی‌کوفت کے ساتھ بالآخر اپنے انجام کی منتظر رہتی تھیں، یعنی عموماً طے‌شُدہ پروگرام کے مطابق ایک جان‌لیوا حادثہ جس میں چولہا پھٹ جاتا تھا یا ایک باریک ساڑھی کو آگ لگ جاتی تھی۔‏

اب قانون، خواتین کے پولیس یونٹ اور خواتین کی عدالتیں اور حمایتی گروہ ایک شادی‌شُدہ عورت کو ایسی جگہ پیش کرتے ہیں جہاں وہ مدد کے لئے جا سکتی ہے اگر وہ محسوس کرتی ہے کہ اُس کی زندگی خطرے میں ہے۔ تعلیم کے زیادہ دستیاب ہونے اور اُن کے لئے ملازمت کے مواقع فراہم ہونے کی وجہ سے، بعض عورتیں شادی نہ کرنے یا پھر اپنا کیریئر بنانے کے بعد شادی کرنے کا انتخاب کرتی ہیں۔ لہٰذا، مردوں کا دستِنگر بننا، جواکثر سخت تسلط کا باعث بنتا تھا، اب اتنا زیادہ نہیں رہا‏۔‏

چھوٹی بچیوں کا زیادہ توجہ حاصل کرنا

ایک اَور مسئلہ جو خواتین کو متاثر کرتا ہے اور جو ۲۱ویں صدی کے قریب آنے سے تبدیل ہو رہا ہے وہ نرینہ اولاد کیلئے غیرمعمولی خواہش ہے۔ معاشی غوروفکر کے علاوہ، قدیم مذہبی تعلیمات پر مبنی، یہ نظریہ‌اکثر بچیوں کی اطفال‌کشی اور لڑکیوں کو لڑکوں کی نسبت کم خوراک، تعلیم اور صحت کی نگہداشت فراہم کرنے سے نارواسلوک کا باعث بنا ہے۔‏

حالیہ وقتوں میں نازائیدہ بچے کی جنس کا تعیّن کرنے کے لئے اجنہےنیوسنٹائسس کا استعمال مادہ بچوں کے بکثرت اسقاط کا باعث بنتے ہوئے، آجکل بہت عام ہو گیا ہے۔ اگرچہ اسے قانون کے تحت عمل میں لایا جاتا ہے تو بھی یہ عمل بہت عام ہے۔ اس نظریے کو تبدیل کرنے کیلئے کہ نر بچے کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہئے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔‏

انسان‌ساختہ فیلسوفیوں نے متعدد طریقوں سے عورتوں کی تذلیل کی ہے۔ بیواؤں کیساتھ برتاؤ اسکی ایک مثال ہے۔ قدیم ہندوستان میں، بیواؤں کی دوسری شادی قابلِ‌قبول تھی۔ لیکن تقریباً چھٹی صدی س.‏ع.‏ سے، قانون بنانے والوں نے اس کی مخالفت کی اور بیواؤں کی حالت قابلِ‌رحم بن گئی۔ دوسری شادی کرنے سے انکار کر دئیے جانے، مُتوَفّی شوہر کے رشتہ‌داروں کی طرف سے اکثر چیزوں کے چرا لئے جانے، خاندان کیلئے ایک لعنت کے طور پر خیال کئے جانے کے باعث بہتیری بیواؤں نے، بدسلوکی اور بے‌عزتی کی زندگی گزارنے کی بجائے اپنے شوہر کے جنازہ کی چتا پر قربان ہو جانے کا انتخاب کِیا۔‏

۱۹ویں صدی کے آخر سے لیکر، اصلاح‌پسندوں نے ایسی عورتوں کے بارکو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن گہرے نقش‌شُدہ جذبات مشکل ہی سے ختم ہوتے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں بیوائیں، بعض‌اوقات ایک نوجوان عورت جسکا بڑی عمر کا شوہر مر گیا ہے، واقعی سخت بُری حالت میں ہوتی ہے۔ ترقیاتی مطالعوں کیلئے انسٹی‌ٹیوٹ کی ڈاکٹر سہاؔردا جین کہتی ہے:‏ ”‏بیوہ ہونے کا خوف بنیادی طور پر اس حقیقت سے پیدا ہوتا ہے کہ عورتیں اس بات پر انحصار کرتی ہیں کہ اُن کی ساری شخصیت شوہر کی حیثیت کی مرہونِ‌منت ہے۔“‏ بیواؤں کو وقار کیساتھ ۲۱ویں صدی میں داخل ہونے میں مدد دینے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔‏

دیہی اور شہری فرق

شہری اور دیہی خواتین کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ دیہی خواتین کا ۲۵ فیصد خواندہ ہے؛ شہروں میں اس سے بھی زیادہ شرح سکولوں اور کالجوں سے استفادہ کرتی ہے۔ دیہی خواتین کی مدد کرنے کیلئے، سماجی کارکن خواندگی کے درسوں، صحت کی نگہداشت کے سلسلے میں تربیت اور روزگار کی سکیموں کا انتظام کرتے ہیں۔ بعض وفاقی حکومتوں نے پبلک سیکٹروں، امدادِباہمی سوسائٹیز اور خواتین کیلئے بلدیاتی حکومت میں ۳۰ فیصد آسامیاں مختص کی ہیں۔ عورتوں کی مساواتِ‌نسواں کی تحریکیں اُس دُکھ اور سخت تکلیف کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جوکہ ہندوستان میں لاکھوں خواتین کا مقدر ہے۔ کسی حد تک انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اسلئے، ہندوستان کی عورتوں کے مستقبل کی بابت ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟‏

۲۱ویں صدی میں داخل ہونا!‏

جُوں جُوں وہ ۲۱ویں صدی میں داخل ہوتی ہے تو کیا ہندوستانی عورت کا کردار تبدیل ہو رہا ہے؟ جی‌ہاں، بڑی تیزی کیساتھ۔ لیکن ہندوستان کی خواتین کو بالکل اُسی طرح کی حالت کا سامنا ہے جیسے‌کہ پوری دُنیا میں اُنکی بہنوں کو ہے۔ ترقی بھی ہے لیکن رُکاوٹیں بھی ہیں۔ اُمید بھی ہے لیکن مایوسی بھی ہے۔ خوبصورت گھر اور آرام‌دہ طرزِزندگی بھی ہے لیکن گندی تاریک گلیاں، سخت غربت اور ماندہ کر دینے والی بھوک بھی ہے۔ لاکھوں کیلئے بمشکل روزی کمانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ دوسری دُنیا جوکچھ پیش کر سکتی ہے اُس سب پر قابض دکھائی دیتی ہیں۔ اکثریت کیلئے مستقبل غیریقینی ہے؛ اُنکے خواب ہیں لیکن شکوک بھی ہیں۔‏

تاہم، بعض کیلئے، مستقبل یقینی طور پر روشن ہے، بالخصوص اُن کیلئے جو یسوؔع مسیح کے ذریعے یہوؔواہ کی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت آنے والی فردوسی زمین میں اُمید رکھتے ہیں۔ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۱،‏ ۴، ۵‏)‏ یہ مکمل اعتماد کیساتھ ۲۱ویں صدی کے منتظر ہیں جس میں خواتین بھرپور زندگی سے لطف‌اندوز ہونگی۔‏

‏[‏تصویر]‏

ایک زیرِتعمیر عمارت تک اینٹیں لیجاتے ہوئے

‏[‏تصویر]‏

گھر کے استعمال کیلئے پانی بھرتے ہوئے

‏[‏تصویر]‏

مردوں کیساتھ کانفرس میں

‏[‏تصویر]‏

ایک کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں