عورتوں کو چھاتی کے کینسر کی بابت جو کچھ جاننا چاہئے
ہر برّاعظم میں چھاتی کے کینسر کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق، سن ۲۰۰۰ تک پوری دنیا میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے تقریباً ایک ملین نئے مریضوں کی تشخیص ہوگی۔
کیا کوئی عورت اس بیماری کے لگنے سے محفوظ ہے؟ کیا اسے روکنے کیلئے کچھ کِیا جا سکتا ہے؟ اور جو اس دشمن کا سامنا کر رہی ہیں انہیں کسقدر تسلی اور حمایت کی ضرورت ہے؟
جِلد کے زیادہتر کینسر سورج سے الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے زیادہتر کینسر سگریٹنوشی کے باعث ہوتے ہیں۔ لیکن چھاتی کے کینسر کیلئے کوئی ایک وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
تاہم، حالیہ تحقیق کے مطابق، توارثی، ماحولیاتی اور ہارمونل عوامل چھاتی کے کینسر میں کچھ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عورتیں جو ان عوامل کے سامنے غیرمحفوظ ہیں اضافی خطرے کا شکار ہو سکتی ہیں۔
خاندانی ہسٹری
عورت جس کے خاندان کے کسی فرد کو چھاتی کا کینسر ہے، جیسے کہ ماں، بہن، یا ماں کی طرف سے خالہ یا نانی، اُس کا اِس میں مبتلا ہو جانے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ اگر ان میں سے متعدد کو یہ بیماری تھی تو اسکے لئے خطرہ اور زیادہ ہے۔
ریاستہائے متحدہ میں، علمِتوالدوتناسل کی ماہر ڈاکٹر پیٹرؔیشیا کیلی جاگو! کو بتاتی ہیں کہ اگرچہ توارثی عوامل شامل ہیں، یہ چھاتی کے تمام سرطانوں میں سے صرف ۵ سے ۱۰ فیصد کے ذمہدار ہو سکتے ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ”ہمارے خیال میں، ایک غیرمعین تعداد توارثی اور ماحولیاتی دونوں عوامل کے اکٹھا کام کرنے کی وجہ سے ہے۔“ خاندان میں ایک ہی طرح کے توارثی عنصر کے حامل لوگ ایک جیسے ماحول میں رہنے کی طرف بھی مائل ہونگے۔
ماحولیاتی عوامل
سائنس جریدے میں تبصرہ کرتے ہوئے، ایک اسکالر ڈیوؔرا ڈیوس نے کہا کہ بیماری کو شروع کرنے میں ”واضح طور پر قابلِفہم، ماحولیاتی عناصر شامل ہیں۔“ چونکہ عورت کی چھاتی جسم کے تابکاری طور پر اثرپزیر ہونے والے حصوں میں سے ایک ہے، اسلئے برقی شعاعوں کے سامنے غیرمحفوظ خواتین میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح وہ ان میں بھی جو زہریلے کیمیکلز کے سامنے غیرمحفوظ ہیں۔
ایک اور ماحولیاتی عنصر غذا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ شاید یہ وٹامنز (حیاتین) کی کمی پر منتج بیماری ہے اور وٹامن ڈی کی کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ وٹامن جسم کو کیلسیم جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں، جو کہ خلیوں کی بےقابو نشوونما کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
دیگر مطالعے غذا میں روغن کو ایک سبب کے طور پر تو نہیں، لیکن چھاتی کے کینسر کو تقویت دینے والے سے منسلک کرتے ہیں۔ رسالہ ایفڈیاے کنزیومر نے بیان کیا کہ ریاستہائے متحدہ جیسے ممالک میں جہاں روغن اور جانور کی پروٹین (لحمیات) بہت زیادہ کھائی جاتی ہیں، چھاتی کے کینسر کے باعث شرحِاموات بہت زیادہ ہے۔ اس نے تبصرہ کیا: ”تاریخی اعتبار سے جاپانی عورتوں میں، چھاتی کے کینسر کا خطرہ بہت کم ہے، لیکن کھانے کی عادات میں بیکوقت ’مغربی رنگ میں رنگ لینے‘ کیساتھ ساتھ؛ یعنی، کم مرغن غذا سے زیادہ مرغن غذا کے باعث، یہ خطرہ ڈرامائی طور پر بڑھ رہا ہے۔“
ایک حالیہ مطالعے نے تجویز کیا کہ زیادہ مرغن غذا میں استعمال ہونے والے حراروں کی بڑی تعداد حقیقی خطرہ پیش کر سکتی ہے۔ سائنس نیوز نے بیان کیا: ”ہر فالتو حرارہ چھاتی کے کینسر کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے، جس میں روغن سے حاصلشُدہ ہر حرارہ دوسرے ذرائع سے حاصلشُدہ حراروں کی نسبت تقریباً ۶۷ فیصد زیادہ خطرے کا باعث ہے۔“ اضافی حرارے وزن بڑھا سکتے ہیں اور عورتیں جنکا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے ان کی بابت خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ تین گُنا زیادہ ہوتا ہے، بالخصوص عورتیں جو سنیاس سے گزر چکی ہیں۔ بدن کی چربی ایسٹروجن پیدا کرتی ہے جو ایک عورت کا ایک ایسا ہارمون ہے جو کہ چھاتی کے ٹشوز پر منفی اثر مرتب کرنے سے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔
ذاتی ہسٹری اور ہارمونز
عورت کی چھاتی کے اندر ہارمونز کا ایک ایسا ماحول پایا جاتا ہے جو کہ اسکی پوری زندگی کے دوران چھاتی میں تبدیلیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔ ایک سرجیکل آنکالوجسٹ (رسولی کے سرجن)، ڈاکٹر پالؔ کری، آسٹریلیئن ڈاکٹر ویکلی میں لکھتے ہیں: ”تاہم، بعض عورتوں میں، چھاتی کے ٹشوز کا بہت دیر تک ہارمون مہیج میں رہنا . . . خلیوں میں مسلسل تبدیلی کا باعث بنیگا جو کہ انجامکار جانلیوا [سرطانی] تغیر کا باعث ہوتا ہے۔“ اسی لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورتیں جن میں ماہواری بہت جلد تقریباً ۱۲ سال کی عمر تک شروع ہو جاتی ہے، یا حیض کی دائمی بندش بہت تاخیر سے، ۵۰ کے دہے میں ہوتی ہے، ان میں خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ایآرٹی (ایڈیشنل ایسٹروجن تھراپی) سے حاصلشُدہ اضافی ایسٹروجنز بھی چھاتی کے کینسر کیساتھ ممکنہ تعلق رکھنے کے سلسلے میں مباحثے کا موضوع بنا رہا ہے۔ جبکہ بعض مطالعے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایآرٹی سے کسی بھی طرح سے اضافی خطرہ نہیں، دیگر مطالعے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل عرصہ تک ایآرٹی استعمال کرنے والوں کیلئے کافی خطرہ ہے۔ نظرثانیشُدہ مطالعوں پر غوروخوض کرتے ہوئے، ۱۹۹۲ کے برٹش میڈیکل بلیٹن نے بیان کیا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ زیادہ دیر تک استعمال کے بعد ”غیر مانعحمل ایسٹروجن چھاتی کے کینسر میں ٪۵۰-۳۰ خطرات کا اضافہ کرتا ہے۔“
مانعحمل، خوردنی ادویات اور چھاتی کے کینسر کے مابین تعلق پر رپورٹیں ان کے استعمال سے بہت ہی کم خطرے کا خیال پیش کرتی ہیں۔ تاہم، عورتوں کا ایک ایسا ذیلی گروہ بھی منظرعام پر آیا ہے جنہیں بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ نوجوان عورتیں، عورتیں جنکے کبھی بچے نہیں ہوئے اور وہ عورتیں جنہوں نے عرصہدراز تک مانعحمل گولیوں کا استعمال کیا ہے، ان میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ تقریباً ۲۰ فیصد زیادہ ہو سکتا ہے۔
اسکے باوجود، چھاتی کے کینسر سے متاثرہ ہر ۴ عورتوں میں سے ۳ کسی خاص چیز کی نشاندہی نہیں کر سکتیں جو انکے بیماری میں مبتلا ہونے کا سبب بنی ہے۔ اسلئے یہ سوال کیا جاتا ہے، کیا کسی عورت کو خود کو چھاتی کے کینسر سے محفوظ خیال کرنا چاہئے؟ ایفڈیاے کنزیومر رپورٹ کرتا ہے: ”کلینک چلانے والوں کے نقطۂنظر سے، تمام عورتوں کا علاج اسی طرح کیا جانا چاہئے گویا کہ وہ چھاتی کے کینسر کے واضح خطرے میں ہیں۔“
پس، خواتین، بالخصوص وہ جو بڑی عمر کی ہیں اس بیماری کے سامنے غیرمحفوظ ہیں۔ ڈاکٹر کیلیؔ تبصرہ کرتی ہیں کہ اگرچہ چھاتی کے کینسر کی مختلف وجوہات ہیں، ’میرا خیال ہے ان میں سے بعض محض بوڑھے ہو جانے اور خلیوں کی ناقص تقسیم کی وجہ سے ہیں۔‘
جس وجہ سے غیرمحفوظ
عورت کی چھاتی کی ساخت کا معائنہ کرنا توجیہ کرتا ہے کہ یہ کینسر کیلئے اسقدر غیرمحفوظ کیوں ہے۔ اس کے اندر مسام، باریک راستے ہوتے ہیں، جو کہ دودھ کو دودھ پیدا کرنے والی تھیلیوں سے سرِپستان (نپل) تک لیجاتے ہیں۔ ان نالیوں کے استر میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کہ عورت کی ماہواری کے ردعمل میں، اسے حمل کیلئے، دودھ کے اخراج اور اپنے بچے کو دودھ پلانے کیلئے تیار کرنے کی غرض سے، متواتر تقسیم ہوتے اور بدلتے رہتے ہیں۔ یہ انہی نالیوں ہی میں ہے جہاں زیادہتر چھاتی کے کینسر نشوونما پاتے ہیں۔
کتاب متبادل: چھاتی کے کینسر کے خلاف جنگ میں نئے انکشافات، (انگریزی) میں، محقق رؔوز کوشنر بیان کرتی ہیں: ”کوئی بھی طریقِکار جو مستقل طور پر ایک یا دوسری مداخلت کی وجہ سے درہمبرہم ہوتا رہتا ہے—اگر وہ مکمل طور پر قدرتی ہو تو بھی—غلطیاں کرنے کے بہت زیادہ خطرے میں ہوتا ہے۔“ وہ مزید کہتی ہیں: ”حد سے زیادہ کام کرنے والا چھاتی کا خلیہ ہمیشہ کسی نہ کسی ہارمون کی طرف مائل ہوتا ہے جو کہ اسے حکم دیتا ہے، ’وہ کرنا بند کرو۔ یہ کرنا شروع کرو۔‘ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ نئے پیدا ہونے والے بہت زیادہ خلیے قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔“
چھاتی کا کینسر اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک بےترتیب خلیے کی افزائش ہوتی ہے، اپنے نشوونما پانے کے طریقۂکار پر کنٹرول کھو بیٹھتا ہے اور بڑی تیزی سے نئے خلیوں کو جنم دینا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے خلیے افزائش بند نہیں کرتے، اور جلد ہی وہ گردوپیش کے صحتمند ٹشوز کو گھیرے میں لے لیتے ہیں یعنی ایک صحتمند عضو کو بیمار عضو میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
میٹاسٹاسس
جب کینسر چھاتی تک ہی محدود ہوتا ہے تو موذی مرض کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ جب چھاتی کا کینسر جسم کے دُوردراز کے حصوں تک پھیل جاتا ہے تو اسے میٹاسٹیٹک چھاتی کا کینسر کہتے ہیں۔ عموماً یہی چھاتی کے کینسر کے مریضوں میں موت کا سبب بنتا ہے۔ جُوں جُوں کینسر کے خلیے چھاتی میں افزائش پاتے ہیں اور رسولی حجم میں بڑھتی ہے تو کینسر کے خلیے خاموشی سے اور خفیہ طور پر ابتدائی رسولی کی جگہ سے باہر آ سکتے اور خون کی نالیوں کی دیواروں اور لِمف نوڈز میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اس مرحلے پر رسولی کے خلیے جسم کے دُوردراز حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر وہ جسم کے مدافعتی نظام میں داخل ہو جاتے ہیں، جس میں خون اور لِمف سیّال میں گردش کرنے والے نیچرل کیلر سیلز (خراب خلیوں کو تلف کرنے والے خلیے) بھی شامل ہیں تو جانلیوا خلیے جگر، پھیپھڑوں اور دماغ جیسے اہم اعضا میں بسیرا کر سکتے ہیں۔ وہاں وہ ان اعضا میں سرطان پیدا کرنے کے بعد، ایک بار پھر بڑھنا اور پھیلنا شروع کر سکتے ہیں۔ جب ایک بار میٹاسٹاسس شروع ہو جاتا ہے تو ایک عورت کی زندگی خطرے میں ہے۔
اسلئے، بچاؤ کی خاطر یہ اشد ضروری ہے کہ چھاتی کے کینسر کی تشخیص اسکے ابتدائی مراحل ہی میں ہو جائے، اس سے پہلے کہ اسے پھیلنے کا موقع ملے۔ اوائل میں تشخیص کے امکانات کو ترقی دینے کیلئے ایک عورت کیا کر سکتی ہے؟ کیا شروع ہی میں چھاتی کے کینسر کو روکنے میں مدد دینے کیلئے کچھ کیا جا سکتا ہے؟ (۳ ۴/۸ g۹۴)
[عبارت]
چھاتی کے کینسر سے متاثرہ ہر ۴ عورتوں میں سے ۳ کسی خاص چیز کی نشاندہی نہیں کر سکتیں جو بیماری میں مبتلا ہونے کا باعث بنی ہے