اپنے بچے کو سکول میں درپیش مسائل کے ساتھ نپٹنے میں مدد دیں
دُنیا کی بگڑتی ہوئی حالتیں ہمارے بچوں سمیت، ہم سب پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ خدا کے کلام، بائبل نے درست طور پر پیشازوقت بتا دیا تھا کہ ہمارے زمانے میں ”بُرے دن آئینگے“ اور یہ کہ ”بُرے اور دھوکا باز آدمی . . . بگڑتے چلے جائینگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، ۱۳) پس، سکول کی تعلیم آجکل مشکلات سے پُر ہے جبکہ طالبعلم ان حالات کا مقابلہ کرتے ہیں جنکا انکے والدین کو شاید ہی تجربہ ہوا ہو۔ اپنے بچوں کو ان سے نپٹنے میں مدد دینے کیلئے والدین کیا کر سکتے ہیں؟
ہمسروں کا دباؤ
زیادہتر بچوں کو کبھی کبھار ہمسروں کی طرف سے دباؤ کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایک نوعمر فرانسیسی طالبعلم گریہوزاری کرتا ہے: ”والدین اور معاشرہ مدد کرنے کیلئے وہ سب کچھ کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ نوعمر مجرم دوسرے نوجوانوں پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔ . . . جو والدین اپنے بچوں پر قابو نہیں رکھتے وہ اپنی ذمہداریاں پوری نہیں کر رہے ہیں۔“
ذمہدار والدین اپنے بچوں کو روحانی خوبیاں پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں جو کہ انہیں باطنی قوت بہم پہنچاتی ہیں جسکی انہیں ہمسروں کے نقصاندہ دباؤ کا مقابلہ کرنے کیلئے ضرورت ہوتی ہے۔ ”ہم اپنے بچوں میں عزتِنفس پیدا کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں،“ ایک باپ وضاحت کرتا ہے، ”لہٰذا وہ اپنے ہمسروں کی طرف سے اظہارِپسندیدگی کو ضروری محسوس نہیں کرینگے۔ اگر دوسرے بچوں کی طرح بننا انکے لئے اہم نہیں ہے تو پھر انکے لئے اس وقت نہ کہنا بہت آسان ہوگا جب ان سے نہ کہنے کا تقاضا کِیا جاتا ہے۔“ اپنے بچوں کو یہ سکھانے کیلئے کہ مشکل حالات پر کیسے قابو پایا جائے، یہ باپ اپنے خاندان کیلئے وقت نکالتا ہے تاکہ استاد اور بچے کے کردار ادا کر سکے، حقیقت میں ایسے مشکل حالات کی اداکاری کرتے ہوئے جنکا کہ سامنا ہو سکتا ہے اور پھر ان طریقوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے جن سے انکے ساتھ نپٹا جا سکتا ہے۔ حمایتی باپ یا ماں بنیں اور اپنے بچے میں خوداعتمادی کو پیدا کرنے میں مدد دیں۔
خراب زبان
جبکہ اخلاقی معیار عالمی پیمانے پر زوالپذیر ہوتے ہیں، خراب زبان بہت زیادہ عام ہوتی جا رہی ہے۔ بہتیرے ممالک میں اسے اکثر نامنہاد پرائم ٹائم (شام ۷ بجے سے لیکر رات ۱۱ بجے کا وقت) ٹیوی پر سنا جاتا ہے۔ لہٰذا، سکول میں کھیل کے میدان، گزرگاہیں اور کلاس روم فحش کلامی سے گونج رہے ہوتے ہیں۔
بعض اساتذہ یہ دلیل دیتے ہوئے خود گالیگلوچ اور لعنت ملامت کرنے کی توجیہ کرتے ہیں کہ اسطرح انکے طالبعلم ایسی گفتگو کی بابت اپنے رویے کو تشکیل دے سکتے ہیں۔ لیکن ایسی پالیسی محض طالبعلموں کو ان بداخلاق اصطلاحات کو روزمرہ کی باتچیت کے ایک حصے کے طور پر اپنانے کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔
ایک دانشمند باپ یا ماں مشفقانہ طریقے سے وضاحت کرتے ہیں کہ کیوں خاندان کے اندر ایسے الفاظ بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ جاننے کیلئے کہ انکا بچہ کس قسم کی کتابیں پڑھیگا سکول سلیبس چیک کرنے سے وہ جماعت میں پڑھائی کے دوران بھی خراب زبان پر پیشبندی کر سکتے ہیں۔ اگر منتخب کتابوں میں سے کسی میں خراب زبان پائی جاتی ہے یا بداخلاقی کو نمایاں کیا جاتا ہے تو شاید وہ بچے کے استاد سے درخواست کرکے قابلِقبول مضامین والی کسی متبادل کتاب کا انتخاب کر سکتا ہے۔ ایک متوازن رسائی معقولیت کو ظاہر کرتی ہے۔—فلپیوں ۴:۵۔
بداخلاقی اور منشیات
سروے ظاہر کرتے ہیں کہ بہتیرے ”والدین گھر میں [جنس کی بابت تعلیم] پر باتچیت کرنے میں کافی شرم یا ذہنی طور پر پریشان“ ہو جانے کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسکی بجائے، وہ سکول پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ انکے بچے کو اسکی بابت صحیح معلومات فراہم کرے۔ لیکن ایک تجربہکار استاد کے مطابق، لندن کا دی سنڈے ٹائمز رپورٹ دیتا ہے کہ نوعمر لڑکیوں میں غیرمعمولی طور پر بڑھتے ہوئے حمل کا تعلق ”مانعحمل کے میکانکی طریقوں سے لاعلمی کی نسبت اخلاقیات کیساتھ زیادہ ہے۔“ والدین اپنے بچوں کیلئے چالچلن کے ایسے معیار قائم کرنے کیلئے بہترین حالت میں ہیں جن پر چلنے کی وہ اپنے بچوں سے توقع کرتے ہیں۔
منشیات کے ناجائز استعمال کے سلسلے میں بھی یہ سچ ہے۔ والدین کی طرف سے راہنمائی کی کمی مسئلے کو زیادہ خراب کرتی ہے۔ ”جتنی زیادہ خاندانی زندگی ایک بچے کو ناپسندیدہ دکھائی دیگی،“ فرانکوسکوپی ۱۹۹۳، مشاہدہ کرتا ہے، ”اتنا ہی زیادہ اسکا اپنے لئے متبادل تلاش کرنے کا امکان ہے۔ منشیات کا [استعمال] اکثر ان میں سے ایک ہے۔“ ”ماں یا باپ ہونا مشکل ہے،“ ٹاکسیکومانی اے پراوہتھیںلفظاسوں یژنیس فاؤنڈیشن (منشیات کے استعمال اور نوجوانوں کے تحفظ) کی پریزیڈنٹ میشؔلکُتوکُتا شاباںڈلما، تسلیم کرتی ہے۔ ”آپکو ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے؛ منشیات اکثر والدین کو چوکس کرتی ہیں کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اگر ایک نوعمر محسوس کرتا ہے کہ اسکی ماں یا باپ اس پر توجہ نہیں دے رہے تو جب اسے منشیات پیش کی جاتی ہیں تو وہ اسے اپنے مسائل کے ایک جادوئی حل کی مانند دکھائی دے سکتی ہیں۔“
ایک کینیڈین والد وضاحت کرتا ہے کہ کیسے وہ اور اسکی بیوی اپنی نوعمر بیٹی کی پڑھائی میں حقیقی دلچسپی لیتے ہیں: ”ہم ناؔدین کو سکول لے جاتے اور واپس لاتے ہیں۔ اسے سکول سے لینے کے بعد، اکثر ایسی گفتگو شروع ہو جاتی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ اسکا دِن کیسا گزرا۔ اگر ہم قدرے تشویشناک قسم کی کوئی بات پاتے ہیں تو ہم یا تو اسکی بابت اسی وقت اس سے بات کر لیتے ہیں یا پھر کھانے کے وقت یا خاندانی گفتگو کے دوران اس پر باتچیت کرتے ہیں۔“ آپ بھی رابطے کے سلسلے کو اسی طرح کھلا رکھتے ہوئے اپنے بچے کے لئے حقیقی فکر اور محبت کا اظہار کر سکتے ہیں۔
غنڈہگردی اور تشدد
غنڈہگردی ”خفیہ طور پر نقصان پہنچانے والے سکول کے مسائل میں سے ایک ہے،“ سکول میں اپنے بچے کو کیسے مدد دی جائے (انگریزی) میں موؔرین اوکونار بیان کرتی ہے۔ وہ یہ بھی لکھتی ہے کہ ”اس سے متاثرین کیلئے یہ اگرچہ بیحد تکلیف کا باعث ہی کیوں نہ ہو، وہ اکثر ’بزدِل‘ کہلانے کے خوف سے کسی بالغ کو اسکی بابت بتانے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔“
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض اساتذہ غنڈہگردی کو نارمل طرزِعمل کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ لیکن بہتیرے دیگر مُعلم پیٹؔ اسٹیفنسن کیساتھ متفق ہیں، جو یہ یقین رکھتا ہے کہ غنڈہگردی ”ایک قسم کی بدسلوکی“ ہے اور بڑے وثوق سے کہتا ہے کہ ”اسے جاری رہنے کی اجازت دینا خود غنڈہگردوں کے بھی بہترین مفاد میں نہیں۔“
اسلئے، اگر آپکا بچہ غنڈہگردی کا شکار ہو جاتا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ”تحفظ کا پہلا طریقہ،“ اوکوؔنار لکھتی ہیں، ”بالغوں کا وہ حلقہ ہونا چاہئے جس میں [متاثرہ شخص] رہتا ہے۔“ ایک ہمدرد استاد کیساتھ معاملے پر باتچیت کریں۔ یہ آپکے بچے کو اس بات کی یقیندہانی کرائیگا کہ آپ دونوں اس قسم کے جارحانہ طرزِعمل کو ناقابلِقبول خیال کرتے ہیں۔ بہت سے اسکولوں نے غنڈہگردی کے خلاف واضح پالیسی اختیار کی ہے، جسے اساتذہ کھلےعام جماعت میں زیرِبحث لاتے ہیں۔
ناتیلیؔ اپنے مذہب کی وجہ سے غنڈہگردی کا شکار ہوئی۔ وہ بیان کرتی ہے: ”کیونکہ میں یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک تھی اس لئے مجھے ذلیل کِیا جاتا تھا اور کبھیکبھار میری چیزیں پھاڑ دی جاتی تھیں۔“ مسئلے کو حل کرنے کے لئے، اس نے اپنے والدین سے اس سلسلے میں باتچیت کی، جنہوں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے اساتذہ سے بات کرے۔ اس نے ایسا ہی کِیا۔ ”میں نے اپنے ان دو ہمجماعتوں کے والدین کو فون کرنے کے لئے بھی پیشقدمی کی جو میرے ساتھ غنڈہگردی کر رہے تھے،“ وہ اضافہ کرتی ہے۔ ”کیونکہ میں انہیں مسئلہ بیان کرنے کے قابل ہوئی تھی اس لئے حالات اب کافی بہتر ہیں۔ یوں میں نے اپنے اساتذہ اور والدین دونوں کا اور اپنے بہت سے ہمجماعتوں کا اعتماد حاصل کر لیا۔“
کبھیکبھار، والدین کو پتا چلتا ہے کہ انکا بچہ غنڈہگرد ہے نہ کہ غنڈہگردی کا شکار۔ اس سلسلے میں، وہ گھر پر جو کچھ ہوتا ہے اسکا بغور جائزہ لیکر اچھا کرتے ہیں۔ وہ ”بچے جنکا طرزِعمل نمایاں طور پر جارحانہ ہوتا ہے عموماً ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں والدین لڑائی جھگڑے کو پوری طرح سے حل نہیں کرتے،“ لندن کا دی ٹائمز اس اضافے کے ساتھ رپورٹ دیتا ہے: ”پُرتشدد طرزِعمل ایک سیکھا سکھایا عمل ہے۔“
بعض جگہوں پر تشدد وبا کے تناسب کو پہنچ جاتا ہے۔ جب سیاسی بےچینی سکول کی تعلیم کو تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے تو بچے جو غیرجانبداری کی قدر کرتے ہیں، انہوں نے کبھیکبھار گھر پر رہنے کو دانشمندانہ پایا ہے۔ لیکن اگر مشکل اس وقت پیدا ہو جاتی ہے جب وہ سکول میں ہیں تو وہ بڑی ہوشیاری سے بچ نکلتے ہیں اور جب تک امن بحال نہیں ہو جاتا گھر میں رہتے ہیں۔
گھٹیا طریقۂ تعلیم
آپکے بچے اور آپکے بچے کے اساتذہ کے مابین اچھا رابطہ اس وقت مددگار ہو سکتا ہے جب گھٹیا طریقۂ تعلیم مسائل کھڑے کرتا ہے۔ ”ہم ہمیشہ اپنی بیٹی کو اپنی پڑھائی کیلئے مثبت رجحان رکھنے کی حوصلہافزائی دیتے ہیں،“ ایک بیاہتا جوڑے نے تبصرہ کِیا۔ لیکن جب اساتذہ کسی مضمون کو دلچسپ بنانے میں ناکام رہ جاتے ہیں تو بچے بہت جلد دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ اگر آپکا بچہ بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہے تو کیوں نہ اُسکی حوصلہافزائی کریں کہ علیٰحدگی میں استاد کیساتھ بات کرے؟
اپنے چھوٹے بچے کو ایسے سوالات تیار کرنے میں مدد دیں جن کا جب جواب دیا جاتا ہے تو سبق کے نقطے کو سمجھنا اور جو کچھ سکھایا گیا ہے اُسے استعمال کرنے کے طریقے کو سیکھنا دونوں کو آسان بنا دینگے۔ تاہم، صرف یہی مضمون میں حقیقی اور دائمی دلچسپی کی ضمانت نہیں دیتا۔ زیادہ انحصار آپکے مادرانہ، پدرانہ نمونے پر ہے۔ اسباق کو اپنے بچے کیساتھ زیرِغور لانے سے اپنی فکرمندی کا مظاہرہ کریں اور جو تحقیق کا کام استاد تفویض کرتا ہے اس میں مدد دینے کی پیشکش کریں۔
سکول میں، ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو منقسم گھرانوں سے آتے ہیں یا جو غیرمہذب اور غفلتشعار حالات کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں اور اسلئے اکثر ان میں خوداعتمادی اور عزتِنفس کی کمی ہوتی ہے۔ وہ ایسے بچوں کیساتھ گھلمل جاتے ہیں جنکے حالات شاید بہتر ہیں۔ زیادہتر والدین کو احساس ہے کہ انہیں اپنے بچوں کو سکول میں اٹھنے والے مسائل سے نپٹنے کیلئے مدد دینے میں مستقلمزاجی کی ضرورت ہے۔ لیکن اساتذہ کیساتھ والدین کے تعلقات کی بابت کیا ہے؟ انہیں کس قسم کا تعلق پیدا کرنا چاہئے اور کیسے؟
[بکس]
کیا آپکا بچہ کسی غنڈے کا شکار ہے؟
ماہرین والدین کو رازاِفشا کرنے والے نشانات کے لئے چوکنا رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کیا وہ سکول جانے کیلئے ہچکچاہٹ ظاہر کرتا یا کرتی ہے، ہممکتبوں سے کنی کتراتے، زخمی حالت یا پھٹے کپڑوں کیساتھ گھر واپس آتے ہیں؟
اپنے بچے کی حوصلہافزائی کریں کہ جو کچھ واقع ہوا وہ سب صحیح صحیح آپکو بتائے۔ یہ آپکو یہ جاننے میں مدد دیگا کہ آیا غنڈہگردی واقعی ایک مسئلہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ایک ہمدرد استاد کیساتھ باتچیت کریں۔
قابلِاعتماد ہمجماعتوں کے قریب رہنے اور ایسی جگہوں اور مواقع سے جہاں غنڈہگردی ہو سکتی ہے گریز کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے اپنے بچے کو نپٹنے میں مدد دیں۔ مزاحفہمی کی اچھی صلاحیت رکھنے والا بچہ اور وہ جو کٹھن حالت سے نکلنا جانتا ہے اکثر کامیاب رہیگا۔
حد سے زیادہ پریشان ہونے سے گریز کریں اور بدلہ لینے کی حوصلہافزائی نہ کریں۔