یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو94 8/‏1 ص.‏ 15-‏17
  • کیا خیالی پلاؤ پکانا غلط ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا خیالی پلاؤ پکانا غلط ہے؟‏
  • جاگو!‏—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آپ کی دماغی صحت کیلئے خطرناک؟‏
  • اپنے تخیلات کو نفع‌بخش طور سے استعمال کرنا
  • خطرات
  • تصور کرنے کی صلاحیت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • خدا کے گھر کیلئے قدردانی ظاہر کریں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۵
  • دنیاوی تصورات کو رد کریں، بادشاہتی حقائق کی جستجو میں رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
جاگو!‏—‏1994ء
جاگو94 8/‏1 ص.‏ 15-‏17

نوجوان لوگ پوچھتے ہیں .‏ .‏ .‏

کیا خیالی پلاؤ پکانا غلط ہے؟‏

آخری بات جو آپ کو یاد رہی، وہ الجبرے کی مساوات کو حل کرنے کے سلسلے میں مسلسل آنے والی آپکے استاد کی دھیمی آواز تھی، لیکن اس کے بعد آپ کلاس میں نہیں ہوتے، آپ کا ذہن اس ساحل سمندر پر بھٹک رہا ہے جہاں گزشتہ موسم گرما میں آپ کا خاندان گیا تھا۔ آپ تپتی ریت اور سورج کی گرمی کو محسوس کر سکتے ہیں۔ آپ کنارے سے ٹکراتی ہوئی لہروں کی آواز، کھیلتے بچوں کی آواز، کھلکھلاتے ہم جماعتوں .‏.‏.‏ کی آواز سن سکتے ہیں؟ جی‌ہاں، آپکے خوشگوار خیالات کا سلسلہ منتشر ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ کمر پر ہاتھ رکھے ایک مشتعل استاد کھڑا آپ سے اس سوال کا جواب مانگ رہا ہے جسے آپ نے سنا ہی نہیں۔‏

خیالی پلاؤ پکانا—‏ہر طرح کے لوگوں، بوڑھے اور جوانوں میں اس قدر عام ہے کہ ایک ممتاز محقق نے اسے ”‏انسانی زندگی کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک“‏ کہا ہے۔ بعض یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے بیداری کے اوقات کا ایک تہائی حصہ کسی نہ کسی طرح خیالی پلاؤ پکانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کو صحیح طور پر معلوم نہیں کہ یہ رواں خیالات کیسے اور کیوں تشکیل پاتے ہیں، نہ ہی وہ عالمی پیمانہ پر اس بات سے متفق ہیں کہ خیالی پلاؤ پکانا درحقیقت ہے کیا۔ ایک ڈکشنری خیالی پلاؤ کی تشریح ”‏ایک خوشگوار رویت .‏.‏.‏ تصور کی تخلیق“‏ کے طور پر کرتی ہے۔ تاہم، متعدد محققین وسیع‌النظری سے اسکی تشریح میں جاگتی آنکھوں کے فی‌الواقع کسی بھی قسم کے تصورات یا غیراضطراری خیالات کے محسوس کرنے کو بھی شامل کرتے ہیں—‏خواہ وہ خوشگوار ہوں یا ناخوشگوار۔ اس مضمون میں ہم اس اصطلا‌ح کو اسکے نہایت ہی وسیع مفہوم میں استعمال کرینگے، جس میں نہ صرف نادانستہ بلکہ دانستہ تخیلاتی پروازیں بھی شامل ہیں۔‏

لہذا، سب کے سب خیالی پلاؤ غیرمعمولی، رنگ برنگی تخیلاتی پروازیں نہیں ہوتے۔ بہت سے تو ایک شخص کے ماضی کی بس خوشگوار سیاحتیں ہی ہوتی ہیں۔ پیرنٹس میگزین کے ایک مضمون میں، ڈاکٹر جیمز کومر خیالی پلاؤ پکانے کی بابت خود اپنا تجربہ بیان کرتا ہے—‏کچھ اس طرح سے کہ دفتر میں ایک کٹھن دن کے بعد گھر واپس آتے ہوئے گاڑی چلاتے وقت، شاید وہ ایک نوعمر کے طور پر کھیل کے میدان میں باسکٹ بال کے کھیل میں اپنی جیت دلانے والی شاٹ کی یاد میں کھو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ”‏شاید یہ ایک غیر اہم بات لگے لیکن پھر بھی یہ خوشی کا احساس دلانے میں مجھے مدد دیتی ہے۔“‏ تاہم، دیگر لوگ خیالی پلاؤ کو مستقبل کی منصوبہ‌سازی کرنے میں مدد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ایک آدمی جو واقعی، جاز موسیقی کا ایک ہردلعزیز موسیقار اور نغمہ‌ساز بن گیا، یاد کرتا ہے، ”‏میں نے عالمی شہرت یافتہ موسیقار بننے کیلئے بڑے اونچے اونچے خیال باندھے تھے۔“‏

تاہم، زیادہ‌تر خیالی پلاؤ، روزمرہ کے معولی واقعات—‏سکول، سماجی اجتماعات اور ہوم‌ورک پر مرکوز دکھائی دیتے ہیں۔ بعض اوقات تو لوگ سکول کے بے‌کیف لیکچر کی اکتاہٹ یا گھریلو کاموں کی کوفت دور کرنے کیلئے دانستہ طور پر ایسے تصورات کا سلسلہ جوڑ لیتے ہیں۔ دیگر خیالی تصور بے‌ساختہ آتے ہیں۔ ایک لفظ، ایک آواز، یا ایک بصری شکل اچانک انہیں کسی حالیہ فکر، ماضی میں کسی راحت، یا مستقبل میں کسی معرکہ کی یاد دلاتی ہے، اور انکا ذہن بھٹکنے لگتا ہے۔ بائبل کہتی ہے:‏ ”‏کیونکہ کام کی کثرت کے باعث خواب دیکھا جاتا ہے۔“‏ (‏واعظ ۵:‏۳‏)‏ یقیناً جو ذاتی تفکرات اور اونچی تمناؤں میں محو رہتا ہے، وہ شاید مادہ‌پرستانہ خیالی تصورات میں فی‌الواقع مصروف رہے۔‏

بہرحال، دن کے خواب خواہ کتنے ہی خوشگوار کیوں نہ ہوں، تو بھی وہ مسیحی اجلاسوں میں، سکول میں، یا ملازمت پر آپکی توجہ میں خلل‌انداز ہو سکتے ہیں۔ بعض تصورات تو نامناسب—‏یا نقصان‌دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اسلئے کیا خیالی پلاؤ پکانا ایک ایسی عادت ہے جسے چھوڑنے کی آپکو ضرورت ہے؟‏

آپ کی دماغی صحت کیلئے خطرناک؟‏

گزشتہ زمانوں میں، دماغی صحت کے کارکنان، ڈاکٹر اور ماہرین‌تعلیم خیالی پلاؤ پکانے کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ چنانچہ ایک نوجوان کو ایک نفسیاتی معالج نے کہا:‏ ”‏خیالی پلاؤ پکانا چھوڑنے میں ہمیں تمہاری مدد کرنا ہے۔“‏ محقق ڈاکٹر ایرک کلنگر کے مطابق، ایسے مشورے کی بنیاد عموماً نام نہاد بابائے تحلیل‌نفسی، سگمنڈ فرائیڈ کے نظریات پر تھی، جو خیالی پلاؤ پکانے کو طفلانہ اور اعصابی خلل سمجھتا تھا۔ لہذا نفسیات کی ایک درسی کتاب نے دعوی کیا:‏ ”‏خیالی پلاؤ پکانا اکثر ناکامی یا کسی کی موجودہ ماحول میں دلچسپی کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے، اور یہ یقیناً حقیقت سے فرار ہے۔“‏ ماہرین‌تعلیم اور دماغی صحت کے کارکنان کی ایک نسل کو سکھایا گیا تھا کہ تمام طرح کے خیالی پلاؤ پکانے کو روکا جانا چاہئے۔ اس بات کے دعوے کئے گئے کہ خیالی پلاؤ پکانے کی زیادتی فکروعمل میں تضاد کی بیماری (‏سکیزوفرینیا)‏ کا باعث بن سکتی ہے۔‏

تاہم، فرائیڈ کے نظریات پر منتج بہت زیادہ تحقیق پر مبنی حقائق مہیا کئے ہیں۔ اپنی کتاب ڈے ڈریمینگ میں ڈاکٹر ایرک کلنگر بیان کرتا ہے کہ دوسری باتوں کیساتھ ساتھ، محققین یہ بھی دعوی کرتے ہیں کہ:‏

خیالی پلاؤ پکانا ایک عام اور معمول کی کارگزاری ہے۔‏

اوسطاً، جو لوگ اکثر خیالی پلاؤ پکاتے ہیں اتنے ہی صحیح الدماغ ہوتے ہیں جتنے کہ وہ جو ایسا نہیں کرتے۔‏

خیالی پلاؤ پکانا فریب‌نظری (‏ہیلوسی نیشن)‏ کا باعث نہیں ہوتا۔‏

خیالی پلاؤ پکانا فکروعمل میں تضاد والی بیماری (‏سکیزوفرینیا)‏ کا باعث نہیں ہوتا۔ سکیزوفرینکس کسی دوسرے کی نسبت زیادہ خیالی پلاؤ پکانے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔‏

اپنے تخیلات کو نفع‌بخش طور سے استعمال کرنا

تو پھر، یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ کیوں بائبل کسی کے تخیل کے صحتمندانہ استعمال کی کہیں بھی مذمت نہیں کرتی۔ یقیناً ہمارے ذہنوں کی تصور کرنے اور تخیل میں لانے کی قابلیت اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم، زبورنویس کے الفاظ میں ”‏عجیب‌وغریب طور سے بنے ہیں۔“‏ (‏زبور ۱۳۹:‏۱۴‏)‏ اگر نفع‌بخش طور پر استعمال کی جائے تو یہ قابلیت ایک قیمتی اثاثہ ہو سکتی ہے۔ مسیحیوں کو ”‏دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرنے“‏ کو کہا گیا ہے (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۸‏۔)‏ اس میں خدا کی راست نئی دنیا کا تصور کرنے کی کوشش کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں بائبل کے بیانات مستقبل کی اس عالمی فردوس کی بابت ہمارے تصور کو ابھارتے ہیں!‏—‏یسعیاہ ۳۵:‏۵-‏۷،‏ ۶۵:‏۲۱-‏۲۵،‏ مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏۔‏

اگر آپ نے کوئی مشکل کام انجام دینا ہے تو اس صورت میں بھی آپ کا تخیل کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، یہوواہ کے گواہوں میں نوجوانوں کو اکثر تھیوکریٹک منسٹری سکول میں زبانی پیشکشیں تفویض کی جاتی ہیں۔ باآواز مشق کرنے کے علاوہ، ذہن میں اپنی پیشکش کی مشق کرنے کی کوشش کریں۔ حاضرین کو اپنی معلومات اور تقریر کی ادائیگی پر ردعمل دکھاتے ہوئے تصور میں لائیں۔ یہ پیشکش میں ضروری ردوبدل کرنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے اور آپ کو زیادہ اعتماد دے سکتا ہے۔‏

آپ تصور ہی میں مشکل حالات سے نپٹنے کی بھی مشق کر سکتے ہیں۔ شاید آپ کو احساس ہو کہ ایک ساتھی مسیحی کو آپ سے کوئی شکایت ہے، اور آپ اس معاملے پر اس سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ (‏متی ۵:‏۲۳، ۲۴‏)‏ تو بجائے اسکے کہ بغیر تیاری کے اس شخص کے پاس جائیں آپ مسئلہ کی بابت مختلف زاویوں کو آزماتے ہوئے، تصور میں اس منظر کی مشق کر سکتے ہیں۔ یہ بائبل کے اس اصول کیساتھ ہم‌آہنگ ہوگا:‏ ”‏صادق کا دل سوچ کر جواب دیتا ہے۔“‏—‏امثال ۱۵:‏۲۸‏۔‏

کیا آپ کو کسی نے ناراض کیا یا غصہ دلایا ہے؟ زبور ۴:‏۴ میں دی گئی نصیحت کو نوٹ کریں:‏ ”‏تھرتھراؤ اور گناہ نہ کرو اپنے اپنے بستر پر دل میں سوچو اور خاموش رہو۔“‏ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تکلیف‌دہ مناظر کو بار بار اپنے تصور میں لاتے رہیں، نہ ہی اسکا مطلب یہ سوچتے رہنا ہے کہ کیسے کسی کو حاضرجوابی سے باتوں باتوں میں شکست دی جا سکتی ہے۔ بہرحال یسوع نے خبردار کیا کہ ”‏وہ جو اپنے بھائی پر غصہ ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا،“‏ بالکل اسی طرح جیسے ”‏جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کہیگا۔“‏ (‏متی ۵:‏۲۲‏)‏ لیکن جو کچھ آپ کرنا چاہتے ہیں تصور میں اسکی مشق کرنے سے—‏جس میں شاید ناراض کرنے والے کو معاف کر دینا ہی شامل ہو—‏آپکے لئے معاملات کو ایک پرسکون، معقول طریقے سے سلجھانے میں معاون ہو سکتا ہے۔‏

خیالی پلاؤ پکانا مسائل کو حل کرنے میں ایک باضابطہ کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر کلنگر کہتے ہیں:‏ ”‏خیالی پلاؤ بذات‌خود مسائل کا تعمیری حل دریافت کرنے کا ایک طریقہ ہیں۔ جو لوگ تخیلاتی طور پر خیالی پلاؤ پکاتے ہیں بعض اوقات ایسے حل تلاش کر سکتے ہیں جن کا انہیں خیال بھی نہ آتا اگر وہ مسائل کو حل کرنے کیلئے دانستہ طور پر کوشش کرتے۔“‏

اس بات کی بھی شہادت موجود ہے کہ خیالی پلاؤ پکانا آپ کے جسمانی کاموں کو انجام دینے کے طریقہ‌کار کو بہتر بنانے میں بھی آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ مثلاً، ایک سکی (‏برف پوش پہاڑوں پر چھڑیوں کی مدد سے پھسلنا)‏ انسٹرکٹر سیکھنے والوں سے کہتا ہے کہ وہ آنے والی کسی دوڑ کیلئے خود کو راستہ کے ہر موڑ اور ڈھلوان پر چلتے ہوئے اپنے ذہن میں ایک تصویر بنائیں۔ تحقیق کرنے والے تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا کرنا واقعی دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو ان عضلات پر قابو رکھتا ہے جو اسے [‏دماغ]‏ حرکت کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ یقیناً حقیقی مشق کا کوئی نعم‌البدل نہیں، لیکن ذہنی مشق موسیقی کا کوئی ساز بجانے یا ٹائپ کرنے کی قابلیت کو بہتر بنانے میں آپ کو مدد دے سکتی ہے۔ ”‏المختصر“‏ ڈاکٹر جیمز کومر کہتے ہیں، ”‏خیالی پلاؤ پکانا وقت کا ضیاع نہیں ہے بلکہ بہتر طور پر کام کرنے میں ہماری مدد کیلئے درکار ایک ذریعہ ہے“‏۔‏

خطرات

تاہم، ”‏ہر چیز کا ایک وقت ہے۔“‏ (‏واعظ ۳:‏۱‏۔)‏ یوں تو اپنے کمرے میں سستاتے ہوئے خیالی پلاؤ پکانا ٹھیک ہو سکتا ہے، لیکن بعض ایسے مواقع ہو سکتے ہیں جب ایسا کرنا نامناسب یا خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیا آپ ایک کار چلا رہے ہیں؟ اس وقت آپ کو زیادہ محتاط اور کسی بھی طرح کے خطرے کیلئے چوکس ہونے کی ضرورت ہے۔ کیا ہو اگر آپ امتحان دے رہے ہوں یا بائبل کا ایک لیکچر سن رہے ہیں؟ تو پھر آپ کو ”‏صاف ذہنی صلاحیتوں“‏ کی ضرورت ہے۔—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱‏، این‌ڈبلیو۔‏

بائبل بلا‌وجہ منفی خیالات کو بار بار دوہراتے رہنے کے خلاف بھی ہمیں آگاہ کرتی ہے۔ جب آپ کا کوئی امتحان یا ملازمت کیلئے انٹرویو ہو تو قدرے پریشان ہونا محض فطری بات ہے، لیکن شکست اور مسترد کئے جانے کے خوفناک ذہنی تصورات پیدا کرنے سے آپ شاید ہی کچھ انجام دے پائیں۔ (‏مقابلہ کریں واعظ ۱۱:‏۴‏۔)‏ امثال ۱۲:‏۲۵ خبردار کرتی ہے، ”‏آدمی کا دل فکرمندی سے دب جاتا ہے۔“‏ یسوع مسیح نے اپنے سامعین کو نصحیت کی:‏ ”‏کل کیلئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرلیگا۔ آج کیلئے آج ہی کا دکھ کافی ہے۔“‏—‏متی ۶:‏۳۴‏۔‏

دلچسپی کی بات ہے کہ حد سے زیادہ یا نامناسب خیالی پلاؤ پکانا مزید خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ بعض نوجوان جنسی تصورات کو بڑھنے دیتے ہیں۔ دیگر محسوس کرتے ہیں کہ خیالی پلاؤ پکانا توجہ کو کسی ایک چیز پر مرتکز رکھنے میں خلل ڈالتا ہے۔ (‏23.g93 7/8 p)‏

‏[‏تصویریں]‏

ذہنی مشقیں کسی شخص کی حقیقی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں