زندگی ایک نعمت جسے عزیز رکھا جائے
جب یہوواہ خدا نے انسانی خاندان کو اولاد پیدا کرنے کا استحقاق بخشا تو یہ کیا ہی شاندار نعمت تھی! ایک خوبصورت بچہ جنم لیگا جس کا ایک ایسے خوشحال جوڑے کی منتظر باہیں استقبال کرینگی جو ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے اور جو اپنے ازدواجی ملاپ کی اس ننھی پیداوار کی پرورش کرنے اور اسے چاہنے کیلئے تیار تھے۔ جوں ہی بچے کی زندگی کا انکشاف ہوگا تو خاندان کی خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوگا۔
لیکن آدم اور حوا کا گناہ نسلانسانی میں پیدا ہونے والے بچوں کیلئے المناک نتائج لایا۔ گناہ کے نتیجے میں، ہماری پہلی ماں کو بچے پیدا کرنے میں جسمانی درد اور تکلیف کی سزا ملی تھی۔ اور وہ گنہگارانہ ماحول جس میں انکی اولاد داخل ہوئی اس نے اولاد پیدا کرنے کو ایک مشکل ترین چیلنج بنا دیا۔ لہذا، آج کی الجھی ہوئی دنیا میں، یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ حمل کے ٹھہر جانے کو خوشی سے قبول نہیں کیا جاتا۔ تاہم، نازائیدہ بچے کی بابت خالق کا نظریہ کیا ہے؟ کیا اخلاقیات کے بدلنے والے مدوجزر کیساتھ اس میں تبدیلی آ گئی ہے؟ یقیناً نہیں۔ دنیا کے نازائیدہ بچوں کیلئے اسکی فکر اور نظریہ ہمیشہ غیر تغیرپذیر ہے۔
صحائف اسے بالکل واضح کر دیتے ہیں کہ ماں کے بطن میں ایک منفرد انسان نشوونما پا رہا ہوتا ہے۔ زندگی حمل کے وقت ہی سے شروع ہو جاتی ہے۔ دنیا میں آمد تو صرف انسان پر اس بچے کو ظاہر کرتی ہے جسے خدا پہلے ہی سے دیکھ چکا ہوتا ہے۔ حزقیایل ”سب پہلوٹھوں“ کا ذکر کرتا ہے۔ (حزقیایل ۲۰:۲۶) ایوب ”اپنی ماں کے رحم کے دروازوں“ کو بیان کرتا ہے اور اسقاطِحمل کو ”ان بچوں کی مانند“ بیان کرتا ہے ”جنہوں نے روشنی ہی نہ دیکھی“ ہو۔—ایوب ۳:۱۰، ۱۶۔
رحم میں نشوونما پانے والی نازک جان کیلئے یہوواہ خدا کی پرمحبت فکر پر غور کریں۔ اس نے یرمیاہ سے فرمایا: ”اس سے پیشتر کہ میں نے تجھے بطن میں خلق کیا۔ میں تجھے جانتا تھا اور تیری ولادت سے پہلے میں نے تجھے مخصوص کیا۔“ (یرمیاہ ۱:۵) داؤد نے کہا: ”جب میں پوشیدگی میں بن رہا تھا اور زمین کے اسفل میں عجیب طور سے مرتب ہو رہا تھا تو میرا قالب تجھ سے چھپا نہ تھا۔ تیری آنکھوں نے میرے بےترتیب مادے کو دیکھا۔“ (زبور ۱۳۹:۱۵، ۱۶) ایوب خدا کی بابت کہتا ہے ”جس نے مجھے بطن میں بنایا“ اور جس نے ”ہماری صورت رحم میں بنائی۔“—ایوب ۳۱:۱۵۔
لیکن اس پریشان حال حاملہ کیلئے خدا کی فکرمندی کی بابت کیا ہے جو بچہ نہیں چاہتی؟ والدین بننے کی بھاری ذمہداری کی بابت سب سے زیادہ خالق خود جانتا ہے۔ اگر ایک حاملہ، مشکل حالات کے باوجود، خدائی تقاضوں کیلئے احترام کے باعث بچے کو جنم دینے کا انتخاب کرتی ہے تو کیا وہ اس کے فیصلے کو بابرکت نہ بنائے گا؟ ایک ماں بالکل واجب طور پر ایک خوشحال بچے کی پرورش کرنے کے سلسلے میں مدد کیلئے خدا سے دعاگو ہو سکتی ہے بلکہ اسے ضرور ایسا کرنا چاہیے۔ اپنے کلام کے صفحات میں، خدا نے بچوں کی تربیت کی بابت بہترین دستیاب مشورت دے دی ہے۔ خاندانی زندگی میں بائبل اصولوں کا اطلاق بابرکت نتائج پر منتج ہوگا۔ خدا پرست بچوں کو پروان چڑھانے کے دوران خوشی اور اجر اس سلسلے میں کی گئی کسی بھی قربانی سے زیادہ اہم ہے، جس کی شہادت کوئی بھی شادماں والدین ہو سکتے ہیں۔
اگر بچہ زنابالجبر یا محرمات سے جنسی تعلقات کی پیداوار تھا تو کیا خدا معاملات کو مختلف نظریے سے دیکھتا ہے؟ اگرچہ ماں کے خلاف یہ فعل مجرمانہ تھا، تاہم، بچے پر اس کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ اسکی زندگی کو تلف کر دینا محض تشدد کے اس کام میں ایک اور کا اضافہ کر دیگا۔ یقیناً یہوواہ ایسے لوگوں کے تجربہ میں آنے والے جذباتی دکھدرد کو جانتا ہے اور ماں اور بچے کو بعد کی حالت کیساتھ متوازن طور پر نپٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس وقت کیا ہو اگر ڈاکٹر حاملہ عورت کو بتاتا ہے کہ بچے کو پورے دنوں تک بطن میں رکھنا شاید اسکی زندگی کو خطرے میں ڈال دے؟ ڈاکٹر ایلن ماخر نے بیان کیا: ”آجکل تقریباً ہر مریض کیلئے یہ ممکن ہے کہ اسے حمل میں سے زندہ سلامت بچا لیا جائے، اگر وہ کینسر یا لیوکیمیا جیسی کسی جان لیوا بیماری کا شکار نہیں، اور اگر ایسا ہے بھی تو، اسقاطحمل شاید ہی زندگی کو بچانے یا اسکو کچھ طویل کرنے میں معاون ثابت ہو۔“ دی انسائیکلوپیڈیا امریکانا بیان کرتا ہے: ”چونکہ پیچیدہ طبی مسائل کے باوجود عورتوں کی اکثریت کو حمل سے بحفاظت بچایا جا سکتا ہے تو ماں کی صحت کی خاطر بہت کم اسقاطِحمل کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہتر اسقاطحمل بچہ ہونے سے گریز کرنے کیلئے کئے جاتے ہیں۔“ پس ایسی حالتیں بہت ہی کم ہوتی ہیں۔ تاہم، اگر وضعحمل کے وقت، ایسا واقع ہو جائے تو پھر والدین کو ماں اور بچے کی زندگی میں انتخاب کرنا چاہیے۔ یہ انکا فیصلہ ہے۔
کیا کوئی تعجب ہے کہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی بابت زندگی کے خالق نے جو واضح ہدایات فراہم کی ہیں؟ اس کی نظروں میں، ایسی زندگی کو تشکیل دینا جسکی دیکھ بھال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بالکل ویسا ہی گناہ ہے، جیسے کسی کی جان لینا گناہ ہے۔
یقیناً یہ بحث تو اس نظام کے آخر تک یوں ہی جاری رہیگی۔ لیکن جہاں تک زندگی کے خالق یہوواہ خدا کا اور جو اس کے حکموں کو عزیز رکھتے ہیں انکا تعلق ہے اس میں کوئی حجت نہیں۔ زندگی بیش قیمت ہے—ایک ایسی نعمت جس کی اسکے شروع ہی سے تربیت اور پرورش کی جانی چاہیے۔
[بکس]
اسقاطحمل کو خدا کے طریقے سے دیکھنا
اس نوعمر لڑکی کی بابت کیا ہے جو بغیر شادی کے حاملہ ہو جاتی ہے اور جو کسی بھی طرح سے ماں بننے کیلئے بالکل تیار نہیں؟ کیا اسے ایک بچے کو جنم دیکر دنیا میں لانے کی اجازت ملنی چاہیے؟ بچے کیلئے خدا کے احساسات اسلئے ہرگز تبدیل نہیں ہو گئے کہ اس کی ماں نے غیردانشمندانہ اور بداخلاقی کا کام کیا ہے؟ بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک بچے کی پیدایش شاید اسکی ماں کو اپنی بداخلاقی کے طبعی نتائج کا احساسدلائے اور یوں اسکے دماغ پر خدائی قوانین کی حکمت کو گہرا نقش کرے۔ اپنے ناجائز جنسی فعل کے نتائج سے پیچھا چھڑا لینا شاید اس میں احساس جرم کو باقی رکھے، یا شاید اسے بداخلاقی کے مزید کاموں کیلئے دلیر کر دے۔
اگر اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے باپ موجود نہیں تو بچے کی پرورش اتنی آسان نہ ہوگی۔ لیکن ہمارے آسمانی باپ کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ ایک ماں کو ایسا کرنے کیلئے اخلاقی اور جذباتی قوت، مدد اور راہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ تنہا والدین کے بوجھ کو سہل بنانے میں مدد دینے کیلئے اس نے مسیحی کلیسیا بھی فراہم کی ہوئی ہے۔