یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏4 ص.‏ 3-‏5
  • 50 سال قبل دُنیا کیسی تھی؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • 50 سال قبل دُنیا کیسی تھی؟‏
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دوسری عالمی جنگ کے اثرات
  • کارروائی کرنے کیلئے چرچل کی دعوت
  • موت اور لڑائیوں کی نصف صدی
  • کیا جنگیں ناگزیر ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏4 ص.‏ 3-‏5

50 سال قبل دُنیا کیسی تھی؟‏

کیا آپ اتنے بڑے ہیں کہ آپکو یاد ہو کہ ۱۹۴۵ میں دُنیا کیسی تھی؟ اس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد بحال ہونا شروع ہی کِیا تھا جس کا آغاز ۱۹۳۹ میں ہوا جب برؔطانیہ اور فرانسؔ نے پولینڈؔ پر نازیوں کے حملے کے باعث جرمنیؔ کے خلاف اعلانِ‌جنگ کِیا تھا۔ اگر آپ اسے یاد کرنے کیلئے بہت چھوٹے ہیں تو کیا آپکو کوؔریا کی وہ جنگ یاد ہے جو ۱۹۵۰ میں چھڑی تھی؟ یا وؔیت‌نام میں وہ جنگ جو ۱۹۵۰ کے عشرے سے لیکر ۱۹۷۵ تک جاری رہی تھی؟ یا کوؔیت میں وہ جنگ جو عراؔق نے ۱۹۹۰ میں شروع کی تھی؟‏

کیا یہ آپ کو غیرمعمولی طور پر متاثر نہیں کرتا کہ جب ہم دوسری عالمی جنگ کے بعد سے لیکر انسانی تاریخ پر نظرثانی کرتے ہیں تو ہمیں بہت سی ایسی جنگوں کی بابت یاد کرنا پڑتا ہے جو لاکھوں افراد کے لئے سخت تکلیف اور دُکھ کا باعث بنی ہیں اور جنہوں نے دیگر لاکھوں کی زندگیاں تباہ‌وبرباد کر دی ہیں؟ لہٰذا اُس وقت دوسری عالمی جنگ نے لوگوں کے لئے کیا ورثہ چھوڑا تھا؟‏

دوسری عالمی جنگ کے اثرات

دوسری عالمی جنگ میں کوئی ۵۰ ملین لوگ ہلاک ہوئے اور ۱۹۴۵ تک، لاکھوں پناہ‌گزین بموں سے تباہ‌شُدہ شہروں اور قصبوں میں اپنے گھروں کو واپس جانے اور اپنی مفلوک‌الحال زندگیوں کو ازسرِنو بحال کرنے کی کوشش میں پورے یورپ میں بھٹک رہے تھے۔ سینکڑوں عورتیں اور لڑکیاں، بالخصوص رؔوس اور جرمنیؔ میں، حملہ‌آور فوجوں کے ہاتھوں زنابالجبر کے صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ یورپ کے بیشتر حصے میں راشن‌بندی تھی—‏خوراک اور لباس کی بہت قلّت تھی۔ فوجی خدمت سے سبک‌دوش سینکڑوں فوجی ملازمتوں کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ لاکھوں بیوائیں اور یتیم اپنے شوہروں اور والدین کی وفات کے باعث غمزدہ تھے۔‏

یہودی ابھی تک قتلِ‌عام کی حقیقت کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس نے اُنکے لاکھوں ساتھی یہودیوں اور آئندہ نسلیں پیدا کرنے کے اُنکے امکان کو ختم کر دیا تھا۔ اؔمریکہ، برؔطانیہ، فرانسؔ، جرمنیؔ، رؔوس اور بہتیری دوسری قوموں کے—‏لاکھوں افراد—‏اُس جنگ میں مر گئے۔ عالمی طاقتوں اور اُنکے حکمرانوں کے سیاسی اور تجارتی مفادات کو فروغ دینے کی غرض سے مختلف صلاحتیں اور لیاقتیں رکھنے والی ایک نسل پیدا کرنے کا وسیع امکان ختم ہو گیا تھا۔‏

بہت سے ممالک دوسری عالمی جنگ کے باعث اس حد تک تباہ‌حال ہو گئے تھے کہ معاشی بحالی اُنکی اوّلیت بن گئی تھی۔ جنگ کے بعد کئی سال تک یورپ میں خوراک کی قلّت رہی تھی۔ سپینؔ، اگرچہ دوسری عالمی جنگ کے دوران، سرکاری طور پر غیرجانبدار تھا توبھی وہ اپنی خانہ جنگی (‏۳۹-‏۱۹۳۶)‏ اور عارضی تجارتی پابندیوں سے بہت زیادہ متاثر تھا—‏جون ۱۹۵۲ تک راشن پر خوراک دینے والی کتابیں استعمال ہو رہی تھیں۔‏

مشرقِ‌بعید میں، برؔما، چینؔ، فلپاؔئن اور دیگر مشرقی ممالک میں متاثرین کے ذہنوں میں جاپانیوں کے مظالم ابھی تک تازہ تھے۔ ریاستہائے متحدہ، اگرچہ فاتح قوم تھی توبھی اُسے تقریباً ۳۰۰،۰۰۰ فوجی کارکنوں کا نقصان اُٹھانا پڑا، جس میں سے تقریباً نصف نقصان بحرالکاہل کے جنگی علاقوں میں ہوا تھا۔ جاؔپان میں، غربت، تپِ‌دق اور راشن پر خوراک حاصل کرنے کیلئے لمبی قطاریں شہری آبادی کا مقدر بن گئی تھیں۔‏

کارروائی کرنے کیلئے چرچل کی دعوت

یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر، ۱۳ مئی، ۱۹۴۵ کو، برؔطانیہ کے عوام کو پیش‌کردہ اپنی فاتحانہ تقریر میں وزیرِاعظم ونسٹنؔ چرچل نے کہا:‏ ”‏کاش آج رات مَیں آپکو یہ بتا سکتا کہ ہماری تمام سختیاں اور مشکلات ختم ہو گئی ہیں۔ .‏ .‏ .‏ مجھے ضرور آپکو آگاہ کر دینا چاہئے کہ ابھی بہت کچھ کرنا ہے، اور آپکو مزید ذہنی اور جسمانی جدوجہد اور عظیم مقاصد کیلئے مزید قربانیاں دینے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔“‏ دُوراندیشی سے اشتمالیت کے پھیلنے کی توقع کرتے ہوئے، اُس نے کہا:‏ ”‏براعظم یورپ میں ہمارے لئے یہ یقین کرنا ابھی باقی ہے کہ .‏ .‏ .‏ الفاظ ‏’‏آزادی،‘‏ ’‏جمہوریت،‘‏ اور ’‏رہائی‘‏ اپنے حقیقی مفہوم سے جیساکہ ہم نے اُنہیں سمجھا ہے توڑمروڑ کر بیان نہیں کئے گئے ہیں‏۔“‏ اسکے بعد اُس نے ایک دعوتِ‌مبارزت دی:‏ ”‏آگے بڑھو، پُختہ ہو، ثابت‌قدم رہو، ڈٹ جانے والے بنو، جبتک‌کہ سارا کام مکمل نہیں ہو جاتا اور پوری دُنیا محفوظ اور صاف نہیں ہو جاتی۔“‏—‏نسخ عبارت ہماری۔‏

موت اور لڑائیوں کی نصف صدی

۱۹۹۲ میں ایک تقریر میں، یواین سیکرٹری جنرل بطرؔوس غالی نے تسلیم کِیا کہ ”‏۱۹۴۵ میں اقوامِ‌متحدہ کے وجود میں آنے کے وقت سے لیکر، پوری دُنیا میں ۱۰۰ سے زیادہ بڑی بڑی لڑائیوں نے کوئی ۲۰ ملین افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دِیا ہے۔“‏ شرح اموات میں اَور بھی اضافہ کرتے ہوئے، ورلڈ واچ جریدے نے بیان کِیا:‏ ”‏یہ تاریخ میں سب سے کم امن والی صدی رہی ہے۔“‏ یہی ماخذ ایک محقق کی بات کا حوالہ دیتا ہے کہ ”‏مجموعی طور پر گزشتہ تمام انسانی تاریخ کی نسبت اس صدی میں زیادہ لوگ جنگوں کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ ان اموات میں سے کوئی ۲۳ ملین دوسری عالمی جنگ سے لیکر واقع ہوئی ہیں۔“‏

تاہم، دی واشنگٹن پوسٹ نے ایک اَور تخمینہ پیش کِیا:‏ ”‏دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے لیکر، پوری دُنیا میں تقریباً ۱۶۰ جنگیں لڑی گئی ہیں جوکہ میدانِ‌جنگ میں ۷ ملین سے زیادہ اور ۳۰ ملین کے لگ‌بھگ شہری اموات پر منتج ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ، زخمی، زنابالجبر کا شکار اور پناہ‌گزین بھی ہیں۔“‏ اس اعدادوشمار میں گزشتہ ۵۰ سال کے دوران پوری دُنیا میں پُرتشدد جُرم کا نشانہ بننے والے شامل نہیں ہیں!‏

اب، ۱۹۹۵ میں، ہم ابھی تک شعلہ‌فشاں نفرت کے برپاکردہ مُہلک فسادات دیکھ رہے ہیں جو محض اُن فوجیوں کو ہی ہلاک نہیں کر رہے جو ممکنہ موت کو ذہن میں رکھ کر ان میں حصہ لیتے ہیں بلکہ افرؔیقہ، بالکنزؔ، مشرقِ‌وسطیٰ اور رؔوس میں ہزاروں شہریوں کو بھی ہلاک کر رہے ہیں۔‏

اس لئے کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ۱۹۴۵ کے ۵۰ سال بعد بھی، ”‏ساری دُنیا محفوظ اور صاف‌ستھری ہے“‏؟ زندہ رہنے کے لئے زمین کو موزوں اور محفوظ جگہ بنانے کے لئے نوعِ‌انسان نے کیا ترقی کی ہے؟ ۵۰ سالوں میں ہم نے کیا سیکھا ہے؟ کیا نوعِ‌انسان نے واقعی—‏اقدار، چال‌چلن، اخلاقیات جیسی ضروری چیزوں میں ترقی کی ہے؟ اگلے دو مضامین ان سوالات کے جواب دیں گے۔ چوتھا مضمون ہمارے کرۂ‌ارض پر ہم سب کے مستقبل کے امکانات پر بحث کرے گا۔‏

‏[‏صفحہ 4 پر بکس]‏

دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دَور کی یادیں

ایک انگریز شخص جو اب اپنے ۶۰ کے عشرے میں ہے، یاد کرتا ہے:‏ ”‏پیچھے ۴۰ کے عشروں کے اخیر میں، ہمارے گھر میں ٹیلی‌ویژن نہیں تھا۔ ریڈیو ہمارے تصورات کا اہم محرک تھا۔ جب مَیں ابھی سکول میں ہی تھا، پڑھائی اور ہوم‌ورک نے میرے ذہن کو مصروف رکھا۔ مَیں شاید مہینے میں ایک مرتبہ سینما جایا کرتا تھا۔ اپنی پسندیدہ فٹ‌بال ٹیم کو دیکھنے کے لئے مَیں ہفتے کے دن کئی میل سائیکل چلایا کرتا تھا۔ نسبتاً چند خاندان ہی کار یا ٹیلیفون کی استطاعت رکھتے تھے۔ برؔطانیہ میں لاکھوں دیگر لوگوں کی طرح، ہمارے الگ غسل‌خانے نہیں تھے۔ بیت‌الخلا باہر تھا اور باورچی‌خانے میں باتھ‌ٹب تھا جو غسل‌خانے کا کام بھی دیتا تھا۔ جنگ کے دوران، ہم—‏سفوف بنائے ہوئے انڈوں، دُودھ اور آلوؤں جیسی خشک خوراک سے تیارکردہ کھانوں پر زندہ رہے تھے۔ نارنگی اور کیلوں جیسے پھل کبھی‌کبھار ملنے والی پُرتکلف چیز تھے۔ مقامی سبزی کی دُکان پر اُنکی آمد ہر ایک کیلئے اشارہ ہوتا تھا کہ اپنے حصے کا راشن لینے کیلئے قطار میں لگنے کیلئے جلدی کریں۔ بہتیری خواتین کو اسلحے کی فیکٹریوں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ اُس وقت لوگوں کو اس بات کا ذرا احساس نہیں تھا کہ آئندہ کیلئے ناگزیر تبدیلیاں محفوظ ہیں—‏ٹی‌وی، ویڈیوز، کمپیوٹرز، اور اسکے گرد منڈلاتی دُنیا، فیکس سلسلۂ‌مواصلات، خلائی‌سفر اور جنیٹک انجینئرنگ جیسی چیزیں۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں