نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . .
کیا مَیں واقعی خدا کا دوست بن سکتا ہوں؟
خدا کا دوست بننا؟ ناممکن، ۲۰ سالہ ڈؔورس یقین رکھتی ہے۔ ”مَیں خود کو کسی کو پسند آنے کے بالکل ناقابل اور انتہائی کمتر محسوس کرتی ہوں،“ یہ نوجوان عورت آہوبکا کرتی ہے۔ ”مَیں تو یہوؔواہ خدا سے دُعا کرنے سے بھی گریز کرتی ہوں کیونکہ مجھے یقین نہیں کہ مَیں اُسکی حضوری میں رہنے کے قابل ہوں۔“ بعض نوجوان باطن میں خدا کی دوستی کے قابل محسوس نہیں کرتے۔ اگرچہ شاید وہ خدا کے دوست بننے کے خیال کو پسند کریں، توبھی وہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کیلئے یہ ناقابلِحصول ہے۔ کیا آپ نے کبھی ایسا محسوس کِیا ہے؟
کبھیکبھار، شاید ایک نوجوان کی اپنی کمزوریاں اُسے خدا تک رسائی کرنے کے بھی نااہل محسوس کرنے پر مجبور کر دیں۔ مثال کے طور پر، نوجوان مائیکلؔ کی مثال لیں۔ وہ کہتا ہے کہ خدائی معیاروں کی قدردانی کرنے سے پہلے، وہ ”تقریباً ہر طرح کے گنہگارانہ اور نقصاندہ خیال اور کام کا شکار“ تھا۔ تاہم، اُس نے اپنے بائبل مطالعہ سے جوکچھ سیکھا اُس نے اُسے اُس دُکھ اور نااُمیدی کا احساس دلایا جو وہ خدا کو پہنچا رہا تھا۔ وہ وضاحت کرتا ہے: ”کلیسیا کے ہر اجلاس نے کمازکم میری خامیوں میں سے ایک کو مجھ پر واضح کِیا۔ . . . مَیں بظاہر اپنے اتنے زیادہ گناہوں کیلئے یہوؔواہ کی معافی کا یقین نہیں کر سکتا تھا جبکہ مَیں خود بھی اپنے آپ کو معاف نہیں کر سکتا تھا۔“
دیگر حالتوں میں، جسطرح سے دوسرے ایک نوجوان کے ساتھ سلوک کرتے ہیں اُسے خود کو یہوؔواہ کی دوستی کے نااہل ہونے کا احساس دلا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ڈؔورس، جس کا پہلے حوالہ دیا گیا ہے، اُسکی ماں نے اُسے ایک چھوٹی بچی کے طور پر چھوڑ دیا تھا۔ اُس نے انکشاف کِیا: ”مجھے یقین نہیں کہ کوئی مجھے پیار کرتا ہے۔ اگر میری اپنی ماں اور خاندان نے مجھے تنہا چھوڑ دیا ہے تو کسی دوسرے کی طرف سے میری پروا کرنے کے کیا امکانات ہیں؟“ جب ایک نوجوان کیساتھ بچپن سے ذلتآمیز اور ناروا سلوک کِیا گیا ہے تو شاید اُسے سچمچ یہ یقین ہونے لگے کہ خدا اُسے کبھی ایک دوست کے طور پر پسند نہیں کر سکتا۔
اس کی دوسری جانب، ہو سکتا ہے کہ ایک نوجوان کی خدا کے ساتھ دوستی رہی ہو لیکن کمزوریوں کی وجہ سے سنگین گناہ میں پڑ جاتا ہے۔ ٹریسیؔ کے ساتھ یہی واقع ہوا۔ ”مجھے بڑی ندامت ہوتی ہے،“ یہ ۲۱ سالہ جوان عورت آہوزاری کرتی ہے، ”میرا دُکھ اور جُرم ناقابلِبرداشت ہیں۔ مَیں نے اپنے باپ یہوؔواہ کو بہت دُکھ دیا ہے۔“
شاید آپ خود کو کسی مذکورہبالا حالت میں پائیں۔ لیکن اُمید موجود ہے: آپ خدا کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں!
جس وجہ سے آپ خدا کے دوست بن سکتے ہیں
یہ سچ ہے کہ گنہگارانہ کام کسی شخص کو خدا کا دوست بننے سے روک سکتے ہیں۔ خوشی کی بات ہے کہ ہمارے شفیق باپ نے ہماری مدد کرنے کیلئے پہل کی ہے۔ ”خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا،“ پولسؔ رسول لکھتا ہے۔ (رومیوں ۵:۸) اپنی موت کے وسیلے، یسوؔع نے قدردانی دکھانے والے اشخاص کو گناہ کے مکمل قبضے سے چھڑانے کیلئے فدیہ ادا کِیا۔ (متی ۲۰:۲۸) لہٰذا، رسول اضافہ کرتا ہے: ”ہم خدا کے دُشمن تھے لیکن اُس نے اپنے بیٹے کی موت کے وسیلے ہمیں اپنا دوست بنایا۔“—رومیوں ۵:۱۰، ٹوڈیز انگلش ورشن۔
یہوؔواہ کے معیاروں کی سمجھ حاصل کرنے سے پہلے، مائیکلؔ کی طرح کے بعض نوجوان جسکا پہلے ذکر کِیا گیا ہے شاید سنگین خطاکاری کے مرتکب ہوئے ہوں۔ تاہم، یسوؔع کے فدیے کی قربانی کے وسیلے سے، ایک شخص اپنے ماضی کے گناہوں کی معافی حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی سنگین کیوں نہ رہے ہوں۔ بائبل دل کو گرما دینے والی یہ یقیندہانی دیتی ہے: ”اگر اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے۔“ (۱-یوحنا ۱:۹) تاہم، ایک شخص کو خدا پر یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ وہ اس طرح پاکصاف کئے جانے کی قدر کرتا ہے اقدام اُٹھانے ہونگے۔ پولسؔ رسول ایک اُصول بیان کرتا ہے جس کا اطلاق کِیا جا سکتا ہے: ”اس واسطے خداوند فرماتا ہے کہ . . .ناپاک چیز کو نہ چھوؤ تو مَیں تُم کو قبول کر لُونگا۔ اور تمہارا باپ ہونگا۔“ (۲-کرنتھیوں ۶:۱۷، ۱۸) یہ جاننا اثرآفریں ہے کہ اگر ایک شخص ایسی غلطکاری سے باز آتا ہے اور واقعی تائب ہے تو خدا اُسے ایک دوست کے طور پر اپنی قبولیت میں لینے کو تیار ہے۔
اُن نوجوانوں کی بابت کیا ہے جنکی پرورش غیرمہذب ماحول میں ہوئی ہے؟ یقین رکھیں کہ خدا اسلئے لوگوں کو مجرم نہیں ٹھہراتا کیونکہ اُنکے ساتھ اُنکی مرضی کے خلاف کام ہوا تھا۔ ایسے اشخاص گناہ میں حصہدار ہونے کی بجائے اُس کا نشانہ بنے تھے۔ یہ بھی یادرکھیں کہ ایک شخص کے طور پر آپکی قدروقیمت کسی دوسرے شخص کے فیصلے پر منحصر نہیں ہے۔ یہوؔواہ آپکے حالات سے قطعنظر آپکا دوست بن سکتا ہے۔ موؔرین کی پرورش ایک مسیحی ماں کے ذریعے اُسکے شرابی باپ کی وجہ سے ایک پُرتشدد گھر میں ہوئی۔ تاہم اُس نے کہا: ”ان تمام مشکل حالات میں بھی مَیں کسی نہ کسی طرح یہوؔواہ کیساتھ رشتہ پیدا کرنے کے قابل ہوئی تھی۔ مَیں اُسے ایک ایسی ہستی کے طور پر جاننے لگی جو مجھے کبھی ترک نہیں کریگا۔“
کیا ہو اگر آپ سنگین گناہ میں پڑ جاتے ہیں؟
ڈگؔ، جسکی پرورش خداپرست والدین نے کی تھی، وہ ۱۸ برس کی عمر میں جنسی بداخلاقی میں پڑ گیا۔ یہ اُسکی بُری صحبتوں کا نتیجہ تھا۔ ”مَیں جانتا تھا کہ یہ غلط ہے لیکن مَیں اسے کرتا رہا کیونکہ مَیں لطفاندوز ہونا چاہتا تھا،“ ڈگؔ نے اعتراف کِیا۔ کچھ عرصہ بعد، ڈگؔ نے اپنی روش کے باطل ہونے کو پہچان لیا۔ اُس نے تسلیم کِیا: ”مَیں سمجھنے لگا کہ میرے تمام نامنہاد دوست محض میرا پیسہ بٹورنے یا تفریحِطبع کیلئے مجھے استعمال کر رہے ہیں۔“ بعدازاں اُس نے پھر یہوؔواہ سے دوستی پیدا کرنے کیلئے اقدام اُٹھانے شروع کر دئیے۔ لیکن ایک بڑی رکاوٹ نے اس کی ترقی کو روک دیا۔
”بنیادی چیز جس نے واپس لوٹنے کو اس قدر مشکل بنا دیا وہ یہ تھی کہ مَیں خود کو نہایت ہی نااہل محسوس کرتا تھا،“ ڈگؔ نے راز کی بات بتائی۔ ”مَیں نے محسوس کِیا کہ جوکچھ مَیں نے کِیا وہ سب یہوؔواہ کی نظر میں بُرا تھا۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ کتنا اچھا ہے اور اُس نے مجھے کس حد تک برداشت کِیا ہے، اس کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی تھی کہ وہ مجھے معاف کرنا چاہیگا کیونکہ مَیں بہت ہی بُرا تھا۔“ تاہم، ایک کلیسیائی بزرگ کی مدد سے اور بائبل میں منسیؔ کی سرگزشت پر احتیاط کیساتھ غور کرنے سے ڈگؔ اس رکاوٹ پر قابو پانے کے قابل ہوا۔
منسیؔ کون تھا؟ قدیم یہوؔداہ کا ایک بادشاہ۔ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ اُس نے اپنے خداپرست باپ، حزقیاؔہ کے ذریعے، یہوؔواہ سے محبت رکھنے کی تعلیم پائی تھی۔ لیکن اُسکے باپ کی وفات اور اُس کے ۱۲ برس کی عمر میں بادشاہ بننے کے بعد، اُس نے سوچا کہ اب وہ اپنی مرضی کر سکتا ہے۔ اُس نے بعلؔ کی پرستش کی خاطر یہوؔواہ کو چھوڑ دیا۔ ایسی پرستش انتہائی بداخلاق اور بِلاروکٹوک جنسی بدفعلیوں کے لئے مشہور تھی۔ منسیؔ نے ”خداوند کی نظر میں بہت بدکاری کی جس نے اُسے غصہ دلایا۔“ وفادار نمائندوں کی معرفت ”خداوند نے منسیؔ اور اُس کے لوگوں سے باتیں کی پر اُنہوں نے دھیان نہ دیا۔“ اسکے بعد، یہوؔواہ کی طرف سے سزا کے اظہار کے طور پر، منسیؔ کو زنجیروں سے جکڑے ہوئے قیدی کی طرح بابلؔ لے جایا گیا۔—۲-تواریخ ۳۱:۲۰، ۲۱؛ ۳۳:۱-۶، ۱۰، ۱۱۔
جب منسیؔ نے اپنے ماضی کے کاموں پر غور کِیا اور اُس کا موازنہ اُس کیساتھ کِیا جوکچھ اُسے یہوؔواہ کی شریعت کی بابت یاد تھا تو اُسے جرم کا احساس ہوا اور معافی کیلئے درخواست کی۔ اُس نے خود کو خدا کے حضور نہایت خاکسار بنایا اور ”اُس سے دُعا کرتا رہا۔“ اور خدا نے ”اُس کی دُعا قبول کرکے اُسکی فریاد سنی اور اُسے اُسکی مملکت میں یرؔوشلیم واپس لایا۔“ جیہاں، ”رحمتوں کا باپ“ اپنے تائب گنہگار کو ایک بار پھر اپنے قریب آنے کی اجازت دینے کیلئے تیار تھا۔ ایسا رحم حاصل کرنے کے بعد، منسیؔ نے، ذاتی تجربے کی بنا پر اب ”جان لیا کہ خداوند ہی [سچا] خدا ہے۔“—۲-تواریخ ۳۳:۱۲، ۱۳؛ ۲-کرنتھیوں ۱:۳۔
اگر یہوؔواہ منسیؔ کو دوبارہ قبول کر سکتا تھا تو یقینی طور پر وہ آجکل ایک سرکش نوجوان کو بھی اپنے ساتھ دوبارہ رشتہ قائم کرنے کی اجازت دیگا بشرطیکہ نوجوان تائب رجحان ظاہر کرتا ہے۔ ڈگؔ نے اپنی کلیسیا کے روحانی چرواہوں کی مدد کیلئے جوابیعمل دکھایا۔ اُسے واضح طور پر یہ سمجھنے میں مدد دی گئی کہ خدا ”سدا جھڑکتا نہ رہیگا۔ وہ ہمیشہ غضبناک نہ رہیگا۔“—زبور ۱۰۳:۹۔
خدا کے دوست بنے رہیں
ایک بار جب خدا آپکا دوست بن جاتا ہے تو اسے قائم رکھنے کیلئے آپکو اس رشتے کو عزیز جاننا چاہئے۔ ایک ۱۸ سالہ بپتسمہیافتہ لڑکی بِنبیاہی ماں بن گئی۔ اسکے باوجود، اُسے یہوؔواہ کیساتھ معاملات کو دُرست کرنے میں مدد دی گئی۔ (دیکھیں یسعیاہ ۱:۱۸۔) اُس کی بحالی کا نقطۂانقلاب؟ ”مَیں نے جان لیا کہ یہوؔواہ ایک شفیق باپ تھا نہ کہ ایک سزا دینے والا،“ وہ بیان کرتی ہے۔ ”مجھے احساس ہو گیا کہ مَیں نے جوکچھ کِیا اس سے اُسے دُکھ پہنچا ہے۔ خدا کو ایک دوست کے طور پر خیال کرنا نہایت ضروری ہے، ایک ایسا شخص جو جذبات رکھتا ہے، نہ کہ محض ایک تصوراتی روح جسے خراجِعقیدت تو پیش کِیا جا سکتا ہے لیکن درحقیقت کبھی پیار نہیں کِیا جا سکتا۔“ منسیؔ کی طرح، وہ یہوؔواہ کی پرستش میں پوری طرح شریک ہونے پر مجبور ہو گئی تھی۔ (۲-کرنتھیوں ۳۳:۱۴-۱۶) یہ اُس کیلئے تحفظ ثابت ہوا ہے۔ وہ دیگر نوجوانوں کو مشورہ دیتی ہے: ”اگر حالات مشکل بھی ہو جائیں توبھی یہوؔواہ کی مدحسرائی کرنے کیلئے کوشاں رہیں۔ یہوؔواہ پُرمحبت طور پر ایک بار پھر آپکی راہیں سیدھی کر دیگا۔“
یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اُنکے ساتھ دوستی پیدا کریں جو خدا کے دوست ہیں۔ تاہم، وہ جو واضح طور پر خدائی اُصولوں کیلئے احترام نہیں رکھتے، اُن سے کسی بلائےناگہانی کی طرح کنارہکشی کریں۔ (امثال ۱۳:۲۰) نوجوان لنڈؔا ایک نوجوان کیساتھ جنسی بداخلاقی میں پڑ گئی جسکی دوستی ”ہر چیز سے زیادہ قیمتی“ بن گئی تھی۔ اپنی روحانی بحالی کے بعد، لنڈؔا نے تسلیم کِیا: ”یہوؔواہ اور اپنے درمیان یہ ذاتی رشتہ نہ رکھنے سے آپ اپنی ساری زندگی برباد کر سکتے ہیں۔“
کیا آپ ایسا رشتہ رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو اسے حاصل کرنے کیلئے کام کریں۔ لنڈؔا یہ کہتے ہوئے خدا کی دوستی کی اہمیت کا خلاصہ پیش کرتی ہے: ”پوری دُنیا میں سب سے اہم چیز یہوؔواہ کیساتھ اچھا رشتہ ہے۔ اس دُنیا میں کوئی لڑکا یا لڑکی یا کوئی اَور چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے۔ اگر یہوؔواہ کیساتھ دوستی نہیں ہے، توپھر کچھ بھی اہم نہیں ہے۔“
[تصویر]
بعض نوجوان شاید خدا کے دوست بننے کے قابل محسوس نہ کریں