اپنی زندگی میں مزاح کو شامل کریں
یہ موسمسرما کا ایک سرد دن تھا اور سیڑھیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ جس نے سب سے پہلے اُترنے کی کوشش کی وہ تو تقریباً گر پڑا۔ قطار میں اسکے پیچھے والے نے اعلان کیا: ”یہ ہے اُترنے کا صحیح طریقہ!“ الفاظ اس کے مُنہ سے ابھی نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ—چاروں شانے چت—نیچے گِر گیا۔ لمحہ بھر کی گھبرا دینے والی خاموشی، لیکن پھر یہ جاننے کے بعد کہ اسے چوٹ نہیں آئی تماشائیوں کی طرف سے زوردار قہقہے۔
”ہنسنے کا ایک وقت ہے۔“ تقریباً تین ہزار سال پہلے دانشمند آدمی سلیماؔن نے اس طرح بیان کیا۔ (واعظ ۳:۴) یہ آجکل بھی بالکل سچ ہے۔ ہنسنے کی لیاقت ایک خداداد خصوصیت ہے، ایک ایسی بخشش جو اسکی طرف سے ہے جسے بائبل میں ”خدایِ مبارک“ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔—۱-تیمتھیس ۱:۱۱۔
تو پھر، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ کائنات پُرمزاح چیزوں سے بھری پڑی ہے—مضحکہخیز حرکات کرتے بلوٹے اور پلے، شیر کے بچے کا اپنی ماں کی دُم کو اس وقت تک چباتے رہنا جبتک کہ وہ اسے مارتی نہیں، بندر کے بچوں کا شاخوں پر ایک دوسرے کا پیچھا کرنا اور قلابازیاں کھانا۔ ہمارے چاروں طرف مزاح ہے، جو صرف مشاہدہ کئے جانے اور قدر کئے جانے کا منتظر ہے۔
اس سے یہ مراد نہیں کہ سب لوگ ایک ہی جیسی چیزوں پر ہنستے ہیں۔ اس کے برعکس، کیا چیز مضحکہخیز ہے یہ اکثر ایک شخص کی ثقافت، شخصیت، پسمنظر اور مزاج، اسکے ساتھ ساتھ دیگر عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم، درحقیقت ہر کوئی، کسی نہ کسی چیز—ایک مضحکہخیز کہانی، ایک خوشگوار خلافِتوقع بات، ایک لطیفے، ذومعنی الفاظ—پر قہقہے لگائیگا۔
مزاح کیا مقصد سرانجام دیتا ہے؟ بہرصورت، یہ دوسروں کیساتھ بہتر تعلق قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ایک تفسیر نے قہقہے کو ”دو اشخاص کے بیچ مختصرترین فاصلہ“ کہا۔ واقعی، بعض یقین رکھتے ہیں کہ مزاح کو ازدواجی ہمآہنگی کے مقیاس (بیرومیٹر) کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مزاح پر ایک تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جوڑے جو مضحکہخیز چیزوں پر ایک دوسرے سے متفق ہوتے ہیں وہ پسند کرنے، محبت کرنے اور ایک دوسرے سے شادی کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں بہنسبت انکے جنکی مزاح کی ترجیحات ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہوتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ مزاح بہت سی چیزوں: اقدار، دلچسپیوں، اندازِفکر، ذہانت، تخیل اور ضروریات کی دلیل ہوتا ہے۔ ایک ہزار یو۔ایس کارپوریشنوں کے ۱۹۸۵ کے سروے نے آشکارا کیا کہ ”مزاح کی حس رکھنے والے لوگ زیادہ قوتِایجاد رکھنے والے، قدرے لچکدار اور نئے خیالات اور طریقوں پر غور کرنے اور انہیں اختیار کرنے کیلئے زیادہ رضامند ہوتے ہیں۔“
ہنسنا یا نہ ہنسنا
درحقیقت کوئی بھی ٹھیک طور پر یہ نہیں جانتا کہ کیا بات کسی چیز کو مضحکہخیز بنا دیتی ہے۔ بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مزاح کیلئے ناموزونیت لازمی ہے—بظاہر دو ناموافق عناصر کو یکجا کرنا۔ سرکس کے مسخرے کے طور پر ملبوس ایک بالغ آدمی ایک چھوٹے بچے کو ہنسی سے لوٹپوٹ کر سکتا ہے۔ تاہم، زندگی کے اپنے وسیع تجربے اور اعلیٰ ادراکی مہارتوں کیساتھ ایک جوان شخص کو شاید مسخرےپن کی عجیبوغریب حرکات مضحکہخیز نہ لگیں۔ وہ شاید مزاح کی ذہنی کیفیتوں—جگتبازی، ذومعنی الفاظ، یا لطائف—سے خوشی حاصل کرے جو کہ ناموزونیت کو جسمانی سطح کی بجائے لفظی طور پر پیش کرتے ہیں۔
بعض محققین یقین رکھتے ہیں کہ مزاح دبی ہوئی جذباتی قوت کی آزادی پر منتج ہو سکتا ہے۔ مزاح کشیدگی اور ذہنی کوفت کو چھپائے رکھنے کا کام انجام دے سکتا ہے۔ بائبل کہتی ہے: ”ہنسنے میں بھی دل غمگین ہے اور شادمانی کا انجام غم ہے۔“—امثال ۱۴:۱۳۔
مزاح کی بہت سی اقسام میں جسے شوروغل والے مضحکہخیز ڈھونگ رچانا کہتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہے۔ ایک آدمی اڑنگے لگا کر چلتا ہے یا پانی سے شرابور ہو جاتا ہے۔ کیا یہ بالکل مضحکہخیز نہیں ہے؟ شاید، اگر اس سے واقعی کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔
ایک مسیحی اخلاقی طور پر گِرے ہوئے یا سفاکانہ مزاح کے لئے اشتہا بڑھانے سے گریز کرتا ہے۔ بہرصورت، محبت ”بدکاری سے خوش نہیں ہوتی۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۶) اسکے علاوہ ایک مسیحی بدذوق لطائف سے بھی گریز کرتا ہے جو کہ کسی قومیت یا نسل کی تحقیر کرتے ہیں۔ وہ اپنی مزاحفہمی کو ”ہمدردی“ کیساتھ اعتدالپسند بناتا ہے۔ (۱-پطرس ۳:۸) مثال کے طور پر، ایک پاؤں پاؤں چلنے والے بچے کو تجربے کے طور پر چند قدم اٹھاتے اور پھر عجیبوغریب انداز سے گرتے دیکھنا مسرورکُن طور پر دلچسپ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایک عمررسیدہ یا معذور شخص گرتا ہے تو فوری ردِعمل بھاگ کر اسکی مدد کرنا ہے نہ کہ ہنسنا۔
مزاح اور آپکی صحت
مناسب طور پر استعمال کیا گیا مزاح بہت قدروقیمت رکھتا ہے۔ درحقیقت، آہستہ آہستہ یہ ثابت ہوتا جا رہا ہے کہ ہنسنے کو بطور ایک معالجاتی اوزار کے بھی استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی مشہور بات ہے کہ ہنسنے کا عمل کسی شخص کے اندرونی اعضاؤں کے لئے صحتمندانہ مالش کا کام دیتا ہے۔ مزیدبرآں، امریکن ہیلتھ میگزین کے مطابق، بعض ”محققین خیال کرتے ہیں کہ ہنسی مدافعتی نظام کو مضبوط بنا سکتی ہے۔“ اسکے بعد میگزین اجنہےیونولاجسٹ لی ایس. برکؔ کا اس بیان کیساتھ حوالہ دیتا ہے: ”منفی جذبات مدافعتی نظام کو خوشاُسلوبی سے چلا سکتے ہیں اور اب یہ دکھائی دیتا ہے کہ مثبت [جذبات] بھی کچھ اسی طرح کا کام کر سکتے ہیں۔“ یہ بائبل کے الفاظ کی حکمت کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے: ”شادمان دل شفا بخشتا ہے۔“—امثال ۱۷:۲۲۔
مزاح کی شفابخش قوت سے استفادہ کرنے کی توقع میں، بعض ہسپتالوں نے ہنسانے والے کمروں کا بندوبست کِیا ہے جن میں مریض کھیل سکتے، مزاحیہ فلمیں دیکھ سکتے، لطیفے سن سکتے، یا پھر رشتےداروں سے زیادہ خوشگوار ماحول میں ملاقات کر سکتے ہیں۔ کیا آپ خود بھی مزاح کے کارگر ہونے کیلئے کچھ کر سکتے ہیں؟ یوں سمجھ لیں کہ آپکا ایک دوست یا رشتےدار ہسپتال میں ہے۔ کیوں نہ اس صورت میں جہاں یہ ممکن ہو اسے کوئی مزاحیہ کتاب یا مضحکہخیز کارڈ دینے سے اُس علیل شخص کے نقطۂنظر کو جاندار بنائیں؟
ہنسی غصے کو بھی کم کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر آر.بی.ولیمز، جونیئر، کہتے ہیں: ”غصہ میں آنا آپکی صحت کیلئے انتہائی مُضر ہے۔“ اسی طرح بائبل کہتی ہے: ”مطمئن دل جسم کی جان ہے، لیکن حسد ہڈیوں کی بوسیدگی ہے۔“ (امثال ۱۴:۳۰) ڈاکٹر ولیمزؔ مشاہدہ کرتا ہے: ”جب آپ ہنس رہے ہوتے ہیں تو غصے میں رہنا مشکل ہے۔“ جیہاں، کسی بھی صورتِحال میں مزاح کو بھانپ لینا غصے سے نپٹنے کے سب سے زیادہ تعمیری طریقوں میں سے ایک ہے۔
خاندانی دائرے کے اندر
مزاح کو گھر کے اندر بھی کام میں لایا جا سکتا ہے۔ ایک شوہر کہتا ہے: ”مزاح میرے لئے اتنا ہی مفید ہے جیسے ایک آٹومکینک کے لئے ایک کثیرالمقاصد اوزار کیونکہ یہ بہت سے کام کرتا ہے۔ یہ محفوظ رکھتا، حوصلہافزائی کرتا، نتیجہخیز گفتگو کا آغاز کرتا، پہلے سے قائم کردہ نظریات کو ختم کرتا اور تکلیفدہ الفاظ کو ایسے الفاظ میں بدل دیتا ہے جو کہ معقول اور بامروت ہیں۔“
مزاحفہمی بالخصوص اس وقت مددگار ہوتی ہے جب برہم کرنے والی عادات رشتوں میں کھچاؤ پیدا کرنے کیلئے خطرہ بن جاتی ہیں۔ آپکا بیٹا کھلونوں کو ایک طرف رکھ دینے کی بارہا نصیحت کے باوجود ایسا کرنا بھول جاتا ہے۔ آپکا شوہر اپنے گندے کپڑے غسلخانے کے فرش پر چھوڑ دیتا ہے۔ آپکی بیوی کھانا جلا دیتی ہے۔ غلطیاں تلاش کرنا، شرمندہ کرنا، الزامتراشی کرنا، چیخنا چلانا، یا اونچی آواز میں بات کرنا معاملات کو مزید خراب کرتا ہے۔ ایک ہیلتھ ریسرچر نے، جس کا حوالہ رَیڈبک میگزین میں دیا گیا، یوں لکھا: ”اگر آپ ایک شخص کے روبرو ہوتے یا اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو وہ مدافعت کرنے والا بن جائیگا۔ مزاح لوگوں کو دُور ہی سے اپنے طرزِعمل کا جائزہ لینے—اور اسے بدلنے—کی دعوت دیتا ہے۔“
اسکا یہ مطلب نہیں کہ کوتاہاندیشی کے کسی قصوروار شخص کا مذاق اڑایا جائے۔ یہ عموماً ہنسی کا نہیں بلکہ دکھ کا باعث ہوتا ہے۔ اپنے مزاح کو خود حالت کی طرف موڑنے کی کوشش کریں۔ خوب ہنسنا کھچاؤ کو کم کرنے کے لئے بہت کچھ کر سکتا ہے۔ ایک بیوی کہتی ہے: ”ایسے اوقات ہوتے ہیں جب میرا شوہر بھانپ لیتا ہے کہ مجھے غصہ آنے والا ہے اور وہ کسی مزاحیہ جملے یا فعل سے اسے ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ اس سے پہلے کہ مجھے خبر ہو، میں ہنس رہی ہوتی ہوں۔ تب مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی طرح اسقدر سنگین بات نہیں تھی۔“
تاہم، احتیاط کے چند الفاظ۔ جب کوئی حالت سنجیدگی یا رحمدلی کا تقاضا کرتی ہو تو مسخرہ بننے کی کوشش کرنے سے گریز کریں۔ امثال ۲۵:۲۰ پر غور کریں: ”جو کسی غمگین کے سامنے گیت گاتا ہے۔ وہ گویا جاڑے میں کسی کے کپڑے اُتارتا اور سجی پر سرکہ ڈالتا ہے۔“ مزاح کو صرف واجب ہوشمندی کے ساتھ استعمال میں لایا جانا چاہئے تاکہ جذباتی یا جسمانی طور پر نقصان نہ پہنچائے۔ مزاح کو کبھی بھی تذلیلکُن یا گستاخ نہ ہونے دیں۔ یہ بڑے بچوں کو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو متواتر تمسخر کا نشانہ بنانے کی بھی اجازت نہیں دیگا۔ شائستہ مذاق الگ چیز ہے، لیکن طنزیہ تنقید بالکل مختلف ہے۔ شادیشُدہ جوڑوں کو بھی مزاح کو بطور تنقید یا تحقیر کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرتے ہوئے، اسے حدود میں رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
شاعر لاؔنسچُنیںکُتا ہیوز نے ایک مرتبہ لکھا: ”گرمیوں کی خوشآئند بارش کی طرح، مزاح اچانک زمین، ہوا، اور آپکو صافشفاف اور ٹھنڈا کر سکتا ہے۔“ یقیناً، مزاح ہماری زندگیوں میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذات کی بابت حد سے زیادہ پریشان ہونے سے باز رکھ سکتا ہے۔ یہ ہمیں خوش اور مطمئن رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ دوسروں کیساتھ ہمارے تعلقات کو ہموار کر سکتا ہے۔ یہ ہمیں مشکلات سے نپٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ہماری صحت کو بھی بہتر بنا سکتا ہے۔
پس مزاح کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ اسے تلاش کریں۔ اسے پروان چڑھائیں۔ اسے پیدا کریں۔ یہ آپکے لئے اور انکے لئے جو آپکے اردگرد ہیں لازماً مؤثر ثابت ہوگا!
[تصویر]
مزاح افسوسناک خاندانی پریشانیوں کو سلجھانے میں معاون ہو سکتا ہے