والدین اپنے بچے کے حمایتی بنیں
والدین اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی بھلائی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یقینی طور پر، مسیحی رسول پولسؔ نے والدوں کو نصیحت کی کہ اپنے بچوں کی خداوند کی طرف سے تربیت دے دیکر پرورش کریں۔ (افسیوں ۶:۴) قدیم زمانے کے بادشاہ سلیماؔن نے نوعمروں کو نصیحت کی: ”آپکا باپ اور ماں جو کچھ آپکو بتائیں اس پر کان لگائیں۔ انکی تعلیم آپکے کردار کو بہتر بنائیگی۔“—امثال ۱:۸، ۹، ٹوڈیز انگلش ورشن۔
پس، والدین کی طرف سے تعلیم کے انتظامات میں سکول کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ اور والدین اور اساتذہ کے درمیان کیسا رشتہ ہونا چاہئے؟
والدین اور اساتذہ کے کردار
”والدین . . . اپنے بچوں کے نہایت اہم مُعلم ہیں،“ گھر کے ماحول پر سکول کے اثر کی مصنفہ ڈؔورین گرانٹ بڑے وثوق سے کہتی ہیں۔ لیکن بطور ماں یا باپ کے، شاید آپ اس نظریے کو تسلیم کرنا مشکل پائیں۔
شاید آپ یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس وقت کی نسبت جب آپ سکول جایا کرتے تھے تعلیم دینے کے طریقے بہت زیادہ بدل گئے ہیں۔ آجکل، سکول ایسے مضامین کو نمایاں کرتے ہیں جو پہلے کبھی سننے میں نہیں آئے تھے، جیسے میڈیا اسٹڈیز، ہیلتھ ایجوکیشن اور مائیکروالیکٹرانکس۔ یہ بعض والدین کیلئے سکول کیساتھ انکے کم سے کم تعلق رکھنے کا باعث بنا ہے۔ ”اپنے بچوں کے اساتذہ کیساتھ باتچیت کرنا ایک بیحد خوداعتماد بالغ کو بھی پانچ سال کی عمر اور چار فٹ کے قد کا محسوس کرنے پر مجبور کر سکتا ہے،“ سکول میں اپنے بچے کی مدد کریں (انگریزی) میں ڈاکٹر ڈؔیوڈ لوئس لکھتے ہیں۔ ”بالغوں کی طرح اساتذہ کیساتھ مشکلات یا پریشانیوں پر گفتگو کرنے کی بجائے، بعض بچگانہ طرزِعمل کی طرف رجوع کرتے ہیں۔“
یقینی طور پر، بعض والدین صرف اُسی وقت اپنے بچوں کے اساتذہ سے رابطہ قائم کرتے ہیں جب سنگین مسائل روپذیر ہوتے ہیں۔ اور پھر، اکثر یہ شکایت کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ تاہم، اساتذہ کیساتھ تعاون کرنے سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے نمایاں معاونت کر سکتے ہیں اور بہتیرے ایسا کرتے بھی ہیں۔
والدین کے طور پر ذمہداری آپ سے تقاضا کرتی ہے کہ جو کچھ آپکا بچہ سکول میں سیکھتا ہے اسکا بغور مشاہدہ کریں اور اس میں دلچسپی لیں۔ یہ کیوں؟ کیونکہ اساتذہ پیشے کے اعتبار سے، آپکے اخلاقی ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اقدار جو وہ قائم کرتے ہیں انکے شاگردوں پر اثرانداز ہوتی ہیں، کیونکہ بچے اساتذہ کو تقلیدی کرداروں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جہانتک اساتذہ کا تعلق ہے وہ اپنے طالبعلموں کے والدین کی طرف سے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
جنوبی جرمنی میں ایک ہیڈماسٹر نے والدین کو لکھا: ”گزشتہ کسی سال کی نسبت، ہم اساتذہ پر یہ بالکل عیاں ہو گیا ہے کہ ہمارے طالبعلموں کا ایک بڑا حصہ، بالخصوص وہ [جنہوں نے جرمنی میں، چھ سال کی عمر میں] سکول شروع کِیا، اب بھی بڑی حد تک سنگدل اور بےحس، بالکل بدتمیز ہیں۔ بہتیرے یہ نہ جانتے ہوئے کہ کہاں حد ٹھہرائی جائے؛ مکمل طور پر ناقابلِقابو ہیں؛ جرم کا احساس نہیں رکھتے حد درجہ اپنی ذات میں مگن، سماج دشمن ہیں؛ اور بغیر کسی صریح وجہ کے [دوسروں کو] نقصان پہنچاتے اور مخالفت کرتے ہوئے جارحیتپسند بن جاتے ہیں۔“
یہ مُعلم بیان جاری رکھتا ہے: ”نتیجے کے طور پر اگرچہ ہم اساتذہ کے لئے یہ بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے، پھر بھی ہم شکایت کرنا نہیں چاہتے۔ لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑیگا کہ تمامتر کوشش کے باوجود، سکول والدین کی مدد کے بغیر خود سے بچوں کی تعلیم اور تربیت نہیں کر سکتا۔ ہم آپ محترم والدین کی حوصلہافزائی کرنا چاہینگے کہ اپنے بچوں کی تربیت کے لئے آپ بذاتِخود پُختہ ارادے کے ساتھ کام کریں اور ان کی شخصیت کی نشوونما کرنے، انہیں طرزِعمل کے معیار سکھانے کی جو درحقیقت آپ کی اپنی ذمہداری ہے اُسے ٹیلیوژن یا ماحول کے حوالے نہ کریں۔“—نسخ عبارت ہماری۔
یہانتک کہ جب اساتذہ تعاون کی ایسی استدعا بھی کرتے ہیں تو بھی بہتیرے والدین مدد کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ”اسلئے نہیں کیونکہ وہ لاپرواہ، بیحد مصروف یا عدمِاعتماد کا شکار ہیں،“ ڈؔیوڈ لوئس دعویٰ کرتے ہیں، ”بلکہ اپنے اس کامل یقین کی وجہ سے کہ ایک بچہ جماعت میں خواہ کتنا اچھا یا کتنا خراب کام کرتا ہے اسکا تربیت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ وہ پیدائشی طور پر ہی ایسا ہے۔“ لیکن یہ خیال بالکل بھی درست نہیں۔
جیسے گھر میں مسائل اکثر جماعت میں بچے کی کارکردگی پر اثرانداز ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح ایک اچھی خاندانی زندگی ایک بچے کو سکول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ”خاندان سکول کی نسبت تعلیمی کامیابی اور ناکامی کے کہیں زیادہ ذمہدار ہیں،“ ایک تعلیمی جائزہ نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ کتاب اپنے بچے کی سکول میں کیسے مدد کریں (انگریزی) اتفاق کرتی ہے: ”مصروفترین ماں یا باپ کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ انکا رویہ—دلچسپی اور حوصلہافزائی جو وہ ظاہر کرتے ہیں اور حمایت جو وہ دیتے ہیں، انکی غیرموجودگی میں بھی—بچے کی ترقی کے لئے فیصلہکُن ثابت ہو سکتی ہے۔“
پھر، کیسے آپ اپنے بچے کے اساتذہ کے ساتھ اچھا تعاون رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟
اپنے بچے کے حمایتی بنیں
(۱)آپکا بچہ سکول میں جو کچھ سیکھتا ہے اس میں سرگرم دلچسپی لیں۔ آغاز کرنے کا بہترین وقت وہ ہے جب آپکا بچہ سکول جانا شروع کرتا ہے۔ نوعمروں کی نسبت چھوٹے بچے عموماً والدین کی طرف سے مدد کو بہتر طور پر قبول کرتے ہیں۔
اپنے بچے کیساتھ کتابیں پڑھیں۔ ”رسمی طور پر سیکھنے کا کوئی ۷۵ فیصد،“ ڈؔیوڈ لوئس کے مطابق، ”پڑھنے کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔“ لہٰذا آپ اپنے بچے کی پڑھنے میں روانی کو بڑھانے کیلئے ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بچے جنکی اکثر گھر پر پڑھنے میں مدد کی جاتی ہے انکی ترقی ان بچوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جنہیں سکول میں ماہر اساتذہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح، آپ خوشخطی کے سلسلے میں اپنے بچے کی مدد کر سکتے ہیں اور حساب میں بھی۔ ”پرائمری کے ریاضی میں مدد دینے کیلئے آپکو ریاضی میں غیرمعمولی طور پر ذہین ہونے کی ضرورت نہیں،“ مُعلم ٹیڈؔ ریگ تبصرہ کرتے ہیں۔ یقیناً، اگر آپ کو خود ان حلقوں میں سے کسی میں مدد کی ضرورت ہے تو پھر بھی کسی مہارت کی کمی کو خود کو اس میں حقیقی دلچسپی لینے سے روکنے کی اجازت نہ دیں جو آپکا بچہ سیکھ رہا ہے۔
(۲)نصاب کی بابت اپنے بچے کے استاد سے رجوع کریں۔ سکول کا پراسپکٹس پڑھنے سے، معلوم کریں کہ آپکے بچے کو کیا پڑھایا جائیگا۔ سکول کے تعلیمی سال کے شروع ہونے سے پہلے ایسا کرنا آپکو مشکل حلقوں سے آگاہ کر دیگا۔ اسکے بعد، اس پر گفتگو کرنے کیلئے کہ کیسے آپکی مادرانہوپدرانہ خواہشات کا احترام کِیا جا سکتا ہے استاد کیساتھ ایک ملاقات اچھے تعاون کیلئے راہ ہموار کر دیگی۔ اساتذہ کا والدین سے شناسائی پیدا کرنے کی غرض سے سکول جو اجلاس ترتیب دیتا ہے ان سے بھی استفادہ کریں۔ ان دنوں میں جب والدین کو سکول آنے کی دعوت دی جاتی ہے سکول کا دورہ کریں اور اپنے بچے کے اساتذہ سے باتچیت کریں۔ ایسی ملاقاتیں انمول ثابت ہوتی ہیں، بالخصوص جب مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
(۳)اپنے بچے کو اختیاری مضامین کا خود انتخاب کرنے دیں۔ اپنے بچے کی پسند اور ناپسند سے واقف ہوں۔ سودمند منازل کی بابت گفتگو کریں۔ تمام ممکنہ اختیاری مضامین کی بابت جاننے کیلئے اساتذہ سے مشورہ کریں۔ وہ ترتیب دینے کے ہر اس مسئلے کی بابت جانتے ہونگے جو مضامین کے انتخاب کو محدود کرتا ہے۔
واضح رابطے کے ذریعے تکلیفدہ احساسات سے گریز کِیا جا سکتا ہے۔ بہتیرے سکول ذہین طالبعلموں پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ لیکن وہ طالبعلم جو مسیحی خدمتگزاری کو بطور اپنا پیشہ انتخاب کرتے ہیں وہ عموماً یونیورسٹی کی طویلتر تعلیم حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اسکی بجائے، اگر وہ ضمنی تعلیم کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ ایسے مضامین پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں جو انہیں خود کفیل بننے کیلئے لیس کرتے ہیں۔ فرضشناس اساتذہ بعض اوقات غلطی سے اسے اس سب کا استرداد خیال کرنے لگتے ہیں جسے سکھانے کی انہوں نے کوششیں کیں ہیں۔ آپکے بچے کے منتخبکردہ میدان میں اضافی تعلیم کیلئے موجود امکانات کی آپکی متحمل وضاحت اساتذہ کو یہ یقین دلائیگی کہ مسیحی والدین یہ چاہتے ہیں کہ انکے بچے سیکھتے رہیں۔a
موزوں رسائی
یہ یاد رکھتے ہوئے آپ اپنے بچے کی تعلیم سے متعلق کافی پریشانی اور دکھ سے بچ سکتے ہیں کہ کامیاب شراکتیں اچھے رابطے پر تعمیر کی جاتی ہیں۔—مہربانی سے ”والدین اور استاد کے درمیان اچھے رابطے کیلئے اقدام“ کے عنوان کے تحت بکس کو دیکھیں۔
شکایت اور نکتہچینی کرنے کی بجائے، اساتذہ کیساتھ صلاح مشورے اور تعاون کے ذریعے اپنے بچے کے حمایتی بنیں۔ ایسا کرنے سے، آپ اپنے بچے کو سکول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں مدد دینگے۔
[فٹنوٹ]
a یہوؔواہ کے گواہ جو مسیحی خدمتگزاری کو اپنے پیشے کے طور پر انتخاب کرتے ہیں اور کُلوقتی خادموں کے طور پر خدمت کرتے ہیں انہیں پائنیر سروس سکول میں دو ہفتے کے کورس میں شرکت کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ بعض بعدازاں پانچ ماہ کے مشنری تربیتی کورس میں اندراج کے اہل ٹھہرتے ہیں جسے واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ چلاتا ہے تاکہ انہیں بطور مشنریوں کے لیس کرے۔
[بکس]
والدین اور استاد کے درمیان اچھے رابطے کیلئے اقدام
۱. اپنے بچے کے اساتذہ سے شناسائی پیدا کریں۔
۲. کسی طرح کی شکایات کرنے سے پہلے اپنے دلائل کا بغور جائزہ لے لیں۔
۳. اگر پریشان یا ناراض ہوں تو ہمیشہ استاد سے بات کرنے سے پہلے پُرسکون ہوں۔
۴. استاد سے ملاقات کرنے سے پہلے، جو سوالات آپ پوچھنا چاہتے ہیں انہیں لکھ لیں اور جو منازل آپ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں انکی فہرست بنا لیں۔
۵. اپنی حالت کو مستقلمزاجی اور وضاحت سے بیان کریں اور پھر کسی بھی مسئلے پر قابو پانے کیلئے جو عملی اقدام اٹھائے جا سکتے ہیں اسکے لئے استاد کیساتھ تعاون کریں۔
۶. خود کو استاد کی جگہ پر رکھ کر سوچیں۔ خود سے پوچھیں کہ آپ اسکی جگہ پر ہوں تو کیا کرینگے۔ یہ آپکو ایک اطمینانبخش نتیجے کیساتھ گفتوشنید کرنے میں مدد دیگا۔
۷. بولنے کیساتھ ساتھ سنیں بھی۔ اگر آپ کو کوئی بات سمجھ نہیں آتی تو سوالات پوچھنے سے نہ گھبرائیں۔ جو کچھ کہا جا رہا ہے اگر آپ اس سے متفق نہیں تو پھر یہ بتائیں اور شائستگی سے وضاحت کریں کہ کیوں۔
—سکول میں اپنے بچے کی مدد کریں، (انگریزی) پر مبنی، از ڈاکٹر ڈؔیوڈ لوئس۔
[تصویر]
اپنے بچے کیساتھ پڑھیں
[تصویر]
سکول کے نصاب پر باتچیت کر نے کیلئے اساتذہ سے ملاقات کریں
[تصویر]
اپنے بچے کو اختیاری مضامین منتخب کر نے میں مدد دیں