اب مجھے خوشی ہے کہ مَیں زندہ ہوں!
”آپ جانتی ہیں کہ آپ مر جائیں گی، کیا ایسا نہیں ہے؟“ ڈاکٹر نے پوچھا۔ ستمظریفی تو یہ ہے کہ اِس سے پہلے دو مرتبہ موت ایک خوشآئند چھٹکارا ہو سکتی تھی۔ مگر اِس مرتبہ نہیں۔ مجھے وضاحت کرنے دیں۔
میری پرورش نیو یارک کے مضافات میں واقع لانگ آئیلینڈ میں ہوئی، جہاں میرے والد کار ریس کے ایک مشہور ڈرائیور تھے۔ وہ ایک باکمال شخص تھے جو مقابلوں میں خوب کامیاب رہتے تھے۔ اِسکے علاوہ وہ متلونمزاج بھی تھے اور اُنہیں خوش کرنا انتہائی مشکل تھا۔ اِسکے برعکس، والدہ بہت پُرسکون اور پُراَمن شخصیت کی مالک تھیں جوکہ والد کی دوڑوں سے اِسقدر خوفزدہ تھیں کہ وہ اُنہیں ریس لگاتے ہوئے دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتی تھیں۔
بڑے بھائی اور مَیں نے اوائل عمری سے ہی گھر میں دھیما مزاج رکھنا سیکھ لیا تھا، ایک ایسی خوبی جسکی ماں پہلے سے ہی عادی تھی۔ لیکن یہ آسان نہیں تھا۔ ہم سب والد سے خوفزدہ رہتے تھے۔ اِس بات نے مجھے اِس قدر متاثر کِیا کہ مَیں محسوس کرتی تھی کہ مَیں کبھی بھی کوئی درست کام نہیں کر سکتی تھی۔ اُس وقت تو میری عزتِنفس تقریباً ختم ہی ہو گئی جب نوعمری کے اوائل میں خاندان کے ایک ”دوست“ نے مجھے جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہوتے ہوئے مَیں نے خودکشی کی کوشش کی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا جب مَیں نے محسوس کِیا کہ موت ایک خوشآئند چھٹکارا ہوگی۔
مَیں نے خود کو انتہائی بےوقعت اور محبت سے محروم محسوس کِیا اور کھانےپینے میں بےاعتدالی کا شکار ہو گئی جو عزتِنفس کی کمی کا شکار عورتوں میں بہت عام ہے۔ مَیں نے ہیجانخیز زندگی کی تلاش میں ایک ایسا طرزِزندگی اختیار کر لیا جس میں منشیات، حرامکاری، اسقاطِحمل جیسے عناصر شامل تھے جیسےکہ [ایک انگریزی نغمہ] ایک جملہ بیان کرتا ہے مَیں نے ”ہر مناسب جگہ پر محبت کی تلاش کی۔“ پھر مَیں کار دوڑوں، موٹرسائیکل دوڑوں اور غوطہخوری جیسے کاموں میں مگن ہو گئی اور مَیں وقتاًفوقتاً جوئےبازی کیلئے لاس ویگاس بھی گئی۔ ارواحپرستی کے خطرات کو بھانپے بغیر مَیں نے قسمت کا حال بتانے والے ایک شخص کے مشورے پر بھی کان لگایا اور تفریحاً ویجا بورڈ بھی استعمال کِیا۔—استثنا ۱۸:۱۰، ۱۲۔
علاوہازیں، ہیجانخیز زندگی کی جستجو میرے منشیاتفروشی اور اُٹھائیگیری جیسی غیرقانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہونے کا باعث بنی۔ محبت اور پسندیدگی کیلئے میری تلاش بوائےفرینڈز اور منگیتروں کی ایک لمبی فہرست پر منتج ہوئی۔ اِن تمام عوامل نے ملکر ایک ایسے طرزِزندگی کو جنم دیا جو میری سوچ سے کہیں بڑھ کر خطرناک تھا۔
ایک رات، ریسٹریک کے ایک پٹرول پمپ پر منشیات اور الکحل لینے کے بعد مَیں نے غیردانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بوائےفرینڈ کو یہ اجازت دے دی کہ وہ مجھے گاڑی میں گھر چھوڑ آئے۔ میرے فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے بےہوش ہو جانے کے بعد وہ بھی بےہوش گیا۔ تصادم کے نتیجے میں جھٹکے لگنے کے باعث مجھے ہوش آ گیا۔ بہت سے زخموں کیساتھ مجھے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا مگر بالآخر مَیں صحتیاب ہو گئی بس دائیں گھٹنے میں ذرا سا نقص ہو گیا تھا۔
کسی بہتر چیز کی خواہش
اگرچہ میری نظر میں اپنی زندگی کی کوئی قدر نہیں تھی لیکن مَیں بچوں اور جانوروں کے حقوق اور سلامتی اور ماحول کے تحفظ کی بابت کافی فکرمند تھی۔ مَیں ایک بہتر دُنیا دیکھنے کی خواہشمند تھی اور اُس کے قیام کی کوشش میں مدد دینے کی غرض سے مَیں مختلف تنظیموں کی فعال رُکن تھی۔ بنیادی طور پر ایک بہتر دُنیا کی اِسی خواہش نے مجھے ایک ساتھی کارکن کی باتوں میں دلچسپی ظاہر کرنے پر مجبور کر دیا جو یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک تھی۔ جائےملازمت پر جب کبھی کوئی غلط کام ہوتا تو وہ مایوسی سے اِسکا حوالہ ”اِس نظام“ کے طور پر دیتی۔ جب مَیں نے اُس سے پوچھا کہ اس سب کا کیا مطلب ہے تو اُس نے وضاحت کی کہ ایک دن یہ دُنیا تمام پریشانیوں سے آزاد ہو جائیگی۔ چونکہ مَیں اُسکا بےحد احترام کرتی تھی لہٰذا مَیں نے بہت دلچسپی سے سنا۔
بدقسمتی سے، ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا مگر مَیں اُسکی کہی ہوئی باتوں کو کبھی نہ بھلا سکی۔ مجھے معلوم تھا کہ خدا کو خوش کرنے کیلئے مجھے اپنے طرزِزندگی میں بڑی تبدیلیاں لانی پڑینگی۔ لیکن مَیں تیار نہیں تھی۔ تاہم، مَیں کسی بھی متوقع بیاہتا ساتھی کو اِس سے ضرور آگاہ کرتی تھی کہ کسی دن مَیں یہوواہ کی گواہ بن جاؤں گی اور اگر اُنہیں یہ پسند نہیں تو علیٰحدہ ہونے کا یہی وقت تھا۔
نتیجے کے طور پر، میرے آخری بوائےفرینڈ نے یہ کہتے ہوئے مزید سیکھنے کی خواہش کا اظہار کِیا کہ اگر آپ اِس میں دلچسپی رکھتی ہیں تو شاید مَیں بھی اِسے پسند کروں۔ لہٰذا ہم نے گواہوں کی تلاش شروع کر دی۔ اسکی بجائے، اُنہوں نے ہمیں ڈھونڈ لیا جب وہ میرے گھر پر ملاقات کیلئے آئے۔ بائبل مطالعہ شروع ہو گیا لیکن کچھ عرصے بعد میرے بوائےفرینڈ نے مطالعہ چھوڑنے اور واپس اپنی بیوی کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا۔
میرا بائبل مطالعہ اکثر بےقاعدہ ہوتا تھا۔ زندگی کے تقدس کے متعلق یہوواہ کے نظریے کیلئے قدردانی پیدا کرنے میں مجھے وقت لگا۔ تاہم، جونہی مَیں نے اپنی سوچ کو تبدیل کِیا تو مَیں نے سکائیڈائیوینگ [پیراشوٹ کیساتھ جہاز سے کودنا اور ہوا میں کرتب دکھانا] اور سگریٹنوشی کو ترک کرنے کی ضرورت کو محسوس کِیا۔ جب زندگی میرے لئے اَور زیادہ قیمتی بن گئی تو مَیں مزید کوئی بھی خطرہ مول لئے بغیر متوازن زندگی بسر کرنے کیلئے تیار تھی۔ مَیں نے اکتوبر ۱۸، ۱۹۸۵ میں پانی کے بپتسمہ کے ذریعے یہوواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کِیا۔ مَیں نہیں جانتی تھی کہ جلد ہی میری زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔
ایک بار پھر مرنے کی خواہش کرنا
چند ماہ بعد—۲۲ مارچ، ۱۹۸۶ کی رات کو—مَیں اپنے گھر کے سامنے کار سے اپنے کپڑے [دھوبی سے دھلائے ہوئے] نکال رہی تھی کہ ایک تیزرفتار کار نے مجھے ٹکر ماری اور مجھے تقریباً سو فٹ کے فاصلے تک گھسیٹتی ہوئی لے گئی! مَیں کار کے ایک ایسے حادثے کا شکار تھی جسکا ڈرائیور بھاگ گیا تھا۔ اگرچہ میرے سر پر بہت چوٹیں آئی تھیں پھر بھی مَیں تمام وقت ہوش میں تھی۔
اندھیری سڑک پر اوندھے مُنہ لیٹے ہوئے مَیں صرف دوبارہ ٹکر کے خوف کے متعلق ہی سوچ سکتی تھی۔ درد انتہائی شدید اور میری برداشت سے باہر تھا۔ سو مَیں یہوواہ سے التجا کرتی رہی کہ مجھے مر جانے دے۔ (ایوب ۱۴:۱۳) ایک عورت نظر آئی جوکہ نرس تھی۔ مَیں نے اُس سے درخواست کی کہ میری ٹانگوں کی پوزیشن درست کر دے جوکہ بُری طرح زخمی ہو چکی تھیں۔ اُس نے ایسا کِیا بلکہ اُس نے اپنے کپڑوں سے ایک ٹکڑا پھاڑ کر ایک پٹی تیار کی تاکہ اُس ٹانگ سے خون کو بہنے سے روکا جا سکے جو مختلف جگہ سے ٹوٹ گئی تھی۔ میرے خون میں لتپت جوتے وہاں سے کچھ فاصلے پر پڑے ہوئے ملے!
راہگیر اس سے بےخبر کہ آیا مَیں پیدل چلنے والی ہوں مجھ سے میری کار کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں کتنی دُور آ چکی ہوں، مَیں سمجھ رہی تھی کہ مَیں اپنی کار کے قریب ہی ہوں! جب طبّی امداد دینے والا عملہ پہنچا تو اُنہوں نے سمجھا کہ مَیں بس مرنے ہی والی ہوں۔ لہٰذا اُنہوں نے پولیس کے سراغرسانوں کو بلا لیا کیونکہ گاڑی کی ٹکر سے کسی کو ہلاک کرنا سنگین قسم کے جُرم میں شمار ہو سکتا ہے۔ آخرکار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا۔ اُنہوں نے اُس علاقے کو جائےوقوعہ قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا اور میری کار کو ثبوت کے طور پر تحویل میں لے لیا۔ میری کار کی ایک طرف کے دونوں دروازے غائب تھے۔
بحران کا سامنا کرنا
جس اثنا میں، مجھے زخمیوں کے مقامی مرکز میں پہنچایا گیا، مَیں آکسیجن ماسک کے باوجود مسلسل یہ کہہ رہی تھی: ”خون نہیں، خون نہیں۔ مَیں یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہوں!“ آخری بات جو مجھے یاد پڑتی ہے وہ یہ تھی کہ نرسیں پیچھے سے میرے کپڑے کاٹ رہی تھیں اور امدادی ٹیم کے ارکان چلّاچلّا کر احکامات جاری کر رہے تھے۔
جب میری آنکھ کھلی تو مَیں اپنے زندہ ہونے پر حیران تھی۔ مَیں بارہا بےہوشی کے عالم میں چلی جاتی تھی۔ ہر دفعہ جب مجھے ہوش آتا تو مَیں اپنے خاندان سے اُس جوڑے کو بلانے کیلئے کہتی جنہوں نے میرے ساتھ بائبل مطالعہ کِیا تھا۔ چونکہ میرا خاندان میرے گواہ بننے سے خوش نہیں تھا لہٰذا وہ بڑی آسانی سے اُس جوڑے کو مطلع کرنا ”بھول“ جاتے تھے۔ لیکن مَیں نے بھی ہمت نہ ہاری—ہر بار آنکھیں کھولنے پر مَیں یہی بات پوچھتی۔ آخرکار میری مستقلمزاجی رنگ لائی اور ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو وہ وہاں موجود تھے۔ کیا ہی تسکینبخش احساس! یہوواہ کے لوگ جان گئے تھے کہ مَیں کہاں ہوں۔
تاہم، میری یہ خوشی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ میرے جسم میں خون کی کمی ہو گئی اور مجھے شدید بخار ہو گیا۔ جن ہڈیوں سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ تھا اُنہیں نکال دیا گیا تھا اور دھات کے بنے ہوئے چار راڈ میری ٹانگ میں ڈال دئے گئے۔ لیکن جلد ہی بخار نے پھر حملہ کِیا اور میری ٹانگ سیاہ پڑ گئی۔ آکلہ [گینگرین] پھیل گیا تھا اور بچاؤ کا انحصار ٹانگ کاٹ دینے پر تھا۔
خون لینے کیلئے دباؤ
چونکہ ناگہاں طور پر میرے جسم میں خون کی کمی واقع ہو گئی تھی لہٰذا خون کے بغیر سرجری ناممکن تھی۔ ڈاکٹر، نرسیں، خاندان کے افراد اور چند پُرانے دوستوں کو بلایا گیا تاکہ مجھ پر خون لینے کیلئے دباؤ ڈالا جا سکے۔ پھر، میرے دروازے پر کچھ سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ مَیں نے ڈاکٹروں کو منصوبہ بناتے ہوئے سنا لیکن مَیں سمجھ نہ پائی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ خوشقسمتی سے ایک گواہ جو ملاقات کیلئے آئی ہوئی تھی اُس نے ڈاکٹروں کو مجھے جبراً خون دینے کا منصوبہ بناتے ہوئے سن لیا۔ اُس نے فوراً مقامی کلیسیا کے بزرگوں سے رابطہ کِیا جو میری معاونت کیلئے پہنچ گئے۔
ایک ماہرِنفسیات کو میری ذہنی کیفیت کا تجزیہ کرنے کیلئے بلایا گیا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ مجھے نااہل ثابت کر کے میری خواہشات کے خلاف عمل کرنا چاہتے تھے۔ یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ پھر ایک پادری بلایا گیا جس نے خود انتقالِخون قبول کِیا تھا تاکہ وہ مجھے بھی اِس بات پر قائل کر سکے کہ خون لینا درست ہے۔ آخرکار میرے خاندان نے عدالت سے اجازتنامہ حاصل کرنے کا سوچا تاکہ مجھے زبردستی خون دیا جا سکے۔
صبح تقریباً دو بجے کے قریب، ڈاکٹروں کی ایک ٹیم، عدالت کی سٹینوگرافر اور بیلف، وکلاء جو ہسپتال کی نمائندگی کر رہے تھے اور ایک جج میرے کمرے میں داخل ہوئے۔ عدالتی کارروائی شروع ہو گئی۔ مجھے پہلے سے مطلع نہیں کِیا گیا تھا میرے پاس بائبل تھی نہ کوئی وکیل، اور مجھے درد کم کرنے کیلئے بہت سی ادویات دی گئیں۔ اِس عدالتی کارروائی کا نتیجہ؟ جج نے یہ کہتے ہوئے عدالتی حکم نامے کو مسترد کر دیا کہ وہ یہوواہ کے گواہوں کی راستی سے پہلے سے کہیں زیادہ متاثر ہوا ہے۔
نیوجرسی، کیمڈن میں ایک ہسپتال میرا کیس لینے کیلئے تیار ہو گیا۔ چونکہ نیو یارک ہسپتال کی انتظامیہ طیش میں تھی لہٰذا درد کم کرنے والی گولیوں سمیت اُنہوں نے مجھے ہر قسم کی طبّی امداد فراہم کرنا بند کر دی۔ اُنہوں نے اُس ہیلیکاپٹر کو اُترنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا جو مجھے نیو جرسی ہسپتال لے جانے کیلئے آیا تھا۔ شکر ہے کہ ایمبولینس کے ذریعے مجھے نکال لیا گیا۔ وہاں پہنچنے پر مَیں نے وہ الفاظ سنے جنکا ذکر مَیں نے اِس کہانی کے شروع میں کِیا ہے: ”آپ جانتی ہیں کہ آپ مر جائیں گی۔ کیا ایسا نہیں ہے؟“
سرجری—کامیاب رہی
مَیں اِسقدر نقاہت کا شکار تھی کہ سرجری کیلئے اجازتنامے پر X کا نشان بنانے کیلئے ایک نرس کو میری مدد کرنی پڑی۔ میری دائیں ٹانگ گھٹنے سے اُوپر تک کاٹ دی گئی۔ بعدازاں، میرے خون میں ہیموگلوبن کی تعداد ۲ سے بھی نیچے چلی گئی اور ڈاکٹروں کو میرے دماغ کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ یہ اسلئے تھا کیونکہ وہ میرے کان میں: ”ورجینیا، ورجینیا“ پکارنے کے باوجود کسی بھی قسم کا ردِعمل حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے—وہ نام جو ہسپتال میں داخلے کے میرے کاغذات پر درج تھا۔ لیکن کچھ وقت بعد جب میرے کان میں نرمی سے ”جنجر، جنجر“ کہا گیا تو مَیں نے آنکھیں کھول دیں اور اپنے سامنے ایک مہذب شخص کو کھڑے پایا جسے مَیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
بل ٹرپن کا تعلق نیو جرسی میں یہوواہ کے گواہوں کی مقامی کلیسیا سے تھا۔ اُسے میرا عرفی نام جنجر—جس سے مجھے ہمیشہ پکارا جاتا رہا تھا—نیو یارک میں گواہوں سے معلوم کر لیا تھا۔ اُس نے کچھ ایسے سوال ترتیب دے رکھے تھے جن کا جواب مَیں صرف آنکھیں جھپکنے سے دے سکتی تھی کیونکہ مَیں مصنوعی ذریعے سے سانس لے رہی تھی اور بول نہیں سکتی تھی۔ ”کیا آپ چاہتی ہیں کہ مَیں آپ سے ملاقات کیلئے آتا رہوں؟“ اُس نے پوچھا، ”اور نیو یارک میں گواہوں کو آپکے متعلق آگاہ کرتا رہوں؟“ مَیں نے بمشکل رضامندی کیلئے آنکھیں جھپکائیں! بھائی ٹرپن نے چپکے سے میرے کمرے میں آنے سے خاصا خطرہ مول لیا تھا کیونکہ میرے خاندان نے کسی بھی گواہ کو ملاقات کرنے سے روک دیا تھا۔
چھ مہینے ہسپتال میں رہنے کے بعد بھی مَیں معمول کی زندگی سے متعلق محض بنیادی کام ہی کر سکتی تھی جیساکہ خود سے کھانا اور اپنے دانت صاف کرنا۔ بالآخر مجھے مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی اور مَیں واکر کی مدد سے کسی حد تک چلنے پھرنے کے قابل ہو گئی۔ جب ستمبر ۱۹۸۶ میں مَیں ہسپتال سے واپس اپنے اپارٹمنٹ پہنچی تو میری مدد کیلئے ایک ہیلتھ ورکر چھ مہینے تک میرے ساتھ رہی۔
ہماری برادری کی طرف سے مدد
گھر آنے سے قبل ہی مَیں نے واقعی اِس بات کی اہمیت کو سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ مسیحی برادری کا حصہ ہونے کا کیا مطلب ہے۔ (مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰) بھائی اور بہن پُرمحبت طور پر نہ صرف میری جسمانی بلکہ روحانی ضروریات کی بھی دیکھبھال کرتے تھے۔ اُنکی پُرمحبت معاونت کی بدولت مَیں مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے اور بعد میں امدادی پائنیر خدمتگزاری میں حصہ لینے کے قابل ہوئی۔
کار کے ڈرائیور کے خلاف سول عدالت میں مقدمے کی سماعت جسے کورٹ کی فہرست میں شامل ہونے میں عام طور پر پانچ سال لگ جاتے ہیں، چند ہی مہینوں میں مکمل ہو گئی—جس پر میرے اٹارنی کو حیرت تھی۔ عوضانے کی رقم کی بدولت مَیں ایک زیادہ آرامدہ گھر میں منتقل ہو گئی۔ اِسکے علاوہ، مَیں نے ایک وین بھی خرید لی جس میں ویلچیئر لفٹ اور اُسکو ہاتھ سے کنٹرول کرنے کا نظام نصب تھا۔ پس، ہر سال منادی کیلئے کمازکم ۱،۰۰۰ گھنٹے وقف کرتے ہوئے، مَیں ۱۹۸۸ میں ریگولر پائنیروں کی صف میں شامل ہو گئی۔ سالوں کے دوران مَیں نے شمالی ڈیکوٹا، الابامہ اور کنٹکی جیسی ریاستوں میں کام کرنے سے لطف اُٹھایا ہے۔ مَیں نے اپنی وین میں ۰۰،۰۰۰ا میل سے زیادہ سفر کِیا ہے جوکہ زیادہتر مسیحی خدمتگزاری کے سلسلے میں تھا۔
اپنے بجلی سے چلنے والے تین پہیوں والے سکوٹر کے استعمال کے سلسلے میں مجھے بہت سے مضحکہخیز تجربات کا سامنا ہوا۔ سفری نگہبانوں کی بیویوں کیساتھ کام کرتے ہوئے دو مرتبہ میرا سکوٹر اُلٹ گیا۔ ایک مرتبہ الابامہ میں، راستے میں آنے والے ایک نالے کے متعلق مَیں نے سوچا کہ مَیں سکوٹر پر اِسے پار کر جاؤں گی مگر میرا اندازہ غلط نکلا اور مَیں سکوٹر سمیت زمین پر گر گئی اور کیچڑ میں لتپت ہو گئی۔ تاہم، مزاح کی حس کو برقرار رکھنے اور خود کو زیادہ اہم خیال نہ کرنے نے مجھے ایک مثبت میلان برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔
ایک یقینی اُمید کا سہارا
بعضاوقات صحت کے مسائل ناقابلِ برداشت ہو جاتے ہیں۔ چند سال قبل مجھے دو مرتبہ پائنیر خدمت کو خیرباد کہنا پڑا کیونکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے میری دوسری ٹانگ بھی کاٹنی پڑے گی۔ دوسری ٹانگ سے محروم ہونے کا خطرہ ابھی تک موجود ہے اور گذشتہ پانچ سال سے، مَیں مکمل طور پر ویلچیئر تک محدود ہو گئی ہوں۔ ۱۹۹۴ میں میرا بازو ٹوٹ گیا۔ مجھے نہانے، کپڑے بدلنے، کھانا پکانے، صفائی کرنے اور کہیں بھی آنے جانے کے سلسلے میں مدد درکار تھی۔ تاہم، بھائیوں کی معاونت کے باعث مَیں اِس مشکل کے باوجود پائنیر خدمت کو جاری رکھنے کے قابل تھی۔
ساری زندگی مَیں ہیجانخیزی کے تعاقب میں رہی لیکن اب مجھے معلوم ہوا کہ انتہائی ہیجانخیز وقت تو ابھی آئے گا۔ میرا یہ یقین کہ خدا موجودہ تمام تکالیف کو اپنی جلد آنے والی نئی دُنیا میں ختم کر دیگا مجھے زندہ رہنے کیلئے خوشی بخشتا ہے۔ (یسعیاہ ۳۵:۴-۶) اُس نئی دُنیا میں، مَیں وھیل اور ڈولفن کیساتھ تیراکی، شیر اور اُسکے بچوں کیساتھ پہاڑوں کی سیاحت اور بہت آسان کام کرنے جیسےکہ ساحل پر چہلقدمی کرنے کی اُمید رکھتی ہوں۔ اِن تمام کاموں کو کرنے کا تصور مجھے خوشی بخشتا ہے کیونکہ خدا نے ہمیں اِس زمین پر اُس فردوس سے لطف اُٹھانے کیلئے خلق کِیا تھا۔—جنجر کلاؤس کی زبانی۔
[صفحہ 21 پر تصویر]
خدا کے وعدے مجھے سنبھالے رکھتے ہیں