سکول بحران کا شکار
والدین اپنے بچوں کو پڑھنے، لکھنے اور حساب کر نے سے زیادہ کچھ سیکھنے کے لئے سکول بھیجتے ہیں۔ وہ سکولوں سے جامع تعلیم فراہم کر نے کی توقع کر تے ہیں، ایسی جو کہ ان کے بچوں کو ایسے بالغ بننے کے لئے لیس کرتی ہے جن پر والدین فخر کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کی توقع اکثر ادھوری رہ جاتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ پوری دنیا میں سکول بحران کا شکار ہیں۔
بہتیرے ممالک میں پیسے اور اساتذہ دونوں کی کمی بچوں کی تعلیم کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹائم میگزین لکھتا ہے کہ پورے ریاستہائے متحدہ میں، حالیہ برسوں کی کسادبازاری نے بعض اسکولوں کو ’پرانی درسی کتابوں کو ہی جِلد کرانے، چھت کے پلستر کو ٹوٹے رہنے دینے، فنی مہارت فراہم کرنے والی پڑھائی اور کھیلوں کے پروگرام کو ختم کرنے، یا ایک ساتھ کئی دن تک بند رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘
افریقہ میں، تعلیمی وسائل بالکل اُسی طرح سے محدود ہیں۔ لاگوس کے ڈیلی ٹائمز کے مطابق، نائجیریا کے ملک میں ۷۰ طالبعلموں کیلئے صرف ایک استاد ہے، ”اس بڑے امکان کیساتھ کہ ہر تین استادوں میں سے ایک غیرسندیافتہ ہے۔“ جنوبی افریقہ میں—اساتذہ کی کمی کے علاوہ—کھچا کھچ بھرے ہوئے کلاس روم اور سیاسی گڑبڑ بھی اس بات کی ذمہدار ہے جسے ساؤتھ افریقن پینوراما ”سیاہفاموں کے اسکولوں میں سختبدنظمی“ کا نام دیتا ہے۔
یقینی طور پر، لائق اساتذہ کی خاصی تعداد اور مناسب چیزوں سے خوب لیس سکول تعلیمی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ مثال کے طور پر، آسٹریا میں، ایک رپورٹ کے مطابق، ۱۴ سال کی عمر والوں کی تقریباً ایک تہائی سادہ حساب یا مناسب پڑھائی نہیں کر سکتی۔ برطانیہ میں، ریاضی، سائنس اور قومی زبان کا امتحان پاس کرنے والے طالبعلموں کی شرح ”جرمنی، فرانس اور جاپان والوں سے بہت پیچھے ہے،“ لندن کا دی ٹائمز لکھتا ہے۔
ریاستہائے متحدہ میں، اساتذہ شکایت کرتے ہیں کہ اگرچہ طالبعلم ٹیسٹوں میں اچھے نمبر لیتے ہیں، بہتیرے ایک اچھا مضمون لکھنے، ریاضی کے سوالات حل کرنے، یا مختلف اسباق یا تحریروں میں سے اہم نکات کا خلاصہ تیار کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ انجامکار، پوری دنیا میں تعلیم کے ماہرین سکول کے نصاب اور ایک طالبعلم کی ترقی کا تعیّن کرنے کیلئے استعمال ہونے والے طریقوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔
سکول میں تشدد
رپورٹیں اسکولوں میں تشدد کے خطرے کے شگون اور اضافی شرح کو ظاہر کرتی ہیں۔ جرمنی میں، اساتذہ کی ایک کانفرنس کو بتایا گیا کہ سکول کے بچوں کا ۱۵ فیصد ”تشدد کرنے کی طرف مائل ہے—اور ۵ فیصد تو انتہائی سفاکی کے کام کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا، مثال کے طور پر وہ فرش پر گِرے ہوئے ایک بےیارومددگار شخص کو ٹھوکر مار دینگے۔“—فرانِکفورٹر الگامائنا زائٹونگ۔
انتہائی سفاکی کے مخصوص واقعات نے بڑی تشویش پیدا کر دی ہے۔ پیرس ہائی سکول کے غسلخانے میں، ایک ۱۵ سالہ لڑکی کی چار نوجوانوں کے ذریعے عصمتدری نے طالبعلموں کو سکول میں تحفظ کے بہتر انتظام کے مطالبے کیساتھ باہر سڑکوں پر نکل آنے کی تحریک دی۔ والدین جنسی جرائم، بلیکمیلنگ اور جذباتی تشدد میں اضافے کی بابت پریشان ہیں۔ ایسے واقعات یورپ تک ہی محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں۔
جاپان کی وزارتِ تعلیم جونیئر اور سینیئر دونوں طرح کے ہائی سکول اسٹوڈنٹس پر مشتمل تشدد کی ایک لہر کی رپورٹ دیتی ہے۔ جنوبی افریقہ کا اخبار دی سٹار، ”بندوق بردار طالبعلم اسکولوں پر قبضہ کرتے ہیں،“ کی شہسرخی کے تحت سوویٹو میں کئی کلاس رومز کے منظر کو ۱۹ویں صدی کے دوران ریاستہائے متحدہ کے ”وائلڈ ویسٹ“ (زندہ رہنے کیلئے لڑائی جھگڑوں اور جدوجہد کی حالت) کے مشابہ ٹھہراتا ہے۔ یہانتک کہ تشدد سے متعلق نیو یارک شہر کی شہرت، لندن کے دی گارڈین کے الفاظ میں ”ایک سیکیورٹی فرم کی طرف سے سکول کے بچوں کیلئے بلٹپروف کپڑوں (ایسے کپڑے جن پر گولی اثر نہیں کرتی) کے فوری آرڈر کے اعلان کیساتھ ہی ایک نئی انتہا“ کو پہنچ گئی ہے۔
برطانیہ بھی سکول میں تشدد کی وبا کا شکار ہے۔ ”گزشتہ ۱۰ سال میں،“ اساتذہ کی یونین کا ایک اہلکار مشاہدہ کرتا ہے، ”ہم نے ہتھیاروں کی طرف رجوع کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھا ہے۔ یہ عمر کے فرق کو بھی پار کر گیا ہے اور یہ مردوں اور عورتوں دونوں میں یکساں مقبول ہو رہا ہے۔“
لہٰذا، اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ والدین میں سے چند ایک اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا لینے اور انہیں گھر پر تعلیم دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔a وہ جو اس کو ناقابلِعمل پاتے ہیں اکثر اس خراب اثر کی بابت فکرمند رہتے ہیں جو سکول انکے بچوں پر ڈالتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ کیسے اس کا دفعیہ کریں۔ سکول میں درپیش مسائل سے نپٹنے کیلئے اپنے بچوں کی مدد کرنے کے سلسلے میں والدین کیا کر سکتے ہیں؟ اور اسکا یقین کرنے کیلئے کہ بچے سکول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں والدین اساتذہ کیساتھ کیسے تعاون کر سکتے ہیں؟ اگلے مضامین ان سوالات کے جوابات پیش کرتے ہیں۔
[فٹنوٹ]
a اپریل ۸، ۱۹۹۳ کے جاگو! (انگریزی) میں شائع ہونے والا مضمون ”گھر میں تدریس—کیا یہ آپ کیلئے ہے؟“ اس انتخاب کا اعادہ کرتا ہے۔