بچاؤ کی تدابیر
اگر آپ یہ خبر سنتے ہیں کہ ایک قاتل آپ کے پڑوس میں دبے پاؤں گھس آیا ہے تو کیا آپ اپنے خاندان اور خود کو بچانے کے لئے ضروری اقدام کریں گے؟ غالباً آپ اپنے دروازوں کو بند کریں گے اور تالے ڈال دیں گے تاکہ وہ آسانی سے اندر داخل نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ آپ مشکوک دکھائی دینے والے اجنبی لوگوں سے بھی چوکنے رہیں گے اور فوراً ان کی رپورٹ درج کرائیں گے۔
کیا عورتوں کو چھاتی کے کینسر جیسی جانلیوا بیماری، کے سلسلے میں کچھ کم کرنا چاہئے؟ وہ اپنے آپکو بچائے رکھنے اور اپنی بقا کے امکانات میں اضافہ کرنے کیلئے کونسے اقدام کر سکتی ہیں؟
احتیاط اور غذا
یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں ۳ سرطانوں میں سے ۱ غذائی عناصر کے باعث ہوتا ہے۔ اچھی خوراک جو کہ آپکے جسم کے مدافعتی نظام کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی، شاید آپکے لئے اہمترین حفاظت ہو۔ جبکہ کوئی بھی معروف غذا کینسر کا علاج ثابت نہیں ہو سکتی، اسلئے بعض غذاؤں کو کھانا اور دیگر سے پرہیز کرنا احتیاطی تدابیر ہو سکتی ہیں۔ ”مناسب غذا کا استعمال آپکو چھاتی کا کینسر لگنے کے خطرے کو تقریباً پچاس فیصد کم کر سکتا ہے،“ نیویارک، والہالہ میں امریکن ہیلتھ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر لیناؔرڈ کوہن نے کہا۔
ریشے سے پُر غذائیں، جیسے گندم کی غذائیت سے بھرپور روٹی اور دال دلیا، ان ہارمونز کی افزائش کا دفاع کرتے ہوئے اور انہیں جسم سے خارج کرتے ہوئے، پرولیکٹن اور ایسٹروجن کی مقدار کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہیں۔ رسالہ غذا اور کینسر (انگریزی) کے مطابق، ”یہ اثرات کینسر کو فروغ دینے والے ایجنٹس کے افزائشی حصے کو ختم کر سکتے ہیں۔“
خالص روغن کے استعمال میں کمی خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ احتیاط (انگریزی) رسالہ مشورہ دیتا ہے کہ چکنائی والے دودھ سے ملائی اترے دودھ پر آ جانا، مکھن کی مقدار میں کمی کرنا، بغیر چربی کا (روکھا) گوشت کھانا اور مرغی سے کھال کو اتار دینا خالص روغن کی مقدار کو ایک محفوظ سطح پر لے آئیگا۔
سبزیاں جو وٹامن اے سے بھرپور ہیں، جیسے گاجر، کدو، شکرقندی اور گہرے ہرے پتوں والی، جیسے پالک اور کولارڈ اور سرسوں کا ساگ مددگار ہو سکتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وٹامن اے کینسر پیدا کرنے والی اہم اور بنیادی تبدیلیوں کو روکتا ہے۔ اور بروکلی، بروسل سپراؤٹس، پھول گوبھی، بندگوبھی اور ہرے پیاز جیسی سبزیوں میں ایسے کیمیکل ہوتے ہیں جو کہ محافظ انزائمز کو ترغیب دیتے ہیں۔
کتاب چھاتی کا کینسر—ہر عورت کو جو کچھ معلوم ہونا چاہئے، (انگریزی) میں ڈاکٹر پالؔ روڈریجز کہتے ہیں کہ مدافعتی نظام کو جو کہ غیرمعمولی خلیوں کو قبول کرتا اور ختم کرتا ہے، غذا کے ذریعے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ وہ فولاد سے بھرپور خوراک کھانے کی سفارش کرتے ہیں، جیسے کہ بغیر چربی کا گوشت، ہرے پتوں والی سبزیاں، کھپرےدار مچھلی، اور وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیاں۔ جرنل آف دی نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ بیان کرتا ہے کہ وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیاں چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔ سویابین اور بےخمیر سویا سے بنی چیزوں میں جینسٹین ہوتا ہے جو کہ لیبارٹری کے تجربات میں رسولی کی نشوونما کو ختم کرنے کیلئے مشہور ہے، لیکن انسانوں میں اسکے مؤثر ہونے کا تعیّن کرنا ابھی باقی ہے۔
شروع ہی میں سراغ لگانا
”چھاتی کے کینسر کا شروع ہی میں سراغ لگا لینا چھاتی کے کینسر کی افزائش کو تبدیل کرنے میں سب سے اہمترین قدم ثابت ہوا ہے،“ اشاعت ریڈیولاجک کلینک آف نارتھ امریکہ کہتی ہے۔ اس سلسلے میں تین بنیادی اقدام خود چھاتی کا باقاعدہ معائنہ، ڈاکٹر سے سالانہ معائنہ اور میموگرافی (چھاتی کا ایکسرے) ہیں۔
چھاتی کا باقاعدہ ذاتی معائنہ ہر ماہ کیا جانا چاہئے اور عورت کو اپنی چھاتی کی ظاہری شکل میں کسی مشکوک حالت یا جیسا وہ محسوس کرتی ہے کسی قسم کی سختی یا گلٹی کی بابت ہوشیار رہنا چاہئے۔ اس کی تشخیص خواہ معمولی ہی کیوں نہ دکھائی دے، اسے فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلدی ایک گلٹی کی تشخیص ہو جاتی ہے، اتنا ہی زیادہ وہ اپنے مستقبل پر کنٹرول رکھ سکتی ہے۔ سویڈن سے ایک رپورٹ نے ظاہر کیا کہ اگر نانمیٹاسٹاٹک چھاتی کا کینسر آدھے انچ سے کچھ ہی زیادہ یا حجم میں چھوٹا ہے اور اسے جراحی کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے تو ۱۲ سال تک زندہ رہنے کے ۹۴ فیصد امکان ہیں۔
ڈاکٹر پیٹرؔیشیا کیلی تبصرہ کرتی ہیں: ”اگر آپ کو ۲/۱ ۱۲ سال تک چھاتی کے کینسر کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تو اسکے دوبارہ نمودار ہونے کا امکان بہت کم ہے . . . اور عورتوں کو محض اپنی انگلیوں کو استعمال کرتے ہوئے حجم میں ایک سینٹی میٹر سے بھی چھوٹے چھاتی کے کینسر کو تلاش کرنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔“
یہ سفارش کی جاتی ہے کہ ایک ماہرِامراض یا جنرل پریکٹیشنر سے ہر سال باقاعدگی سے جسمانی معائنہ کروانا چاہئے، خصوصاً جب ایک عورت ۴۰ سال کی عمر کو پہنچ جاتی ہے۔ اگر کوئی گلٹی دریافت ہو جاتی ہے تو یہ اچھا ہوگا کہ چھاتی کے ماہر یا سرجن سے بھی مشورہ کیا جائے۔
ریاستہائے متحدہ کا نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کہتا ہے کہ چھاتی کے کینسر کے خلاف ایک اچھا ہتھیار باقاعدہ میموگرام (چھاتی کا ایکسرے) ہے۔ اس قسم کا ایکسرے شاید ایک رسولی کو دو سال پہلے دریافت کر سکتا ہے پیشتر اس سے کہ اسے محسوس کیا جا سکے۔ ۴۰ سال سے زیادہ عمر والی عورتوں کے لئے بھی اسی طریقِکار کی سفارش کی جاتی ہے۔ تاہم، ڈاکٹر ڈینئلؔ کوپنز ہمیں مطلع کرتے ہیں: ”یہ ہرگز بھی کامل نہیں۔“ یہ ہر طرح کے چھاتی کے سرطانوں کی تشخیص نہیں کر سکتا۔
نیویارک اسٹیٹ میں چھاتی کی ایک کلینک کی ڈاکٹر ونڈؔی لوگنین نے جاگو! کو بتایا کہ اگر ایک عورت یا اس کا معالج کوئی غیرمعمولی چیز پاتا ہے لیکن میموگرام کسی بھی طرح اس کی نشاندہی نہیں کرتا تو جسمانی تشخیص کو نظرانداز کرنے اور ایکسرے پر اعتماد کرنے کا میلان ہو سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہی ”سب سے بڑی غلطی ہے جو ہم آجکل دیکھتے ہیں۔“ وہ خواتین کو مشورہ دیتی ہیں کہ کینسر دریافت کرنے کے سلسلے میں میموگرافی کی لیاقت پر ایک حد تک بھروسہ کریں اور چھاتی کے معائنہ پر بھی کافی زیادہ اعتماد کریں۔
جبکہ میموگرافی رسولی دریافت کر سکتی ہے، یہ اس بات کی تشخیص واقعی نہیں کر سکتی کہ آیا وہ کم خطرناک (غیرسرطانی) یا جانلیوا (سرطانی) ہے۔ یہ صرف بائیواپسی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ آئرؔین کے معاملہ پر غور کریں، جو میموگرام کیلئے گئی۔ ایکسرے فلم کے مطابق، اسکے ڈاکٹر نے اسکی گلٹی کو چھاتی کی کم خطرناک بیماری کے طور پر تشخیص کیا اور کہا: ”مجھے پورا یقین ہے کہ آپکو کینسر نہیں۔“ نرس جس نے میموگرام کیا وہ پریشان تھی، لیکن آئرؔین نے کہا: ”میں نے محسوس کِیا کہ اگر ڈاکٹر کو یقین تھا تو شاید میں ہی انتہائی بدگمانی کا شکار تھی۔“ جلد ہی گلٹی بڑی ہو گئی، لہذا آئرؔین نے ایک اور ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ بائیواپسی کی گئی اور اس نے ظاہر کیا کہ اسے آماس کینسر، یعنی تیزی سے پھیلنے والا کینسر ہے۔ یہ تعیّن کرنے کیلئے کہ آیا ایک رسولی کم خطرناک ہے (جیسے کہ ۱۰ میں سے ۸ ہوتی ہیں) یا جانلیوا ہے، بائیواپسی کی جانی چاہئے۔ اگر گلٹی علامات کے مطابق تشویشناک نظر آتی یا محسوس ہوتی ہے یا بڑھ رہی ہے تو بائیواپسی کی جانی چاہئے۔
علاج
اس وقت، سرجری، ریڈیایشن (شعاعیں) اور ادویات سے علاج چھاتی کے کینسر کے عام علاج ہیں۔ رسولی کی قِسم، اسکے حجم، اسکے پھیلنے کی رفتار، آیا وہ لِمف نوڈز تک پھیل گئی ہے اور ماہواری کی دائمی بندشِحیض کی حالت کی بابت معلومات آپکو اور آپکے ڈاکٹر کو علاج کے طریقۂکار کا تعیّن کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
سرجری۔ (جراحی عمل) کئی دہوں تک ریڈیکل ماسٹکٹومی، چھاتی کے ساتھ ساتھ سینے کے نیچے بعض پٹھوں اور بغل میں موجود لِمف نوڈز کا ہٹا دیا جانا، کافی زیادہ مقبول رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں چھاتی کو بچائے رکھنے والا علاج جس میں صرف رسولی اور لِمف نوڈنز کا ہٹایا جانا اور شعاعیں شامل ہیں، بچاؤ کی اسی شرح کیساتھ استعمال کِیا جا رہا ہے جو ماسٹکٹومی کے برابر ہے۔ اس نے کچھ عورتوں کو چھوٹی رسولی کو نکلوانے کا فیصلہ کرنے کے سلسلے میں زیادہ اطمینان بخشا ہے، کہ اس سے انکی وضعقطع زیادہ خراب نہیں لگے گی۔ لیکن برٹش جرنل آف سرجری کہتا ہے کہ نوجوان عورتیں، جنکی ایک ہی چھاتی میں مختلف مقامات پر کینسر ہے یا ایک انچ سے بڑی رسولیاں ہیں، انہیں کنسرویشن ٹریٹمنٹ (صرف رسولی اور لِمف نوڈز کے ہٹا دئے جانے) کے ساتھ دوبارہ کینسر ہو جانے کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔
دوبارہ نمودار ہونے کے خطرے سے خالی بچاؤ میں ایک اہم عنصر کا ذکر کلیولینڈ کلینک جرنل آف میڈیسن نے کیا ہے: ”ماڈیفائڈ ریڈیکل ماسٹکٹومی (چھاتی کی سرجری جس میں سینے کے بڑے عضلات کو کاٹا نہیں جاتا) میں . . . انتقالِخون بچاؤ اور دوبارہ نمودار ہونے کی شرح پر ناموافق اثرات ڈالتا ہے۔“ رپورٹ نے ظاہر کیا کہ ایک گروپ کیلئے جس نے انتقالِخون حاصل کیا تھا ان میں پانچ سال تک بچاؤ کی شرح ۵۳ فیصد تھی، جبکہ اسکے برعکس خون نہ لینے والے گروپ کیلئے شرح ۹۳ فیصد تھی۔
بچاؤ کے لئے ایک اور مدد کا ذکر دی لنسٹ میں کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹر آر. اے. بیدؔوی نے بیان کِیا: ”ایامِماہواری کی مناسبت سے سرجری کے اوقات قبلازبندشِ حیض والے چھاتی کے کینسر کے مریضوں میں دُوررس نتائج کیلئے پُرزور اثرات رکھتے ہیں۔“ رپورٹ نے بیان کِیا کہ وہ عورتیں جنہوں نے ایسٹروجن کے متحرک ہونے کے وقت کے دوران رسولی نکلوائی انہیں انکی نسبت زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی جنہوں نے حیض کے دیگر اوقات میں جرّاحی کروائی—۵۴ فیصد دس سال تک زندہ رہیں بمقابلہ بعد والے گروپ کے ۸۴ فیصد کے۔ چھاتی کے کینسر کیساتھ قبلازبندشِ حیض والی عورتوں میں سرجری کا مناسب ترین وقت آخری ایامِحیض کے کمازکم ۱۲ دن بعد کو قرار دیا گیا ہے۔
ریڈیایشن تھراپی (شعاعوں سے علاج)۔ ریڈیایشن تھراپی کینسر کے خلیوں کو ختم کرتی ہے۔ چھاتی کے کنسرویشن ٹریٹمنٹ (بچاؤ والے علاج) کے سلسلے میں، کینسر کی چھوٹی رسولیاں ہو سکتا ہے کہ سرجن کے چاقو سے بچ نکلیں جب وہ چھاتی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ شعاعوں سے علاج اردگرد کے خلیوں کو بھی ختم کر سکتا ہے۔ لیکن شعاعوں کیساتھ دوسری چھاتی میں ثانوی درجے کے کینسر کے رونما ہونے کا معمولی خطرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بینیؔڈک فراز دوسری چھاتی پر کم سے کم شعاعیں پڑنے دینے کی سفارش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”چند سادہ تدابیر کیساتھ پہلی چھاتی پر شعاعیں ڈالنے کے دوران دوسری چھاتی پر نمایاں طور پر کم سے کم پڑنے دینا ممکن ہے۔“ وہ ایک انچ موٹی سیسے کی ڈھال کو دوسری چھاتی پر رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ڈرگ تھراپی (دواؤں سے علاج)۔ سرجری کے ذریعے چھاتی کے کینسر کو ختم کرنے کی کوششوں کے باوجود، چھاتی کے کینسر کی نئی تشخیصشُدہ ۲۵ سے ۳۰ فیصد عورتوں میں غیرواضح میٹاسٹاسس ہوگا جو شروع میں علامات ظاہر کرنے کیلئے نہایت چھوٹا ہوگا۔ کیموتھراپی کیمیاوی عوامل کے ذریعے طریقۂعلاج ہے جو ان خلیوں کو تلف کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جو جسم کے دیگر حصوں کو متاثر کرتے ہیں۔
کیموتھراپی (کیمیاوی عوامل سے علاج) اپنے اثر میں محدود ہے کیونکہ سرطانی رسولیاں ایسے مختلف خلیوں سے بنی ہوتی ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے طور پر ادویات سے اثرپزیر ہوتا ہے۔ وہ خلیے جو علاج سے بچ نکلتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ادویات کی مدافعت کرنے والی رسولیوں کی ایک نئی نسل کو جنم دیں۔ لیکن جنوری ۱۹۹۲ کے دی لنسٹ کے شمارے نے اس بات کی شہادت فراہم کی کہ کیموتھراپی نے ایک عورت کی عمر پر انحصار کرتے ہوئے اسکے لئے ایک اور دہے تک زندہ رہنے کے امکان کو ۵ سے ۱۰ فیصد بڑھا دیا۔
کیموتھراپی کے ضمنیاثرات میں جی متلانا، قے، بالوں کا جھڑنا، خون جاری ہونا، دل کو نقصان، بیماری کے خلاف مدافعت کا خاتمہ، بانجھپن اور لوکیمیا (خون میں سفید خلیوں کی افراط) شامل ہو سکتے ہیں۔ جاؔن کیرنز نے سائنٹفک امریکن میں لکھتے ہوئے، تبصرہ کیا: ”ایک ایسے مریض کیلئے جسے آخری مراحل میں اور تیزی سے بڑھنے والا کینسر ہے ہو سکتا ہے کہ یہ نسبتاً معمولی خطرات دکھائی دیں، لیکن ایک ایسی خاتون کیلئے جسے چھاتی کا چھوٹا [۱ سینٹی میٹر] کا اور بظاہر محدود کینسر ہے یہ سنجیدہ قابلِغور حالتیں ہونگی۔ اگر وہ سرجری کے بعد کوئی اضافی علاج نہ بھی کروائے تو بھی اسکا اپنے کینسر کی وجہ سے پانچ سال کے اندر اندر مر جانے کا امکان تقریباً ۱۰ فیصد ہے۔“
ہارمون تھراپی۔ اینٹیایسٹروجن تھراپی ایسٹروجن کی نشوونما کو تحریک دینے والے اثرات ختم کر دیتی ہے۔ یہ قبلازبندشِ حیض والی عورتوں میں بیضہدانیوں کے جراحی یا ٹاموکسیفن جیسی ادویات کے ذریعے ہٹائے جانے سے ایسٹروجن لیول کو کم کرنے سے انجام دیا جاتا ہے۔ دی لنسٹ نے ان دونوں میں سے کوئی بھی طریقۂعلاج اختیار کرنے والی ہر ۱۰۰ میں سے ۸ سے ۱۲ کیلئے دس سال تک زندہ رہنے کی شرح کی رپورٹ دی۔
چھاتی کے کینسر والی کسی بھی عورت کیلئے بعد کی دیکھ بھال ایک زندگی بھر کی دوڑ دھوپ ہے۔ محتاط نگرانی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر علاج کا ایک منظم منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے اور بیماری پھر سے لوٹ آتی ہے تو علاج کے دیگر طریقے ہو سکتا ہے کہ درکار ذریعہ فراہم کریں۔
ایک اور قسم کی کینسر تھراپی جو مختلف طریقے سے اثرانداز ہوتی ہے وہ ایک پیچیدہ بیماری جو کہ کاکیکسیا (جسمانی اعضا کا گھلنا اور غذائی کمی) کہلاتی ہے کے گرد گھومتی ہے۔ جریدہ کینسر ریسرچ وضاحت کرتا ہے کہ کینسر سے ہونے والی تمام اموات کا دو تہائی کاکیکسیا کے باعث ہوتا ہے، یہ ایک اصطلاح ہے جو عضلات اور دیگر ٹشوز (نسیج) کے کمزور پڑنے کو بیان کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ ریاستہائے متحدہ کے سیراکیوز کینسر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر جوؔزف گولڈ، جاگو! کو بتاتے ہیں: ”ہم محسوس کرتے ہیں کہ ایک رسولی خود کو جسم میں اس وقت تک پھیلا نہیں سکتی جبتک کہ کاکیکسیا کیلئے بائیوکیمیکل راستے کھلے نہیں ہیں۔“ نانٹاکسک ڈرگ ہائڈرازین سلفیٹ کو استعمال کرتے ہوئے ایک طبّی مطالعے نے یہ ظاہر کیا کہ ان میں سے بعض راستوں کو بند کیا جا سکتا ہے۔ چھاتی کے کینسر کے آخری مراحل والے مریضوں میں سے ۵۰ فیصد کے سلسلے میں توازن بحال کر لیا گیا تھا۔
ایسے متبادل جنکی پہچان بطور امدادی طب کے ہوتی ہے انہیں بعض عورتوں نے چھاتی کے کینسر کیلئے غیرجراحی یا نانٹاکسک علاج فراہم کرتے پایا ہے۔ علاج مختلف ہیں، بعض غذا اور جڑی بوٹیوں کا استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ ہوکسی تھراپی۔ لیکن کسی کو ان چند علاج معالجوں کی تاثیر کی تشخیص کے قابل بنانے والی شائع شُدہ تحقیق ناکافی ہے۔
جبکہ یہ مضمون بچاؤ کی تدابیر پیش کرنے کے لئے ترتیب دیا گیا ہے، یہ جاگو! کی پالیسی نہیں کہ کسی علاج کی تصدیق کرے۔ ہم سب کی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ اس بیماری کے علاج کے سلسلے میں اِن مختلف طریقوں کا محتاط جائزہ لیں۔—امثال ۱۴:۱۵۔
دباؤ اور چھاتی کا کینسر
جریدہ ایکٹا نیورولوجیکا میں، ڈاکٹر ایچ. بالترؔش واضح کرتے ہیں کہ شدید اور طویل دباؤ جسم کے مدافعتی نظام میں رسولی کے خلاف بچاؤ کو کم کر سکتا ہے۔ عورتیں جو تھکی ہوئی، مایوسی کا شکار، یا جذباتی حمایت سے عاری ہوتی ہیں انکا مدافعتی نظام تقریباً ۵۰ فیصد خطرے کی زد میں ہوتا ہے۔
پس، ڈاکٹر بیزؔل سٹول نے، ذہن اور کینسر کے امکان، (انگریزی) میں لکھتے ہوئے زور دیا: ”کینسر کے مریضوں میں انکی بیماری کے علاج کے دوران اور بعد میں ناگزیر جسمانی اور ذہنی اضطراب کو کم سے کم کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کی جانی چاہئے۔“ لیکن کس قسم کی حمایت درکار ہے؟ (۶ ۴/۸ g۹۴)
[عبارت]
جبکہ کوئی بھی معروف غذا کینسر سے شفا نہیں دے سکتی، بعض غذاؤں کو کھا لینا اور دیگر سے پرہیز کرنا احتیاطی تدابیر ہو سکتی ہیں۔ ”مناسب غذا کا استعمال آپکے لئے کینسر کے خطرے کو پچاس فیصد کم کر سکتا ہے،“ ڈاکٹر لیوؔنارڈ کوہن نے بیان کیا
[عبارت]
چھاتی کے کینسر کا شروع ہی میں دریافت کر لیا جانا چھاتی کے کینسر کے علاج کے سلسلے میں سب سے اہم ہے،“ اشاعت ”ریڈیولاجک کلینکس آف نارتھ امریکہ“ کہتی ہے۔ اس سلسلے میں تین کلیدی اقدام یہ ہیں: چھاتی کا باقاعدہ ذاتی معائنہ، ڈاکٹر سے سالانہ معائنہ اور میموگرافی
[عبارت]
عورتیں جو تھکی ہوئی، مایوسی کا شکار، یا جذباتی حمایت سے عاری ہیں انکا مدافعتی نظام خطرے میں ہو سکتا ہے
[بکس]
ذاتی معائنہ—ماہانہ چیکاپ
چھاتی کا ذاتی معائنہ ایامِماہواری کے چار سے سات دن کے بعد کیا جانا چاہئے۔ بعدازبندشِ حیض والی عورتوں کو بھی ہر ماہ اسی دن پر چیک کرنے کی ضرورت ہے۔
ہر ماہ اسی دن پر دیکھی جانے والی علامات
• چھاتی میں کسی بھی سائز کی (چھوٹی یا بڑی) گلٹی یا کوئی سخت چیز۔
• چھاتی کی جلد میں سوجن، گڑھا پڑ جانا، یا رنگت میں خرابی۔
• سرِپستان (نپل) کا سکڑ جانا یا اندر کی طرف دب جانا۔
• نپل پر سرخ دانوں یا چھلکوں کا نمودار ہونا یا سیال کا بہنا۔
• بغل کے نیچے بڑھے ہوئے غدود۔
• چھاتی کے تلوں یا نشانوں میں تبدیلی۔
• چھاتیوں میں تشاکُل کا واضح بگاڑ جو کہ نارمل سے یکسر مختلف ہے۔
ذاتی معائنہ
کھڑے ہو کر، بایاں بازؤ اوپر اٹھائیں۔ دائیں ہاتھ کو استعمال کرتے ہوئے اور چھاتی کے باہر کے کنارے سے شروع کرکے، انگلیوں کے پپوٹوں کو آہستہ آہستہ چھاتی کے اردگرد اور نپل کی جانب، گولائی میں گھمائیں۔ بغل اور چھاتی کے درمیانی حصے پر بھی توجہ دیں۔
سیدھا لیٹ کر، بائیں کندھے کے نیچے ایک تکیہ رکھیں، اور بائیں بازؤ کو سر کے اوپر یا نیچے رکھیں۔ ویسے ہی گولائی والے عمل کو دُہرائیں جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ دائیں طرف کیلئے اسکے برعکس۔
کسی قسم کے اخراج کو چیک کرنے کیلئے نپل کو نرمی سے دبائیں۔ دائیں چھاتی کیلئے بھی اسی عمل کو دُہرائیں۔