یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏1 ص.‏ 12-‏15
  • ‏’‏امی، مجھے گھر لانے کے لئے آپ کا شکریہ‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏’‏امی، مجھے گھر لانے کے لئے آپ کا شکریہ‘‏
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اپنے اعتقادات پر قائم رہنا
  • ٹیڈؔ کو ہوش میں لانے کی کوششیں
  • گھر آنا
  • گھر میں ٹیڈؔ کی نگہداشت کرنا
  • روزمرہ زندگی کیساتھ نپٹنا
  • اب مجھے خوشی ہے کہ مَیں زندہ ہوں!‏
    جاگو!‏—‏1997ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏1 ص.‏ 12-‏15

‏’‏امی، مجھے گھر لانے کے لئے آپ کا شکریہ‘‏

جب میرا شوہر گلنؔ، پرواز پر جاتا تو مَیں ہمیشہ گھبرا جاتی تھی اور جب تک وہ گھر واپس نہیں آ جاتا مَیں بے‌چین رہتی تھی۔ وہ عموماً تفریح کے لئے پرواز کرتا تھا۔ اس مرتبہ اُسے چند فضائی تصاویر اُتارنے کے لئے اُجرت دی گئی تھی۔ ہمارا چھوٹا بیٹا ٹیڈؔ اُسکے ہمراہ تھا۔ گلنؔ ہمیشہ ایک محتاط پائلٹ تھا اور کبھی بھی غیرضروری خطرات مول نہیں لیتا تھا۔‏

۲۵ اپریل، ۱۹۸۲ کے اُس اتوار کی سہ‌پہر جب فون کی گھنٹی بجی تو مَیں نے اُسے کسی بُری خبر کے اندیشے کے ساتھ اُٹھایا۔ یہ میرادیور تھا۔ ”‏گلنؔ اور ٹیڈؔ جہاز کے حادثے کا شکار ہو گئے ہیں،“‏ اُس نے کہا۔ ”‏ہم آپکو ہسپتال میں ملیں گے۔“‏

میرے ۱۳ سالہ بیٹے سکاؔٹ اور مَیں نے دُعا کی اور جلدی سے ہسپتال کا رُخ کِیا۔ وہاں پہنچنے پر، ہمیں معلوم ہوا کہ گلنؔ کے جہاز کو نیو یارک شہر کے شمال میں کوئی ۱۰۰ کلومیٹر دُور حادثہ پیش آیا ہے۔ (‏حادثے کی اصل وجہ کا تعیّن کبھی نہ ہو سکا۔)‏ گلنؔ اور ٹیڈؔ زندہ تو تھے مگر تشویشناک حالت میں۔‏

ہسپتال کو ضروری علاج کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مَیں نے قانونی کاغذات پر دستخط کر دئیے۔ لیکن بطور یہوؔواہ کی گواہ، مَیں انتقالِ‌خون کے استعمال کے لئے رضامند نہیں تھی۔ ایسا کرنے سے بائبل کے حکم ’‏خون سے پرہیز کرو‘‏ کی خلاف‌ورزی ہوتی تھی۔ (‏اعمال ۱۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ گلنؔ کے پاس ایک میڈیکل دستاویز تھی جوکہ واضح طور پر اس سلسلے میں اُسکے اعتقادات کی وضاحت کرتی تھی۔ تاہم، ہم نے ڈاکٹروں کو بغیرخون کے والیوم ایکسپینڈرز استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔‏a

گلنؔ کے سر اور سینے پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔ وہ چند گھنٹوں کے اندر وفات پا گیا۔ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ مشکل‌ترین کام جو مجھے کبھی کرنا پڑا وہ انتظارگاہ تک جانا اور اپنے بیٹے سکاؔٹ کو یہ بتانا تھا کہ اُسکا والد وفات پا گیا ہے۔ وہ بس مجھ سے چمٹ گیا اور کہا:‏ ”‏اب مَیں کیا کرونگا؟ میرا بہترین دوست بچھڑ گیا ہے!‏“‏ جی‌ہاں، اُنکے ساتھ تفریح اور پرستش میں وقت صرف کرتے ہوئے، گلنؔ اپنے دونوں بیٹوں کا بہترین دوست تھا۔ وہ میرا بھی بہترین دوست اور شوہر تھا۔ اُسکی وفات ایک بہت بڑا نقصان تھی۔‏

اپنے اعتقادات پر قائم رہنا

ٹیڈؔ کی ٹانگ اور انگلی ٹوٹ گئی تھی، جبڑے کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں اور دماغ پر شدید چوٹ لگی تھی۔ وہ بے‌ہوشی کی حالت میں تھا۔ اپنے اُس بیٹے پر نظر ڈالنا کسقدر مشکل تھا جو چند گھنٹے پہلے زندگی سے بھرپور تھا!‏ ٹیڈؔ ہمیشہ خوشی سے بھرپور ایک چھوٹا لڑکا رہا تھا۔ وہ بڑا باتونی تھا اور گانا اور کھیلنا بہت پسند کرتا تھا۔ اب وہ ہماری موجودگی سے بھی بے‌خبر تھا۔‏

اس اندیشے کے پیشِ‌نظر کہ شاید ٹیڈؔ کو سرجری کی ضرورت ہو، ڈاکٹروں کا تقاضا تھا کہ مَیں انتقالِ‌خون پر راضی ہو جاؤں۔ مَیں نے انکار کر دیا۔ اسکے جوابی‌عمل میں اُنہوں نے عدالت سے اجازت‌نامہ حاصل کر لیا جس نے اُنہیں خون استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ تاہم، بعدازاں معلوم ہوا کہ جراحی کی ضرورت نہیں اور یہ کہ ٹیڈؔ کا اندرونی خون نہیں بہا تھا۔ تاہم، چند دِن بعد، ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ بہرصورت وہ اُسے خون دینگے۔ ہم حیران رہ گئے!‏ ڈاکٹروں نے ہمیں یہی وجہ بیان کی ”‏ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے!‏“‏ اُنہوں نے ہمارے مذہبی عقائد کو نظرانداز کر دیا اور ٹیڈؔ کو خون کے تین یونٹ دے دیئے۔ مَیں نے خودکو قطعاً بے‌یارومددگار محسوس کِیا۔‏

حادثے کے کئی دِن بعد، ہم سرِورق کی خبر تھے۔ مقامی اخبارات نے قارئین کو یہ تاثر دیا کہ گلنؔ اسلئے مرا ہے کیونکہ اُس نے خون سے انکار کر دیا تھا اور اس کی تصدیق کے لئے ایک مقامی ڈاکٹر کا بھی حوالہ دیا!‏ یہ سچ نہیں تھا۔ ایک طبّی ملاحظہ کرنے والے نے بعدازاں اس چیز کی تصدیق کر دی کہ گلنؔ سر اور سینے کی اتنی شدید چوٹوں کی وجہ سے بہرصورت بچ نہیں سکتا تھا۔ حسن‌اتفاق کہ گواہوں کے متعدد خادموں کو بائبل پر مبنی اپنے مؤقف کی وضاحت کرنے کے لئے مقامی ریڈیو سٹیشن پر مدعو کِیا گیا۔ یہ اچھی تشہیر پر منتج ہوا اور خون کے سلسلے میں یہوؔواہ کے گواہوں کا مؤقف ہمارے گھرباگھر کی خدمتگزاری کے لئے موضوعِ‌گفتگو بن گیا۔‏

ٹیڈؔ کو ہوش میں لانے کی کوششیں

ٹیڈؔ بے‌ہوش ہی رہا۔ اسکے بعد ۱۳ مئی کو، ایک نرس نے اُسے بستر پر ہلایا تو اُس نے بالآخر اپنی آنکھیں کھول دیں!‏ مَیں نے اُسے سینے سے لگا لیا اور اُس کے ساتھ بات‌چیت کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ وہ پلک نہیں جھپک سکتا تھا یا زور سے میرا ہاتھ بھی نہیں بھینچ سکتا تھا۔ لیکن اُسکے بعد سے اُس نے تیزی سے صحتیاب ہونا شروع کر دیا۔ جب ہم کمرے میں داخل ہوتے تو اُسکا سر دروازے کی طرف گھوم جاتا تھا۔ جب ہم اُس سے بات‌چیت کرتے تو وہ ہماری طرف دیکھتا تھا۔ کیا واقعی ٹیڈؔ جانتا تھا کہ ہم وہاں موجود ہیں؟ ہمیں معلوم نہیں تھا۔ پس ہم نے اُسے ذہنی اور جسمانی طور پر بیدار رکھنے کے لئے کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلے دن ہم نے اُسکے ساتھ بات‌چیت کی، اُسے پڑھ کر سنایا اور اُس کے لئے موسیقی اور بائبل سے متعلق ٹیپ بجائے۔ مَیں نے اُس کے لئے اپنا گیٹار بھی بجایا؛ یہ ہم دونوں کے لئے علاج تھا۔‏

یہوؔواہ کے گواہوں کی مقامی کلیسیا کی طرف سے ہمیں بہت زیادہ مدد حاصل ہوئی۔ میرا بڑا بیٹا، سکاؔٹ، حال ہی میں یاد کر رہا تھا:‏ ”‏دو خاندانوں نے تو اپنے خاندان کے ساتھ تعطیلات پر لے جاتے ہوئے، درحقیقت مجھے اپنے بیٹے کی طرح رکھا۔“‏ اسکے علاوہ، بعض نے ہمارے سبزہ‌زار سے گھاس کاٹی، ہمارے کپڑے دھوئے اور ہمارے لئے کھانا بنایا۔ ٹیڈؔ کے ساتھ پوری رات ہسپتال میں رہنے کے لئے دوستوں اور رشتے‌داروں نے باری باری کام کِیا۔‏

تاہم، ہفتوں تک، ٹیڈؔ ایسی توجہ کے لئے جوابی‌عمل نہ دکھا سکا—‏ایک مسکراہٹ کے ساتھ بھی نہیں۔ پھر اُسے نمونیہ ہو گیا۔ ڈاکٹر نے مجھ سے دوبارہ ٹیڈؔ کو آلۂ‌تنفّس لگانے کی اجازت چاہی۔ خطرہ اُسکے مستقل طور پر اسکا محتاج ہو جانے کا تھا۔ ذرا سوچیں:‏ زندگی اور موت کا یہ فیصلہ میرے ہاتھوں میں تھا!‏ اگرچہ، جب انتقالِ‌خون کی بات تھی تو میری خواہشات کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا تھا!‏ بہرصورت، ہم آلۂ‌تنفّس کے لئے رضامند ہو گئے اور اچھے نتائج کی اُمید کی۔‏

اُس شام تازہ‌دم ہونے کے لئے مَیں گھر گئی۔ میرے لان میں ایک سرکاری اہلکار کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے ہمیں مطلع کِیا کہ سڑک کو کشادہ کرنے کے لئے جگہ دینے کے لئے ہمیں اپنا گھر فروخت کرنا ہوگا۔ اب ہمارے پاس مقابلہ کرنے کے لئے ایک اَور بڑا بحران تھا۔ مَیں نے ہمیشہ دوسروں کو بتایا تھا کہ یہوؔواہ ہمیں کبھی اُس سے بڑی آزمائش میں نہیں ڈالیگا جسے ہم برداشت کرنے کے قابل نہ ہوں۔ مَیں ۱-‏پطرس ۵:‏۶، ۷ کے الفاظ کا حوالہ دیتی تھی:‏ ”‏پس خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے فروتنی سے رہو تاکہ وہ تمہیں وقت پر سربلند کرے۔ اور اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُسکو تمہاری فکر ہے۔“‏ اب خدا پر میرے ایمان اور بھروسے کی اس طرح سے آزمائش ہو رہی تھی جس کا اُنہوں نے پہلے کبھی سامنا نہیں کِیا تھا۔‏

ٹیڈؔ کو یکے‌بعددیگرے بیمار رہتے ہوئے، کئی ہفتے گزر گئے۔ خون کے ٹیسٹ کرنے، ٹیسٹ کے لئے ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالنے، ہڈی کے سکین، دماغ کے سکین، ٹیسٹ کے لئے پھیپھڑوں سے پانی نکالنے اور بیشمار ایکسرے کرانے میں دن گزر جاتے تھے۔ اگست میں، بالآخر ٹیڈؔ کا ٹمپریچر معمول پر آ گیا۔ اگست میں، ٹیڈؔ کی خوراک اور سانس کی نالی میں ڈالی ہوئی ٹیوبیں بھی نکال دی گئیں!‏ اب ہمیں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا تھا۔‏

گھر آنا

ڈاکٹر ہمیں بتا چکے تھے کہ ٹیڈؔ کے لئے کوئی ہسپتال ہی بہتر رہیگا۔ ایک ڈاکٹر نے ہمیں یاد دلایا کہ سکاؔٹ اور مجھے اپنے لئے بھی کچھ وقت چاہئے۔ یہانتک کہ نیک‌نیت دوستوں نے بھی اسی طرح کے دلائل دئیے۔ تاہم، ایک چیز جسے وہ سمجھنے سے قاصر رہے، وہ یہ تھی کہ ٹیڈؔ ہماری زندگیوں کا ایک بڑا حصہ تھا!‏ اور اگر ہم گھر میں اُسکی نگہداشت کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو وہ ایسے لوگوں کے درمیان ہوگا جو اُس سے محبت کرتے اور اُسکے ہم‌ایمان تھے۔‏

ہم نے ایک ویل‌چیئر اور ہاسپٹل بیڈ خرید لیا۔ چند دوستوں کی مدد سے، ہم نے اپنے بیڈروم کی دیوار کو گِرا دیا، شیشے کے چند سلائڈنگ دروازے نصب کئے اور کمرے کے باہر ایک ڈھلوان نما چڑھائی تیار کروائی جوکہ ٹیڈؔ کو سیدھا اُسکے کمرے میں لیجانے کے قابل بنائیگی۔‏

۱۹ اگست کی صبح، میرے ابھی تک نیم‌بے‌ہوش بیٹے کو گھر واپس لانے کا وقت تھا۔ ٹیڈؔ اپنی آنکھیں کھول سکتا اور اپنی دہنی ٹانگ اور بازؤ کو معمولی حرکت دے سکتا تھا لیکن اُسکے ڈاکٹر نے پہلے ہی سے بتا دیا تھا کہ وہ مزید بہتر نہیں ہوگا۔ چند ہفتوں بعد، اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ یہ سچ ہے، ہم ٹیڈؔ کو ایک بہت مشہور نیورالوجسٹ کے پاس لے گئے۔ پھربھی، اُسے واپس گھر لانے کا احساس کسقدر حیرت‌انگیز تھا!‏ میری والدہ اور چند قریبی دوست ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ اُس شام، ہم سب اکٹھے کنگڈم ہال بھی گئے۔ اس چیز نے ہمیں پہلی بار اس بات کا احساس دلایا کہ ٹیڈؔ کی نگہداشت کے لئے کسقدر کوشش درکار ہوگی۔‏

گھر میں ٹیڈؔ کی نگہداشت کرنا

ایک معذور شخص کی نگہداشت کرنا ناقابلِتصور طور پر وقتطلب کام ثابت ہوا۔ کھانا کھانے میں‏، ٹیڈؔ کو تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ لگتا تھا۔ اُسے اسفنج کرنے، کپڑے پہنانے اور اُس کے بال دھونے میں مجھے مزید تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ اُسے گرم پانی سے نہلانے میں پورے دو گھنٹے لگ سکتے ہیں۔‏ کافی جسمانی کوشش کا تقاضا کرتے ہوئے، سفر سب سے بڑا کام ہے۔ اگرچہ حال ہی میں وہ کافی بہتر ہو گیا ہے،‏ مطابقت‌پذیر ویل‌چیئر کی مدد کے ساتھ بھی، ٹیڈؔ کو سیدھا بیٹھنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے،‏ اُسے عموماً فرش پر لیٹنا پڑا ہے۔ سالوں تک مَیں کنگڈم ہال کے پیچھے اُس کے ساتھ فرش پر بیٹھتی رہی۔‏ توبھی‏، ہم نے اس چیز کو ہمیں مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے سے روکنے نہ دیا اور ہم اکثر وقت پر پہنچ جاتے تھے۔‏

ہماری متحمل کوششیں کارگر ثابت ہوئی ہیں۔ کچھ عرصے تک ڈاکٹر یہ سوچتے تھے کہ حادثے نے ٹیڈؔ کو بہرہ اور اندھا کر دیا ہے۔ تاہم، حادثے سے پہلے مَیں نے اپنے بیٹوں کو اشاروں کی زبان سکھانا شروع کی تھی۔ گھر میں اُس پہلے ہفتے کے دوران، جو سوال ہم پوچھتے ٹیڈؔ نے اُنکا ہاں یا نہیں کا اشارہ کرنا شروع کر دیا۔ بعدازاں اُس نے اشارہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی۔ ہم اُسے دوستوں کی تصاویر دکھاتے اور چند ایک کی شناخت کرنے کے لئے اُسے اشارہ کرنے کے لئے کہتے اور اُس نے بالکل ٹھیک‌ٹھیک ایسا ہی کِیا۔ وہ حروف اور گنتی کی بھی صحیح شناخت کر سکتا تھا۔ اسکے بعد ہم الفاظ کی طرف بڑھے۔ اُسکی ادراکی صلاحیتیں بالکل محفوظ تھیں!‏ حادثے کے صرف سات مہینے بعد، نومبر میں، ایک ایسا واقع رونما ہوا جس کا بڑی شدت سے انتظار تھا۔‏

ٹیڈؔ مسکرایا۔ جنوری تک اُسکی مسکراہٹ کیساتھ ہنسی بھی شامل تھی۔‏

جیساکہ آپ کو یاد ہوگا ہمیں گھر فروخت کرنے پر مجبور کِیا گیا تھا۔ لیکن یہ چیز درحقیقت باعثِرحمت تھی، چونکہ ہمارا دو منزلہ گھر چھوٹا تھا اور ٹیڈؔ کے چلنے پھرنے کو کافی حد تک محدود کرتا تھا۔‏ قلیل رقم کے ساتھ ایک ایسا گھر تلاش کرنا جو ہماری ضروریات پر پورا اُترے بہت مشکل ہوگا۔ تاہم، ایک مہربان سٹیٹ ایجنٹ نے ہمارے لئے ایک گھر تلاش کر لیا۔ گھر کا مالک ایک رنڈوا تھا جس کی بیوی ویل‌چیئر تک محدود رہی تھی؛ یہ اُس کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تیار کِیا گیا تھا۔ ٹیڈؔ کے لئے بالکل موزوں!‏

بِلاشُبہ، گھر کو صفائی اور رنگ‌روغن کی ضرورت تھی‏۔ لیکن جب ہم پینٹ کرنے کے لئے بالکل تیار تھے تو رولروں اور پینٹ‌برشوں کے ساتھ‏، ہماری کلیسیا کے کوئی ۲۵ کے لگ‌بھگ دوست پہنچ گئے۔‏

روزمرہ زندگی کیساتھ نپٹنا

گلنؔ نے ہمیشہ خاندان کے کاروبار، اخراجات اور دیگر چیزوں کا خیال رکھا تھا۔ ذرا سی مشکل کے بعد، مَیں زندگی کے اس پہلو سے نپٹنے کے قابل ہوگئی تھی۔ تاہم، گلنؔ نے کبھی یہ محسوس نہیں کِیا تھا کہ وصیت لکھنا یا مناسب انشورنس کروانا ضروری ہے۔ اگر اُس نے ان معاملات پر توجہ دینے کے لئے وقت نکالا ہوتا—‏تو ہم اُن بہت سی مالی مشکلات سے بچ گئے ہوتے—‏وہ مسائل جو آج کے دِن تک باقی ہیں۔ ہمارے تجربے کے بعد، ہمارے بہتیرے واقف‌کاروں نے اپنے ان معاملات پر توجہ دینی شروع کر دی تھی۔‏

ایک اَور چیلنج ہماری جذباتی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے سلسلے میں تھا۔ ٹیڈؔ کے ہسپتال سے گھر واپس لوٹنے کے بعد، بعض نے ایسا ردِعمل ظاہر کِیا گویا مشکلات ختم ہو گئی تھیں۔ تاہم، سکاؔٹ کو مدد اور حوصلہ‌افزائی کی ضرورت تھی۔ کارڈ، خطوط اور ٹیلی‌فون کالیں جو ہمیں موصول ہوئیں وہ ہمیشہ اچھی یادوں کے طور پر زندہ رہینگی۔ مجھے ایک شخص کی طرف سے جس نے ہمیں مالی مدد دی تھی ایک خط یاد ہے۔ خط میں لکھا تھا:‏ ”‏مَیں اس خط پر دستخط نہیں کرونگا، چونکہ مَیں نہیں چاہتا کہ آپ میرا شکریہ ادا کریں بلکہ یہوؔواہ کا شکر کریں، کیونکہ وہی ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے لئے اس طرح کی محبت ظاہر کرنے کی تحریک دیتا ہے۔“‏

توبھی، ہم نے سیکھ لیا ہے کہ حوصلہ‌افزائی حاصل کرنے کے لئے مکمل طور پر دوسروں پر انحصار نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ کہ اپنی مدد آپ کرنے کے لئے مثبت اقدام اُٹھائیں۔ جب مَیں غمگین ہوتی ہوں تو مَیں اکثر دوسروں کی بابت سوچنے کی کوشش کرتی ہوں۔ مجھے جہےکِنّاکنگ اور کوکنگ بہت پسند ہے اور اکثر اوقات دوستوں کو کھانے کی دعوت دیتی رہتی ہوں یا پھر کچھ پکا کر اُنکے گھر بھیج دیتی ہوں۔ درحقیقت جب مَیں دباؤ کا شکار ہوتی ہوں یا تبدیلی چاہتی ہوں تو ہمیشہ ڈنر، لنچ یا پھر ہفتہ کے آخر پر دوستوں کے ساتھ کہیں جانے کے لئے دعوت‌نامہ مِل جاتا ہے۔ بعض‌اوقات، کوئی نہ کوئی کچھ دیر کے لئے ٹیڈؔ کے پاس رہنے کی بھی پیشکش کر دیتا ہے تاکہ مَیں بازار یا دُکان پر سوداسلف لانے کے لئے جا سکوں۔‏

میرا بڑا بیٹا، سکاؔٹ بھی بڑی شاندار برکت ثابت ہوا ہے۔ جب کبھی ممکن ہوا ہے، سکاؔٹ ٹیڈؔ کو اپنے ساتھ معاشرتی اجتماعات میں لے گیا ہے۔ ٹیڈؔ کی نگہداشت کرنے کے سلسلے میں کسی نہ کسی طرح مدد کرنے کے لئے وہ ہمیشہ دستیاب رہا ہے، اور اُس نے کبھی بھی بہت زیادہ ذمہ‌داری اُٹھانے کی بابت شکایت نہیں کی تھی۔ ایک مرتبہ سکاؔٹ نے کہا:‏ ”‏اگر مَیں نے خود کو کبھی یہ خواہش کرتے پایا کہ کاش میری زندگی تھوڑی اَور نارمل ہوتی تو مَیں نے فوراً سوچا کہ کیسے میرا تجربہ مجھے یہوؔواہ کے اَور زیادہ قریب لے آیا ہے۔“‏ ایسا شفیق اور روحانی ذہن رکھنے والا بیٹا دینے کے لئے مَیں ہر روز یہوؔواہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ وہ اپنی کلیسیا میں خدمتگزار خادم کے طور پر خدمت انجام دیتا ہے اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک کُل‌وقتی مبشر ہونے سے لطف‌اندوز ہوتا ہے۔‏

اور ٹیڈؔ؟ وہ بڑی تیزی سے صحتیاب ہو رہا ہے۔ چند سال کے اندر اندر اُس نے دوبارہ بولنا شروع کر دیا۔ پہلے پہل چھوٹے چھوٹے الفاظ، اسکے بعد جملے۔ اب وہ مسیحی اجلاسوں پر اپنے تبصرے بھی پیش کر سکتا ہے۔ وہ اَور زیادہ روانی کے ساتھ بات‌چیت کرنے کے لئے سخت محنت کر رہا ہے اور قوتِ‌گویائی کے علاج نے مدد کی ہے۔ وہ ابھی بھی گانا پسند کرتا ہے—‏خاص طور پر کنگڈم ہال میں۔ وہ ہمیشہ سے پُراُمید بھی ہے۔ اب وہ واکر کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہمیں یہوؔواہ کے گواہوں کی ایک کنونشن پر اپنا تجربہ بیان کرنے کا موقع ملا تھا۔ جب یہ پوچھا گیا کہ وہ حاضرین میں بیٹھے ہوئے تمام بھائی بہنوں کو، کیا کہنا پسند کریگا تو ٹیڈؔ نے کہا:‏ ”‏فکر نہ کریں۔ مَیں اچھا ہو جاؤنگا۔“‏

یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہمیں قائم رکھنے کا سارا سہرا ہم یہوؔواہ کو دیتے ہیں۔ بِلاشُبہ، ہم نے اُس پر پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بھروسہ رکھنا سیکھ لیا ہے۔ آنکھوں میں کاٹی ہوئی وہ تمام راتیں، ٹیڈؔ کی ذاتی ضروریات اور آرام‌وآسائش کا خیال رکھنے کے سلسلے میں کی گئی تمام سخت محنت، تمام قربانیاں جو ہم نے کیں ہیں وہ کارآمد ثابت ہوئی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جب ہم ناشتہ کر رہے تھے تو مَیں نے اُوپر دیکھا تو کیا دیکھتی ہوں کہ ٹیڈؔ اپنے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ لئے مجھے گھور رہا تھا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏ماں، مَیں آپکو پیار کرتا ہوں۔ مجھے ہسپتال سے گھر لانے کے لئے آپکا شکریہ۔“‏—‏از رؔوز میری بوڈی۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a انتقالِ‌خون اور بغیرخون کے اشیاء کے استعمال کے سلسلے میں بائبل کے نظریے کی بابت معلومات کے لئے، واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کے شائع‌کردہ بروشر ”‏ہاؤ کین بلڈ سیو یوئر لائف؟“‏ کو دیکھیں۔‏

‏[‏عبارت]‏

مشکل‌ترین کام اپنے بیٹے سؔکاٹ کو یہ بتانا تھا کہ اُسکا باپ وفات پا گیا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں