نازک پروں پر موت
نائیجیریا میں اویک! کے نامہنگار سے
یہ کوئی ایسی جنگ نہیں ہے جو شہسرخیوں پر قبضہ کر لیتی ہے، پھر بھی اس نے انگنت لاکھوں انسانی جانیں لی ہیں۔ یہ بموں یا گولیوں سے لڑی جانے والی کوئی جنگ نہیں ہے، پھر بھی سخت تکلیف اور زندگیوں کے ضائع ہونے سے، یہ ان کے مدمقابل ہے یا ان پر سبقت لے جاتی ہے۔ اس جنگ میں موت دشمنوں کے بھاری بمبار طیاروں کے شکموں سے نہیں، بلکہ مادہ مچھر کے نازک پروں سے آتی ہے۔
رات ہو چکی ہے، گھرانا سویا ہوا ہے۔ ایک مچھر بیڈروم میں اڑ کر آ جاتی ہے، اس کے پر ۲۰۰ سے ۵۰۰ مرتبہ فی سیکنڈ کے درمیان حرکت کرتے ہیں۔ وہ انسانی خون کی شدید خواہش کرتی ہے۔ آہستہ سے وہ لڑکے کے بازو پر اترتی ہے۔ چونکہ اس کا وزن صرف ۳/۱۰۰۰ گرام ہے، لڑکا کوئی حرکت نہیں کرتا۔ تب وہ اپنے منہ کے خاردار حصوں کے سرے سے ایک دندانہ طرز کی آری میان سے نکالتی ہے جس سے وہ لڑکے کی جلد کو بہت ہی باریکی سے چیرتی ہے۔ اس کے سر کے دو پمپ اس کے خون کو چوستے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی مچھر کے لعابدہن کے غدود سے ملیریا کے جراثیم لڑکے کے خون کی نالی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ عمل بہت جلدی ختم ہو جاتا ہے، وہ کچھ محسوس نہیں کرتا۔ خون میں اپنے جسم کے وزن سے تین گنا پھول کر، مادہ مچھر اڑ جاتی ہے۔ بہت دن نہیں گزرتے کہ لڑکا مرنے کی حد تک بیمار ہے۔ اس کو ملیریا ہے۔
یہ وہ منظر ہے جسے لاکھوں مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ نتیجہ بہت بڑے پیمانے پر غمزدگی اور موت رہا ہے۔ بغیر کسی شکوشبہ کے، ملیریا نوعانسانی کا ایک ظالم اور بےرحم دشمن ہے۔
مریض دشمن کی تلاش کرتا ہیں
ملیریا کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی دریافتوں میں سے ایک یورپ کے بڑے سائنسدانوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ انڈیا میں متعین ایک برطانوی آرمی سرجن کے ذریعے کی گئی تھی۔ گزشتہ دو ہزار سالوں کی سوچ سے مطابقت رکھتے ہوئے، ۱۹ ویں صدی کے سائنسدانوں اور ڈاکٹروں نے فرض کر لیا کہ لوگوں کو یہ بیماری حد سے زیادہ گندی نمدار ہوا میں سانس لینے سے لگی ہے۔a اس کے برعکس ڈاکٹر رونلڈ راس مانتا تھا کہ بیماری مچھروں کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتی تھی۔ حالانکہ یہ جان بھی لیا گیا تھا کہ ملیریا کے دھارے کے اندر کے انسانی خون جراثیموں کو اپنے ساتھ ملا لیتا تھا، محققین نے دلدلی زمین کے پانی اور ہوا میں اشاروں کی تلاش جاری رکھی۔ دریںاثناء، راس نے مچھروں کے معدوں کا بغور مشاہدہ کیا۔
پرانے زمانے کی لیبارٹری کے آلات پر غور کرتے ہوئے جن کیساتھ اسے کام کرنا پڑا، مچھروں کے معدوں کے اندر دیکھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ جب اس نے کام کیا تو مچھروں اور پردار کیڑوں کے بادل اس کے گرد جھنڈ بن کر اڑنے لگے، راس کے مطابق، وہ ”اپنے دوستوں کی موت کی خاطر،“ ذاتی انتقام لینے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔
آخرکار ۱۶ اگست، ۱۸۹۷ کو راس نے اینوفلیز مچھر کے معدہ کے پردوں کے اندر کروی نامیاتی اجسام دریافت کر لئے جو رات ہی میں کافی بڑے ہو گئے تھے۔ ملیریا کے جراثیم!
خوشی سے معمور، راس نے اپنی نوٹ بک میں لکھا کہ اس نے راز فاش کر دیا ہے جو ”لاکھوں کروڑوں آدمیوں“ کو بچائے گا۔ اس نے کرنتھیوں کی بائبل کتاب سے ایک آیت بھی لکھی: ”اے موت تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت تیرا ڈنک کہاں رہا؟“—۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۵۔
ملیریا کی تباہکاریاں
ملیریا کے خلاف جنگ میں راس کی دریافت ایک سنگمیل تھی، وہ جس نے بیماری اور ان حشرات کے خلاف جو اس کے ساتھ آتے ہیں، نوعانسانی کا پہلا بڑا حملہ کرنے کی راہ کھولنے میں مدد کی۔
تاریخ کے بیشتر حصے میں، ملیریا کیلئے نوعانسانی کے نقصانات بھاری اور طویلتر رہے ہیں۔ مسیح کے زمین پر ہو گزرنے سے ۱،۵۰۰ سال پہلے مصری خطتصویری اور پیپری ملیریا کی شدید خونریزی کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس نے قدیم یونان کے خوبصورت نشیبی شہروں کو تباہ کر دیا اور سکندراعظم کو عالمشباب میں مار دیا۔ اس نے رومی شہروں کی آبادی کو کم کر دیا اور دولتمند طبقے کے کوہستانی علاقے پر جانے کا سبب بنا۔ صلیبی جنگوں میں، امریکی خانہجنگی، اور دو عالمی جنگوں میں، اس نے بڑی لڑائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی نسبت زیادہ آدمیوں کو ہلاک کیا ہے۔
افریقہ میں ملیریا نے مغربی افریقہ کی لقب ”وائٹ مینز گریو (سفیدفام آدمی کی قبر)“ حاصل کرنے میں مدد کی۔ درحقیقت، یہ بیماری افریقہ میں آبادکاری کرنے کیلئے یورپی مقابلہ کی جدوجہد میں اس طرح حائل ہوئی کہ ایک مغربی افریقی یونیورسٹی نے مچھر کا قومی ہیرو کے طور پر باضابطہ اعلان کر دیا! وسطی امریکہ میں، ملیریا نے پاناما نہر تعمیر بنانے میں فرانسیسی کوششوں کو شکست دینے میں مدد کی۔ جنوبی امریکہ میں، برازیل میں ماموری مدیئرا ریل کی پٹری کی تعمیر کیساتھ ساتھ، ملیریا کو کہا گیا تھا کہ اس نے ہر پٹری کے بچھائے جانے پر ایک انسانی جان لے لی۔
جیتنے کیلئے لڑائی
یہ نہ جانتے ہوئے کہ یہ ملیریا کے حملے کا مقابلہ ہے مچھر کے حملے کے خلاف مقابلے ہزاروں سال کی مدت کا احاطہ کرتے ہیں۔ ۱۶ ویں صدی ق۔س۔ع میں مصریوں نے بالینیٹیز ولسونیانہ درخت کے تیل کا مچھروں کو دور بھگانے کے طور پر استعمال کیا۔ ایک ہزار سال بعد، ہیردوتس نے لکھا کہ مصری مچھیرے رات کو اپنے جالوں کو اپنی چارپائیوں کے گرد لپیٹ لیتے تھے تاکہ کیڑے مکوڑے دور رہیں۔ سترہ صدیاں بعد، مارکو پولو رپورٹ دیتا ہے کہ ہندوستان کے دولتمند باشندے حفاظتی پردوں کیساتھ بستروں پر سوتے تھے جو رات کو بند کئے جا سکتے تھے۔
کسی اور جگہ پر، انسانوں نے قدرتی علاج دریافت کر لئے جن کی حقیقی قدروقیمت تھی۔ ۲،۰۰۰ سالوں تک، چین میں ملیریا کا کامیاب علاج ایک پودے سے کیا جاتا تھا جو چنہوسو کہلاتا ہے، ایک جڑی بوٹی سے علاج جو کہ حالیہ سالوں میں پھر سے دریافت ہوا ہے۔ جنوبی امریکہ میں، پرووئین انڈین سنکونا کی چھال استعمال کرتے تھے۔ ۱۷ ویں صدی میں، سنکونا یورپ میں آیا، اور ۱۸۲۰ میں پیرس کے دو دوا سازوں نے اس سے ایک تلخ نامیاتی اساس نچوڑ لیا جو کونین کہلاتی ہے۔
نئے ہتھیار
ملیریا کی روکتھام کرنے اور اس کے علاج کرنے میں کونین کی قدروقیمت کی قدرافزائی بڑی سستی سے دکھائی گئی تھی، لیکن جب دکھائی گئی تو ایک سو سال تک یہ پسندیدہ دوائی بن گئی۔ پھر، دوسری جنگعظیم کے شروع میں، جاپانی دستوں نے مشرقبعید میں نہایت اہم سنکونا کے باغات پر قبضہ کر لیا۔ ریاستہائے متحدہ میں نتیجتاً ہونے والی کونین کی شدید قلت نے زوردار تحقیق پر آمادہ کیا کہ ترکیبی مصنوعی ملیریاکش دوا کو بنا سکیں۔ نتیجہ کلوروکوین تھا، ایسی دوا جو محفوظ، انتہائی مؤثر، اور بنانے میں کم قیمت تھی۔
کلوروکوین ملیریا کے خلاف جلد ہی بہت بڑا ہتھیار بن گئی۔ نیز ۱۹۴۰ کے دہے میں مچھروں کی ایک طاقتور قاتل، حشراتکش ڈیڈیٹی، کو متعارف کرایا گیا۔ اسپرے کرنے کے وقت ڈیڈیٹی نہ صرف مچھروں کو ہلاک کرتی ہے بلکہ بعد میں دیواروں پر باقی اس کی موجودگی جو کہ چھڑکی گئی ہے کیڑے مکوڑوں کو بھی ہلاک کر دیتی ہے۔b
رجائیتپسند جوابی حملہ
دوسری جنگعظیم کے بعد سائنسدانوں نے ڈیڈیٹی اور کلوروکوین سے مسلح سے ہو کر ملیریا اور مچھروں کے خلاف ایک عالمگیر جوابی حملہ منظم کیا۔ جنگ دو محاذوں پر لڑی جانی تھی—دوائیاں انسانی بدن میں جراثیموں کو مارنے کیلئے استعمال ہونگی، جبکہ حشراتکش مچھروں کا نامونشان مٹائیں گے۔
نصبالعین مکمل فتح تھی۔ ملیریا کا وجود مٹایا جانا تھا۔ حملے کی پیشوائی نئی تشکیلیافتہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیوایچاو) کر رہی تھی، جس نے قلعقمع کرنے کے پروگرام کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ مضبوط ارادہ کی پشتپناہی پیسہ کر رہا تھا۔ ۱۹۵۷ اور ۱۹۶۷ کے درمیان اقوام نے عالمگیر مہم میں ۴.۱ بلین ڈالر صرف کئے۔ ابتدائی نتائج دلکش تھے۔ یورپ، شمالی امریکہ، سوویت یونین، آسٹریلیا، اور جنوبی امریکہ کے بعض ممالک میں بیماری پر غلبہ پا لیا گیا تھا۔ پروفیسر ایل۔ جے۔ بروس-شواٹ، ملیریا سے لڑنے والے ایک تجربہکار نے یوں اظہار کیا: ”آجکل اس مہیب جوش کو بیان کرنا مشکل ہوگا کہ قلعقمع کرنے کا تصور ان پرسکون ایام کے دوران ساری دنیا میں ابھارا گیا۔ ملیریا لڑکھڑا رہا تھا! ڈبلیوایچاو نے شیخی ماری: ”ملیریا کا قلعقمع ہماری پہنچ کے اندر والی ایک حقیقت بن گیا ہے۔“
ملیریا جوابی حملہ ہے
لیکن فتح نہیں ہونی تھی۔ مچھروں کی نسلیں جو کیمیاوی شدید حملے سے بچ گئی تھیں حشراتکش کیلئے مزاحم بن گئیں۔ ڈیڈیٹی نے اب پہلے کی طرح انہیں بآسانی نہیں مارا۔ اسی طرح، انسانوں میں ملیریا کے جراثیم کلوروکوین کیلئے مزاحم بن گئے۔ ان ملکوں میں جہاں پر فتح بظاہر یقینی ہو چکی تھی یہ اور دیگر مسائل خوفناک واپسی پر منتج ہوئے۔ مثال کے طور پر، سریلنکا، ۱۹۶۳ میں جہاں پر خیال کیا گیا تھا کہ ملیریا کو بالآخر ختم کر دیا گیا ہے، اس نے صرف پانچ سال بعد لاکھوں کو متاثر کرنے والی ایک وبا کا تجربہ کیا۔
۱۹۶۹ تک اس بات کو دوردراز تک تسلیم کر لیا گیا کہ ملیریا ایک ایسا دشمن تھا جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لفظ ”قلعقمع“ کے بجائے اصطلاح ”کنٹرول“ مروج ہو گئی۔ کنٹرول سے کیا مراد ہے؟ ڈبلیوایچاو ملیریا یونٹ کا سربراہ، ڈاکٹر برائن ڈابرسٹائن بیان کرتا ہے: ”صرف یہی کچھ ہم کر سکتے ہیں کہ اموات اور تکلیف کو ایک معقول حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔“
ڈبلیوایچاو کا ایک اور اہلکار نوحہ کرتا ہے: ”۱۹۵۰ کے دہے میں ملیریا کے قلعقمع کی کوششوں اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف ڈیڈیٹی کے استعمال کے بعد، انٹرنیشنل کمیونٹی نرم پڑ گئی۔ غربت، بنیادی انتظامی ڈھانچہ کی کمی، ادویات اور حشراتکش کی مدافعت بیماری کے قائم رہنے کا باعث ہوئی ہے۔ درحقیقت، بیماری نے ہم پر غلبہ پا لیا ہے۔“
ابھی ایک اور پہلو ہے کہ دوائی بنانے والی کمپنیاں اپنی تحقیق میں پسپا ہوئی ہیں۔ ملیریا کے ایک سائنسدان نے کہا: ”مسئلہ یہ ہے کہ یہ کافی سرمایہ کا تقاضا کرتی ہے، لیکن منافع صفر اور حوصلہافزائی کچھ بھی نہیں۔“ جیہاں، اگرچہ کئی جنگیں جیتی گئی ہیں، ملیریا کے خلاف جنگ ختم ہونے سے بعید ہے۔ تاہم، بائبل، ایسے وقت کی اشارہ کرتی ہے جو بالکل قریب ہے جب ”کوئی نہ کہے گا کہ میں بیمار ہوں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴) اس وقت تک، بیماری اور موت نازک پروں پر سے آتی رہے گی۔
[فٹنوٹ]
a لفظ ”ملیریا“ اطالوی مالا (خراب) آریا (ہوا) سے آتا ہے۔
b ڈیڈیٹی کو ماحول کیلئے نقصاندہ پایا گیا تھا اور ۴۵ ممالک میں اس کی ممانعت ہے یا سختی سے اس پر پابندی ہے۔
[بکس]
مچھر بمقابلہ انسان
ایک سو ملکوں، زیادہتر گرم مرطوب ملکوں میں، یہ براہبراست تقریباً آدھی انسانی آبادی انسانوں کو خطرہ پیش کرتی ہے۔ افریقہ خاصکر اس کا گڑھ ہے۔
مچھر گرممرطوب علاقوں سے ہوائیجہازوں میں سوار کرا کے لائے جاتے ہیں اور انہوں نے انٹرنیشنل ہوائیاڈوں کے نزدیک رہنے والوں میں بیماری کے جراثیم پھیلائے ہیں۔
لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہ ہر سال ۲۷۰ ملین تک لوگوں پر وار کرتے ہوئے، ۲ ملین لوگوں کو ہلاک کرتی ہے۔ حاملہ عورتوں اور خاصکر بچوں پر ظلم کرنے والی، یہ ہر منٹ پر دو چھوٹے بچوں کو مار ڈالتی ہے۔
یہ گرم مرطوب علاقوں میں آنے والے ملاقاتیوں پر حملہ کرتی ہے۔ یورپ میں ہر سال کوئی ۱۰،۰۰۰ اور شمالی امریکہ میں ۱،۰۰۰ سے زائد ”درآمدی“ ملیریا کے مریضوں کی رپورٹ دی گئی۔
تدابیر۔ مادہ اینوفلیز مچھر زیادہتر رات کو بیماری کے جراثیم پھیلاتی ہے۔ ملیریا انتقالخون کے ذریعے بھی لگ جاتا ہے اور، کبھیکبھار، آلودہ سوئیوں سے بھی۔
صرف حالیہ سالوں میں ہی نوعانسان کے پاس جوابیحملہ کرنے کا علم اور ذرائع حاصل ہوئے ہیں۔ ۱۰۵ ممالک کی ملیجلی کوششوں کے باوجود جو وبا پر غالب آنے کی کوشش کر رہے ہیں، نوعانسان پسپا ہو رہے ہیں۔
[بکس/تصویر]
مچھر کے کاٹنے سے بچیں
اپنی چارپائی کے گرد کیساتھ مچھردانی لگا کر سوئیں۔ مچھردانیوں کو حشراتکش دوائی لگا دینا سب سے بہتر ہے۔
اگر ایئرکنڈیشنڈ دستیاب ہو تو وہ استعمال کریں، یا جالیدار کھڑکیوں اور دروازوں والے کمروں میں سوئیں۔ اگر کوئی جالیاں نہیں تو دروازوں اور کھڑکیوں کو بند کرکے رکھیں۔
غروبآفتاب کے بعد، پورے آستینوں والے کپڑے اور لمبے پاجامے پہننا قرینمصلحت ہے۔ گہرے رنگ مچھروں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
جسم پر کیڑے مکوڑوں کو دور بھگانے والی چیزیں لگائیں جو کپڑوں سے ڈھکی نہ ہوں۔ کسی ایک کا انتخاب کریں جس میں یا تو ڈائتھیلٹولومائیڈ یا ڈائمیتھلتھیلیٹ ہو۔
مچھروں کو مارنے والے اسپرے، حشراتکش دوائیں، یا مچھرمار کوائل استعمال کریں۔
ماخذ: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن۔