”اے یہوواہ میری کمسن بچی کو وفادار رکھنا!“
میں نے ۱۹۳۰ میں، آلساس، فرانس، میں فن کے دلدادہ خاندان میں جنم لیا۔ شام کے اوقات کے دوران اباجان، اپنی آرامدہ کرسی پر بیٹھ کر جغرافیہ یا علمہیت سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ میرا کتا ان کے پاؤں میں سویا ہوتا تھا، اور ابا امی کیساتھ اپنی پڑھائی کی اہم باتوں پر گفتگو کر رہے ہوتے جبکہ وہ خاندان کیلئے کچھ نٹنگ کا کام کر رہی ہوتی تھیں۔ میں ان شام کے اوقات سے کتنی لطفاندوز ہوتی تھی!
مذہب نے ہماری زندگیوں میں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ ہم سرگرم کیتھولک تھے، اور جو لوگ ہمیں اتوار کی صبح گرجے جاتے دیکھتے وہ کہتے تھے: ”نو بج گئے ہیں۔ آرنلڈ خاندان گرجے جا رہا ہے۔“ ہر روز سکول جانے سے پہلے، میں گرجے جاتی تھی۔ لیکن پادری کی ناشائستہ حرکات کی وجہ سے، امی نے مجھے اکیلے گرجے جانے سے منع کر دیا۔ اس وقت میں چھ سال کی تھی۔
بیبلفورشر (بائبل اسٹوڈنٹس جو اب یہوواہ کے گواہوں کے طور پر جانے جاتے ہیں) کے صرف تین کتابچے پڑھ لینے کے بعد، میری امی نے گھرباگھر منادی کرنا شروع کر دیا۔ اباجان اس سے بڑے پریشان ہوئے۔ انہوں نے یہ اصول قائم کر دیا کہ میرے سامنے کوئی بھی مذہبی گفتگو نہیں کی جائیگی۔ ”اس طرح کی فضولیات بالکل نہیں پڑھی جائینگی!“ لیکن امی سچائی کی بابت اسقدر پرجوش تھی کہ اس نے میرے ساتھ ملکر کچھ بائبل پڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بائبل کا کیتھولک ترجمہ حاصل کیا اور اباجان کی فرمانبرداری کرتے ہوئے، ہر صبح اس پر کوئی تبصرہ کئے بغیر میرے ساتھ ملکر پڑھنا شروع کر دیا۔
ایک دن اس نے زبور ۱۱۵:۴-۸ کو پڑھا: ”انکے بت چاندی اور سونا ہیں یعنی آدمی کی دستکاری ... انکے بنانے والے ان ہی کی مانند ہو جائینگے بلکہ وہ سب جو ان پر بھروسہ رکھتے ہیں۔“ اس نے اسے دوسرے حکم کے ساتھ جوڑا جو بیان کرتا ہے: ”تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔“ (خروج ۲۰:۴-۶) میں فوراً اٹھی اور اپنی ذاتی الطار (مذبح) کو توڑ ڈالا جو میرے کمرے میں تھی۔
میں سکول جا کر اپنے کیتھولک ہمجماعتوں کیساتھ اپنی روزانہ کی بائبل پڑھائی پر باتچیت کرتی تھی۔ اس سے سکول میں کافی ہلچل پیدا ہو گئی۔ اکثر اوقات گلی میں بچے میرے پیچھے لگ جاتے اور مجھے ”گندی یہودن“ کہہ کر پکارتے۔ یہ ۱۹۳۷ کی بات ہے۔ اس حالت نے میرے والد کو اکسایا کہ جو کچھ میں سیکھ رہی تھی وہ اس پر دھیان دے۔ اس نے یہوواہ کے گواہوں کی شائعکردہ کریایشن بک اپنے لئے حاصل کی۔ اس نے اسے پڑھا اور خود بھی گواہ بن گیا!
جوں ہی جرمن فوج بلجیم کی سرحد پار کرکے فرانس میں داخل ہوئی، تو ہمیں گرجہ گھروں کے اوپر لگے جھنڈوں پر سواستیکا (نازی) کا نشان دکھائی دینے لگا، اگرچہ سٹی ہال (مونسپل گورنمنٹ) کی عمارت کے اوپر ابھی تک فرانسیسی جھنڈا لہرا رہا تھا۔ فرانس کی حکومت نے ہمارا کنگڈم ہال بند کر دیا تھا اور یہوواہ کے گواہوں کے کام پر پابندی لگا دی تھی، اور جب جرمن آئے تو ہم پہلے ہی سے خفیہ طور پر کام کر رہے تھے۔ لیکن گواہوں کو کچل ڈالنے کی کوشش شدت اختیار کر گئی تھی۔ دو سال بعد، ۱۱ سال کی عمر میں میرا بپتسمہ ہوا۔
ایک ماہ بعد، ستمبر ۴، ۱۹۴۱ کو، بعدازدوپہر دو بجے، دروازے کی گھنٹی بجی۔ اباجان کام سے گھر واپس آنے والے تھے۔ میں بھاگ کر گئی، دروازہ کھولا اور ایک آدمی کی گود میں چڑھ گئی۔ اسکے پیچھے سے ایک آدمی چلایا، ”ہائل ہٹلر!“ میں فوراً گود سے نیچے اتری، تب مجھے احساس ہوا کہ میں جس آدمی کی گود میں چڑھ گئی تھی وہ ایسایس کا سپاہی تھا! انہوں نے مجھے اپنے کمرے میں بھیج دیا اور چار گھنٹے تک میری والدہ کیساتھ جرح کرتے رہے۔ جب وہ جانے لگے تو ان میں سے ایک چلایا: ”اب تم کبھی اپنے شوہر کو نہیں دیکھو گی! تمہارے اور تمہاری بچی کیساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائیگا!“
اس صبح اباجان کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ ان کے پورے مہینے کی تنخواہ انکی جیب میں تھی۔ ایسایس والوں نے بینک اکاؤنٹ بند کر دیا اور میری والدہ کو ورکنگ کارڈ دینے سے بھی انکار کر دیا—ملازمت حاصل کرنے کیلئے ایک ضروری دستاویز۔ اب انکی پالیسی یہ تھی: ”ان ناپسندیدہ لوگوں کیلئے کوئی ذریعہ معاش نہیں!“
سکول میں ایذارسانی
اس عرصہ کے دوران سکول میں دباؤ میں اضافہ ہوتا رہا۔ جب بھی استاد جماعت میں داخل ہوتا، سارے کے سارے ۵۸ طالبعلموں کو ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہونا اور ”ہائل ہٹلر“ کہنا پڑتا۔ جب پادری مذہبی تعلیم دینے کیلئے آتا تو وہ آ کر کہتا، ”ہائل ہٹلر—مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔“ جماعت جواب میں کہتی، ”ہائل ہٹلر—آمین!“
میں نے ”ہائل ہٹلر،“ کہنے سے انکار کر دیا اور یہ بات سکول ڈائریکٹر کے علم میں بھی آئی۔ ایک انتباہ کا خط جاری کیا گیا جس میں لکھا تھا: ”ایک طالبہ سکول کے قوانین کی تابعداری نہیں کر رہی، اگر ایک ہفتے کے اندر اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی تو اس طالبہ کو سکول چھوڑنا ہوگا۔“ آخر میں نیچے یہ لکھا ہوا تھا کہ مجھ سیمون آرنلڈ کو یہ خط ۲۰ سے زیادہ جماعتوں کے سامنے پڑھنا ہوگا۔
آخر وہ دن آ پہنچا جب مجھے اپنی جماعت کے سامنے طلب کیا گیا کہ اپنے فیصلے سے سب کو آگاہ کروں۔ ڈائریکٹر نے مجھے مزید پانچ منٹ دئے کہ یا تو میں سلامی دوں یا پھر اپنی سکول کی کتابیں اٹھاؤں اور چلی جاؤں۔ گھڑی پر وہ پانچ منٹ ایک طویل مدت دکھائی دئے۔ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں، میرا سر بھاری ہو گیا تھا، میرا دل ڈوب رہا تھا۔ پوری جماعت پر طاری سکوت اس کرخت آواز ”ہائل ہٹلر،“ کیساتھ ٹوٹ گیا، اور پھر پوری جماعت نے تین بار اسے دوہرایا۔ میں ڈیسک کی طرف بھاگی، اپنی کتابیں اٹھائیں اور بھاگ کر باہر چلی گئی۔
اگلے سوموار، میں واپس سکول میں تھی۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ میں اس شرط پر واپس سکول آ سکتی ہوں کہ میں کسی کو یہ نہ بتاؤں کہ مجھے کیوں سکول سے نکالا گیا تھا۔ میرے ہمجماعت میرے خلاف ہو گئے اور میرے ہمجماعت مجھے چور، مجرمپیشہ بچہ کے نام سے پکارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کہ مجھے اسی وجہ سے سکول سے نکالا گیا تھا میرے خلاف ہو گئے۔ میں اصل وجہ بھی نہیں بتا سکتی تھی۔
مجھے جماعت میں سب سے پیچھے بٹھا دیا گیا۔ میرے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی کو پتہ چل گیا کہ میں سلامی نہیں دے رہی۔ اس نے سوچا میں ہٹلر کی مخالف فرانسیسی تنظیم سے تعلق رکھتی ہوں۔ مجھے اس پر واضح کرنا پڑا کہ میں کیوں ہائل ہٹلر کہنے سے انکار کرتی ہوں: ”اعمال ۴:۱۲ کے مطابق ”کسی دوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جسکے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔“ صرف مسیح ہی ہمارا نجات دہندہ ہے۔ چونکہ ”ہائل“ کا مطلب کسی کے وسیلے سے نجات پانے سے ہے اسلئے میں بشمول ہٹلر کے کسی انسان سے اس نجات کو منسوب نہیں کر سکتی۔“ اس لڑکی نے اور اسکی ماں نے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ مطالعہ شروع کر دیا اور خود بھی گواہ بن گئیں!
خفیہ کارگزاری
اس تمام عرصہ کے دوران، ہم نے خفیہ طور پر منادی کا کام جاری رکھا۔ ہم ہر مہینے کے پہلے اتوار کو پہاڑوں میں ایک ایسی جگہ چلے جاتے جہاں ہمیں جرمن زبان میں ترجمہ کرنے کیلئے دی واچٹاور کا فرنچ ایڈیشن مل جاتا۔ امی نے میرے لئے ایک پوشیدہ جیب والا گیٹس بنا دیا تھا تاکہ اس میں دی واچٹاور لے جا سکوں۔ ایک دن دو سپاہیوں نے ہمیں روکا اور پہاڑوں میں ایک فارم پر لے گئے جہاں ہماری تلاشی لی گئی۔ میں اتنی زیادہ بیمار ہو گئی کہ انہوں نے مجھے لے جا کر بھوسے کے ڈھیر پر لٹا دیا، اور اس وجہ سے وہ دی واچٹاور کو کبھی تلاش نہ کر سکے۔ کسی نہ کسی طریقے سے یہوواہ ہمیشہ مجھے بچا لیتا تھا۔
ایک دن مجھے حکم دیا گیا کہ میں ایک ”نفسیاتی معالج“ کے پاس جاؤں۔ یہ ایسایس کے دو آدمی تھے۔ وہاں پر دوسرے گواہ بچے بھی تھے۔ اندر بلائے جانے والوں میں سب سے آخری میں تھی۔ دونوں ”ڈاکٹر“ ایک میز کے پیچھے بیٹھے تھے، میں ایسی جگہ بیٹھی جہاں سامنے سے ایک تیز روشنی میرے چہرے پر چمک رہی تھی، اور جرح شروع ہو گئی۔ ایک ”ڈاکٹر“ کچھ جغرافیائی یا تاریخی سوالات مجھ سے پوچھتا لیکن اس سے پیشتر کہ میں جواب دوں، دوسرا خفیہ کام کی بابت سوال کر دیتا۔ وہ دوسرے گواہوں کے ناموں کی بابت بھی پوچھتا۔ میں ہمت ہارنے کے قریب ہی تھی کہ اچانک ایک فون کال نے انکی تفتیش کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ یہوواہ کی مدد ہمیشہ کتنے شاندار طریقے سے آئی تھی!
کوئی ایک ماہ بعد، ہٹلر یوتھ ٹریننگ کیمپ میں جانے کیلئے ہماری سکول کلاس کا انتخاب کیا گیا تھا۔ میں نے اس کی بابت اپنی امی سے کبھی کچھ نہ کہا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہاں نہ جانے کے میرے فیصلے کی ذمہداری اس کے سر آئے۔ روانگی کا دن آنے سے پہلے، سکول کے ڈائریکٹر نے مجھے متنبہ کیا: ” اگر سوموار کے دن تم ریلوے سٹیشن یا میرے دفتر میں نہ ہوئیں تو میں پولیس کو تمہارے پیچھے لگا دونگا۔“
لہذا سوموار کی صبح سکول جاتے ہوئے میں ریلوے سٹیشن سے ہو کر گزری۔ میرے تمام ہم جماعت مجھے اپنے ساتھ چلنے کیلئے بلا رہے تھے، لیکن میں ڈائریکٹر کے دفتر جانے کا عزممصمم کئے ہوئے تھی۔ مجھے وہاں پہچنے میں دیر ہو گئی، لہذا اس نے سمجھا کہ میں دوسروں کیساتھ ریل گاڑی پر چلی گئی ہوں۔ لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بہت طیش میں آ گیا۔ وہ مجھے اپنی جماعت کے کمرے میں لے گیا اور وہاں ساری جماعت کو چار گھنٹے تک سزا دی۔ مثال کے طور پر، وہ ہر بچے کو جماعت کے سامنے بلاتا اور انہیں انکی کاپیاں ہاتھ میں دینے کی بجائے، وہ انہیں انکے منہ پر دے مارتا۔ وہ میری طرف اشارہ کرتا اور کہتا: ” اسکی ذمہدار وہ ہے!“ اس نے صرف دس سال کی عمر والے ۴۵ بچوں کو میرے خلاف کرنے کی کوشش کی۔ لیکن کلاس کا وقت ختم ہونے پر وہ مجھے مبارکباد دینے آئے کیونکہ میں فوجی گیت گانے سے انکار کرتی رہی تھی۔
بعد میں مجھے، کاغذ، ڈبے، اور ہڈیاں الگ الگ کرنے کا کام دیا گیا۔ میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ڈبے فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے تھے۔ مجھے مارا پیٹا گیا اور بےہوش چھوڑ دیا گیا۔ بعد میں میرے ہم جماعتوں نے مجھے واپس اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی۔
جب میں واپس سکول پہنچی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ساری جماعتیں، تقریباً ۸۰۰ بچے، باہر میدان میں جھنڈے کے پول کے گرد کھڑے تھے۔ مجھے درمیان میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ آزادی اور باغیوں کے انجام کی تفصیلی وضاحت کی گئی، جس کے بعد تین بار زیگ ہائل! (فتح اور نجات) کے نعرے لگائے گئے۔ قومی ترانہ گائے جانے کے دوران میں بالکل سیدھی کھڑی کانپتی رہی۔ یہوواہ نے میری مدد کی، میں راستی پر قائم رہی۔ بعد میں، اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہونے پر میں نے دیکھا کہ میرے کپڑے بستر پر پڑے ہوئے تھے اور انکے ساتھ ایک خط اس مضمون کا پڑا ہوا تھا: ” سیمون آرنلڈ کو کل صبح اپنے آپ کو ریلوے سٹیشن پر پیش کرنا ہے۔“
اصلاحی قیدخانہ کی طرف
اگلی صبح میں اور امی ریلوے سٹیشن پر تھے۔ دو عورتوں نے مجھے حراست میں لے لیا۔ گاڑی میں امی نے میرے طرزعمل کی بابت اپنی نصیحت کو دوہرایا۔ ” ہمیشہ مہذب، شفیق اور نرم رہنا اگرچہ ناانصافی کا سامنا ہی کیوں نہ ہو۔ کبھی بھی ہٹدھرمی نہ کرنا۔ کبھی پلٹ کر جواب نہ دینا یا گستاخانہ جواب نہ دینا۔ یاد رکھو، ثابت قدم رہنے کا ضدیپن سے کوئی واسطہ نہیں۔ مستقبل کی زندگی کیلئے یہی تمہاری تعلیموتربیت ہوگی۔ یہ یہوواہ کی مرضی ہے کہ ہم مستقبل میں اپنے مفاد کی خاطر اب مشکلات برداشت کریں۔ آپ اسکے لئے بالکل تیار ہیں۔ آپ سینا پرونا، پکانا، دھونا اور پھول پودے لگانا جانتی ہیں۔ آپ اب ایک نوعمر عورت ہیں۔“
اس شام اپنے ہوٹل کے باہر ایک تاکستان کے اندر میں نے اور میری والدہ دونوں نے گھٹنوں کے بل جھک کر، امید قیامت کی بابت بادشاہتی گیت گایا اور دعا کی۔ مضبوط آواز میں، امی نے میرے لئے درخواست کی: ” اے یہوواہ میری کمسن بچی کو وفادار رکھنا!“ آخری بار امی نے مجھے بستر پر لٹایا اور پیار کیا۔
اگلے روز سارے کام اسقدر جلدی جلدی ہونے لگے کہ مجھے امی کو خدا حافظ کہنے کا بھی موقع نہ ملا۔ ایک لڑکی نے مجھے گندم کے بھوسے سے بنا ہوا ایک بستر دکھایا۔ میرے جوتے چھین لئے گئے اور ہمیں یکم نومبر تک ننگے پاؤں چلنا پڑا۔ پہلی بار تو دوپہر کا کھانا حلق سے نیچے اتارنا مشکل تھا۔ مجھے مرمت کرنے کیلئے چھ جوڑی موزے دئے گئے، ورنہ مجھے کھانا نہیں ملے گا۔ پہلی بار میں رونے لگی۔ آنسوؤں نے ان جرابوں کو گیلا کر دیا۔ میں تقریباً پوری رات روتی رہی۔
دوسری صبح میں ۳۰:۵ بجے اٹھ گئی۔ میرے بستر پر خون کے دھبے تھے—اس سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے مجھے ماہواری شروع ہوئی تھی۔ کانپتی ہوئی میں سب سے پہلے نظر آنے والی استانی، مس میسنگر کے پاس گئی۔ اس نے ایک لڑکی کو بلایا جس نے مجھے ٹھنڈے پانی میں کیسے اپنی چادر دھونے کا طریقہ بتایا۔ پتھریلا فرش بھی ٹھنڈا تھا یوں درد بہت بڑھ گیا۔ میں نے پھر رونا شروع کر دیا۔ پھر مس میسنگر نے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ کہا: ”اپنے یہوواہ سے کہو کہ وہ تمہاری چادر دھوئے!“ مجھے صرف یہی سننے کی ضرورت تھی۔ میں نے اپنی آنکھیں خشک کر لیں اور اسکے بعد وہ پھر کبھی مجھے رلا نہ سکے۔
ہمیں ہر صبح ۳۰:۵ بجے اٹھنا ہوتا تھا تاکہ ناشتے—صبح ۰۰:۸ بجے سوپ کے ایک پیالے—سے قبل گھر کو صاف کریں۔ ۶ سے ۱۴ سال کی عمر کے ۳۷ بچوں کیلئے سکول اس گھر میں ہی منعقد کیا جاتا تھا۔ دوپہر کو ہم دھلائی، سلائی، اور باغبانی کا کام کرتے تھے، چونکہ ان مشکل کاموں کو کرنے کیلئے آدمی دستیاب نہیں تھے۔ ۱۹۴۴/۴۵ کے موسم سرما میں مجھے ایک اور لڑکی کیساتھ ملکر ۶۰ سینٹیمیٹر کے قطر والے درختوں کو چوبتراش کے آرے سے کاٹنا پڑا۔ بچوں کا ایک دوسرے سے بات کرنا منع تھا اور انہیں اکیلے رہنے کی بھی اجازت نہیں تھی یہاں تک کہ وہ اکیلے بیتالخلا تک بھی نہیں جا سکتے تھے۔ ہم سال میں دو بار غسل کرتے تھے اور سال میں ایک بار سر کے بال دھوتے تھے۔ سزا خوراک سے محرومی یا مارپیٹ ہوتی تھی۔
مجھے مس میسنگر کا کمرہ صاف کرنے کے کام پر لگا دیا گیا۔ اس کا تقاضا تھا کہ میں ہر روز بستر کے اسپرنگ صاف کرنے کیلئے پلنگ کے نیچے گھسا کروں۔ میرے پاس ایک چھوٹی بائبل تھی جو میں چھپا کر اس گھر میں اپنے ساتھ لے آئی تھی، اور اب مجھے موقع مل گیا کہ اسے اسپرنگوں کے اندر پھنسا چھوڑوں۔ اسطرح، میں اس قابل ہوئی کہ ہر روز بائبل کے کچھ حصے پڑھ سکوں۔ کوئی تعجب نہیں کہ مجھے سست کام کرنے والی بچی کہا جاتا تھا جو کبھی انکے پاس آئی ہو!
پروٹسٹنٹ لڑکیاں اتوار کو اپنے گرجے چلی جاتیں اور تین کیتھولک لڑکیاں اپنے گرجے، لیکن مجھے تمام ۳۷ بچوں کیلئے کھانا پکانا ہوتا تھا۔ میں اتنی چھوٹی تھی کہ مجھے ایک سٹول پر کھڑے ہونا پڑتا اور سوپ ہلانے کیلئے دونوں ہاتھوں سے چمچہ پکڑنا پڑتا تھا۔ اپنی چاروں استانیوں کیلئے مجھے گوشت پکانا ہوتا تھا، کیک بنانے ہوتے تھے اور سبزیاں تیار کرنی پڑتی تھیں۔ اتوار کی دوپہر، ہمیں رومالوں پر کڑھائی بھی کرنا ہوتی تھی۔ کھیل کا کوئی وقت نہیں تھا۔
کئی مہینوں کے بعد، بڑی خوشی کیساتھ مس میسنگر نے مجھے یہ خبر سنائی کہ میری پیاری امی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ ایک مرکزاسیران میں تھی۔
۱۹۴۵ میں جنگ ختم ہو گئی۔ مرکزاسیران ٹوٹ گئے اور انہوں نے اپنے قیدیوں کو ملک کے مختلف حصوں میں تتربتر کر دیا جن میں سے ہزاروں اپنے خاندان کے ان بچے کھچے افراد کی تلاش میں بھٹک رہے تھے جو کہ شاید ابھی تک زندہ ہوں۔
بچھڑے ہوؤں کا دلدوز ملاپ
کمازکم میری امی کو پتا تھا کہ میں کہاں ہوں، لیکن جب وہ مجھے لینے آئی تو میں اسے پہچان نہ سکی۔ اس میں تعجب نہیں کہ وہ کس مشکل میں سے گزری تھی! جب امی کو گرفتار کیا گیا تو اسے اسی کیمپ میں بھیجا گیا جہاں اباجان کو بھیجا گیا تھا یعنی شرمیک میں، بس فرق اتنا تھا کہ انہیں عورتوں کے کیمپ میں رکھا گیا تھا۔ اس نے فوجیوں کی وردیوں کی مرمت کرنے سے انکار کر دیا اور اس وجہ سے اسے کئی مہینوں تک زمیندوز کوٹھڑی کے اندر قیدتنہائی میں رکھا گیا۔ اسکے بعد اسے آلودہ کرنے کیلئے ایسی عورتوں کیساتھ رکھا گیا جو آتشک میں مبتلا تھیں۔ جب اسے ریونزبروک منتقل کیا گیا تو وہ کھانسی کی وجہ سے بستر سے جا لگی تھی۔ اس وقت تک جرمن بھاگ گئے تھے اور ریونزبروک کی طرف روانہ کئے گئے قیدیوں کو اچانک آزاد کر دیا گیا، جن میں میری والدہ بھی شامل تھی۔ اس نے کانسٹین (جرمنی) کا رخ کیا جہاں میں تھی، لیکن ایک ہوائی حملے نے اس کے چہرے کو زخمی اور خون آلودہ کر دیا۔
جب مجھے اس کے سامنے لایا گیا تو وہ بہت بدل چکی تھی—بھوک سے لاغر تھی، بیمار تھی، اس کا چہرہ زخمی اور خون آلودہ ہو گیا تھا اس کی آواز بمشکل ہی سنائی دیتی تھی۔ مجھے وہاں آنے والوں کے سامنے احتراماً جھکنے اور انہیں اپنا سارا کام—کڑھائی، سلائی—دکھانے کی تربیت دی گئی تھی کیونکہ بعض عورتیں وہاں گھر پر کام کرنے کیلئے ملازمہ لینے آتی تھیں۔ اور اسی طرح میں نے بیچاری امی کیساتھ بھی کیا! لیکن جب وہ ایک جج کے پاس مجھے اپنے ساتھ لیجانے کیلئے قانونی اجازت لینے کی خاطر ایک جج کے پاس لیکر گئی تو پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ تو میری امی ہے! جتنے آنسو میں نے گزشتہ ۲۲ مہینوں سے اپنے اندر روکے ہوئے تھے ایکدم بہہ نکلے۔
جب ہم جانے لگے تو وہاں کی ڈائریکٹر مس لیڈرلے کا یہ بیان میری امی کیلئے تسکینبخش تھا اس نے کہا : ”میں تمہاری بچی کو اسی ذہنی میلان کیساتھ تمہیں لوٹا رہی ہوں جس کیساتھ وہ یہاں آئی تھی۔“ اب بھی میری وفاداری صحیح سالم تھی۔ ہم نے اپنا اپارٹمنٹ تلاش کیا اور اس میں رہنا شروع کر دیا۔ ایک چیز جو ابھی تک ہمیں افسردہ کرتی تھی وہ یہ تھی کہ اباجان ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ ریڈکراس نے انہیں مردہ قرار دے دیا تھا۔
مئی ۱۹۴۵ کے وسط میں، ہمارے دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک بار پھر میں بھاگ کر کھولنے کو گئی۔ ایک واقفکار، ماریا کوہل دروازے پر تھی اور اس نے کہا: ”سیمون میں اکیلی نہیں ہوں۔ تمہارا باپ نیچے ہے۔“ اباجان بڑی مشکل سے اوپر چڑھے اور وہ اپنی سماعت کھو چکے تھے۔ وہ میرے پاس سے گزر کر سیدھے امی کے پاس پہنچے! خود سے پرورش پانے والی ایک ۱۱ سالہ چھوٹی لڑکی جسے کبھی وہ جانتے تھے جدائی کے ان طویل مہینوں میں ایک شرمیلی سی جواںسال عورت بن گئی تھی۔ اس نئی لڑکی کو تو انہوں نے پہچانا بھی نہیں۔
جو کچھ ان پر بیتی تھی اس نے اپنا کام کر دکھایا تھا۔ سب سے پہلے شرمیک کے ایک خصوصی کیمپ میں، اسکے بعد، ڈاخاؤ میں، جہاں انہوں نے کسی سے میعادی بخار اٹھا لیا اور اسکے بعد ۱۴ دنوں کیلئے وہ اس سے بےہوش تھے۔ بعد میں انہیں طبی تجربوں کیلئے استعمال کیا گیا۔ ڈاخاؤ سے انہیں ماؤتہاؤسین کے ایک قلع قمع کرنے والے کیمپ میں بھیج دیا گیا جو ڈاخاؤ سے بھی بدتر تھا، جہاں انہیں سخت محنت اور مارپیٹ برداشت کرنی پڑی اور ان پر پولیس کے کتے بھی چھوڑے گئے۔ لیکن وہ اس سب سے بچ گئے تھے اور آخرکار ایک بار پھر اپنے گھر میں تھے۔
جب میں ۱۷ سال کی ہوئی، تو میں یہوواہ کے گواہوں کے ایک خادم کے طور پر، کلوقتی خدمت میں چلی گئی اور اسکے بعد ریاستہائے متحدہ میں، مشنریوں کیلئے واچ ٹاور سوسائٹی کے گلیئڈ سکول میں چلی گئی۔ سوسائٹی کے عالمی ہیڈکواٹر میں میری ملاقات ایک جرمن یہودی ماکس لیبسٹر، سے ہوئی جو کہ ہٹلر کے مرکزاسیران میں گواہ بن گیا۔ ۱۹۵۶ میں ہم نے شادی کر لی، اور اپنے خدا، یہوواہ کی مدد سے ہم ابھی تک یہاں فرانس میں خاص پائنیر خادموں کے طور پر ہمہوقتی خدمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امی کے وہ الفاظ کسقدر سچے تھے جو اس نے کئی سال پہلے مجھے اصلاحی قیدخانہ میں چھوڑتے وقت اپنی دعا میں کہے تھے: ”اے یہوواہ میں تیری منت کرتی ہوں کہ میری کمسن بچی کو وفادار رکھنا!“
اور آج کے دن تک یہوواہ نے ایسا ہی کیا ہے!—جیسے سیمون آرنلڈ لیبسٹر نے بیان کیا۔ (g93 9/22 p.15)
[تصویر]
سیمون آرنلڈ لیبسٹر اور اسکا شوہر، ماکس لیبسٹر