جہاں انسان اور کچھوا ملتے ہیں
آسٹریلیا میں اویک! کے مراسلہنگار سے
سمندر کے غیرپالتو کچھوے کو دیکھنے کا بہترین وقت وہ ہے جب مادہ ریت میں نئے بنائے ہوئے گھونسلے میں انڈے دے رہی ہو۔ چنانچہ کیا آپ میرے ساتھ موںریپو چلنا پسند کریں گے جو آسٹریلیا کی سنہری دھوپ والی ریاست کوینزلینڈ کے ساحلسمندر کا ڈیڑھ کلومیٹر لمبا حصہ ہے؟ اسکی فکر مت کریں کہ آپ کو زیریں منطقہ حارہ میں جھلستے ہوئے سورج سے تکلیف پہنچے گی، کیونکہ ہمارا یہ دورہ رات میں ہوگا۔ ایسی پرکشش سیاحت کے لئے بہترین وقت شام کو آٹھ بجے سے آدھی رات کے درمیان ہے۔
ایک تربیتیافتہ گائیڈ اور ایک مختصر گروپ کے ہمراہ جانا نسبتاً بہتر ہے، کیونکہ اگر ہم ایک بڑی مادہ کچھوی کو دیکھنا اور چھونا چاہتے ہیں تو متعدد باتوں کو کرنے اور نہ کرنے کے احکامات ہیں۔ جب ہم لہروں کے انتہائی نشان سے اوپر ساحلسمندر کے ساتھ ساتھ پیدل جاتے ہیں تو گائیڈ ہمیں اپنی ٹارچ کو بجھائے رکھنے کے لئے کہتا ہے کیونکہ روشنی کچھوؤں کو پریشان کرتی ہے۔ اور ہمیں اس پر حیرت ہوتی ہے کہ ریت پر کچھوؤں کے چلنے کے ایک میٹر چوڑے نشانات روشنی کے بغیر بھی ہم کتنی اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔
اسکے بعد، ہماری گائیڈ اس علاقہ میں سمندر کے کچھوؤں سے متعلق چند دلچسپ حقائق ہمیں بتاتی ہے۔ آسٹریلیا کے پانیوں میں کچھوؤں کی چھ مختلف اقسام ہیں، لیکن ان میں سے محض چار یہاں موںریپو میں پائی جاتی ہیں، جو کہ بندابرگ ساحل کے ساتھ ساتھ ان کے رہنے کا بڑا علاقہ ہے۔ ان کی افزائش کی ترتیب کے لحاظ سے، یہ چار اقسام یوں ہیں: لوگرہیڈ کچھوے (کاریٹا کاریٹا)، فلیٹبیک کچھوے (نتاتور دیپریسا)، گرین کچھوے (چیلونیا میداس)، اور لیدربیک کچھوے (ڈرموچیلس کوریسیا)۔
ہمارا پہلا نظارہ
جب ہماری نظر ایک بڑی کچھوی پر پڑتی ہے تو بڑا جوش پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہماری فہرستشدہ اقسام میں سے پہلی ہے یعنی لوگرہیڈ۔ ہم خاموشی سے اسے سمندر کی جھاگ میں سے ریت پر لہروں کے انتہائی نشان کی طرف آتے دیکھتے ہیں۔ بالآخر جب ہم اس کے نزدیک جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنے گرد سے ریت اور جڑیبوٹیوں کو کھود کر پرچ کی شکل کا ایک گڑھا بنا لیا ہے۔ اس سے اس کے گھونسلے کے اوپر گھاس اگنے نہیں پاتی اور جب ۷ سے ۱۲ ہفتے میں بچے نکل آتے ہیں تو اس میں نہیں پھنستے۔ اس نے اپنے پچھلے پاؤں سے باری باری کھودنے اور پھینکنے کے عمل کے ساتھ یہ ناشپاتی کی شکل کا گھونسلہ بنا کر مکمل کر لیا ہے---دہنے کھودا، بائیں پھینکا، بائیں کھودا دہنے پھینکا۔ اس تمام کام میں تقریباً ۴۵ منٹ لگتے ہیں۔
اب تک اس کے کام میں آسانی سے خلل ڈالا جا سکتا تھا اور اسے واپس پانی میں بھیجا جا سکتا تھا، مگر جب وہ انڈے دینا شروع کر دے تو ہمیں اس کو چھونے کی اجازت ہے۔ رینجر اس پر روشنی ڈالتی ہے اور ہم اگر چاہیں تو اس کی تصویر لے سکتے ہیں۔ کچھوی ۱۰ سے ۲۰ منٹ تک اپنے گھونسلے میں انڈے دیتی رہتی ہے، جن کے اوپر ایک شفاف لیسدار رطوبت رہتی ہے جو بچے نکلنے تک انڈوں کو پھپھوندی اور کیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ لوگرہیڈ کچھوی ایک جھولی میں پنگپانگ گیند جتنے (تقریباً ۳۸ ملی میٹر) اوسطاً ۱۲۰ انڈے دیتی ہے—۱۴ دن کے وقفے کے بعد متعدد بار فی موسم—اور موسموں کے درمیان دو سے چار سال کے وقفہ کے ساتھ۔
جب ہم کچھوی کو واقعی ہاتھ لگاتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ اس کی جلد کتنی ملائم ہے—ایک ایسی بات جو کچھوے کے چمڑے کو اتنا پسندیدہ بنا دیتی ہے اور کچھوؤں کے وجود کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اس کا خول یا ڈھکنا پتروں یا پلیٹوں کا بنا ہوتا ہے اور اس کا موازنہ ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اب وہ اپنے انڈوں کو ڈھانکنا شروع کرتی ہے۔ لیکن چونکہ اس نے انڈے لہروں کے نشان کے قریب دئے ہیں انہیں بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہاں سے انہیں منتقل کیا جائے۔ یہ کام ریسرچ ٹیم کے دو ممبر کریں گے جو ہمارے گروپ کیساتھ آ ملے ہیں۔
کچھوؤں پر شناختی نشان لگانا
ہماری اس کچھوی کے اگلے پاؤں میں سے ایک پر شناختی نشان لگایا جائے گا تاکہ سمندری کچھوؤں پر ریسرچ میں مدد ہو۔ جس مصروفیت کے ساتھ یہ ریت کو ہر طرف پھینک رہی ہے اس کے پیشنظر یہ کوئی آسان کام نہیں۔ یہ شناختی نشان زنگ نہ لگنے والی ٹائیٹینئم دھات کے مرکب سے بنے ہیں۔ اس کی پچھلی طرف ایک ایڈریس لکھا ہے جو کہ ریسرچ پراجیکٹ کے لئے نہایت اہم ہے تاکہ لوگوں کے تمام دیکھے ہوئے کچھوؤں کا نمبر کے ذریعہ حوالہ دیا جائے۔ محض کچھوے کے مر جانے کی صورت میں یہ شناختی نشان کچھوئے کی مقامیافتگی کی تفصیل کے ہمراہ ہٹانا اور واپس کیا جانا چاہئے۔ شناختی نشان کے اگلے حصے پر کچھوے کا شناختی نمبر ہوتا ہے۔ ہماری کچھوی کا نمبر ہے، لیکن ہم نے اسے تبیتا پکارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چونکہ تبیتا پر پہلے یہ شناختی نشان نہیں لگا ہوا تھا اس لئے ممکن ہے کہ اس نے پہلے کبھی گھونسلہ نہ بنایا ہو، اس لئے یہ جنوبی بحرالکاہل میں کچھوؤں اور ان کے انڈوں کی حفاظت کو عمل میں لانے کے لئے کچھ مفید معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ اب ان معلومات کے حصول کی خاطر ہم اس کچھوی کا ایک معمولی آپریشن یہیں ساحلسمندر پر ہی دیکھتے ہیں! یہ کارروائی لیپروسکوپی کہلاتی ہے اور عام طور پر انسانوں پر استعمال کی جاتی ہے۔ تبیتا کو آرام سے ایک ریڑھی پر الٹا رکھ دیا جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر ہمیں افسوس ہوتا ہے اور اس کے گلے پر ہاتھ پھیرنے سے لگتا ہے اسے تسلی ملتی ہے۔ یہ آنسو نہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ ایک نمکین محلول ہے جو وہ آنکھوں میں سے ریت دھونے اور سمندری پانی پینے کے نتیجے میں زائد نمک نکالنے کے لئے خارج کرتی ہے۔ درد سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے نچلے پاؤں کے اوپر کی جلد کو رگڑ کر صاف کیا گیا، پھر ایک چھوٹے سے شگاف کے ذریعے ایک ٹیوب اندر داخل کی گئی، اور اندر تھوڑی ہوا پھونکی گئی۔ اس کی بیضہدانی کو دیکھ کر ریسرچ کرنے والوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ انڈے دینے کا یہ اس کا پہلا موسم ہے، اور مزید متعدد انڈے تیار ہو رہے ہیں۔ یہ تمام معلومات درج کر لی جاتی ہیں، تب ٹیوب کے اندر ایک والو کے ذریعے ہوا خارج کر دی جاتی ہے اور شگاف کو سی دیا جاتا ہے۔
ریت پر واپس پلٹ دئے جانے کے بعد، تبیتا جبلی طور پر پانی کا رخ کرتی ہے۔ لہریں اس کے اوپر آ جاتی ہیں اور رہائی پائی ہوئی تبیتا کو دور سمندر میں لے جاتی ہیں۔
انڈوں کو منتقل کرنا
جونہی ہم واپس مڑتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ انڈے گھونسلے میں سے منتقل کئے جا چکے ہیں۔ چار گھنٹے کے بعد انڈا خول کے اندر چپک جاتا ہے اور خون کی شریانیں بناتا ہے۔ اگر اس کے بعد ان کو پلٹا گیا تو وہ خراب ہو جائیں گے۔ انڈوں کی افزائش اور نگہداشت کے مقام تک ان کی منتقلی کے عمل کے لئے عموماً دو گھنٹے دئے جاتے ہیں اور ان انڈوں کی منتقلی میں کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس کا مقصد گھونسلے اور انڈوں کو پانی اور ننگے ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔ انڈوں میں بچوں کی جنس کا تعین ریت کا درجہءحرارت کرتا ہے۔ متعدد جزائر کی ریت نسبتاً ٹھنڈی ہوتی ہے جو زیادہتر نر پیدا کرتی ہے، جبکہ موںریپو کی نسبتاً گرم ریت زیادہتر مادہ پیدا کرتی ہے۔
انڈوں میں سے بچے جنوری سے لیکر مارچ تک نکلتے ہیں۔ وہ اپنی ریتلی چھت کھرچتے ہیں جو جھڑ کر اندر گرتی ہوئی بچوں کو اونچا اٹھا دیتی ہے۔ اگر ریت کا درجہءحرارت بہت گرم نہ ہو تو وہ گھونسلے سے باہر نکلنے کا اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور سمندر کی جانب رینگتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن ان کا سفر تو ابھی ابھی شروع ہی ہوا ہے۔ خیال ہے کہ تولیدی (نسل پیدا کرنے کی) پختگی تک پہنچنے کے لئے ۵۰ سال لگتے ہیں۔ فقط ایک قلیل فیصد ہی اس حد تک پہنچتی ہے۔
ضرور ہے کہ انسان پرواہ کرنا سیکھے
بدقسمتی سے، نوعانسانی کی لاپرواہی اور غفلت سمندری کچھوؤں کی چھ معلوم اقسام کو کم کرنے کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے۔ سمندر میں پھینکی ہوئی پلاسٹک کی تھیلیوں کو کچھوے اکثر جیلیفش سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔ یہ ان کے ہاضمے کی نالی کو بند کر دیتی ہیں اور وہ بھوک سے مر جاتے ہیں۔ دیگر کوڑاکرکٹ بھی کچھوؤں کا گلا گھونٹ سکتا ہے۔ اگر جہازران محتاط نہ ہو تو جہاز چلانے والے پنکھے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ سمندر میں گرے ہوئے تیل اور زہریلے فضلے بھی ہیں جو افزائشنسل کے موسم میں ساحلی علاقوں کی مکمل آبادی کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اور چونکہ کچھوے کو ہر ۱۵ منٹ کے بعد سانس لینے کے لئے سطحآب پر آنا ہوتا ہے اس لئے مچھلی پکڑنے کے جال بھی اس کو ڈبو دینے کا باعث بن سکتے ہیں جن میں کچھوا الجھ جاتا ہے۔
جوں جوں مزید لوگ ان خطرات سے آگاہ ہوں گے اور ماحول کے لئے زیادہ احتیاط برتنا سیکھ لیں گے، بلاشبہ نوعانسانی کو تخلیق کے حیرتانگیز افزائشنسل کے نظام کے ایک اور عجوبے سے متاثر اور گرویدہ کرتے ہوئے انسان اور کچھوے کے ملنے کے لئے زیادہ مواقع بنیں گے۔ (25۔G93 3/22 P)
[تصویریں]
ساعترخ بائیں بالائی حصے پر: معمولی جراحی، سمندر میں واپس لوٹ جانا، انڈوں کا نئی جگہ پر رکھا جانا، پاؤں پر شناختی نشان کا لگایا جانا