اسقاطحمل کا معمہ کیا ۶۰ ملین اموات اسکا حل ہیں؟
پریشان، خوفزدہ، پرنم آنکھوں کے ساتھ ایک ۱۵ سالہ لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کو غصے میں بھرا جاتے دیکھتی ہے۔ اس نے اسے حاملہ ہونے پر احمق کہا۔ اس [لڑکی] نے تو سوچا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
ایک عورت اس وقت بڑی پریشان ہوتی ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اسکے ہاں چھٹا بچہ ہونے والا ہے۔ [اس کے شوہر کے پاس روزگار نہیں ہے]، اور بچے ہر رات بھوکے سوتے ہیں۔ وہ ممکنہ طور پر کیسے ایک اور بچے کی ذمہداری اٹھا سکتے ہیں؟
ایک خوشپوش عورت نے اپنی ڈاکٹر سے کہا۔ ”کیا یہ حمل کسی اور وقت نہیں ٹھہر سکتا تھا،“ آخرکار اس نے انجینئیرنگ کی اپنی ڈگری حاصل کی ہے اور ایک نئے پیشے کا آغاز کرنے والی ہے۔ اس کا شوہر پوری طرح سے اپنی وکالت میں محو ہے۔ وہ بچے کے لئے کہاں سے وقت نکالیں گے؟
یہ لوگ اپنی طرززندگی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اور مختلف معموں کا سامنا کرتے ہیں، لیکن وہ ایک ہی طرح کے حل یعنی اسقاطحمل کا انتخاب کرتے ہیں۔
اسقاطحمل اس عشرے کے نہایت دھماکہخیز مسائل میں سے ایک ہے اور سیاسی، معاشرتی، طبی، اور مذہبی میدانوں میں شدید مباحثوں کو ہوا دے رہا ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں، پرو-لائفرز نازائیدہ بچوں کے لئے آواز بلند کرتے ہیں۔ پرو-چوائس گروپ آزادی اور فیصلہ کرنے کے عورت کے حق کے قانونی حق کی حمایت کرتا ہے۔ کروسیڈرز [پرو لائفرز] انتخابات، عدالتوں، گرجہ گھروں یہاں تک کہ سڑکوں پر بھی آزادی کے علمبرداروں کے خلاف جہدوجہد کرتے ہیں۔
لاکھوں اس رسہکشی کا شکار ہیں اور دونوں فریقین کی گرماگرم بحث کے ہاتھوں آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ اصطلاحیں ”پرو-چوائس“ اور ”پرو-لائف“ کا انتخاب انہیں ڈانونڈول لوگوں کو اپنا حامی بنانے کیلئے کیا گیا۔ اس دور میں جہاں آزادی کی پرستش کی جاتی ہے، کون حق انتخاب کی حمایت نہیں کریگا؟ لیکن پھر بات وہی آ جاتی ہے کہ کون زندگی کی حمایت نہیں کریگا؟ پرو-چوائس گروپ غیرقانونی اسقاطحمل کرنے والے ان آلات کے خلاف آواز بلند کرنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں جو کہ غیرقانونی طور پر غیرمحفوظ اسقاطحمل کے ذریعے مصیبتزدہ عورتوں کی اموات کا باعث ہوئے ہیں۔ پرو-لائف کے حمایتی اسقاطشدہ ادھورے بچوں کی بوتلوں کو لاکھوں نازائیدہ مردوں کی تلخ یادہانی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اس تمام جان لیوا المیے کو لارنس ایچ۔ ٹرائیب کی کتاب ابورشن: دی کلیش آف ایبسولیوٹس میں نہایت موزوں طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ”بہتیرے جو بہت آسانی سے ایک ادھورے بچے کو حقیقی انسان سمجھ لیتے ہیں، جو اسے بیحد اہمیت دیتے اور انکے لئے آنسو بہاتے ہیں، وہ بمشکل ہی اس عورت کو جو ایک بچے کو اپنے رحم میں لئے ہوئے ہے اور اسکی قابلرحم انسانی حالت کو دیکھتے ہیں۔ ... بہتیرے دیگر، جو آسانی سے ایک حاملہ عورت اور اسکے بدن کو پہچان لیتے ہیں جو اپنی منزل کے اختیار کے اپنے حق کیلئے چلاتی ہے، وہ بمشکل ہی اس عورت کے ساتھ ادھورے بچے کو دیکھتے ہیں اور یہ نہیں خیال کرتے کہ اسے بھی اپنے طور سے جینے کا حق حاصل ہے۔“
جبکہ لوگ اس بات پر بحثوتکرار کرتے رہیں گے کہ کس کے حقوق مقدم ہیں، ۵۰ سے ۶۰ ملین نازائیدہ کے اسقاط ہو جائیں گے۔
اس جذباتی مسئلے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ آپ ان کلیدی سوالات کا جواب کیسے دینگے: کیا اس سلسلے میں فیصلہ کرنا عورت کا بنیادی حق ہے؟ کیا اسقاطحمل کسی بھی حالات میں جائز ہے؟ زندگی کب شروع ہوتی ہے؟ اور بالآخر، اگرچہ شازونادر پوچھا جانے والا سوال: زندگی اور بچے جننے کی صلاحیت دینے والا خالق اسقاطحمل کو کیسا خیال کرتا ہے؟
اسقاطحمل کی انسانی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ قدیم یونان اور روم میں، اسقاطحمل ایک عام بات تھی۔ قرونوسطی اور نشاہ ثانیہ کے دوران یورپ میں، جان پڑنے تک اسے قابلقبول خیال کیا جاتا تھا، یعنی جب ماں رحم میں زندگی محسوس کرتی ہے۔ جنسی انقلاب کے ساتھ ہی یہ نتیجہ نکلا —لاکھوں ناخواستہ حمل۔
۱۹۶۰ کے دہے نے مساواتنسواں کی نشاندہی کی، جس کی سنگبنیاد نام نہاد حقباروری ہے۔ بعض اس حالت میں حاملہ عورتوں کے لئے اسقاطحمل کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں جب زنا بالجبر یا محرمات سے جنسی تعلقات کا معاملہ ہو یا پھر اس حالت میں کہ جب ماں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ میڈیکل ٹیکنالوجی نے اب ماں کے رحم کے اندر ہی پیدایش سے متعلق نقص اور بچے کی جنس کی بابت معلومات حاصل کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ حمل ڈاکٹر کی مایوس کرنے والی پیشینگوئی کی بنیاد پر ختم کئے جاتے ہیں۔ ۴۰ سال سے اوپر کی عمر کی عورتیں نقائص کی بابت فکرمند ہو سکتی ہیں۔
غریب ممالک میں، بہتیری عورتیں جن کو مانعحمل تک محدود رسائی حاصل ہے وہ محسوس کرتی ہیں کہ وہ بہت زیادہ بچوں کی پرورش نہیں کر سکتیں۔ اور پرو-چوائس کی اپنی حد کی تشریح کو طول دیتے ہوئے، بعض حاملہ عورتیں اس لئے بچے کا اسقاط کرانے کا انتخاب کرتی ہیں کیونکہ وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ حمل کیلئے مناسب وقت نہیں یا اسلئے کہ وہ نازائیدہ بچے کی جنس کی بابت جان جاتی ہیں اور بس یہ کہ وہ اسے نہیں چاہتیں۔
اس جھگڑے میں جس جارحانہ بحث کا اظہار کیا گیا وہ اس سوال سے متعلق ہے کہ زندگی کب شروع ہوتی ہے۔ چند لوگ اس نقطے پر بحث کریں گے کہ بارور بیضےدار خلیہ زندہ ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ زندہ کس حالت میں؟ کیا محض ایک ٹشو؟ یا کیا وہ انسان ہے؟ کیا بلوط کا پھل بلوط کا درخت ہوتا ہے؟ تو پھر، کیا ایک ادھورا بچہ ایک شخص ہے؟ کیا وہ شہری حقوق رکھتا ہے؟ لفظی بحث تو غیرمختتم ہے۔ یہ کتنی طنزآمیز بات ہے کہ ایک ہی ہسپتال میں، ڈاکٹر شاید کسی قبلازوقت پیدا ہونے والے بچے کی جان بچانے کے لئے جانتوڑ کوشش کر رہے ہوں اور اسی اثنا میں اسی عمر کے کسی ادھورے بچے کی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہوں! قانون شاید انہیں رحم کے اندر کے بچے کو مارنے کی اجازت تو دیدے، لیکن اگر بچہ رحم کے باہر ہو تو یہ قتل ہے۔
اسقاطحمل کو جائز قرار دینے کے سب سے زیادہ مطالبے ”حامی مساوات نسواں“ کی طرف سے ہوتے ہیں جن کے پاس پہلے ہی مقام پر حمل کو روکنے کے لاتعداد مانعحمل طریقے ہیں۔ وہ پرجوش طریقے سے باروری کے حقوق جتاتی ہیں، جبکہ حقیقت میں، حاملہ ہونے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت تو وہ پہلے ہی عمل میں لائی ہیں۔ درحقیقت جو کچھ وہ چاہتی ہیں وہ اس باروری کو ختم کرنے کا حق ہے۔ اسکا جواز؟ ”یہ میرا جسم ہے!“ لیکن کیا حقیقت میں ایسے ہے؟
ابورشن—اے سیٹیزنز گائیڈ ٹو دی ایشوز بیان کرتی ہے کہ حمل کے پہلے ۱۲ ہفتوں میں، ”سیال حالت میں ٹشو کی نہایت تھوڑی سی مقدار کو ختم کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔“ کیا اسقاطحمل کو جائز طور پر ”ٹشو کے لیسدار مادے کو ہٹانا“ یا ”حمل کی پیداوار کو ختم کرنا“ خیال کیا جا سکتا ہے؟ یا کیا یہ چکنیچپڑی اصطلاحیں اسی لئے بنائی گئی ہیں کہ تلخ سچائی کو خوشذائقہ بنایا جائے اور پریشان ضمائر کو مطئمن کیا جائے؟
ٹشو کا وہ ناخواستہ ٹکڑا ایک بڑھنے والا، زندگی سے بھرپور، اپنے کروموسومز کے مکمل سیٹ کے ساتھ ہے۔ ایک نبوتی آپبیتی کی طرح، وہ بناوٹ کے لحاظ سے ایک بالکل منفرد شخص کی تفصیلی کہانی بیان کرتا ہے۔ فیٹالوجی کا ایک مشہور محقق پروفیسر اے۔ ڈبلیو۔ لائلی بیان کرتا ہے: ”حیاتیاتی طور پر، کسی بھی مرحلہ پر ہم اس خیال کی تائید نہیں کر سکتے کہ ادھورا بچہ محض ماں کا ایک حصہ ہے۔ علم توالدوتناسل کے مطابق، ماں اور بچہ حمل کے وقت ہی سے مختلف افراد ہیں۔“
غیرذمہدارانہ طرزعمل
تاہم، اسقاطحمل تک باآسانی رسائی کے ساتھ بہتیروں نے ناخواستہ حمل کے خلاف احتیاط برتنے کی ضرورت کو اہم نہیں سمجھا۔ وہ اسقاطحمل کے استعمال کو ایک حفاظتی تدبیر کے طور پر ترجیح دیتے ہیں تاکہ اسکے ساتھ آنے والے کسی بھی ”حادثات“ سے بچا جائے۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس صدی میں سنبلوغ جلدی واقع ہونے لگا ہے۔ لہذا، نسبتاً نوجوان بچے بھی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا انہیں اس بھاری ذمہداری سے آگاہ کیا گیا ہے جو اس شرف کیساتھ وابستہ ہے؟ ایک اوسطاً امریکی ۱۶ سال کی عمر تک، اور ۱۳ سال کی عمر سے پہلے ۵ میں سے ۱ اپنا کنوارپن کھو بیٹھتا ہے۔ شادیشدہ مردوں اور عورتوں کی ایک تہائی کا معاشقہ چل رہا ہوتا ہے یا ماضی میں ایسا کیا ہوتا ہے۔ آزادانہ جنسی تعلقات رکھنے والوں کے درمیان خوشی سے اسقاطحمل کرانے والے مل جاتے ہیں۔ گاہے بگاہے بالکل اس درخواست کی طرح کہ ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عصمتفروشی کو قانونی طور پر جائز قرار دیا جائے، شاید اسقاطحمل کو جائز قرار دینا بھی اس کے عمل کو طبی طور پر کچھ محفوظ بنا دے، لیکن اس نے ایک ایسے زرخیز ماحول پیدا کرنے میں زیادہ کام کیا ہے جس میں اخلاقی بیماری بڑھ سکتی ہے اور بڑھتی ہے۔
تشدد یا حالات کے شکار؟
دلچسپی کی بات ہے کہ مطالعے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زنابالجبر سے ہونے والے حمل بہت ہی کم ہیں۔ مینیآپولس یو۔ایس۔اے۔، میں زنابالجبر سے متاثرہ ۳،۵۰۰ افراد میں ایک بھی حمل کا شکار نہ تھا۔ سابقہ چیکوسلواکیہ میں ۸۶،۰۰۰ اسقاطحمل میں سے صرف ۲۲ زنابالجبر والے تھے۔ پس اسقاطحمل کرانے والوں کی بہت کم تعداد ان وجوہات کی بنا پر اسقاطحمل کرواتی ہے۔
پیدایشی طور پر ناقابلعلاج نقائص والے شدید طور پر مفلوج بچوں کی بابت خوفناک پیشبینیوں کی بابت کیا ہے؟ پیدایشی طور پر نقص کی پہلی علامت کیساتھ ہی بعض ڈاکٹر فوراً اسقاطحمل پر زور دیتے ہیں۔ کیا وہ تشخیص پر قطعی طور پر یقین رکھ سکتے ہیں؟ بہتیرے والدین تصدیق کر سکتے ہیں کہ ایسی جان لیوا پیشینگوئیاں بےبنیاد ہو سکتی ہیں اور اسے ثابت کرنے کیلئے ان کے پاس خوش، صحتمند بچے ہیں۔ دیگر جن کے بچوں کو اپاہج خیال کیا جاتا ہے، وہ بھی انکے والدین ہونے پر نازاں ہیں۔ بلاشبہ، ریاستہائے متحدہ میں اسقاطحمل کرانے والوں کا محض ۱ فیصد اس لئے اسقاطحمل کرواتا ہے کہ انہیں ادھورے بچے میں کچھ ممکنہ نقص سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
تاہم، جتنا وقت آپ کو اس مضمون کو پڑھنے میں لگا ہے، اتنی دیر میں سینکڑوں نازائیدہ بچے مر چکے ہونگے۔ یہ کہاں ہو رہا ہے؟ اور کیسے اس میں ملوث لوگوں کی زندگیاں اس سے متاثر ہوئی ہیں؟
[عبارت]
ماں: ”یہ میرا جسم ہے!“
بچہ: ”نہیں یہ میرا جسم ہے!“