ہمارے قارئین کی طرف سے
کینسر حال ہی میں مَیں نے آپکے جولائی ۱۹۹۴ کے شمارے ”چھاتی کا کینسر—ہر عورت کا اندیشہ“ کی ایک کاپی اپنی والدہ کے ڈاکٹر کو دی۔ آپ نے صفحہ ۲۲ پر ہائڈرازین سلفیٹ کو ”نانٹاکسک ڈرگ“ کے طور پر بیان کِیا ہے۔ ڈاکٹر نے ہمیں میڈیکل لٹریچر دِکھایا جو اسے انتہائی ٹاکسک (زہریلا) قرار دیتا ہے۔
ڈی. ایم.، فرانسؔ
چونکہ اس کیمیا کا زہریلا ہونا بظاہر نزاع کا معاملہ ہے، ہم نے اسے نانٹاکسک ڈرگ کہنے میں غلطی کی تھی۔ روسی تحقیق کے ایک مطالعے نے دعویٰ کِیا کہ جب اسے بڑی مقدار میں لیبارٹری کے چوہوں اور چوہیوں کو دیا گیا تو یہ انتہائی زہریلی ثابت ہوئی۔ تاہم، یوسیایلاے میڈیکل سینٹر میں، انسانوں میں کینسر کے مریضوں پر کئے گئے ایک کلینیکل تحقیق میں، ۷۱ فیصد مریضوں کے زہریلے اثرات کی رپورٹ نہ دینے کے باعث ہائڈرازین کو ”بہت کم“ زہریلا بیان کِیا گیا تھا۔ بِلاشبہ اس دوا کے خطرات اور ممکنہ فوائد کا پوری طرح سے اندازہ لگانے کیلئے مزید تحقیق کرنی پڑیگی۔—ایڈیٹر۔
زیادہ وزن مَیں اس مضمون ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . مجھ پر اسقدر موٹاپا کیوں؟“ (جولائی ۱۹۹۴) سے بہت زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ مَیں ہمیشہ اپنے وزن کی بابت پریشان رہتی تھی، لیکن مضمون نے بیان کِیا کہ یہوؔواہ اس چیز کو نہیں دیکھتا کہ آپ کی وضعقطع کیسی ہے بلکہ اس چیز کو کہ آپکے دل میں کیا ہے۔ آپکا شکریہ۔
این. سی.، ریاستہائے متحدہ
اگرچہ مَیں حقیقت میں موٹی نہیں ہوں، لیکن بعضاوقات مَیں سوچتی ہوں کہ کاش مَیں اُن ماڈلوں کی طرح دکھائی دیتی۔ بعضاوقات مَیں مایوس ہو جاتی ہوں اور روتی ہوں۔ آپکے مضمون نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ صرف مَیں ہی ایسا محسوس نہیں کرتی ہوں، اور یہ کافی اطمینانبخش تھا۔
آر. ایم.، ریاستہائے متحدہ
مَیں موٹی تو نہیں ہوں، لیکن مَیں چوڑے شانوں والی بہت بھاری بھرکم لڑکی ہوں۔ میرے رشتے کے بھائیبہن اور بڑے بھائی بہت تنگ کرتے ہیں۔ مجھے آپ کا یہ نکتہ بہت زیادہ پسند آیا کہ اگرچہ ہو سکتا ہے کہ مَیں موٹی ہو رہی ہوں، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مجھے وزن کم کرنا ہوگا۔
ایم. ٹی.، ریاستہائے متحدہ
گھٹیا آدابواطوار جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، مَیں نے گھٹیا آدابواطوار کا مظاہرہ کِیا ہے۔ ایسے بھی اوقات رہے ہیں جب مجھے ”آپکا شکریہ،“ ”مہربانی سے،“ اور ”مَیں معافی چاہتا ہوں“ جیسے شائستگی اور پاسولحاظ کے الفاظ نہ کہنے کی معذوری پر فخر محسوس ہوتا تھا۔ تب مَیں نے مضمون ”آدابواطوار کی تنزلی“ اور اس میں درج بائبل کے اقتباسات پڑھے۔ (اکتوبر ۱۹۹۴) مَیں نے جان لیا کہ اپنے سے ادنیٰ لوگوں کیساتھ برتاؤ کرتے وقت خدا، اکثر اپنی استدعاؤں میں ”مہربانی سے“ کا اضافہ کرتے ہوئے ہمیشہ مہذب رہا ہے۔ مجھے بائبل میں یہ دیکھ کر بہت زیادہ حیرت ہوئی۔ اس نے مجھے تحریک دی ہے کہ خدا کی نقل کرنے کی کوشش کروں۔ آپکا صدہا شکریہ۔
ایم. ای. جے.، نائیجرؔیا
مَیں نے واقعی مضمون سے لطف اُٹھایا۔ آدابواطوار سے پوری طرح منسلک چیز دوسروں کے حقوق اور املاک کیلئے احترام ظاہر کرنا ہے۔ بعضاوقات جب آپ دوستوں کو مدعو کرتے ہیں تو اُنکے بچے محسوس کرتے ہیں کہ اُنہیں—مختلف کمروں میں جانے، درازوں اور ریفریجریٹر کو اُلٹپلٹ کرنے اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے کی کھلی چھٹی ہے، اور جو چاہیں کر سکتے ہیں۔
جی. ڈبلیو. ریاستہائے متحدہ
مضمون کا ہر جملہ اہم تھا۔ اپنے دو جواں سال لڑکوں کی تربیت کرنے کیلئے مجھے بالکل اسی چیز کی ضرورت تھی۔ مَیں نے سیکھا کہ آدابواطوار کی بابت بہت سی باتیں تھیں جو مَیں نے اپنے بچوں کو نہیں سکھائی تھیں۔ اب مَیں ان دلکش تفصیلات اور انکا اطلاق کرنے کے طریقے کو جانتی ہوں۔
پی. ایچ.، ریاستہائے متحدہ
چھاتی سے دُودھ پلانا آپکا (جنوری ۱۹۹۴) کا مضمون اس موضوع پر آپکے گزشتہ مضامین پر سبقت لے گیا۔ اکثر اوقات، والد اسے اپنی بیویوں پر چھوڑ دیتے ہیں کہ آیا وہ اس میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ لیکن آپ کے مضمون نے واقعی والدوں اور خاندان کے دیگر افراد کو بتایا کہ وہ چھاتی سے دُودھ پلانے کو کامیاب بنانے کیلئے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
ڈی. ڈی.، ریاستہائے متحدہ
مجھے اپنے دونوں بچوں کو چھاتی سے دُودھ پلانے کا شاندار تجربہ ہوا۔ شروع میں شدید درد جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن اپنی بہن کی طرف سے حوصلہافزائی اور اپنے ڈاکٹر کے مشورے کیساتھ، مَیں نے مشکل پر قابو پا لیا تھا۔ مَیں ہر اُس ماں کی جو ایسا کر سکتی ہے حوصلہافزائی کرونگی کہ اپنے بچے کو چھاتی کا دُودھ پلائے، کیونکہ ماں اور بچے کے درمیان ایک اہم بندھن کا اُستوار ہونا ایک ایسا خوشگوار تجربہ ہے جسے ایک شخص کبھی فراموش نہیں کرتا۔
یو. بی.، جرمنیؔ