ہمیت کی حامل حمایت
”مجھے موت کے خوف اور افسردگی کے اوقات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت تھی،“ ارجنٹینا سے یہوؔواہ کی ایک گواہ وؔرجینیا بیان کرتی ہے۔ چھاتی کے کینسر کے خلاف اپنی کوشش میں اُسے دونوں بیضہدانیاں نکلوانی پڑیں اور ریڈیکل ماسٹکٹومی کروانا پڑی۔a
یقیناً، چھاتی کے کینسر کے نتیجے میں موت کا ڈر ہمہگیر ہے۔ یہ ڈر اور اسکے ساتھ نسوانیت اور پرورش کرنے کی صلاحیت سے وابستہ نقصان اور معذوری کا خوف، جذباتی طور پر ایک عورت کی زندگی کو تباہوبرباد کر سکتا ہے۔ تنہائی کے ناقابلِبرداشت احساسات جلد ہی اسے ناامیدی کی بےپایاں گہرائیوں میں دھکیل سکتے ہیں۔ کیسے وہ اس طرح کے جذباتی حملے سے بچ سکتی ہے؟
حمایت کی ضرورت
”اُسے حمایت کی ضرورت ہے!“ ریاستہائے متحدہ سے جوؔن جواب دیتی ہے۔ اسکی اپنی ماں اور نانی چھاتی کے کینسر کا شکار تھیں اور اب وہ بھی ان جیسی مشکل سے دوچار ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب خاندان کے وفادار ممبران اور دوست تسلیبخش حمایت اور مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ جوؔن کا شوہر ٹیرؔی اسکے لئے ایک مضبوط مثبت حامی بن گیا۔ ٹیرؔی وضاحت کرتا ہے: ”میری حالت جہاں تک میں اسے سمجھا، ایک متوازن اثر ہونے والا تھی۔ مجھے جوؔن کو علاج کے سلسلے میں ایسے فیصلے کرنے میں مدد دینے کی ضرورت تھی جو اسے بےحوصلہ نہیں بلکہ مقابلہ کرنے کیلئے اعتماد اور ہمت عطا کرینگے۔ کینسر سرجری سے متعلق اس کا خوف ایک ایسی چیز تھی جس پر ہمیں قابو پانا تھا اور میں اس کا یقین کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ اسکے سوالات اور ڈر ڈاکٹر کیساتھ ہماری بات چیت کے دوران زیرِبحث آ جائیں۔“ ٹیرؔی نے اضافہ کیا: ”یہ ایسی چیز ہے جو ہم اپنے خاندانوں اور ان ساتھی مسیحیوں کیلئے کر سکتے ہیں جنہیں خاندان کی طرف سے حمایت حاصل نہیں۔ طبّی عملے کے سامنے ہم ان کی آنکھیں، کان اور آواز بن سکتے ہیں۔“
وہ جو تنہا یا بیوہ ہیں انہیں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آسٹرؔیلیا سے ڈؔائینا ہمیں بتاتی ہے: ”پانچ سال پہلے میرا شوہر کینسر کے آپریشن کے بعد وفات پا گیا، لیکن میرے بچوں نے اس کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دی۔ وہ مہربان مگر جذباتی نہ تھے۔ اس چیز نے مجھے قوت بخشی۔ ہر کام بڑی تیزی اور دلجمعی سے کِیا جا رہا تھا۔“
چھاتی کا کینسر پورے خاندان پر جذباتی اثر ڈالتا ہے۔ اسلئے وہ سب دوسروں کی طرف سے (اگر وہ یہوؔواہ کے گواہ ہیں تو بالخصوص، اپنے روحانی بہن اور بھائیوں سے) پُرمحبت فکرمندی اور حمایت کی حاجتمند ہیں۔
ریاستہائے متحدہ سے، ربیکاؔ نے، جس کی ماں چھاتی کے کینسر میں مبتلا تھی، وضاحت کی: ”کلیسیا آپکا ایک وسیعتر خاندان ہے اور اسکی کارکردگی آپکے جذبات پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگرچہ بہتیرے ذاتی طور پر اس غیرمعمولی علاج سے متفق نہیں تھے جسکا انتخاب میری ماں نے کیا تھا، تو بھی انہوں نے ٹیلیفون کالوں اور ملاقاتوں سے جذباتی طور پر ہماری حمایت کی۔ بعض تو آتے اور اسکے لئے خاص کھانا تیار کرنے میں مدد بھی دیتے تھے۔ بزرگوں نے ٹیلیفون پر رابطے کا انتظام کیا تاکہ ہم اجلاس سے کبھی محروم نہ رہ جائیں۔ کلیسیا نے پیسوں کے تحفے کیساتھ کارڈ بھی بھیجا۔“
جوؔن تسلیم کرتی ہے: ”آج بھی، جب میں اس محبت کی بابت سوچتی ہوں جسکا مظاہرہ میرے روحانی بہن بھائیوں نے کیا، تو میرے جذبات اُمنڈ آتے ہیں! سات ہفتوں تک، میری شفیق بہنیں، ہفتے میں پانچ دن مجھے ہسپتال لے جانے اور واپس لانے کیلئے باری باری جاتی رہیں۔ اور آنے جانے کا یہ فاصلہ ۱۵۰ کلومیٹر کا تھا! مسیحی برادری کی اس عظیم بخشش کیلئے میں یہوؔواہ کی کسقدر شکرگزار ہوں!“
ایک اور طریقہ جس سے ہم سب حوصلہافزا اور حمایتی ثابت ہو سکتے ہیں وہ ہمارے تعمیری تبصرے ہیں۔ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم منفی چیزوں پر متواتر گفتگو کرتے رہنے سے نادانستہ طور پر تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ جنوبی افریقہ سے جینؔ بیان کرتی ہے: ”ہم کسی ایسے شخص سے جسے کینسر نہیں ہوا اسکی بابت درست بات کی توقع نہیں کر سکتے۔ میرے اپنے معاملہ میں، مجھے محسوس ہوتا تھا کہ دوسروں کیلئے یہی بہتر تھا کہ وہ کینسر کے واقعات کا ذکر نہ کریں تاوقتیکہ انکے نتائج اچھے تھے۔“ جاپان سے نوؔریکو اتفاق کرتی ہیں: ”اگر لوگ مجھے کسی ایسے شخص کی بابت بتاتے ہیں جو دوبارہ اس میں مبتلا ہونے کی بجائے صحتیاب ہو گیا تو، پھر مجھے بھی اُمید ہوتی تھی کہ میں بھی انکی مانند ہو جاؤنگی۔“
یاد رکھیں بعض عورتیں ہر وقت اپنی صحت کی بابت بات کرنے کو پسند نہیں کرینگی۔ تاہم دیگر کو اپنی صحت کی خاطر چھاتی کے کینسر سے متعلق اپنے تجربے کی بابت گفتگو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بالخصوص انکے ساتھ جو قریبی ہیں۔ کوئی کیسے یہ جان سکتا ہے کہ سب سے زیادہ فائدہمند چیز کیا ہے؟ ریاستہائے متحدہ سے، ہیلنؔ مشورہ دیتی ہیں: ”اس سے پوچھیں کہ آیا وہ اسکی بابت کچھ کہنا چاہتی ہے اور اسے باتچیت کا موقع دیں۔“ جیہاں، ”سننے کیلئے تیار رہیں،“ ڈنمارک سے اؔنجلیز کہتی ہے، ”اسکے ساتھ رہیں محض اسلئے تاکہ وہ تنہا اپنے افسردہ خیالات میں نہ کھوئی رہے۔“
مثبت نظریے کی جانب کام کرنا
چھاتی کے کینسر کا علاج کسی مریض کو، ہفتوں، مہینوں، یا سالوں کیلئے سخت کمزور اور تھکن میں مبتلا کر سکتا ہے۔ چھاتی کے کینسر میں مبتلا ایک عورت کیلئے سب سے بڑی آزمائش اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے کہ اب وہ پہلے جتنا کام نہیں کر سکتی۔ اپنی جسمانی کمزوریوں کو تسلیم کرنے کا مطلب اُسکا اپنی کارکردگی کو محدود کرنا اور دن کے دوران آرام کرنا ہوگا۔
جب افسردگی طاری ہوتی ہے تو مثبت رجحان قائم رکھنے کیلئے فوری اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ نوؔریکو اپنا تجربہ بیان کرتی ہے: ”ہارمون کے ذریعے علاج کے نتائج نے مجھے مایوسی میں دھکیل دیا۔ اس حالت میں میں وہ کام نہیں کر سکتی تھی جو میں کرنا چاہتی تھی اور یوں میں نے خود کو یہوؔواہ کیلئے اور مسیحی کلیسیا میں ناکارہ محسوس کرنا شروع کر دیا۔ جوں جوں میری سوچ زیادہ منفی ہوتی گئی، میں اپنے ذہن میں اپنے خاندان کے ان افراد کی آخری تکالیف کی بابت سوچنے لگی جو کینسر سے مر گئے تھے۔ جب میں یہ سوچتی کہ ’کیا میں انکی طرح برداشت کر سکوں گی؟‘ تو مجھ پر خوف طاری ہو جاتا۔“
نوؔریکو مزید کہتی ہے: ”یہی وہ وقت تھا جب میں نے خود کو اس بات کا احساس دلانے کیلئے کہ یہوؔواہ ہماری موجودگی کو کیسا خیال کرتا ہے، یہوؔواہ کے گواہوں کی اشاعتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے، اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ میں نے یہ سمجھ لیا کہ خدائی عقیدت کا اظہار کام کی مقدار سے نہیں، بلکہ اس محرک سے کیا جاتا ہے جس کے تحت یہ کیا ہے۔ چونکہ میں چاہتی تھی کہ یہوؔواہ میرے دل کی کیفیت اور میری سوچ سے خوش ہو، میں نے فیصلہ کِیا کہ اگرچہ میں مسیحی خدمتگزاری میں بہت کم کام کر سکتی ہوں تو بھی میں خوشی سے اور پورے دلوجان سے اسکی خدمت کرونگی۔“
چھاتی کے کینسر کا مقابلہ کرنے والی بہتیری عورتوں کیلئے طویل غیریقینی مثبت نقطۂنظر کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈؔائینا بیان کرتی ہے کہ جس چیز نے اسکی سب سے زیادہ مدد کی ہے وہ اپنے دلودماغ کو ان خوبصورت چیزوں سے بھرنا ہے جو یہوؔواہ خدا نے اسے بخشی ہیں: ”میرا خاندان، دوست، دلکش موسیقی، ٹھاٹھیں مارتے سمندر اور خوبصورت غروبِآفتاب کا نظارہ۔“ وہ خاص طور پر حوصلہافزائی کرتی ہے: ”دوسروں کو خدا کی بادشاہت کی بابت بتائیں۔ اور بادشاہت کے تحت زمین پر جو حالتیں عام ہونگی، جہاں بیماری باقی نہ رہیگی، انکے لئے حقیقی شدید خواہش پیدا کریں!“—متی ۶:۹، ۱۰۔
ورجینیاؔ بھی زندگی میں اپنے مقصد پر غوروخوض کرنے سے اپنی افسردگی کا مقابلہ کرنے کی قوت پاتی ہے: ”میں واقعی زندہ رہنا چاہتی ہوں کیونکہ میرے پاس کرنے کیلئے بہت گراںبہا کام ہے۔“ جہاں تک ان اوقات کا تعلق ہے جب مشکل لمحات ہوتے ہیں اور خوف طاری ہوتا ہے تو وہ کہتی ہے: ”میں یہوؔواہ پر اپنا کامل بھروسہ رکھتی ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ وہ کبھی مجھے ترک نہیں کریگا۔ اور میں زبور ۱۱۶:۹ کی بائبل آیت کی بابت سوچتی ہوں، جو مجھے یقیندہانی کراتی ہے کہ میں ’زندوں کی زمین میں خداوند کے حضور چلتی رہونگی۔‘“
ان تمام عورتوں نے اپنی اُمید بائبل کے خدا یہوؔواہ پر لگائی ہے۔ ۲-کرنتھیوں کے نام بائبل کی کتاب، باب ۱، آیت ۳ اور ۴ میں یہوؔواہ کو ”ہر طرح کی تسلی کا خدا،“ کہتی ہے ”جو ہماری سب مصیبتوں میں ہم کو تسلی دیتا ہے۔“ کیا یہوؔواہ انکی حمایت کرنے کیلئے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے جو تسلی کے حاجتمند ہیں؟
جاپان سے میکوؔ جواب دیتی ہے: ”مجھے اس کا پورا یقین ہے کہ یہوؔواہ کی خدمت میں مصروف رہنے سے، مجھے یہوؔواہ کی طرف سے حقیقی اطمینان اور مدد حاصل ہوتی ہے۔“ یوؔشیکو بھی ہمیں بتاتی ہے: ”اگرچہ لوگ شاید میری تکلیف کو نہ بھی سمجھیں، یہوؔواہ سب کچھ جانتا ہے اور مجھے یقینکامل ہے کہ اس نے میری ضروریات کے مطابق مدد کی ہے۔“
جوؔن کہتی ہے: ”دعا آپکو افسردگی سے نکالنے اور آپکو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ جب میں اس عظیم شفا کی بابت سوچتی ہوں جو زمین پر رہتے ہوئے یسوؔع نے انجام دی اور مکمل شفا جو وہ نئی دنیا میں دیگا، تو یہ الفاظ مجھے کسقدر اطمینان بخشتے ہیں!“—متی ۴:۲۳، ۲۴؛ ۱۱:۵؛ ۱۵:۳۰، ۳۱۔
کیا آپ چھاتی کے کینسر، درحقیقت، کسی بھی طرح کی بیماری سے بالکل پاک دنیا کا تصور کر سکتے ہیں؟ ہر طرح کے اطمینان کے خدا، یہوؔواہ نے یہ وعدہ کیا ہے۔ یسعیاہ ۳۳:۲۴ ایسے وقت کی بابت بیان کرتی ہے جب زمین پر کوئی باشندہ یہ نہ کہے گا کہ وہ بیمار ہے۔ یہ اُمید جلد پوری ہو جائیگی جب خدا کی بادشاہت اس کے بیٹے یسوؔع مسیح کے ہاتھوں میں، بیماری، دکھ اور موت کی ہر وجہ کو بالکل ختم کرتے ہوئے، زمین پر حکمرانی شروع کرتی ہے! کیوں نہ مکاشفہ ۲۱:۳ تا ۵ میں اس شاندار اُمید کی بابت پڑھیں؟ اس حمایت کیساتھ مستقبل کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھیں جو کہ حقیقی اطمینان بخشتی ہے۔ (۱۱ ۴/۸ g۹۴)
[فٹنوٹ]
a قبلازبندشِ حیض والی عورتوں میں بیضہدانیاں ایسٹروجن کا خاص ماخذ ہوتی ہیں۔