یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو94 8/‏1 ص.‏ 11-‏14
  • کیا میرے خاندان کو حفاظتی ٹیکے لگنے چاہئیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا میرے خاندان کو حفاظتی ٹیکے لگنے چاہئیں؟‏
  • جاگو!‏—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • پس‌منظر
  • کیا میرے بچے کو ٹیکے لگنے چاہئیں؟‏
  • مضر اثرات کی بابت کیا ہے؟‏
  • بالغوں کے حفاظتی ٹیکوں کی بابت کیا ہے؟‏
  • ویکسینوں کی تیاری میں خون
  • کیا میرے خاندان کو حفاظتی ٹیکے لگوانے چاہئیں؟‏
  • بیماری کے خلاف جنگ میں کامیابیاں اور ناکامیاں
    جاگو!‏—‏2004ء
جاگو!‏—‏1994ء
جاگو94 8/‏1 ص.‏ 11-‏14

کیا میرے خاندان کو حفاظتی ٹیکے لگنے چاہئیں؟‏

”‏یہ بچے کو ٹیکے لگوانے کا وقت ہے،“‏ ڈاکٹر کہتا ہے۔ یہ شاید ایک چھوٹے بچے کیلئے ایک چونکا دینے والا بیان ہے، لیکن عام طور پر والدین کی طرف سے یہ ایک یقین دلانے والی مسکراہٹ اور رضامندی ظاہر کرنے والے اشارے پر منتج ہوا ہے۔‏

تاہم، حال ہی میں، بچوں اور بالغوں کے حفاظتی ٹیکوں کے مقبول‌عام استعمال کی بابت اعتراضات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کونسے ٹیکے واقعی ضروری ہیں؟ مضر اثرات کی بابت کیا ہے؟ کیا ایک ویکسین تیار کرنے میں کسی بھی طریقے سے خون شامل ہے؟‏

ایک محتاط مسیحی خاندان کیلئے غوروخوض کی غرض سے یہ اچھے سوال ہیں۔ انکے جوابات آپکے بچوں کے علاوہ خود آپکی اپنی صحت اور مستقبل پر براہ‌راست اثرانداز ہو سکتے ہیں۔‏

پس‌منظر

۱۹۵۰ کے دہے میں ایک موثر ویکسین کو متعارف کرایا گیا تھا جس نے بہتیرے ممالک میں پولیو کے خطرے کے خوف کا عملاً خاتمہ کر دیا۔ ۱۹۸۰ تک پوری دنیا سے چیچک کی وبا کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا، جو کہ مؤثر ویکسینیشن پروگراموں کا نتیجہ تھا۔ یہ بینجیمن فرینکلن کے ان الفاظ کی تصدیق کرتا دکھائی دیا:‏ ”‏پرہیز علاج سے بہتر ہے۔“‏

آجکل حفاظتی ٹیکے لگانے کے پروگرام بہت سی بیماریوں کو روکنے میں عام طور پر مؤثر رہے ہیں—‏تشنج، پولیو، خناق، اور کالی کھانسی، محض چند ایک ہیں۔ علاوہ‌ازیں، یہ بات بھی سامنے آتی رہی ہے کہ جب حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام کسی وجہ سے سست پڑ گیا، تو بیماری عود کر آئی۔ ایک ملک میں کالی کھانسی کے سلسلے میں ایسے ہی ہوا۔‏

یہ حفاظتی ٹیکے کیا کرتے ہیں؟ بنیادی طور پر، دو طریقوں سے، وہ متعدی ایجنٹوں کے حملے کے خلاف جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتے ہیں جنہیں پیتھوجینز کہتے ہیں، جن میں جراثیم اور وائرس شامل ہیں۔ پہلا طریقہ فعالی مدافعت کہلاتا ہے۔ اس صورت میں ٹیکے کے اندر کمزور کیا ہوا یا مردہ کیا ہوا پیتھوجین (‏یا اس کا زہر)‏ ہوتا ہے جسے اس طریقے سے تبدیل کیا جاتا ہے کہ یہ جسم کیلئے خطرناک نہیں رہتا۔ جسم کے اپنے دفاعی نظام میں ہلاک کرنے والے سالمے بننا شروع ہو جاتے ہیں جو اینٹی‌باڈیز کہلاتے ہیں اور اگر بیماری لگ جائے تو اس کے حقیقی عوامل سے لڑ سکتے ہیں۔ اگر حفاظتی ٹیکہ پیتھوجین کے زہر (‏ٹاکسین)‏ کا جوہر اپنے اندر رکھتا ہے تو یہ ٹاکسائڈ کہلاتا ہے۔ اگر یہ کمزور (‏ناتواں)‏ کئے گئے زندہ پیتھوجینز یا ہلاک کئے گئے نامیاتی اجسام سے بنایا گیا ہے تو یہ ویکسین کہلاتا ہے۔‏

جیسے کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، یہ ٹیکے فوری مدافعت پیدا نہیں کرتے۔ جسم کو محافظ اینٹی‌باڈیز بنانے کیلئے کافی وقت لگتا ہے۔ ان فعالی مدافعتی پروگراموں میں بچوں کے وہ تمام حفاظتی ٹیکے اور وہ ٹیکے شامل ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر ویکسینیشنز خیال کیا جاتا ہے۔ ماسوائے ایک کے، (‏جس پر بعد میں بحث کی گئی ہے)‏ ان کو بنانے کے کسی مرحلے میں بھی خون کا استعمال شامل نہیں ہوتا۔‏

دوسرا طریقہ انفعالی مدافعت کہلاتا ہے۔ اسے عام طور پر ان حالتوں کیلئے بچا کر رکھا جاتا ہے جن میں ایک شخص سنگین بیماری کا شکار ہو چکا ہے، جیسے کہ ریبیز۔ ایسی صورت میں، جسم کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ اپنی ذاتی قوت‌مدافعت پیدا کرے۔ لہذا کسی دوسرے کی، پہلے سے تیارشدہ، انٹی‌باڈیز، اس شخص کے اندر ٹیکے کے ذریعے پیتھوجینز کے خلاف لڑنے کیلئے داخل کی جا سکتی ہیں جو خطرے کا شکار ہو چکا ہے۔ گاما گلوبن، اینٹی‌ٹاکسن، اور ہائپرایمیون سیرم ان ٹیکوں کے دوسرے نام ہیں جو بیماری سے محفوظ انسانوں یا جانوروں کے خون کے جوہر سے بنائے گئے ہیں۔ حملہ‌آور کو مار بھگانے کیلئے ان ادھار لی گئی، یا انفعالی مدافعتوں کا مقصد جسم کو فوری، لیکن صرف عارضی مدد دینا ہوتا ہے۔ ادھار لی گئی اینٹی‌باڈیز کو خارجی پروٹین کے طور پر بدن سے جلد خارج کر دیا جاتا ہے۔‏

کیا میرے بچے کو ٹیکے لگنے چاہئیں؟‏

اس پس‌منظر کے پیش کئے جانے کے بعد بھی، بعض شاید اسکی بابت سوچیں کہ ”‏میرے بچے کو کونسے حفاظتی ٹیکے لگنے چاہئیں؟“‏ دنیا کے بیشتر حصوں میں جہاں بچوں کے حفاظتی ٹیکے آسانی سے دستیاب ہیں، معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے نتیجے میں بچوں کی ان بیماریوں میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی جنکے لئے ٹیکے لگائے گئے۔‏

کئی سالوں سے امریکن اکیڈمی آف پیڈایٹرکس نے پوری دنیا میں اسی طرح کی تنظیموں کے ساتھ اتفاق‌رائے کے بعد، مندرجہ‌ذیل بیماریوں کیلئے معمول کے حفاظتی ٹیکے کی سفارش کی ہے:‏ خناق، کالی کھانسی اور تشنج۔ عام طور پر تینوں ایک ساتھ ہوتے ہیں اور ایک ہی ٹیکے—‏ڈی‌پی‌ٹی—‏کے طور پر دئے جاتے ہیں جس کے ساتھ کم‌ازکم دو مہینوں کے وقفے سے تین بوسٹر (‏امدادی)‏ ڈی‌پی‌ٹی دئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، خسرہ، کنپھیڑوں، اور روبیلا (‏جرمن خسرہ)‏ کیلئے حفاظتی ٹیکہ—‏ایم‌ایم‌آر—‏بچوں کو ایک سال کی عمر کے بعد ایک ہی ٹیکے کے طور پر دیا جاتا ہے۔ نیز ڈی‌پی‌ٹی کے جدول کے مشابہ منہ کے ذریعے پولیو ویکسین (‏اوپی‌وی)‏ کی چار خوراکیں دی جاتی ہیں۔‏a

بہت سی جگہوں پر اس معمول کو جاری رکھنا سرکاری حکم ہے، اگرچہ متقاضی بوسٹروں کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔ حال ہی میں، کئی مرتبہ خسرہ کی وبا کے پھوٹ پڑنے کے نتیجے میں، بعض حالات کے تحت خسرہ کی ویکسینوں کے اضافی بوسٹروں کی سفارش کی گئی ہے۔ تفصیلات کیلئے آپکو اپنے علاقے میں کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔‏

ان کے علاوہ، ایک نمونیہ ویکسین (‏نموویکس)‏ ہے۔ یہ ان بچوں اور بالغوں کو ہمیشہ کیلئے قوت مدافعت فراہم کرتی معلوم ہوتی ہے جو کسی وجہ سے نمونیے کی بعض اقسام سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔‏

بچوں کیلئے ایک اور ویکسین ہب ویکسین کہلاتی ہے۔ یہ بچپن کی عام پیتھوجین، ہیموفیلس انفلوئنزا سے محفوظ رکھنے کیلئے دی جاتی ہے۔ یہ جراثیم بچوں میں کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، زیادہ‌تر مشہور سنگین قسم کی میننجائٹس (‏گردن توڑ بخار)‏ ہے۔ ویکسین عام طور پر بے‌ضرر ثابت ہوئی ہے، اور بچوں کو سلسلے‌وار لگنے والے ٹیکوں کے طور پر اسکی بہت زیادہ سفارش کی جا رہی ہے۔‏

ضمناً، چھوٹی چیچک کیلئے ابھی تک معمول کے مطابق کوئی حفاظتی ٹیکہ نہیں ہے۔ اور چیچک کیلئے بھی اب کوئی ویکسین متعدی ایجنٹوں کے حملے کے خلاف دستیاب نہیں کیونکہ جیسے کہ پہلے ذکر کیا گیا، ویکسینیشن کے ایک عالمی پروگرام نے اس مہلک وبا کو بالکل ختم کر دیا ہے۔‏

مضر اثرات کی بابت کیا ہے؟‏

حفاظتی ٹیکوں کے مضراثرات کے مسئلے کی بابت کیا ہے؟ بیشتر ٹیکوں کے سلسلے میں، بچے کے اچانک رونے اور لمحہ بھر کے آنسوؤں کے علاوہ، مضراثرات عام طور پر کم اور عارضی ہوتے ہیں—‏زیادہ سے زیادہ ایک یا دو دن کا بخار۔ پھر بھی، بہت سے والدین ان ٹیکوں کے خطرات کی بابت اندیشے رکھتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق نے اپنے بچوں کی صحت کی بابت فکر رکھنے والے والدین کا سروے کیا اور یہ دریافت کیا کہ سروے کئے گئے والدین کا ۵۷ فیصد حفاظتی ٹیکوں کے الٹے اثر کے بارے میں پریشان تھا۔‏

حال ہی میں، ڈی‌پی‌ٹی کے ایک جزو، یعنی پرٹوسس، یا کالی کھانسی کے حصے کے سلسلے میں بڑی تشویش کی تشہیر ہوئی ہے۔ اس ویکسین کی کامیابی اس سے پہلے کی ایک خوفزدہ کرنے والی بیماری میں شاندار کمی پر منتج ہوئی ہے—‏صرف ایک ہی ملک میں ویکسین سے پہلے ایک سال کے اندر ۲۰۰،۰۰۰ مریضوں سے ویکسین کے وسیع استعمال کے بعد ہر سال ۲،۰۰۰ مریض۔ تاہم، دی گئی ۱۰۰،۰۰۰ خوراکوں میں سے تقریباً ۱ کے—‏سنگین مضراثرات—‏مرگی یا دل کے دورے اور یہانتک کہ دماغی نقصان بھی واقع ہوئے ہیں۔‏

جبکہ یہ الٹا اثر بہت کم ہوتا ہے تو بھی یہ بہت سے والدین کیلئے کچھ پریشانی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ انکے پاس اپنے بچے کو سکول میں داخل کرانے کیلئے حفاظتی ٹیکے لگوانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ چونکہ کالی کھانسی کی بیماری، اگرچہ غیرمعروف ہے، لیکن جب یہ کسی آبادی پر حملہ‌آور ہوتی ہے تو بڑی تباہ‌کن ہوتی ہے، اسلئے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک اوسط درجے کے بچے کیلئے، ”‏ویکسین اس بیماری میں مبتلا ہونے کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہے۔“‏ ایسے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں ماسوائے ایسی حالت کے کہ ”‏اگر پچھلی مرتبہ ویکسین کی خوراک اینٹھن، اینسیفالائٹس [‏دماغی سوزش]‏ جسم کے کسی حصے پر اعصابی بدنظمی کی علامات، یا بے‌ہوش ہو کر گر پڑنے پر منتج ہوئی ہے۔ نہ ہی ان بچوں کو ویکسین کی مزید خوراکیں دی جانی چاہئیں جو بہت زیادہ غنودگی، حد سے زیادہ چیخنے چلانے (‏۳ یا اس سے زیادہ گھنٹوں کی مدت تک متواتر رونے یا چیخنے چلانے)‏، یا ۱۰۵ درجے فارن ہائٹ ٹمپریچر سے زیادہ کی آزمائش سے گزرتے ہیں۔“‏b

بہت سے ممالک میں مسئلے کا حقیقی حل ایسیلولر ویکسین ہے، جیسے کہ آجکل جاپان میں بہت ہی پرامید امکانات کیساتھ استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ نئی اور بظاہر زیادہ محفوظ ویکسین دوسرے ممالک میں بھی دستیاب ہو رہی ہے۔‏

معمول کے مطابق بچوں کے دیگر حفاظتی ٹیکے عموماً مؤثر اور نسبتاً محفوظ ثابت ہو چکے ہیں۔‏

بالغوں کے حفاظتی ٹیکوں کی بابت کیا ہے؟‏

جب کوئی شخص سن‌بلوغت کو پہنچ جاتا ہے، تو صرف چند ہی فعال حفاظتی ٹیکے ہیں جنہیں اسکو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ ترجیحاً، سب بالغوں کو بچپن میں خسرے، کنپھیڑوں، روبیلا (‏جرمن خسرے)‏ کا شکار ہونے یا حفاظتی ٹیکوں کے نتیجے میں پہلے ہی ان بیماریوں کے خلاف قوت‌مدافعت پیدا کر لینی چاہئے۔ اگر ایسی قوت‌مدافعت کے متعلق کوئی سوال اٹھتا ہے تو ڈاکٹر شاید کسی بالغ کیلئے ایم‌ایم‌آر کا ایک ٹیکہ تجویز کرے۔‏

ہر دس سال یا اسکے لگ بھگ ٹیٹنس ٹاکسائڈ کے حفاظتی ٹیکے کو تشنج کے خلاف حفظ‌ماتقدم کے طور پر اچھا خیال کیا جاتا ہے۔ بڑی عمر والے اور پرانی بیماری والے اشخاص ہر سال انفلوئنزا کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی بابت شاید اپنے ڈاکٹر سے پوچھنا چاہیں۔ دنیا کے بعض حصوں میں سفر کرنے والوں کو اس طرح کی بیماریوں جیسے زرد بخار، ہیضے، مویشیوں کے طحالی بخار، ٹائیفائڈ، یا وبا، کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کا خیال رکھنا چاہئے اگر ایسی بیماریاں وہاں کی علاقائی بیماریاں ہیں جہاں وہ جا رہے ہیں۔‏

ایک اور فعالی حفاظتی ٹیکہ توجہ کا مستحق ہے کیونکہ خون سے بنا ہوا یہی ایک فعالی حفاظتی ٹیکہ ہے۔ یہ ہیپی‌ٹائٹس-‏بی ویکسین ہے جو ہیپٹاویکس-‏بی کہلاتی ہے۔ یہ حفاظتی ٹیکہ بعض ایسے اشخاص کیلئے تجویز کیا جاتا ہے، جیسے کہ طبی عملہ، جو اتفاقاً ہیپی‌ٹائٹس-‏بی وائرس والے مریضوں کے خون سے بنی ہوئی چیزوں کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ اسکا ایک بڑی ترقی کے طور پر خیرمقدم کیا گیا ہے، تو بھی یہ ویکسین اپنے طریقہءپیداوار کی وجہ سے بہتیروں میں تشویش کا باعث ہوا تھا۔‏

بنیادی طور پر، منتخب ہیپی‌ٹائٹس-‏بی وائرس والے مریضوں کے خون کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور ہر وائرس کو ہلاک کرنے کیلئے ایک خاص عمل سے گزارا جاتا ہے، اور ایک مخصوص ہیپی‌ٹائٹس-‏بی اینٹیجین حاصل کی جاتی ہے۔ اس صاف‌کردہ، بے‌عمل‌کردہ، اینٹیجین کو ویکسین کے طور پر ٹیکے کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، بہتیرے لوگ بیمار لوگوں کے خون سے تیارکردہ چیزوں کا خطرہ مول لینے کے ڈر سے ویکسین لینے سے انکار کرتے ہیں، جیسے کہ وہ جو جنسی طور پر آزادانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ علاوہ‌ازیں، بعض باضمیر مسیحیوں نے اس بنیاد پر ویکسین لینے سے انکار کیا ہے کہ اسے کسی دوسرے شخص کے خون سے حاصل کیا گیا ہے۔‏c

ایسے اعتراضات کو ایک مختلف لیکن یکساں طور پر اثرآفریں ہیپی‌ٹائٹس-‏بی ویکسین کی ریلیز نے مؤثر طور پر دور کر دیا ہے۔ اسے تناسلی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے جسکے تحت ویکسین کو خمیر کے خلیوں سے، انسانی خون کے عمل‌دخل کے بغیر، بنایا گیا ہے۔ اگر آپ طبی نگہداشت کے میدان میں کام کرتے ہیں یا کسی اور وجہ سے ہیپی‌ٹائٹس-‏بی ویکسین کے امیدوار خیال کئے جاتے ہیں، تو آپ شاید اس معاملے پر اپنے فزیشن سے بات‌چیت کرنا چاہیں۔‏

ویکسینوں کی تیاری میں خون

یہ ان مسیحیوں کیلئے ایک اہم نکتے کو اٹھاتا ہے، جو خون کے غلط استعمال کی بابت بائبل کی ممانعت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ (‏اعمال ۱۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ کیا کوئی اور ویکسین بھی خون سے بنتے ہیں؟‏

ایک عام اصول کے طور پر، ہیپاٹاویکس-‏بی کے سوا، فعالی حفاظتی ٹیکے خون سے تیار نہیں کئے جاتے۔ مثال کے طور پر، اس میں بچوں کے تمام ٹیکے شامل ہیں۔‏

انفعالی مدافعت کی بابت اسکے برعکس درست ہے۔ کوئی فرض کر سکتا ہے کہ جب کسی کو کسی خطرے کا شکار ہونے کے امکان کے بعد حفاظتی ٹیکہ لگوانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جیسے کہ کسی زنگ آلودہ کیل پر پاؤں رکھنے یا کسی کتے کے کاٹنے کے بعد، تو حفاظتی ٹیکے (‏جبتک وہ صرف معمول کے حفاظتی ٹیکے نہیں ہیں)‏ ازحد مدافع سیرم ہیں اور خون کو استعمال کرتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔ یہ آرایچ مدافع گلوبن (‏رھوگام)‏ کی بابت بھی سچ ہے، جسے عام طور پر آرایچ_نیگیٹو ماؤں کیلئے تجویز کیا جاتا ہے جو کسی وجہ سے آرایچ_پازیٹو خون کے خطرے میں ہوتی ہیں، جیسے کہ آرایچ_پازیٹو بچے کی پیدایش پر ہوتا ہے۔‏

چونکہ یہ انفعالی حفاظتی ٹیکے وہ ہیں جو خون کے معاملے کی بابت تشویش کا باعث ہیں، تو ضمیر کا پابند مسیحی کیا موقف اختیار کریگا؟ اس جریدے اور اسکے ساتھی دی واچ‌ٹاور، کے سابق مضامین نے ایک بااصول موقف پیش کیا ہے:‏ یہ انفرادی مسیحی کے بائبل سے تربیت‌یافتہ ضمیر پر منحصر ہوگا کہ آیا وہ اس طریقہءعلاج کو اپنے اور اپنے خاندان کیلئے قبول کریگا۔‏d

کیا میرے خاندان کو حفاظتی ٹیکے لگوانے چاہئیں؟‏

مسیحی زندگی کیلئے بڑا گہرا احترام رکھتے ہیں اور خلوص‌دلی سے اپنے خاندان کی صحت کیلئے اپنی پوری کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ خواہ آپ ضمیر کی پابندی کی بدولت اپنے خاندان کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کا فیصلہ کریں یا نہ کریں تو بھی ایسا کرنا آپکا ذاتی فیصلہ ہے۔—‏گلتیوں ۶:‏۵‏۔‏

ایک ماہر نے حالت کا خوب اچھا خلاصہ پیش کیا ہے:‏ ”‏والدین کو انکے بچے کیلئے ہر طبی مداخلت کی بابت مطلع کیا جانا چاہئے۔ وہ اپنے بچے کے محض قانونی سرپرستوں سے زیادہ ہیں۔ وہ اپنی اولاد کی زندگی کے اس دور میں جس میں اولاد انکی متوسل ہے انکی فلاح اور تحفظ کے ذمہ‌دار ہیں۔“‏ حفاظتی ٹیکوں کے اس معاملے میں اور دیگر طبی معاملات میں، یہوواہ کے گواہ اس ذمہ‌داری کو بڑی سنجیدگی سے قبول کرتے ہیں۔ ایک فزیشن کیطرف سے فراہم‌کردہ۔ (‏22.g93 8/8 p)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a دی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اب دنیا کے بہت سے حصوں میں شیرخوار بچوں کیلئے ہیپی‌ٹائٹس بی کے خلاف معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی سفارش کر رہی ہے۔‏

b خاندانی بیماریوں [‏مرگی یا دل کا دورہ]‏ کی تاریخ الٹے اثرات کے ساتھ تعلق رکھتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ اور اگرچہ تنفسی وبائی امراض الٹے اثر کی طرف مائل دکھائی نہیں دیتے، تو بھی یہ دانشمندی کی بات ہو سکتی ہے کہ اگر بچہ تھوڑا سا بھی بیمار ہو تو ٹیکے کو روک رکھا جائے۔‏

c جون ۱، ۱۹۹۰ کے دی واچ‌ٹاور میں ”‏سوالات از قارئین“‏ کو دیکھیں۔‏

d جون ۱۵، ۱۹۷۸ کے دی واچ‌ٹاور کے صفحات ۳۰-‏۳۱ کو دیکھیں۔‏

‏[‏بکس]‏

حفاظتی ٹیکے جو خون سے نہیں بنائے جاتے

بچوں کے حفاظتی ٹیکے (‏ڈی‌پی‌ٹی، اوپی‌وی، ایم‌ایم‌آر)‏

ہب ویکسین

نموویکس

ٹاکسائڈز

فلو کے ٹیکے

ریکومبیویکس_ایچ‌بی

حفاظتی ٹیکے جو خون سے بنائے جاتے ہیں

ہیپٹاویکس_بی

رھوگام

اینٹیٹاکسینز

اینٹیویننز (‏سانپ اور مکڑی کے زہر کیلئے)‏

امیون گلوبلنز (‏مختلف بیماریوں کیلئے)‏

گاما گلوبلن

ہائپرامیون سیرم کی ادویات (‏مثال کے طور پر، اینٹیریبیز سیرم)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں