اسقاطحمل کی افسوسناک قیمت
ہر سال ۵۰ سے ۶۰ ملین نازائیدہ بچے اسقاطحمل کے ذریعے مرتے ہیں۔ کیا آپ اس تعداد کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں؟ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہوائی کے جزیروں کی پوری آبادی کو ہر ہفتے صفحۂہستی مٹا دینا!
اصلی اعدادوشمار حاصل کرنا تو بہت مشکل ہے کیونکہ بیشتر حکومتیں اسقاطحمل کا صحیح ریکارڈ نہیں رکھتں ہیں۔ اور جہاں پر اسقاطحمل ممنوع یا غیرقانونی ہے، وہاں کی بابت ماہرین صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ لیکن عالمی سطح پر اسقاطحمل کا مختصر جائزہ کچھ اس طرح سے ہے:
ریاستہائے متحدہ میں، ٹانسلیکٹومی (گلے کی گلٹیوں) کے بعد، اسقاطحمل دوسرے نمبر پر سب سے عام سرجری عمل ہے۔ ہر سال ۵.۱ ملین اسقاطحمل کئے جاتے ہیں۔ ایسی عورتوں کی واضح اکثریت غیرشادی شدہ ہوتی ہے—ہر ۵ میں سے ۴۔ غیر شادیشدہ عورتوں نے جتنی بار بچوں کو جنم دیا اس سے دگنی بار اپنے حمل ضائع کرائے، جبکہ شادیشدہ عورتوں نے جتنی بار اسقاطِحمل کرائے اس سے دس گنا بچوں کو جنم دیا۔
وسطی اور جنوبی امریکہ میں—جہاں اکثریت کیتھولک ہے—اسقاطحمل کی بابت قوانین دنیا میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ تاہم، غیرقانونی اسقاطحمل بہت زیادہ ہیں، جو کہ عورتوں میں سنگین صحت کے مسائل پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، برازیلی خواتین نے گذشتہ سال تقریباً چار ملین اسقاطحمل کروائے۔ ان میں سے ۴۰۰،۰۰۰ سے زائد کو بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے طبی امداد حاصل کرنی پڑی۔ لاطینی امریکہ میں حمل کے تمام واقعات میں سے تقریباً ہر چوتھا حمل ضائع کر دیا جاتا ہے۔
اوقیانوس کے پار براعظم افریقہ میں بھی، قوانین بڑے سخت ہیں۔ حادثات اور اموات بہت عام ہیں، بالخصوص ان غریب عورتوں میں جو غیرقانونی پریکٹیشنرز کی مدد لیتی ہیں۔
پورے مشرقوسطی میں، تحریری قوانین بڑے سخت ہیں، لیکن اس کے باوجود جو عورتیں بھاری فیس ادا کرنے کے قابل ہوتی ہیں ان میں اسقاطحمل کا مطالبہ کرنا اور اسقاطحمل کرانا بڑا عام ہے۔
مغربی یورپ کی اکثریت کچھ، اسقاطحمل کی اجازت دیتی ہے جبکہ اسکینڈینیویا اس سلسلے میں سب سے زیادہ آزاد خیال ہے۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے ۱۹۶۷ سے لیکر جب سے اس کام کو جائز قرار دیا گیا ہے اس وقت سے کئے جانے والے اسقاطحمل کا ریکارڈ رکھا ہے۔ اس نے اسقاطحمل کی تعداد میں دگنے اضافے اور اسکے ساتھ ناجائز پیدائشوں میں، جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں، عصمت فروشی، اور اولاد پیدا کرنے کے سلسلے میں بیشمار نقائص میں اضافے کا مشاہدہ کیا ہے۔
حال ہی میں مشرقی یورپ میں بہت زیادہ تبدیلی رونما ہوئی ہے، اور اسی طرح سے اسقاطحمل کی بابت قوانین میں بھی۔ جو سابقہ سویت یونین تھا وہاں پر ہر سال تخمیناً ۱۱ ملین اسقاطحمل ہوتے ہیں جو کہ دنیا بھر میں بڑی تعدادوں میں سے ہے۔ بہت کم تعداد میں مانعحمل کی کمیابی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے، اس خطے کی ایک اوسط درجے کی عورت اپنی زندگی کے دوران شاید چھ سے نو بار اسقاط کرائے۔
پورے مشرقی یورپ میں، عام طور پر پابندیاں ہٹا لینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک ڈرامائی مثال رومانیہ ہے، جہاں پر گذشتہ نظامحکومت نے بڑے جوش سے اسقاطحمل کو غیرقانونی قرار دیا اور مانعحمل چیزوں پر پابندی لگائی تاکہ آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ عورتوں کو جبراً کمازکم چار بچے پیدا کرنے کو کہا گیا اور ۱۹۸۸ تک، رومانیہ کے یتیمخانے اوباش بچوں سے اٹے پڑے تھے۔ لہذا، ۱۹۸۹ سے لیکر جب سے انقلابی حکومت نے اسقاطحمل پر سے ان پابندیوں کو اٹھا دیا ہے ہر ۴ میں سے ۳ بچے ضائع کر دئے جاتے ہیں، جو کہ یورپ میں سب سے بڑی شرح ہے۔
ایشیا میں سب سے زیادہ اسقاطحمل ہوتے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین جس کی کہ ایک بچہ اور لازمی اسقاط کی پالیسی ہے، اس سلسلے میں ہر سال ۱۴ ملین اسقاطحمل کی رپورٹ کرتے ہوئے، سرفہرست ہے۔ جاپان میں خواتین اپنے اسقاطشدہ بچوں کی یاد میں چھوٹے چھوٹے مجسموں کو ببوں اور کھلونوں سے آراستہ کرتی ہیں۔ یہاں کی عوام برتھ کنٹرول گولیوں سے بہت اندیشہ رکھتی ہے اور اسقاطحمل کو ہی خاندانی منصوبہبندی کا اولین طریقہ خیال کرتی ہے۔
پورے ایشیا میں اور بالخصوص انڈیا میں، میڈیکل ٹیکنالوجی نے عورتوں کے حقوق کے حمایتیوں کے لئے ایک بڑی مشکل اور ناگوار صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایمنیوسنٹیسز اور الٹراساؤنڈ جیسی تکنیکوں کو حمل کے بالکل شروع کے مراحل میں ہی بچے کی جنس معلوم کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مشرقی تہذیب نے کافی عرصے سے بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی ہے۔ پس جہاں جنس کا تعین کرنے کے اور اسقاطحمل دونوں کے طریقکار بڑی آسانی سے دستیاب ہیں، نر/مادہ پیدایش کی شرح کو غیرمتوازن بناتے ہوئے، مادہ ادھورے بچوں کا بڑی تعداد میں اسقاط کر دیا جاتا ہے۔ درحقیقت، مادہ ادھورے بچے کو ضائع کرنے کے خواتین کے حق کا تقاضا کرتے ہوئے تحریکنسواںاب بظاہر متناقص حالت میں ہے۔
ایک ماں جو کچھ محسوس کرتی ہے
دیگر میڈیکل طریقکار کی طرح، اسقاطحمل بھی اپنے ساتھ درد اور خطرات لئے ہوئے ہے۔ حمل کے دوران رحم کا منہ یا سروکس، بچے کو محفوظ رکھنے کیلئے بہت مضبوطی سے بند ہوتا ہے۔ اسے پھیلانا اور اس میں اوزار داخل کرنا تکلیفدہ اور پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ سکشن ابورشن (خلا پیدا کرکے کھینچنے والا اسقاط حمل) شاید ۳۰ یا اس سے کچھ زیادہ منٹ لے جس کے دوران بعض خواتین کو شاید معمولی درد سے لیکر شدید درد اور اینٹھن کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ سیلائن ابورشن میں، قبلازوقت مصنوعی دردزہ کی تحریک دی جاتی ہے بعض اوقات پروسٹاگینڈ یعنی ایک ایسی چیز کے ساتھ جو دردزہ کو شروع کرتی ہے۔ اینٹھن شاید گھنٹوں یا کئی دنوں تک رہے اور شاید تکلیفدہ اور جذباتی طور پر نقصاندہ ہو۔
اسقاط کی فوری پیچیدگیوں میں بہت زیادہ خون کا بہہ جانا، سروکس کا کٹ جانا یا چر جانا، بچہ دانی میں سوراخ، خون کا جم جانا، اینستھیزیا کا ریایکشن، پٹھوں کی اینٹھن، بخار، سردی لگنا اور قے ہونا شامل ہے۔ انفیکشن کا خطرہ خاص طور پر زیادہ ہوتا ہے اگر بچے یا آنول (پلایسنٹا) کے حصے رحم میں رہ جائیں۔ نامکمل اسقاطحمل بہت عام ہیں اور باقی بچے ہوئے بوسیدہ ٹشوز یا خود بچے دانی کو نکال دینے کے لئے شاید سرجری لازم ہو۔ ریاستہائے متحدہ، برطانیہ اور سابقہ چیکوسلواکیہ میں حکومت کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسقاطحمل بعد میں بانجھپن، ٹیوب کے حمل، بچہ ضائع ہو جانے، قبلازوقت پیدایش اور پیدایشی نقائص کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں۔
سابقہ یو۔ایس سرجن جنرل کے ایورٹ کوپ نے مشاہدہ کیا کہ کسی نے بھی ”اس عورت کے جذباتی ردعمل یا خطا کے احساس کا مطالعہ نہیں کیا جس نے اسقاطحمل کرایا اور اب بڑی شدت سے ایک بچے کی خواہاں ہے جسے وہ اب حاصل نہیں کر سکتی۔“
اسقاطحمل کے مطالعوں میں اپنے کنٹرول گروپوں میں پاکیزہ نوجوان مسیحی خواتین کو بھی شامل کرنا چاہیے تھا جو کہ خدا کے قوانین اور زندگی کیلئے احترام کی خاطر کنوری رہتی ہیں۔ ایسے مطالعوں سے یہ ظاہر ہوتا کہ وہ خوشگوار رشتوں، بہتر عزتنفس اور ابدی ذہنی اطمینان کا لطف اٹھاتی ہیں۔
ایک نازائیدہ بچہ جو کچھ محسوس کرتا ہے
ایک نازائیدہ بچہ اپنی ماں کے رحم کی گرمی میں محفوظ لپٹے ہونے اور پھر اس پر اچانک مہلک قوت کے حملہآور ہونے سے کیسا محسوس کرتا ہے؟ ہم تو صرف اس کا تصور ہی کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی زبانی یہ کہانی کبھی سننے کو نہیں ملے گی۔
زیادہتر اسقاطحمل زندگی کے پہلے ۱۲ ہفتوں کے دوران کئے جاتے ہیں۔ اس وقت تک ننھامنا ادھور بچہ سانس لینے اور نگلنے کا عمل دوہرا رہا ہوتا ہے اور اس کا دل دھڑکنے لگتا ہے۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے پنجوں کو موڑ سکتا، مٹھی بند کر سکتا، اپنی پانی کی دنیا میں سیر کر سکتا—اور درد محسوس کر سکتا ہے۔
بہتیرے ادھورے بچوں کو رحم سے نکال کر تیز دھار والی ویکیوم ٹیوب کے ذریعے بڑے زور سے کسی بوتل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ویکیوم ایسپریشن کہتے ہیں۔ یہ زوردار سکشن (گھریلو ویکیوم کلینر سے ۲۹ گنا زیادہ طاقتور) ننھے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔ دیگر بچے ڈائلیشن اور کیوریٹیج، کے ذریعے ضائع کیے جاتے ہیں جس میں ایک پھندے کی شکل کے چاقو سے رحم کی جھلی کو کھرچ کھرچ کر بچے کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے باہر نکالا جاتا ہے۔
۱۶ ہفتوں سے اوپر کا ادھورا بچہ سیلائن ابورشن یا پھر سالٹ پوائزننگ کے عمل سے بھی مر سکتا ہے۔ ایک لمبی سوئی پانی کی تھیلی میں سوراخ کر دیتی ہے، اس میں سے کچھ پانی کو نکال کر اس کی جگہ نمک کا گاڑھا محلول ڈال دیا جاتا ہے۔ جب بچہ اسے نگلتا ہے اور سانس لیتا ہے تو اپنے نازک پھیپڑوں کو اس زہریلے محلول سے بھر لیتا ہے، وہ ہاتھ پاؤں مارتا اور ہلچل پیدا کرتا ہے۔ زہر کے کیمیاوی عمل کا اثر جلد کی اوپری تہہ کو جلا دیتا ہے، اور اسے خام اور چرمر کر دیتا ہے۔ اس کے دماغ سے شاید خون بہنے لگے۔ گھنٹوں کے اندر شاید دردناک موت واقع ہو جائے، تاہم وقتاً فوقتاً جب دردزہ ایک یا اس سے زیادہ دن بعد شروع ہوتی ہے تو ایک زندہ لیکن مرتا ہوا بچہ پیدا ہوتا ہے۔
اگر بچہ ان طریقوں سے یا اسی طرح کے دوسرے طریقوں سے مارنے سے زیادہ بڑا ہوتا ہے تو پھر ایک ہی طریقہ باقی رہ جاتا ہے—ہسٹیروٹومی، ایک مختلف مقصد سے کیا جانے والا آپریشن، زندگی کو بچانے کی بجائے اسے ختم کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ سرجری کے ذریعے ماں کے رحم کو کھولا جاتا ہے اور تقریباً ہمیشہ ایک زندہ بچہ باہر نکالا جاتا ہے۔ وہ شاید روئے بھی۔ لیکن اسے مرنا ہوگا۔ بعض کو تو جان بوجھ کر گلا گھونٹ کر، ڈبو کر اور دیگر طریقوں سے قتل کر دیا جاتا ہے۔
ایک ڈاکٹر جو کچھ محسوس کرتا ہے
صدیوں تک معالجوں نے مقدس ہیپوکریٹک قسم میں بیانکردہ اقدار کو اختیار کئے رکھا ہے، جس کا ایک حصہ یوں کہتا ہے: ”میں کسی کو مہلک دوا نہیں دونگا، چاہے اس کیلئے اصرار ہی کیوں نہ کیا جائے، اور نہ ہی کسی کو ایسی چیز کیلئے مشورہ دونگا، اور نہ ہی میں کسی عورت کو [اسقاطحمل کیلئے] دوا دونگا، بلکہ میں اپنے کام کو خطا سے خالی اور مقدس رکھونگا۔“
ان ڈاکٹروں کو کن اخلاقی کشمکشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو رحم میں زندگی کو ختم کرتے ہیں؟ ڈاکٹر جارج فلش اسے یوں بیان کرتے ہیں: ”بطور ایک اسسٹنٹ اور ریزیڈنٹ میڈیکل گریجویٹ کے، میرے ہاتھوں ہونے والے پہلے چند اسقاطحمل میرے لیے کسی طرح کی جذباتی تکلیف کا موجب نہ بنے۔ ... سینکڑوں اسقاطحمل کرنے کے بعد میری بےاطمینانی کا آغاز ہوا۔ ... مجھ میں تبدیلی کیوں آئی؟ اپنی پریکٹس کے اوائل میں، ایک شادیشدہ جوڑا میرے پاس آیا اور اسقاطحمل کرنے کی درخواست کی۔ کیونکہ مریضہ کی سروکس کافی سخت تھی، اسلئے طریقکار پر عمل کرنے کیلئے میں اسے چوڑا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے اسے ایک ہفتہ بعد دوبارہ آنے کیلئے کہا جب کہ اس کی سروکس کچھ نرم پڑ چکی ہوگی۔ جوڑا واپس آیا اور مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا ہے۔ سات ماہ بعد میں نے انکے بچے کی پیدایش کروائی۔
”سالوں بعد، میں اس چھوٹے جیفری کیساتھ اس ٹینس کلب کے سوئمنگپول میں کھیلا جس کے میں اور اسکے والدین ممبر تھے۔ وہ بہت ہی ہنس مکھ اور خوبصورت تھا۔ میں یہ سوچ کر خوفزدہ سا ہو گیا کہ بس ایک ٹیکنیکل رکاوٹ نے مجھے جیفری کی زندگی کو ختم کرنے سے روکا۔ ... میرا یہ یقین ہے کہ صرف ماں کی درخواست پر کسی نشوونما پائے ہوئے ادھورے بچے کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اسے ختم کر دینا، ایک ایسی بدکاری کا کام ہے جس کی معاشرے کو کبھی اجازت نہیں دینی چاہیے۔“
ایک نرس جس نے اسقاطحمل کے کام میں مدد کرنا ترک کر دیا تھا وہ اسقاطحمل کے کلینک پر اپنے کام کی بابت یہ بتاتی ہے: ”ہمارا ایک کام یہ تھا کہ اسقاطشدہ بچے کے اعضا کی گنتی کریں۔ ... کیونکہ اگر لڑکی بچے کے کچھ حصے بچہدانی میں لئے واپس گھر چلی جاتی ہے تو سنگین مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔ میں ان حصوں کو جمع کرکے بڑے احتیاط سے گنتی تھی یہ یقین کرنے کیلئے کہ دو بازو، دو ٹانگیں، ایک دھڑ، ایک سر موجود ہیں۔ ... میرے اپنے چار بچے ہیں۔ ... میری ذاتی زندگی اور میری پیشہورانہ زندگی کے درمیان اتنا بڑا تضاد تھا کہ میں ہمآہنگی پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ ... اسقاطحمل ایک مشکل کام ہے۔“
[تصویر]
ایشیا میں، جہاں نر بچوں کو ترجیح دی جاتی ہے، ڈاکٹر ہزاروں مادہ ادھورے بچوں کا اسقاط کرتے ہیں
[تصویر]
اسقاطحمل کے خلاف مظاہرے میں ایک نیوز رپورٹر ۲۰ ہفتے کے ایک قانونی طور پر جائز قرار دئے گئے اسقاطشدہ بچے کی تصویر بنا رہا ہے
[تصویر]
واشنگٹن، ڈی۔سی۔، یو۔ایس۔اے۔ میں اسقاطحمل کی حمایت میں ایک مظاہرہ
[تصویر]
ریاستہائے متحدہ میں، اسقاطحمل والی ۵ میں سے ۴ عورتیں غیرشادیشدہ ہیں