یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏1 ص.‏ 16-‏19
  • بدبُودار سانس کے سلسلے میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بدبُودار سانس کے سلسلے میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بدبُودار سانس کی بابت کیا مشہور ہے؟‏
  • ‏”‏صبح‌بخیر!‏ آپکا سانس کیسا ہے؟“‏
  • جسطرح بدبُودار سانس سے بچا جائے
  • ڈینٹسٹ کے پاس کیوں جانا چاہئے؟‏
    جاگو!‏—‏2007ء
  • مسوڑھوں کی بیماری—‏ذرا بچ کر رہیں!‏
    جاگو!‏—‏2014ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏1 ص.‏ 16-‏19

بدبُودار سانس کے سلسلے میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

کہا جاتا ہے کہ یہ دُنیا کی بڑی عام شکایات میں سے ایک ہے جو کسی نہ کسی وقت میں، بالغ آبادی کے ۸۰فیصد سے زیادہ کو متاثر کرتی ہے۔ یہ پریشانی، مایوسی اور سخت کوفت کا باعث بن سکتی ہے۔‏

پیشہ‌ورانہ حلقوں میں، یہ ہیلی‌ٹوسس کے طور پر مشہور ہے جو لاطینی لفظ ہیلی‌ٹس، بمعنی ”‏سانس“‏ اور لاحقہ اوسس سے مشتق ہے جوکہ غیرمعمولی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بعض اسے مُنہ سے بدبُو آنا بھی کہتے ہیں۔ لیکن زیادہ‌تر لوگ اسے عام زبان میں بدبُودار سانس کے طور پر جانتے ہیں۔‏

کیا آپ کا سانس بدبُودار ہے؟ اگرچہ آپ کو شاید دوسرے لوگوں کے بدبُودار سانس کو پہچاننے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے، لیکن آپ کے لئے خود اپنے سانس کا پتہ لگانا ناممکن ہو سکتا ہے۔ امریکن ڈینٹل ایسوسی‌ایشن کے لئے جریدہ، جے‌اےڈی‌اے، بیان کرتا ہے کہ ہم اپنے سانس کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ بھی کہ ”‏انتہائی بدبُودار سانس والے“‏ لوگ ”‏بھی شاید ذاتی طور پر اس مسئلے سے باخبر نہ ہوں۔“‏ اس لئے، ہم میں سے زیادہ‌تر اپنے بدبُودار سانس سے صرف اُس وقت واقف ہوتے ہیں جب کوئی دوسرا اس پر ہماری توجہ دلاتا ہے۔ کتنا پریشان‌کُن!‏

حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک عام مسئلہ ہے کوئی دلجوئی نہیں ہے۔ بدبُودار سانس کو عموماً ناپسندیدہ اور ناقابلِ‌قبول خیال کِیا جاتا ہے۔ بعض حالتوں میں، یہ سنگین جذباتی تکلیف کا موجب بن سکتا ہے۔ اؔسرائیل میں تل‌ابیب یونیورسٹی کے اورل مائیکروبیالوجی کی لیبارٹری کے انچارج ڈاکٹر میلؔ روزنبرگ بیان کرتے ہیں:‏ ”‏مُنہ سے بدبُو، خواہ حقیقی یا محض محسوس ہونے والی ہو، معاشرتی علیٰحدگی، طلاق کے مقدمے اور خودکشی کے ارادے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔“‏

بدبُودار سانس کی بابت کیا مشہور ہے؟‏

صحت کے ماہرین نے بہت پہلے سے بدبُودار سانس کو خراب صحت کی امکانی علامت کے طور پر تسلیم کِیا ہے۔ اس وجہ سے، قدیم زمانے سے لیکر ڈاکٹروں نے انسانی مُنہ کی بدبُو کا مطالعہ کِیا ہے۔‏

تقریباً دو سو سال پہلے، مشہور فرانسیسی کیمیادان اؔنٹونی لارن لاویزیئر نے انسانی سانس کے جزوِترکیب کا مطالعہ کرنے کیلئے سانس کی جانچ کرنے والا ایک آلہ ایجاد کِیا۔ اُس وقت سے لیکر، سائنسدانوں نے بہتر ماڈلز تیار کر لئے ہیں۔ آجکل، کینیڈؔا، اؔسرائیل، جاؔپان اور نیدؔرلینڈ میں لیبارٹریاں ہیلی‌میٹر استعمال کر رہی ہیں جو مُنہ میں بدبُو کی مقدار کو ناپتا ہے۔ نیوؔزی‌لینڈ میں، سائنسدانوں نے پلاک گروتھ سٹیشن قائم کئے ہیں جوکہ مصنوعی مُنہ کے طور پر بھی مشہور ہیں۔ یہ خاص انسانی مُنہ کے اندر کے لعابِ‌دہن، پلاک، بیکٹیریا اور بدبُودار سانس کو بدل دیتے ہیں۔‏a

جدید ٹیکنالوجی کی مدد کیساتھ، سائنسدانوں نے ہمارے سانس کی بابت بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ مثال کے طور پر، رسالے سائنٹیفک امریکن کے مطابق، ”‏محققین نے اب نارمل انسانی سانس میں تقریباً ۴۰۰ متلون نامیاتی مرکبات کو شناخت کر لیا ہے۔“‏ تاہم یہ تمام مرکبات خراب بدبُو پیدا نہیں کرتے۔ بدبُودار سانس میں خاص طور پر ناپسندیدہ چیزیں ہائیڈروجن سلفائیڈ اور متھائیل مرکاپٹن شامل ہیں۔ یہ کہا گیا ہے کہ یہ گیسیں ہماری سانس کو بالکل سکنک کی بُو جیسی بُو دیتی ہیں۔‏

انسان کا مُنہ بیکٹیریا کی ۳۰۰ سے زائد اقسام کی آماجگاہ ہے۔ ٹفٹسز یونیورسٹی ڈائٹ اینڈ نیوٹریشن لیٹر کہتا ہے:‏ ”‏تاریک، گرم اور نم‌آلود مُنہ بدبُو پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے نشوونما پانے کے لئے شاندار ماحول کے طور پر سرِفہرست ہے۔“‏ لیکن بنیادی طور پر صرف چار اقسام بدبُودار سانس کی ذمہ‌دار ہیں۔ وہ آپ کے مُنہ میں رہتے ہیں لیکن اغلب ہے کہ آپ ابھی تک اُن سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔ وہ ہیں ولونیلا الکل‌ایکلیسنز، فوسوبیکٹیرئم نیوکلیٹم، بیکٹراؤڈز ملینیؤجینکس اور کلبسیلا نمونیہ ہیں۔ وہ مُنہ میں موجود خوراک کے ذرات، مردہ خلیوں اور دیگر چیزوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ اسکے بعد یہ بیکٹیرائی عمل بدبُودار گیسیں پیدا کرتا ہے۔ کوڑاکرکٹ سڑنے کے وقت جوکچھ واقع ہوتا ہے یہ بالکل ویسا ہی عمل ہے۔ موزوں طور پر، ڈینٹل جریدہ جے پیریاوڈونٹل بیان کرتا ہے:‏ ”‏زیادہ‌تر حالتوں میں، مائیکروبائل سڑاند [‏نامیاتی مادے کے سڑنے سے]‏ کے نتیجے کے طور پر خود مُنہ میں ہیلی‌ٹوسس پیدا ہوتا ہے۔“‏ اگر تدارک نہ کِیا جائے تو یہ عمل دانت کے گرنے اور مسوڑے کی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔‏

‏”‏صبح‌بخیر!‏ آپکا سانس کیسا ہے؟“‏

مُنہ میں سڑاند کا یہ عمل نیند کے دوران تیزتر ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ دن کے دوران، بیکٹیریا کو ختم کرتے ہوئے، مُنہ متواتر آکسیجن سے بھرپور اور بہت ہی معمولی تیزابی خاصیت رکھنے والے لعابِ‌دہن سے صاف ہوتا رہتا ہے۔ تاہم، نیند کے دوران لعابِ‌دہن کے بننے کی نارمل شرح فی گھنٹہ کے حساب سے تقریباً ۵۰/‏۱ تک گر جاتی ہے۔ جیسے‌کہ ایک رسالہ بیان کرتا ہے، خشک مُنہ اپنے خراب ذائقے سمیت جانے پہچانے ”‏صبح کے سانس“‏ کو پیدا کرتے ہوئے، ”‏۱،۶۰۰ بلین سے زیادہ بیکٹیریا کیلئے ساکن تالاب بن جاتا ہے۔“‏

لعابِ‌دہن کی معمولی مقدار کو اُس وقت کے کھچاؤ کے ذریعے بھی تیز کِیا جا سکتا ہے جب آپ بیدار ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک پریشان عوامی مقرر کا مُنہ شاید کلام کرتے وقت خشک ہو جائے اور نتیجے کے طور پر وہ ہیلی‌ٹوسس کی بدترین حالت میں مبتلا ہو جائے۔ مُنہ کی خشکی اَور بھی کئی بیماریوں کی علامت یا مُضر اثر ہے۔‏

لیکن بدبُودار سانس ہمیشہ مُنہ میں بیکٹیریا کی کارکردگی پر منتج نہیں ہوتی۔ درحقیقت، بدبُودار مُنہ اکثر مختلف حالتوں اور بیماریوں کی علامت ہوتا ہے۔ (‏صفحہ ۱۷ کے بکس کو دیکھیں۔)‏ اسی وجہ سے، مستقل بدبُودار سانس کی غیرواضح حالتوں میں، طبّی توجہ حاصل کرنا اچھا ہے۔‏

بدبُودار سانس کا تعلق پیٹ سے بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، عام یقین کے بالکل برعکس، یہ شاذونادر ہی واقع ہوتا ہے۔ زیادہ‌تر، آپکے پھیپھڑوں سے بعض ناگوار بوئیں آپکے مُنہ تک پہنچ جاتی ہیں۔ کیسے؟ لہسن یا پیاز جیسے بعض کھانے کے ہضم ہو جانے کے بعد، دورانِ‌خون میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھیپھڑوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اسکے بعد متعلقہ بوئیں سانس کی نالیوں سے آپکے مُنہ اور ناک کے ذریعے باہر خارج ہوتی ہیں۔ ہیلتھ میگزین کے مطابق، ”‏مشاہدات نے ظاہر کِیا ہے کہ اُس وقت بھی لوگوں کے سانس سے لہسن کی بُو آنے لگتی ہے جب لہسن کی پوتھیاں محض اُنکے پاؤں کے تلوؤں میں رگڑی جاتی ہیں یا چبائے بغیر نگلی جاتی ہیں۔“‏

الکحلی مشروب پینے سے آپکے خون اور پھیپھڑوں میں بھی الکحل کی بدبُو پیدا ہو جائیگی۔ جب ایسا واقع ہو جائے تو آپ درحقیقت حالت کو سدھارنے کیلئے انتظار کرنے کے علاوہ اَور کچھ نہیں کر سکتے۔ بعض کھانوں کی بوئیں ۷۲ گھنٹے تک آپکے بدن میں رہینگی۔‏

جسطرح بدبُودار سانس سے بچا جائے

محض برہتھیں‌چُکھ فریشنرنما گولی چبانے سے بدبُودار سانس کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ یاد رکھیں بدبُودار سانس اکثر مُنہ میں بیکٹیریا کی کارکردگی کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ ایک شخص کو ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ کھانے کے چھوٹے چھوٹے ذرات لاکھوں بیکٹیریا کیلئے ضیافت فراہم کرتے ہیں۔ اسلئے، بدبُودار سانس پر قابو پانے کا ایک اہم طریقہ اپنے مُنہ کو صاف‌ستھرا رکھتے ہوئے، بیکٹیریا کی افزائش کو کم کرنا ہے۔ یہ باقاعدہ طور پر اپنے دانتوں سے کھانے کے ذرات اور پلاک ہٹانے سے کِیا جاتا ہے۔ کیسے؟ کھانے کے بعد اور رات کو سوتے وقت دانتوں کو بُرش کرنا ضروری ہے۔ لیکن بُرش کرنا اُن اقدام میں سے محض ایک ہے۔‏

دانتوں میں ایسی جگہیں بھی ہوتی ہیں جو بُرش کیساتھ ناقابلِرسائی ہوتی ہیں‏۔ اسلئے دن میں کم‌ازکم ایک مرتبہ دھاگے سے صفائی کرنا اشد ضروری ہے۔ ماہرین یہ بھی سفارش کرتے ہیں کہ نرمی سے اپنی زبان پر بُرش کریں جوکہ بیکٹیریا کے چھپنے اور افزائش‌نسل کرنے کیلئے موزوں جگہ ہے۔ وقتاًفوقتاً کسی ڈہتھیں‌لفظاٹسٹ اور ڈینٹل ہائی‌جینسٹ سے ٹیسٹ کرانا اور دانتوں کی صفائی کرانا بھی ضروری ہے۔ ان اقدام میں کسی کو بھی نظرانداز کرنا بدبُودار سانس اور وقت آنے پر دانت اور مسوڑھوں کی تشویشناک بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔‏

بعض عارضی اقدام بھی ہیں جو اپنے سانس کو خوشبودار رکھنے کیلئے اُٹھائے جا سکتے ہیں۔ خوب پانی پئیں، پھیکی چیونگگم چبائیں—‏کوئی ایسا کام کریں جو آپکے لعابِ‌دہن کی مقدار میں اضافہ کرے۔ یاد رکھیں کہ لعابِ‌دہن ایک قدرتی ماؤتھ‌واش کے طور پر کام کرتا ہے جو بیکٹیریا کو ختم کرتا اور اُن کیلئے ناسازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔‏

بازاری ماؤتھ‌واش بھی معاون ہو سکتے ہیں لیکن تازہ‌ترین مطالعے ظاہر کرتے ہیں کہ بدبُودار سانس کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کو پوری طرح ان پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔ درحقیقت، الکحل والے ماؤتھ‌واش سے بار بار غرارے کرنا مُنہ کی خشکی کا باعث بن سکتا ہے۔ مُنہ کو صاف کرنے والی بہت سی نہایت مؤثر اشیاء جو گاہکوں کے لئے دستیاب ہیں وہ پلاک کو صرف ۲۸ فیصد کم کرتی ہیں۔ اس لئے اپنے پسندیدہ ماؤتھ‌واش کے ساتھ اچھی طرح صفائی کرنے کے بعد، ہو سکتا ہے کہ آپ کے مُنہ میں ابھی تک ابتدائی بیکٹیریا کا ۷۰ فیصد سے زیادہ موجود ہو۔ رسالہ کنزیومر رپورٹس بیان کرتا ہے کہ مسلسل تجربات کے دوران، ماؤتھ‌واش کے ساتھ ”‏دھونے کے کوئی ایک گھنٹے اور ۱۰ منٹ بعد مثالی بدبُودار سانس دوبارہ واپس آ گیا۔“‏ یہانتک کہ بہت سے ممالک میں دستیاب، طاقتور ماؤتھ‌واش بھی جوکہ صرف ڈاکٹر کی پرچی پر ملتے ہیں، محض ۵۵ فیصد پلاک کم کرتے ہیں۔ کچھ ہی گھنٹوں کے اندر اندر، بیکٹیریا بڑھ کر واپس اپنی پرانی تعداد کو پہنچ جاتے ہیں۔‏

واضح طور پر، جب بدبُودار سانس سے بچنے کی بات آتی ہے تو لاپروائی کے رجحان سے گریز کِیا جانا چاہئے۔ اس کی بجائے، آپ کو اپنے مُنہ اور دانتوں کے ساتھ انمول اوزاروں جیسا برتاؤ کرنا چاہئے جنہیں مستقل دیکھ‌بھال کی ضرورت ہے۔ ہر کام نپٹانے کے بعد، ذمہ‌دار بڑھئی اور میکینک دیکھ‌بھال کے خصوصی طریقوں کو عمل میں لاتے ہوئے اپنے اوزاروں کو زنگ لگنے، گھس جانے اور دیگر نقصان سے بچاتے ہیں۔ آپ کے دانت اور مُنہ تمام انسان‌ساختہ اوزاروں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ اس لئے اُن کی ویسی ہی نگہداشت اور دیکھ‌بھال کریں جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایسا کرنے سے، آپ بدبُودار سانس کو بمع اس کی مایوسی اور پریشانی کے ختم کر دیں گے۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ آپ کا مُنہ صاف‌ستھرا اور صحتمند ہوگا۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a پلاک ایک چپکنے والا مواد ہے جو دانتوں کے اُوپر پیدا ہوتا ہے۔ یہ زیادہ‌تر اُن بیکٹیریا پر مشتمل ہوتا ہے جو آپکے دانتوں اور مسوڑوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‏

‏[‏بکس]‏

کیا چیز بدبُودار سانس کا موجب بنتی ہے؟‏

مندرجہ‌ذیل حالتیں، بیماریاں اور عادات اُن بہت سی چیزوں میں سے ہیں جو بدبُودار سانس کا موجب بن سکتی ہیں:‏

برانکائٹس (‏ورم‌نرخرہ)‏

کرونک گیسٹراٹس (‏معدے کا دائمی نقص)‏

ذیابیطس

الکحلی مشروبات پینا

مُنہ کا خشک ہونا

ایمپائما

ایرکٹیشنز (‏ڈکار)‏

مسوڑھوں کی بیماری

ہیاٹل ہرنی‌آس

گردوں کی کمزوری

جگر کا مرض

ماہواری

مُنہ میں چھالے

اویولیشن

مُنہ کی ناقص صفائی

سائنوسائٹس

تمباکونوشی

کسی قسم کا کینسر

کسی قسم کی دوا

دانتوں کا گرنا

تپِ‌دق

دانتوں کی سرجری کے باعث زخم

‏[‏بکس]‏

آپ کی زبان کو بھی توجہ کی ضرورت ہے

الماری کے آئینے کے سامنے جائیں اور اپنی زبان کو غور سے دیکھیں۔ کیا یہ بیشمار چھوٹی چھوٹی دراڑوں سے ڈھکی ہوئی ہے؟ یہ عام بات ہے۔ لیکن آپکی زبان کے اُوپر یہ دراڑیں لاکھوں بیکٹیریا کیلئے محفوظ مقام فراہم کر سکتی ہیں۔ جب انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے تو بیکٹیریا مستقل بدبُودار سانس کا مسئلہ اور دیگر غیرصحتمندانہ حالتیں پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم، مُنہ کی صفائی کرتے وقت لوگ اکثر زبان کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔‏

دانتوں کے ماہر نرم‌بالوں والے بُرش کیساتھ زبان کی بالائی سطح کی باقاعدہ صفائی کو ہیلی‌ٹوسس کے علاج کے طور پر تجویز کرتے ہیں۔ بعض ماہرین زبان کے سکریپر کے استعمال کی سفارش کرتے ہیں۔ انڈیا میں، لوگ بدبُودار سانس سے چھٹکارا پانے کے ایک طریقے کے طور پر نسل‌درنسل زبان کے سکریپر استعمال کرتے رہے ہیں۔ سالوں پہلے وہ دھات سے تیار کئے جاتے تھے لیکن آجکل پلاسٹک کے سکریپر بہت عام ہیں۔ بعض جگہوں پر، ہو سکتا ہے کہ سکریپر حاصل کرنے کیلئے آپ کو اپنے دانتوں کے ماہر سے مشورہ کرنا پڑے۔‏

‏[‏تصویر]‏

مُنہ کی اچھی صفائی میں دانتوں میں دھاگا پھیرنا اور دانتوں اور زبان کو بُرش کرنا شامل ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں