ماں کے دودھ کی حمایت میں ثبوت
نائیجریا میں اویک! کے مراسلہ نگار سے
بچے کی ایک ایسی خوراک کا تصور کریں جو لذیذ، زودہضم، اور نشوونما پانے والے شیرخواروں کی تمام غذائی ضروریات پر پوری اترتی ہے۔ ایک ایسی خوراک جو ایک ”حیرانکن دوا“ ہے جو بیماری کے خلاف حفاظت کرتی اور اسکا علاج بھی کرتی ہے۔ ایک ایسی غذا جس کی کوئی قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی اور جو زمین پر ہر جگہ خاندانوں کیلئے آسانی سے دستیاب ہے۔
کیا آپ کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے؟ تاہم ایسی چیز موجود ہے اگرچہ سائنسدانوں نے اسے تیار نہیں کیا۔ یہ ماں کا دودھ ہے۔
نوعانسان کی پوری تاریخ میں اس شاندار خوراک کو بچے کی بہتری کیلئے قطعی ضروری خیال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ جب فرعون کی بیٹی کو شیرخوار موسی ملا تو اس نے اسکی بہن کو ”ایک دائی“ لانے کا حکم دیا تاکہ اس بچے کی پرورش کرے۔ (خروج ۲:۵-۹) بعد میں، یونانی اور رومی معاشروں میں، امیر والدین کے شیرخوار بچوں کو دودھ مہیا کرنے کیلئے عموماً صحتمند دودھ پلانے والی ملازمائیں رکھی جاتی تھیں۔ تاہم، حالیہ دہوں میں، چھاتی سے دودھ پلانے کا عمل بڑی تیزی سے کم ہو گیا ہے، کسی حد تک تو اس اشتہاربازی کی وجہ سے جو بہتیرے لوگوں کو یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ چھاتی کا دودھ جدید ٹیکنالوجی کے انفنٹ فارمولوں سے گھٹیا ہے۔ آجکل پھر یہ رجحان واپس آ رہا ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ ماؤں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ ”چھاتی سے دودھ پلانا بہترین“ ہے۔
بہترین غذا
کیا سائنسدانوں نے شیرخواروں کو خوراک فراہم کرنے کے خالق کے مکلف طریقے میں بہتری پیدا کی ہے؟ قعطاً نہیں۔ یونیسف (یونائیٹڈ نیشنز چلڈرنز فنڈ) بیان کرتا ہے: ”بچوں کیلئے زندگی کے پہلے چار سے چھ ماہ کے دوران چھاتی کا دودھ ہی بہترین موزوں خوراک اور مشروب ہے۔“ چھاتی کا دودھ تمام لحمیات، نشوونما کو تحریک دینے والے اجزا، روغن، نشاستے، انزائمز، حیاتین اور کم مقدار والے ایسے عناصر پر مشتمل ہوتا ہے جو زندگی کے پہلے چند مہینوں کے دوران ایک شیرخوار کی صحتمند نشوونما کیلئے نہایت اہم ہوتے ہیں۔
چھاتی کا دودھ نہ صرف نوزائیدہ بچوں کیلئے بہترین غذا ہے بلکہ یہی واحد غذا ہے جسکی انہیں ضرورت ہے۔ دی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے مئی ۱۹۹۲ میں دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ ”زندگی کے پہلے چار سے چھ ماہ کے دوران چھاتی کے دودھ کے علاوہ کوئی اور خوراک یا سیال یہاں تک کہ ایک نارمل بچے کی غذائی ضروریات کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے پانی کی بھی ضرورت نہیں۔“ چھاتی کا دودھ گرم، خشک موسموں میں بھی بچے کی پیاس بجھانے کیلئے اپنے اندر کافی مقدار میں پانی رکھتا ہے۔ بوتل سے اضافی پانی پلانا یا میٹھے مشروب دینا نہ صرف غیرضروری ہے بلکہ یہ بچے کے لئے چھاتی کا دودھ پینا بالکل بند کر دینے کا باعث بن سکتا ہے، اسلئے کہ بچے عموماً بوتل سے پینے کی نسبتی آسانی کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ یقیناً، زندگی کے پہلے چند مہینوں کے بعد، بچے کی غذا میں دیگر کھانوں اور مشروبات کا بتدریج اضافہ ضروری ہوتا ہے۔
شیرخواروں کی صحتمدانہ نشوونما اور بالیدگی کو فروغ دینے کیلئے کوئی بھی متبادل ایسے عمدہ متوازن جزوترکیبی فراہم نہیں کرتا۔ کتاب ریپروڈکٹیو ہیلتھ—گلوبل ایشوز بیان کرتی ہے: ”چھاتی کے دودھ کا متبادل تیار کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ شیرخوار کو دودھ پلانے کے موضوع پر تاریخی لٹریچر اس ثبوت سے بھرا ہوا ہے کہ چھاتی سے دودھ پینے والے شیرخواروں کی نسبت چھاتی سے دودھ نہ پلائے جانے والے شیرخوار وبائی مرض اور غذا کی کمی کے بڑے خطرے کا شکار ہیں۔“
چھاتی سے دودھ پلانا زندگیاں بچاتا ہے
ڈبلیوایچاو (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے مطابق، اگر ساری مائیں زندگی کے پہلے چار سے چھ ماہ کے دوران اپنے بچوں کو چھاتی کے دودھ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ دیں تو پوری دنیا میں ہر سال ایک ملین بچوں کی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ یونیسف کی رپورٹ برائے سٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن ۱۹۹۲ بیان کرتی ہے: ”غریب معاشرے میں اس بچے کی نسبت جو صرف ماں کا دودھ پیتا ہے، بوتل سے خوراک حاصل کرنے والا بچہ تقریباً ۱۵ گنا زیادہ اسہال کی بیماری سے مرنے اور ۴ گنا زیادہ نمونیا سے مرنے کے خطرے میں ہوتا ہے۔“
ایسا کیوں ہے؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ڈبے کا دودھ غذائیت کے لحاظ سے ماں کے دودھ سے گھٹیا ہونے کے علاوہ، کثیف پانی کو استعمال میں لاتے ہوئے اکثر زیادہ پتلا کر دیا جاتا ہے اور اسکے بعد جراثیمآلودہ بوتلوں میں پلایا جاتا ہے۔ لہذا بوتل کا دودھ آسانی سے ایسے بیکٹیریا اور وائرسوں سے آلودہ ہو سکتا ہے جو بچوں کے اسہالی بیماری اور تنفسی متعدی امراض کا سبب بنتے ہیں جو ترقیپذیر ممالک میں بچوں کے بڑے قاتل ہیں۔ اس کے مقابلے میں، چھاتی سے براہراست آنے والا دودھ آسانی سے آلودہ نہیں ہوتا، اسے حل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، یہ خراب نہیں ہوتا اور بہت زیادہ پتلا نہیں ہو سکتا۔
ایک دوسری وجہ کہ کیوں چھاتی کا دودھ زندگیاں بچاتا ہے یہ ہے کہ ماں کے دودھ میں انٹیباڈیز شامل ہوتی ہیں جو شیرخوار کو بیماری سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اگر اسہالی بیماری یا دیگر وبائی امراض لاحق ہو بھی جائیں تو یہ چھاتی سے دودھ پینے والے بچوں میں عام طور پر شدت میں کم ہوتے ہیں اور زیادہ آسانی سے قابلعلاج ہوتے ہیں۔ محقق یہ بھی تجویز پیش کرتے ہیں کہ بچے جو چھاتی کے دودھ پر پلتے ہیں وہ دانتوں کی بیماری، کینسر، ذیابیطس اور الرجیز سے کم متاثر ہوتے ہیں۔ اور چونکہ یہ چوسنے کے زوردار عمل کا تقاضا کرتا ہے، اسلئے چھاتی سے دودھ پلانا بچوں میں چہرے کی ہڈیوں اور پٹھوں کی مناسب نشوونما کو فروغ دے سکتا ہے۔
ماؤں کیلئے فائدے
چھاتی سے دودھ پلانا صرف بچے کو ہی فائدہ نہیں پہنچاتا، بلکہ یہ ماں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ ایک چیز تو یہ ہے کہ بچے کا چھاتی سے دودھ پینا آکسیٹوسن ہارمون کے اخراج کو متحرک کرتا ہے، جو کہ نہ صرف دودھ کے اترنے اور نکلنے میں معاون ہوتا ہے بلکہ یہ بچےدانی کے سکڑنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ جب وضححمل کے فوراً بعد، بچےدانی سکڑتی ہے تو دیر تک خون کے اخراج کا امکان کم ہوتا ہے۔ چھاتی سے دودھ پلانا بیضےدانی میں پھر سے بیضے بننے اور ماہواری میں تاخیر کا بھی باعث ہوتا ہے۔ یہ اگلے حمل کے ٹھہرنے میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے حمل میں طویل وقفوں کا مطلب صحتمند مائیں اور صحتمند بچے ہوتا ہے۔
عورتوں کیلئے ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ چھاتی سے دودھ پلانا بیضےدانی اور چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کر دیتا ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ جو عورت اپنے بچے کو چھاتی کا دودھ پلاتی ہے اس میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ نصف ہوتا ہے، اگر وہ نہ پلائے گی تو کتنا ہوگا۔
چھاتی سے دودھ پلانے کے فوائد کو شمار کرنے میں ماں بچے کے رشتے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ اس میں صرف خوراک دینا ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ نطقی رابطہ، بدنی لمس، اور جسمانی حرارت بھی شامل ہوتی ہے اس لئے چھاتی سے دودھ پلانا ماں اور بچے کے درمیان ایک اہم بندھن کو پیدا کرنے میں مدد کر سکتا ہے اور بچے کی جذباتی اور معاشری نشوونما میں معاون ہو سکتا ہے۔
چھاتی سے دودھ پلانے کا فیصلہ کرنا
اگر چند تقاضوں کو پورا کیا جائے تو تقریباً ساری مائیں جسمانی طور پر اپنے بچوں کیلئے کافی دودھ فراہم کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ پیدایش کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو، بچے کی پیدایش کے بعد پہلے ہی گھنٹے میں چھاتی سے دودھ پلانا شروع کر دینا چاہئے۔ (چھاتی کا پہلا دودھ، گاڑھی زردی مائل چیز جو کلاسٹروم کہلاتا ہے بچوں کیلئے نہایت مفید ہے اور انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔) اسکے بعد بچوں کو بھوک لگنے پر دودھ دیا جانا چاہئے، بشمول رات کے، نہ کہ کسی مقررہ جدول کے مطابق۔ بچے کا چھاتی کیساتھ صحیح طرح سے لگے ہونا بھی اہم ہے۔ ایک تجربہکار اور ہمدرد مشیر ان معاملات میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔
بلاشبہ، آیا ایک ماں اپنے بچے کو چھاتی سے دودھ پلانے کا فیصلہ کرتی ہے، یا نہیں، اس کا انحصار ایسا کرنے کیلئے محض اسکی جسمانی صلاحیت سے زیادہ کسی اور چیز پر ہے۔ دی سٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن ۱۹۹۲ بیان کرتی ہے: ”ماؤں نے اگر اپنے بچوں کا بہترین ممکنہ آغاز کرنا ہے تو انہیں ہسپتالوں کی مدد کی ضرورت ہے، لیکن اگر انہوں نے چھاتی سے دودھ پلانے کو جاری رکھنا ہے تو انہیں آجروں، ٹریڈ یونینوں، متعلقہ برادریوں—اور آدمیوں کی مدد بھی درکار ہوگی۔“
[بکس]
ترقیپزیر ممالک میں چھاتی سے دودھ پلانا
۱۔ زندگی کے پہلے چار سے چھ ماہ کے دوران صرف چھاتی کا دودھ ہی بچے کیلئے بہترین موزوں غذا اور مشروب ہے۔
۲۔ پیدایش کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو بچوں کو چھاتی کا دودھ پلانا شروع کر دینا چاہئے۔ تقریباً ہر ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔
۳۔ بچے کی ضرورت کے مطابق چھاتی سے کافی دودھ پیدا کرنے کیلئے بار بار چوسنے کی ضرورت ہے۔
۴۔ بوتل سے دودھ پلانا سنگین بیماری اور موت کا باعث ہو سکتا ہے۔
۵۔ چھاتی سے دودھ پلانا بچے کی عمر کے دوسرے سال میں بھی جاری رہنا چاہئے اور اگر ممکن ہو تو اس سے بھی زیادہ۔
ماخذ: فیکٹس فار لائف، یونیسف، ڈبلیوایچاو، اور یونیسکو کی مشترکہ شائعکردہ۔
[بکس]
چھاتی سے دودھ پلانا اور ایڈز
اپریل ۱۹۹۲ کے آخر میں، ڈبلیوایچاو اور یونیسف نے ماہرین کے ایک بینالاقوامی گروپ کو ایڈز اور چھاتی سے دودھ پلانے کے تعلق پر غور کرنے کیلئے اکٹھا کیا۔ اس اجلاس کی ضرورت کی وضاحت ایڈز کے متعلق ڈبلیوایچاو کے عالمگیر پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل مرسن نے کی۔ اس نے کہا: ”چھاتی سے دودھ پلانا بچے کے بچاؤ کا ایک ضروری عنصر ہے۔ چھاتی کا دودھ پلانے سے بچے کے ایڈز سے مر جانے کے خطرے کا موازانہ اگر چھاتی کا دودھ نہیں پلایا جاتا تو دوسرے اسباب سے اسکے مر جانے کے خطرے سے کیا جانا چاہئے۔“
ڈبلیوایچاو کے مطابق، ایچآئیوی سے متاثرہ ماؤں سے پیدا ہونے والے تمام بچوں کے ایک تہائی حصے کو بھی یہ مرض ہو جاتا ہے۔ جبکہ ماں سے بچے کو بیماری لگنے کا زیادہ امکان حمل اور وضححمل کے دوران ہوتا ہے، اس کا بھی ثبوت ہے کہ یہ چھاتی سے دودھ پلانے کے ذریعے بھی لگ سکتی ہے۔ تاہم، ڈبلیوایچاو، بیان کرتی ہے، ”ایچآئیوی سے متاثرہ ماؤں کا دودھ پینے والے بچوں کی اکثریت چھاتی کا دودھ پینے کی وجہ سے بیماری نہیں اٹھاتی۔“
ماہرین کے ایک گروپ نے نتیجہ اخذ کیا: ”جہاں متعدی امراض اور غذا کی کمی بچوں میں اموات کا خاص سبب ہیں اور بچوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے تو وہاں چھاتی کا دودھ پلانا حاملہ عورتوں کیلئے عام ہدایت ہونی چاہئے، بشمول انکے جو ایچآئیوی سے متاثر ہیں۔ یہ اسلئے ہے کہ چھاتی کے دودھ کے ذریعے انکے بچوں کو ایچآئیوی کا انفیکشن لگنے کے باعث موت کا خطرہ بہت کم ہے بہنسبت ان دیگر اسباب کے جو ماں کا دودھ نہ پینے کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔
”اسکی دوسری طرف، ایسی حالتوں میں جہاں شیرخوارگی میں موت کی خاص وجہ وبائی امراض نہیں اور بچوں میں موت کی شرح کم ہے، ... تو ایچآئیوی سے متاثرہ حاملہ عورتوں کیلئے عام ہدایت یہ ہونی چاہئے کہ وہ چھاتی سے دودھ پلانے کی بجائے، کوئی اور محفوظ متبادل استعمال کریں۔“ (12.g93 9/22 p)