یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏4 ص.‏ 10-‏12
  • کیا مجھے اپنے گناہ کا اعتراف کرنا چاہئے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا مجھے اپنے گناہ کا اعتراف کرنا چاہئے؟‏
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏کوئی چیز چھپی نہیں“‏
  • خاموشی کو توڑنا
  • اپنے والدین کو بتانا
  • مدد کیلئے بزرگوں کے پاس جانا
  • ‏’‏مَیں خارج کئے جانے سے خوفزدہ ہوں‘‏
  • یہوواہ خدا کی تنبیہ کو ہمیشہ قبول کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • کیا گُناہوں کا اعتراف کرنا ضروری ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • اگر آپ سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
  • اپنے گُناہوں پر شرمندگی—‏”‏میرے گُناہ سے مجھے پاک کر“‏
    یہوواہ کے پاس لوٹ آئیں
مزید
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏4 ص.‏ 10-‏12

نوجوان لوگ پوچھتے ہیں .‏ .‏ .‏

کیا مجھے اپنے گناہ کا اعتراف کرنا چاہئے؟‏

‏”‏مَیں اِسقدر شرمندہ ہوں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیا کروں۔ مَیں اپنے والدین کے پاس جانا چاہتی ہوں لیکن مجھے بہت شرم آتی ہے۔“‏—‏لیزا۔‏a

ایک نہایت پریشان نوجوان خاتون نے یوں لکھا۔ وہ چند سال سے ایک بے‌ایمان شخص کیساتھ جذباتی وابستگی کا شکار تھی جبکہ ایک دن، الکحل کے زیرِاثر وہ اُسکے ساتھ جنسی تعلقات اُستوار کر بیٹھی۔‏

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسیحی نوجوانوں کے اندر بھی اکثر اوقات ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ جتنے زیادہ ہم کم‌عمر اور ناتجربہ‌کار ہوتے ہیں، اُتنا ہی غلطیاں کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ البتہ معمولی غلطی کرنا ایک بات ہے لیکن جنسی بداخلاقی جیسی سنگین غلط‌کاری میں ملوث ہونا الگ بات ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹، ۱۰‏)‏ جب یہ واقع ہوتا ہے تو ایک نوجوان شخص کو مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا آسان نہیں ہے۔‏

ایک مسیحی لڑکی شادی سے پہلے جنسی تعلقات میں پڑ گئی۔ اُس نے کلیسیا کے بزرگوں کے سامنے اعتراف کرنے کا فیصلہ کِیا، حتیٰ‌کہ ایسا کرنے کیلئے اُس نے تاریخ کا تعیّن بھی کر لیا۔ لیکن اُس نے تاریخ آگے بڑھا دی۔ بعدازاں، دوبارہ اُس نے تاریخ کو آگے بڑھا دیا۔ جلد ہی، پورا سال گزر گیا!‏

‏”‏کوئی چیز چھپی نہیں“‏

اگر آپ سنگین گناہ میں پڑ گئے ہیں تو آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خاموش رہنا نہایت غیردانشمندانہ سوچ ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ بہرصورت سچائی عموماً منظرِعام پر آ جاتی ہے۔ بچپن میں مارک نے دیوار پر سجانے والا فنِ‌کوزہ‌گری کا ایک مجسّمہ توڑ دیا۔ ”‏مَیں نے اسے بڑے دھیان سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی،“‏ وہ یاد کرتا ہے، ”‏لیکن جلد ہی میرے والدین نے دراڑ دیکھ لی۔“‏ سچ ہے کہ آپ اب بچے نہیں ہیں۔ لیکن جب اُن کے بچوں کیساتھ کوئی گڑبڑ ہوتی ہے تو زیادہ‌تر والدین عموماً بھانپ لیتے ہیں۔‏

‏”‏مَیں نے جھوٹ سے اپنے مسائل کو چھپانے کی کوشش کی،“‏ ۱۵ سالہ این تسلیم کرتی ہے، ”‏لیکن مَیں مزید مشکلات میں پھنس گئی۔“‏ اکثر جھوٹ کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ اور جب آپ کے والدین کو پتا چلتا ہے کہ آپ نے جھوٹ بولا تھا تو یقینی بات ہے کہ وہ پریشان ہوتے ہیں—‏شاید اتنے زیادہ پریشان تو وہ آپ کی طرف سے اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کر لینے پر بھی نہ ہوئے ہوتے۔‏

سب سے بڑھ کر بائبل یہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏کوئی چیز چھپی نہیں جو ظاہر نہ ہو جائیگی اور نہ کوئی ایسی پوشیدہ بات ہے جو معلوم نہ ہوگی اور ظہور میں نہ آئیگی۔“‏ (‏لوقا ۸:‏۱۷‏)‏ یہوواہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا کِیا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں۔ آدم کی طرح آپ اُس سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔ (‏پیدایش ۳:‏۸-‏۱۱‏)‏ وقت آنے پر، آپ کے گناہ دوسروں پر بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔—‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۲۴‏۔‏

خاموش رہنا آپکو دیگر طریقوں سے بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ زبورنویس داؤد نے لکھا:‏ ”‏جب مَیں خاموش رہا تو دن‌بھر کے کراہنے سے میری ہڈیاں گھل گئیں۔ کیونکہ تیرا ہاتھ رات دن مجھ پر بھاری تھا۔“‏ (‏زبور ۳۲:‏۳، ۴‏)‏ جی‌ہاں، پوشیدہ رکھنے کا تناؤ جذباتی طور پر تباہ‌کُن ثابت ہو سکتا ہے۔ پریشانی اور احساسِ‌جُرم اور بے‌نقاب کئے جانے کا خوف آپ کیلئے دل‌شکستہ محسوس کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ خود کو دوستوں اور خاندان سے دُور رکھنا شروع کر دیں۔ آپ یہ بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ آپکا خدا کیساتھ رشتہ بھی ٹوٹ گیا ہے!‏ ”‏یہوواہ کو ناراض کرنے کی وجہ سے مَیں ایک مُجرمانہ ضمیر کا شکار رہا ہوں،“‏ اینڈریو نامی ایک نوجوان نے لکھا۔ ”‏یہ چیز مجھے اندر ہی اندر گھن کی طرح کھا رہی تھی۔“‏

خاموشی کو توڑنا

اس جذباتی اضطراب سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کیا کوئی طریقہ ہے؟ جی‌ہاں، ہے!‏ زبورنویس نے کہا:‏ ”‏مَیں نے تیرے حضور اپنے گناہ کو مان لیا اور اپنی بدکاری کو نہ چھپایا۔ .‏ .‏ .‏ اور تُو نے میرے گناہ کی بدی کو معاف کِیا۔“‏ (‏زبور ۳۲:‏۵‏؛ مقابلہ کریں ۱-‏یوحنا ۱:‏۹‏۔)‏ یوں اینڈریو نے اپنے گناہ کا اعتراف کرنے سے حقیقی تسلی پائی۔ وہ یاد کرتا ہے:‏ ”‏مَیں نے یہوؔواہ تک رسائی کی اور اُسکی طرف سے معافی کیلئے پُرزور دُعائیں کیں۔“‏

آپ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔ یہوواہ سے دُعا کریں۔ وہ جانتا ہے کہ آپ نے کیا کِیا ہے لیکن فروتنی کیساتھ دُعا میں اُس کے حضور اسکا اقرار کریں۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ آپ بہت زیادہ بُرے ہیں معافی کیلئے درخواست کرنے سے ہچکچائیں نہیں۔ یسوع اسی لئے مؤا تھا تاکہ ہم اپنی ناکاملیت کے باوجود خدا کیساتھ ایک اچھے رشتے سے لطف اُٹھا سکیں۔ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱، ۲‏)‏ آپ ضروری تبدیلیاں لانے کیلئے درکار قوت کیلئے بھی درخواست کر سکتے ہیں۔ اس طرح خدا تک رسائی کرنے کیلئے زبور ۵۱ کی پڑھائی آپ کیلئے بالخصوص معاون ثابت ہو سکتی ہے۔‏

اپنے والدین کو بتانا

تاہم، محض خدا کے حضور اعتراف کرنے سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ آپ اپنے والدین کو بتانے کے بھی پابند ہیں۔ اُنہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ”‏خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دیکر“‏ آپکی پرورش کریں۔ (‏افسیوں ۶:‏۴‏)‏ وہ صرف اُسی صورت میں ایسا کر سکتے ہیں جب وہ آپکے مسائل سے واقف ہیں۔ ایک بار پھر، اپنے والدین کو بتانا شاید آسان یا خوشگوار بات نہ ہو۔ لیکن اپنے ابتدائی ردِعمل کے بعد، غالباً وہ اپنے جذبات پر قابو پا لینگے۔ وہ اس بات سے بھی خوش ہو سکتے ہیں کہ آپ نے اُن پر اتنا بھروسہ کِیا ہے کہ اپنا مسئلہ اُنکے سامنے بیان کِیا ہے۔ مسرف بیٹے کی بابت یسوع کی تمثیل ایک نوجوان شخص کا ذکر کرتی ہے جو جنسی بداخلاقی میں پڑ گیا تھا۔ لیکن جب آخر میں اُس نے اپنی غلطی کا اعتراف کِیا تو اُس کے باپ نے اُسے خوشدلی سے قبول کِیا!‏ (‏لوقا ۱۵:‏۱۱-‏۲۴‏)‏ بِلاشُبہ آپ کے والدین بھی اسی طرح آپکی مدد کیلئے آگے بڑھیں گے۔ بہرصورت وہ ابھی بھی آپ سے پیار کرتے ہیں۔‏

سچ ہے کہ آپ شاید محسوس کریں کہ آپ اپنے والدین کو دُکھ پہنچائیں گے۔ لیکن یہ گناہ کا اعتراف نہیں ہے جس نے آپ کے والدین کو دُکھ پہنچایا ہے؛ یہ گناہ کا ارتکاب ہے جو دُکھ پہنچاتا ہے!‏ اعتراف کرنا اُس دُکھ کو کم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ این، جسکا شروع میں ذکر کِیا گیا، اُس نے اپنے والدین کو بتا دیا اور اسکے بعد اُس نے بہت زیادہ اطمینان محسوس کِیا۔‏b

تاہم اعتراف کرنے کی راہ میں حائل ایک اَور رُکاوٹ شرمندگی اور خودداری ہے۔ وفادار فقیہ عزرا خود تو گناہ کا مرتکب نہیں ہوا تھا مگر جب اُس نے اپنے ساتھی یہودیوں کے گناہوں کا اعتراف کِیا تو اُس نے کہا:‏ ”‏اَے میرے خدا مَیں شرمندہ ہوں اور تیری طرف اَے میرے خدا اپنا مُنہ اُٹھاتے مجھے لاج آتی ہے۔“‏ (‏عزرا ۹:‏۶‏)‏ درحقیقت، جب آپ نے غلطی کی ہے تو شرم محسوس کرنا موزوں بات ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپکا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ اور وقت کیساتھ ساتھ شرمندگی کے احساسات کم ہو جائینگے۔ اینڈریو اسے یوں بیان کرتا ہے:‏ ”‏اعتراف کرنا انتہائی مشکل اور پریشان‌کُن ہے۔ لیکن یہ جاننا کہ یہوواہ کثرت سے معاف کرتا ہے اطمینان‌بخش ہے۔“‏

مدد کیلئے بزرگوں کے پاس جانا

اگر آپ ایک مسیحی ہیں تو معاملہ صرف اپنے والدین کو بتانے تک ہی محدود نہیں رہتا۔ اینڈریو بیان کرتا ہے:‏ ”‏مَیں جانتا تھا کہ مجھے اپنا مسئلہ کلیسیا کے بزرگوں تک لیجانا ہوگا۔ یہ جاننا کسقدر اطمینان‌بخش تھا کہ وہ میری مدد کیلئے موجود ہیں!‏“‏ جی‌ہاں، یہوواہ کے گواہوں کے اندر نوجوان لوگ مدد اور حوصلہ‌افزائی کیلئے کلیسیا کے بزرگوں کے پاس جا سکتے ہیں اور اُنہیں جانا بھی چاہئے۔ لیکن آپ صرف یہوواہ سے دُعا کرنے کے بعد معاملے کو یوں ہی کیوں نہیں چھوڑ سکتے؟ کیونکہ یہوواہ نے بزرگوں کو ”‏تمہاری رُوحوں کے فائدہ کیلئے .‏ .‏ .‏ جاگتے رہنے“‏ کی ذمہ‌داری سونپی ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۷‏)‏ وہ آپکی دوبارہ گناہ میں پڑنے سے بچنے کیلئے مدد کر سکتے ہیں۔—‏مقابلہ کریں یعقوب ۵:‏۱۴-‏۱۶‏۔‏

خود کو یہ استدلال کرنے سے دھوکا نہ دیں کہ آپ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرنے کیلئے واقعی مضبوط ہوتے تو کیا آپ گناہ میں پڑتے؟ واضح طور پر، آپکو کسی دوسرے شخص کی مدد کی ضرورت ہے۔ اینڈریو نے جُرأت سے کام لیتے ہوئے ایسا کِیا۔ اُس کی نصیحت؟ ”‏کوئی بھی شخص جو سنگین گناہ میں ملوث ہے یا کبھی رہا ہے، مَیں حوصلہ‌افزائی کرتا ہوں کہ اپنا دل یہوواہ کے سامنے اور اُسکے چرواہوں میں سے کسی ایک کے سامنے اُنڈیل دیں۔“‏

لیکن آپ ایک بزرگ تک کیسے رسائی کر سکتے ہیں؟ کسی ایک کا انتخاب کریں جسکے سامنے آپ کافی حد تک مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ آپ یہ کہتے ہوئے بات‌چیت کا آغاز کر سکتے ہیں:‏ ”‏مَیں کسی چیز کی بابت بات‌چیت کرنا چاہتا ہوں“‏ یا ”‏مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے“‏ یا پھر یہ کہ ”‏مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے اور مجھے آپکی مدد کی ضرورت ہے۔“‏ آپکا مخلص اور صاف‌گو ہونا درحقیقت آپ کے تائب ہونے اور تبدیلی لانے کی خواہش کو ظاہر کریگا۔‏

‏’‏مَیں خارج کئے جانے سے خوفزدہ ہوں‘‏

اس امکان کی بابت کیا ہے؟ یہ سچ ہے کہ سنگین گناہ کا مرتکب ہونا ایک شخص کے خارج کئے جانے کا سبب بنتا ہے، لیکن خودبخود نہیں۔ خارج کِیا جانا اُن کیلئے ہے جو توبہ کرنے سے انکار کرتے ہیں—‏جو ہٹ‌دھرمی سے تبدیلی لانے سے انکار کرتے ہیں۔ امثال ۲۸:‏۱۳ بیان کرتی ہے:‏ ”‏جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جو اُنکا اقرار کر کے اُنکو ترک کرتا ہے اُس پر رحمت ہوگی۔“‏ یہ حقیقت کہ آپ نے مدد کیلئے بزرگوں تک رسائی کی ہے تبدیلی لانے کیلئے آپکی خواہش کا ثبوت ہے۔ بزرگ بنیادی طور پر سزا دینے والے نہیں بلکہ شفا دینے والے ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے لوگوں کیساتھ رحمدلی اور احترام کیساتھ پیش آنے کے پابند ہیں۔ وہ ”‏اپنے پاؤں کیلئے سیدھے راستے“‏ بنانے میں آپکی مدد کرنا چاہتے ہیں۔—‏عبرانیوں ۱۲:‏۱۳‏۔‏

مسلمہ طور پر، جہاں تک دھوکے یا سنگین غلط‌کاری کی دیرینہ عادت کا تعلق ہے تو ”‏توبہ کے موافق“‏ تسلی‌بخش ”‏کام“‏ کی کمی ہو سکتی ہے۔ (‏اعمال ۲۶:‏۲۰‏)‏ بعض‌اوقات خارج کر دیا جاتا ہے۔ اور جہاں خطاکار تائب بھی ہوتا ہے وہاں بھی بزرگوں کیلئے کسی حد تک تنبیہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیا آپ کو اُنکے فیصلے پر غصہ یا تلخ ہونا چاہئے؟ عبرانیوں ۱۲:‏۵، ۶ میں پولس نصیحت کرتا ہے:‏ ”‏اَے میرے بیٹے!‏ خداوند کی تنبیہ کو ناچیز نہ جان اور جب وہ تجھے ملامت کرے تو بیدل نہ ہو۔ کیونکہ جس سے خداوند محبت رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا ہے اور جسکو بیٹا بنا لیتا ہے اُسکے کوڑے بھی لگاتا ہے۔“‏ جوبھی تنبیہ آپ حاصل کرتے ہیں اُسے اس بات کا ثبوت خیال کریں کہ خدا آپ سے محبت کرتا ہے۔ یاد رکھیں، حقیقی توبہ آپکا اپنے رحیم باپ، یہوواہ خدا کیساتھ مناسب رشتہ بحال کریگی۔‏

اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کیلئے جُرأت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ایسا کرنے سے آپ نہ صرف اپنے والدین کیساتھ بلکہ خود یہوواہ خدا کیساتھ بھی معاملات دُرست کر سکتے ہیں۔ خوف، تکبّر یا شرم کو مدد حاصل کرنے سے روکنے کی اجازت نہ دیں۔ یاد رکھیں:‏ یہوواہ ”‏کثرت سے معاف کریگا۔“‏—‏یسعیاہ ۵۵:‏۷‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a چند ایک نام تبدیل کر دئے گئے ہیں۔‏

b اپنے والدین تک رسائی کرنے کے سلسلے میں معلومات کیلئے، واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب کویسچنز ینگ پیپل آسک—‏آنسرز دیٹ ورک کے باب ۲ کو دیکھیں۔‏

‏[‏صفحہ 12 پر عبارت]‏

‏’‏مَیں اُن سب کی جنہوں‌نے گناہ کِیا ہے یہوواہ کے حضور اپنے دل اُنڈیلنے کے لئے حوصلہ‌افزائی کرتا ہوں۔‘‏ —‏اینڈریو

‏[‏صفحہ 11 پر تصویر]‏

اپنے والدین کے سامنے اعتراف کرنا روحانی بحالی کا باعث بن سکتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں