یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو94 8/‏10 ص.‏ 23
  • میں کیسے کسی کو پسند کرنا ترک کر سکتا ہوں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • میں کیسے کسی کو پسند کرنا ترک کر سکتا ہوں؟‏
  • جاگو!‏—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مدد حاصل کرنا
  • قطع‌تعلق کرنا
  • دکھ پر قابو پانا
  • کیا مجھے اپنے گناہ کا اعتراف کرنا چاہئے؟‏
    جاگو!‏—‏1997ء
  • کیا ہم صرف دوست ہیں؟ دوسرا حصہ
    جاگو!‏—‏2012ء
  • کیا ہم صرف دوست ہیں؟ پہلا حصہ
    جاگو!‏—‏2012ء
جاگو!‏—‏1994ء
جاگو94 8/‏10 ص.‏ 23

نوجوان لوگ پوچھتے ہیں .‏ .‏ .‏

میں کیسے کسی کو پسند کرنا ترک کر سکتا ہوں؟‏

‏”‏میری عمر ۲۰ سال ہے اور میں یہوؔواہ کی ایک بپتسمہ‌یافتہ گواہ ہوں۔ لیکن میں نے ایک ۲۸ سالہ [‏بے‌ایمان]‏ شخص سے ڈیٹنگ (‏ملاقاتیں کرنا)‏ شروع کر دی۔ میں اُسے پیار کرتی تھی اور مجھے یقین تھا کہ وہ بھی مجھے پیار کرتا ہے۔ میرے والدین کو اسکا علم نہیں تھا، کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ پسند نہیں کرینگے۔ جب انہیں اسکا پتا چلا تو انہیں رنج اور دلی صدمہ ہوا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کیسے میں ایک دنیاوی آدمی کیساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہو سکتی ہوں۔“‏

ایک نوجوان مسیحی عورت نے اسطرح لکھا جسے ہم موؔنیق کہیں گے۔‏a افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے نوجوان لوگوں نے خود کو اسی طرح کی خطرناک حالتوں میں الجھا لیا ہے—‏ایک بے‌ایمان پر فریفتہ یا جذباتی طور پر اسکے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں، ایک ایسا شخص جو کہ انکے مسیحی عقائد اور اخلاقی معیاروں میں برابر کا شریک نہیں ہوتا۔ تاہم، اس قسم کا تعلق نہ صرف خدا کو ناپسند ہے بلکہ ایک شخص کی خوشی اور کامیابی کیلئے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ نوجوان رؔوت کو اس حقیقت کا احساس ہوا تھا۔ ”‏میں جذباتی طور پر ایک ایسے لڑکے کے کافی قریب ہو گئی جو کہ ہم‌ایمان نہ تھا،“‏ وہ اعتراف کرتی ہے۔ ”‏تاہم، مجھے احساس ہو گیا کہ اگر مجھے یہوؔواہ کیساتھ کسی قسم کا رشتہ رکھنا ہے تو مجھے اس کیساتھ تعلق ختم کرنا ہوگا۔“‏

اگر آپ ایک مسیحی ہیں تو غالباً آپ یعقوب ۴:‏۴ کے الفاظ کا حوالہ دے سکتے ہیں:‏ ”‏کیا تمہیں نہیں معلوم کہ دنیا سے دوستی رکھنا خدا سے دشمنی کرنا ہے؟ پس جو کوئی دنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا کا دشمن بناتا ہے۔“‏ لیکن اگر آپ ایک بے‌ایمان کیساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہو گئے ہیں تو ان الفاظ کا اطلاق کرنا شاید اتنا آسان نہ ہو۔ واقعی، تعلق کو ختم کرنے کا خیال شاید آپکو کچل ڈالے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اندورنی طور پر عملاً شکستہ محسوس کریں۔ آپ شاید پوچھیں:‏ ’‏میں کیسے کسی کو پسند کرنا—‏یا محبت کرنا—‏ترک کر سکتا ہوں؟‘‏

پولسؔ رسول نے ایک مرتبہ کہا:‏ ”‏باطنی انسانیت کی رُو سے تو میں خدا کی شریعت کو بہت پسند کرتا ہوں۔ مگر مجھے اپنے اعضا میں ایک اَور طرح کی شریعت نظر آتی ہے جو میری عقل کی شریعت سے لڑ کر مجھے اُس گناہ کی شریعت کی قید میں لے آتی ہے جو میرے اعضا میں موجود ہے۔ ہائے میں کیسا کمبخت آدمی ہوں!‏“‏ (‏رومیوں ۷:‏۲۲-‏۲۴‏)‏ پولسؔ کی طرح، ہو سکتا ہے کہ آپ کو بھی اپنے احساسات کے سلسلے میں کشمکش کا تجربہ ہو رہا ہو۔ تاہم، بیشمار مسیحی نوجوان اس کشمکش پر غالب آ چکے ہیں اور یہ بالکل ایسے ہے جیسے انہیں ’‏جھپٹ کر آگ میں سے نکالا‘‏ گیا ہو۔ (‏مقابلہ کریں یہوداہ ۲۳‏۔)‏ کیسے؟ ناقابلِ‌تلافی نقصان ہونے سے پیشتر تباہ‌کُن تعلقات کو ختم کر دینے سے۔‏

مدد حاصل کرنا

مثال کے طور پر، ماؔرک نے جب وہ صرف ۱۴ سال ہی کا تھا ایک بے‌ایمان کیساتھ بقول اسکے ”‏جنون کی حد تک فریفتگی“‏ پیدا کر لی۔ مدد حاصل کرنے کی بجائے، اس نے اپنے احساسات کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن اس لڑکی کے لئے اس کے احساسات اور زیادہ شدت اختیار کر گئے۔ جلد ہی وہ اسے خفیہ ٹیلی‌فون کالیں کرنے لگا۔ جب اس نے بھی جوابی کالیں کرنی شروع کر دیں تو جلد ہی اسکے والدین کو معلوم ہو گیا کہ کیا ہو رہا ہے۔‏

ذاتی طور پر خود مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنے کی ایسی غلطی نہ کریں۔ امثال ۲۸:‏۲۶ کہتی ہے:‏ ”‏جو اپنے ہی دل پر بھروسہ رکھتا ہے بیوقوف ہے لیکن جو دانائی سے چلتا ہے رہائی پائے گا۔“‏ درحقیقت، اگر آپ کی بصیرت کسی حد تک کمزور نہ ہوتی تو پہلی بات یہ ہے کہ کیا آپ اس حالت کو پہنچتے؟ بعض اوقات ہمارے جذبات استدلال پر حاوی ہو جاتے ہیں اور ہمیں کسی زیادہ فہیم اور غیرجذباتی شخص کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ غالباً آپ کے والدین آپ کو مدد دینے کے لئے سب سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں بالخصوص اگر وہ خداترس ہیں۔ اغلب ہے کہ وہ آپ کو کسی اور کی نسبت بہتر طور پر جانتے ہیں۔ وہ بھی کبھی جوان تھے اور یوں وہ یہ سمجھنے کے قابل ہو سکتے ہیں کہ آپ کس حالت میں سے گزر رہے ہیں۔ امثال ۲۳:‏۲۶ میں، بائبل نویس سلیماؔن نصیحت کرتا ہے:‏ ”‏اے میرے بیٹے!‏ اپنا دل مجھ کو دے اور میری راہوں سے تیری آنکھیں خوش ہوں۔“‏ کیوں نہ اپنا دل اپنے والدین کو دے دیں اور انہیں معلوم ہو کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے؟‏

نوجوان جمؔ نے یہی کچھ کِیا۔ وہ سکول میں ایک لڑکی کیلئے فریفتگی کے شدید جذبات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ وہ کہتا ہے:‏ ”‏بالآخر میں نے اپنے والدین سے مدد کی استدعا کی۔ میرے ان احساسات پر قابو پانے کی کُنجی یہی تھی۔ انہوں نے میری بہت مدد کی۔“‏ اپنے والدین کی پُرمحبت حمایت کا تجربہ کرنے کے بعد، جمؔ یہ صلاح دیتا ہے:‏ ”‏میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے نوجوان مسیحیوں کو بھی اپنے والدین سے گفتگو کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہئے۔ ان سے رابطہ کریں۔ وہ آپکی بات کو سمجھیں گے۔“‏

اسی طرح کی حالت میں، اؔنڈریو نامی ایک نوجوان نے خود کو ایک اور طرح کی مدد سے مستفید ہونے دیا۔ یہوؔواہ کے گواہوں کی مقامی سرکٹ اسمبلی پر اپنی حاضری کی بابت وہ کہتا ہے:‏ ”‏ایک تقریر نے مجھے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سرکٹ اوورسیئر نے مخالف جنس کے ان لوگوں کیساتھ تعلقات بڑھانے کے خلاف پُرزور نصیحت کی جو کہ مسیحی نہیں ہیں۔ میں جانتا تھا کہ مجھے فوری طور پر اپنی سوچ کو درست کرنے کی ضرورت تھی۔“‏ پس اس نے کیا کِیا؟ پہلے اُس نے اپنی سنگل‌پیرنٹ والدہ سے بات کی اور اسکی مشورت سے فیض‌یاب ہوا۔ اسکے بعد وہ یہوؔواہ کے گواہوں کی مقامی کلیسیا کے ایک بزرگ کے پاس گیا جو مزید مدد فراہم کرنے کے قابل تھا۔ کلیسیائی بزرگ پریشان‌خاطر لوگوں کیلئے ”‏آندھی سے پناہ‌گاہ کی مانند .‏ .‏ .‏ اور طوفان سے چھپنے کی جگہ“‏ بن سکتے ہیں۔ (‏یسعیاہ ۳۲:‏۲‏)‏ کیوں نہ ان میں سے کسی ایک کے پاس جائیں اور اُسکے علم میں لائیں کہ آپکو کیا چیز پریشان کر رہی ہے؟‏

قطع‌تعلق کرنا

جب ماؔرک کے والدین کو اسکے خفیہ تعلق کا علم ہوا تو انہوں نے بِلاتاخیر ردِعمل دکھایا۔ ماؔرک کہتا ہے:‏ ”‏مجھے یہ بتانے کیلئے کہ اس تعلق کو ختم کر دوں وہ بہت صاف‌گو تھے۔ میرا ابتدائی ردِعمل باغیانہ تھا۔ ہم میں گرماگرم بحث بھی ہوئی اور میں نے خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا۔ لیکن جلد ہی حقیقت سامنے آ گئی اور مجھے احساس ہوا کہ اس لڑکی کی اور میری منازل مختلف تھیں۔ یہ کامیاب نہیں ہوگا۔“‏ جی‌ہاں، حالت کی بابت حقائق پر غوروخوض کرنا آپکے احساسات کو ٹھنڈا کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ خود سے پوچھیں:‏ ’‏کیا یہ شخص میری منازل، میرے عقائد، میرے اخلاقی معیاروں میں برابر کا شریک ہے؟ اگر ہماری شادی ہو جاتی ہے تو کیا یہ شخص خدا کی عبادت کرنے کیلئے میری کوششوں کی حمایت کریگا؟ کیا یہ شخص روحانی چیزوں کیلئے میرے جیسا جذبہ رکھتا ہے؟ واقعی، ایسے رشتے میں کیا کسی بھی طرح کی ہم‌آہنگی ہو سکتی ہے؟‘‏—‏مقابلہ کریں ۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۴-‏۱۸‏۔‏

یوں تو، قطع‌تعلق کرنا آسان نہیں ہوگا۔ موؔنیق، جسکا شروع میں ذکر کیا گیا ہے، تسلیم کرتی ہے:‏ ”‏دو موقعوں پر میں نے تعلق کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ میں اسکے ساتھ رشتہ بالکل ختم کرنا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے اسے گواہی دینے کی کوشش کی، اس امید کیساتھ کہ وہ یہوؔواہ کو قبول کر لیگا۔ ایک مرتبہ تو وہ اتوار کے اجلاس پر بھی آیا۔ لیکن اسے یہوؔواہ سے کوئی حقیقی دلچسپی نہیں تھی۔ مجھے احساس ہو گیا کہ مناسب یہی ہوگا کہ اس سے بالکل رشتہ توڑ لیا جائے۔“‏

یہ ہمیں متی ۵:‏۳۰ میں درج یسوؔع کے الفاظ کی یاد دلاتا ہے۔ وہاں پر اس نے ان چیزوں کا ذِکر کِیا جو کسی شخص کے خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں—‏چیزیں جو کہ شاید دہنے ہاتھ کی طرح عزیز ہوں۔ پھر بھی، یسوؔع نے نصیحت کی:‏ ”‏اُسے کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم [‏ابدی ہلاکت کی علامت]‏ میں نہ جائے۔“‏ اس اصول کی مطابقت میں، دلیری کیساتھ اس شخص تک رسائی کریں جس سے آپ کا تعلق ہے اور ”‏سچ بولیں۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۲۵‏)‏ لوگوں کی موجودگی میں—‏تنہائی یا رومانی ماحول میں نہیں—‏اس شخص کو واضح اور پُرزور طور پر بتا دیں کہ تعلق ختم ہو گیا ہے۔ نوعمر شیلاؔ یاد کرتی ہے:‏ ”‏جو چیز میرے سلسلے میں کارآمد ثابت ہوئی وہ قطعی کارروائی کرنا تھا۔ پھر کبھی اکٹھے کھانا نہ کھانا۔ پھر کبھی پڑھائی کے دوران ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھنا۔ میں نے اس کے سامنے اپنا مؤقف واضح کر دیا۔“‏ پاؔم نامی ایک مسیحی لڑکی بھی اسی طرح سے صاف‌گو تھی:‏ ”‏آخرکار میں نے اسے بتا دیا کہ مجھے تنہا چھوڑ دے اور میں نے اسے یکسر نظرانداز کر دیا۔“‏

دکھ پر قابو پانا

ایسے قطع‌تعلق کے نتیجے میں، آپ شاید زبورنویس کی طرح محسوس کریں جس نے کہا:‏ ”‏میں پُردرد اور بہت جھکا ہوا ہوں۔ میں دن بھر ماتم کرتا پھرتا ہوں۔“‏ (‏زبور ۳۸:‏۶‏)‏ کچھ عرصہ کیلئے غم کرنا فطری بات ہے۔ بائبل تسلیم کرتی ہے کہ ”‏رونے کا ایک وقت ہے۔“‏ (‏واعظ ۳:‏۴‏)‏ لیکن آپ کو ہمیشہ تک غمگین رہنے کی ضرورت نہیں۔ وقت کیساتھ ساتھ دکھ ختم ہو جائیگا۔ ”‏جی‌ہاں،“‏ ماؔرک اعتراف کرتا ہے، ”‏میں بھی غم کے دَور سے گزرا ہوں۔ میرے والدین نے اسے محسوس کر لیا اور دوسرے مسیحی نوجوانوں کیساتھ میری رفاقت میں مزید اضافہ کر دیا۔ یہ بے‌حد مفید تھا۔“‏ اؔنڈریو بھی جس نے اپنے قطع‌تعلق کے بعد کچھ اسی طرح کی افسردگی محسوس کی، کہتا ہے:‏ ”‏بزرگوں نے مدد کی۔ میں منادی کے کام میں بھی زیادہ سے زیادہ مصروف رہنے لگا اور بعض مسیحی بھائیوں کے اور زیادہ قریب ہو گیا جن کے ساتھ میرے خوشگوار تعلقات تھے۔“‏ جی‌ہاں، روحانی کاموں میں مصروف ہو جائیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۵۸‏)‏ کوئی جسمانی سرگرمی یا ورزش بھی مدد دے سکتی ہے۔ تنہائی سے گریز کریں۔ (‏امثال ۱۸:‏۱‏)‏ اپنے ذہن کو ان چیزوں پر لگائے رکھیں جو کہ خوشگوار اور تعمیری ہیں۔—‏فلپیوں ۴:‏۸‏۔‏

یہ بھی یاد رکھیں کہ یہوؔواہ آپ کے جرأت‌مندانہ مؤقف سے خوش ہوگا۔ مدد اور حمایت کے لئے بِلاروک ٹوک دعا میں اس کے پاس جائیں۔ (‏زبور ۵۵:‏۲۲؛‏ ۶۵:‏۲‏)‏ نوعمر شیلاؔ یاد کرتی ہے:‏ ”‏مَیں دعا میں بہت زیادہ مشغول رہتی تھی۔“‏ ایک نقصان‌دہ تعلق کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ شیلاؔ اعتراف کرتی ہے:‏ ”‏اگرچہ یہ ختم ہو چکا ہے، بعض‌اوقات میں اس کی بابت سوچتی ہوں اور یہ جاننے کی خواہش کرتی ہوں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ لیکن آپ اپنے عزمِ‌مُصمم پر قائم رہیں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ یہوؔواہ کو خوش کر رہے ہیں۔“‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a نام تبدیل کر دئے گئے ہیں۔‏

‏[‏تصویر]‏

اس شخص کو واضح اور پُرزور طور پر بتا دیں کہ تعلق ختم ہو گیا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں