یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏7
  • نازی جرمنی میں راستی قائم رکھنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نازی جرمنی میں راستی قائم رکھنا
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • میرے اوائلی سال
  • اپنے موقف پر ڈٹ جانا
  • دباؤ شدت اختیار کرتا ہے
  • ایک دوسرے کیمپ میں
  • میرے بھائیوں کی بابت خبر
  • راستی کی دیگر مثالیں
  • راستی پر قائم رہنے والی میری بہنیں
  • بالآخر آزاد کر دئے گئے!‏
  • یہوواہ کی قوت پر انحصار
  • نازی افسر سے یہوواہ خدا کا خادم بننے تک میرا سفر
    جاگو!‏—‏2010ء
  • کمزور ہونے کے باوجود زورآور
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏7

نازی جرمنی میں راستی قائم رکھنا

۱۹۳۹ اپریل کے ایک سرد دن پر مجھے جرمن میں زکسن‌ہاؤزن کے اجتماعی کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ دوسرے نئے قیدیوں کے ساتھ، میں کیمپ کمانڈر کے سامنے پیش ہوا، ایک کینہ‌پرور آدمی جسکو اسکے ہٹا کٹا ہونے کی وجہ سے فورسکوئیر کا لقب دیا گیا تھا۔ اپنی ”‏خیرمقدم کرنے والی تقریر“‏ میں ظالمانہ اذیت کو بیان کرتے ہوئے جسکی ہم توقع کر سکتے تھے، اس نے ہماری جھاڑ جھپاڑ کی۔‏

”‏تم مجھ سے جو چاہو لے سکتے ہو،“‏ وہ چلایا، ”‏سر میں گولی، سینے میں گولی، پیٹ میں گولی!‏“‏ اور اس نے متنبہ کیا:‏ ”‏میرے جوان اچھے نشانہ‌باز ہیں۔ وہ تمہیں سیدھا آسمان پر بھیج دیں گے!‏ تم لاش بن کر ہی یہاں سے نکلو گے۔“‏

بعدازاں مجھے قیدتنہائی یعنی کیمپ کے اندر ایک باڑشدہ حصے میں بھیج دیا گیا۔ یہاں پر یہوواہ کے گواہوں کو ان دیگر قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا تھا جو خطرناک سمجھے جاتے تھے۔ جب مجھے وہاں پر لایا گیا تو ایس‌ایس (‏ہٹلر کے بلیک شرٹس/ایلائیٹ گارڈ)‏ کے ایک جوان آدمی نے بار بار میرے منہ پر تھپڑ رسید کئے کیونکہ میں نے اپنے ایمان کی تردید کرنے والے ایک بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‏

ہرنے کے ایک باشندے آتو کامین نے میرے یونیفارم پر، میرا قیدی نمبر اور ارغوانی مثلث سینے میں میری مدد کرکے میرے ساتھ دوستی پیدا کر لی جو کیمپ میں یہوواہ کے گواہوں کی شناخت کرانے کا کام دیتی تھی۔ اس نے مجھے اپنا بستر لگانا بھی سکھایا—‏قیدیوں کو اپنے بستر ٹھیک طرح سے نہ لگانے کی وجہ سے مارا یا قتل بھی کر دیا جاتا تھا۔‏

آتو نے خبردار کیا:‏ ”‏وقتاً فوقتاً، وہ پوچھیں گے کہ آیا تم ابھی تک یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہو۔ مضبوط رہنا، مستقل‌مزاج رہنا، اور اونچی اور صاف آواز میں کہنا:‏ ”‏میں ابھی تک یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہوں۔“‏“‏ اس نے مزید کہا:‏ ”‏اگر تم مضبوط اور مستقل‌مزاج ہو تو ابلیس تمہیں چھوڑ دے گا۔“‏ (‏یعقوب ۴:‏۷‏)‏ آتو کی حوصلہ‌افزائی نے مجھے آئندہ چھ سالوں کے دوران خدا کیلئے راستی برقرار رکھنے میں مدد دی جو میں نے تین اجتماعی کیمپوں میں گزارے۔‏

جب میں پیچھے ان صبرآزما سالوں کی بابت سوچتا ہوں تو آج میں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ صرف خدا کی مدد ہی سے تھا کہ میں راستی پر قائم رہا۔ ۲۰ جنوری ۱۹۳۸ کو یہ کیسے ہوا جب میں پہلی بار گرفتار ہوا؟‏

میرے اوائلی سال

۱۹۱۱ میں میرے پیدا ہونے سے چند سال پہلے، میرے والدین جو کونگزبرگ، مشرقی پروشیا میں رہتے تھے، بیبل فورشر (‏بائبل سٹوڈنٹس)‏، جیسے کہ یہوواہ کے گواہ اس وقت جانے جاتے تھے، بن گئے۔ میرے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں، اور والدہ ہمیں اکثر اجلاسوں پر لے کر جاتی تھی۔ افسوس کی بات ہے کہ کچھ وقت کے بعد والد سچی پرستش میں خاندان کے ساتھ مل کر نہ چل سکا۔ اگرچہ میرے بھائی اور میری بہنوں میں سے ایک سرگرم بادشاہتی مناد بن گئے، کچھ عرصے کے بعد میری بہن لزبتھ نے اور میں نے بائبل کی سچائیوں پر جو ہم نے سیکھی تھیں زیادہ توجہ دینا چھوڑ دیا۔‏

جب میں اپنے ۲۰ کے دہے کے اوائل میں تھا تو جرمنی میں ہٹلر برسراقتدار آیا اور لوگ شدید دباؤ تلے آ گئے۔ میں نے کونگزبرگ میں ایک بڑے مرمت کا کام کرنے والے پلانٹ پر ایک آٹو میکینک کے طور پر کام کیا۔ جب فیوہرر خاص مواقع پر تقاریر دیتا تو پلانٹ میں کام کرنے والے تمام لوگوں کو جمع ہونا پڑتا تھا۔ ”‏ہائل ہٹلر!‏“‏ کا سلام کہنا بھی عام استعمال میں آنے لگا!‏ انجام‌کار مجھے ابتدائی فوجی تربیت میں حصہ لینے کا حکم دیا گیا، اب مجھے اس سوال کا سامنا تھا، میں کس کی جانب ہوں؟‏

اعمال ۴:‏۱۲ سے میں جانتا تھا کہ ہائل یا نجات، ہٹلر سے نہیں بلکہ صرف یسوع مسیح کے وسیلے سے آئی تھی۔ اس لئے میں ”‏ہاہل ہٹلر“‏ نہیں کہہ سکتا تھا، اور نہ ہی میں نے کبھی کہا۔ نیز، میں نے ابتدائی فوجی تربیت میں شرکت کرنے کے حکم کو نظرانداز کر دیا۔‏

۱۹۳۶ اور ۱۹۳۷ کے دوران، میری ماں، میری چھوٹی بہن ہیلن، اور میرے بھائی، ہانز اور ارنسٹ، سب کے سب گرفتار کر لئے گئے۔ اس وقت سے لیکر میں بھی سچے خدا کی بابت اپنا موقف اختیار کرنا چاہتا تھا۔ میں نے شام کے اوقات میں بائبل پڑھنا شروع کر دی، اور اپنی مدد کرنے کیلئے میں نے یہوواہ سے دعا کی۔ لزبتھ نے بھی زیادہ دلچسپی لینی شروع کر دی۔‏

اپنے موقف پر ڈٹ جانا

جب وقت آیا تو میں نے یہوواہ کیلئے واضح موقف پر ڈٹ گیا اور ہٹلر کی فوج میں کام کرنے سے انکار کر دیا، اگرچہ میں ابھی تک بپتسمہ‌یافتہ نہ تھا۔ مجھے گرفتار کرکے فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ پانچ ہفتوں کے بعد راسٹن‌برگ میں ایک فوجی عدالت نے مجھے جیل میں ایک سال کی سزا سنائی۔‏

مجھے شٹوم، مغربی پروشیا، میں سنٹرل جیل کے اندر قیدتنہائی میں ڈال دیا گیا۔ جیل کے صحن میں اپنی ورزش کے دوران کونگزبرگ سے آئے ہوئے وفادار گواہوں کے ساتھ جنکو میں بچپن سے جانتا تھا اشاروں میں باتیں کرکے مجھے تسلی ملتی۔ بعد میں میرے بھائیوں—‏پال، ہانز، اور ارنسٹ—‏سب کو خدا پر انکے ایمان کی وجہ سے اسی جیل میں ڈال دیا گیا۔ جبکہ میں قیدتنہائی میں تھا، ہانز بعض اوقات مجھ تک روٹی کا ایک ٹکڑا خفیہ طور پر پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا۔‏

میری قید کی میعاد پوری ہونے پر، کونگزبرگ کے گسٹاپو نے مجھ سے بارہا پوچھ‌گچھ کی۔ چونکہ میں نے اپنے ارادے کو بدلنے سے انکار کر دیا اس لئے مجھے زاکسن‌ہاؤزن کے اجتماعی کیمپ میں لے گئے۔ وہاں مجھے ایک گیراج کے تعمیراتی کام پر تفویض کر دیا گیا، جس پر صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک محنت کرنا پڑتی تھی۔ شدید بدسلوکی کی وجہ سے بعض قیدیوں نے یہ جانتے ہوئے بھی بھاگنے کی کوشش کی کہ اگر پکڑے گئے تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔ میں نے ایک دفعہ ایک قیدی کو بجلی کی باڑ پر خود کو گرانے سے خودکشی کرتے ہوئے دیکھا۔‏

دباؤ شدت اختیار کرتا ہے

ستمبر ۱۹۳۹ میں، دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی اور زاکسن‌ہاؤزن میں ہم پر دباؤ شدت اختیار کر گیا۔ ہمارا کام کا بوجھ بڑھ گیا اور ہم سے ہمارے اون کے گرم لباس چھین لئے گئے۔ ستمبر ۱۵ کو نازی ہمارے مسیحی بھائی اوگست ڈکمان کو ایک عبرتناک مثال بنانے والے تھے، جس نے فوجی خدمت سے انکار کر دیا تھا۔ پس اسکے قتل کیلئے ایک خاص اجتماع کا انتظام کیا گیا۔‏

ہم کئی سو ساتھی یہوواہ کے گواہ اس بات کے چشم‌دید گواہ تھے جب گولی چلانے والے دستے نے گولی چلائی اور آوگست مر گیا۔ بعد میں یہوواہ کے گواہوں کے علاوہ تمام قیدیوں کو بھیج دیا گیا۔ پھر فورسکوئیر نے پوچھا کہ کون اپنے ایمان کی تردید کرنے والے بیان پر دستخط کرنے اور سپاہی بننے کیلئے رضامندی کا اظہار کرنے کیلئے تیار ہے۔ کسی ایک نے بھی دستخط نہ کئے، اور فورسکوئیر اشتعال میں آ گیا۔‏

۱۹۳۹ کا موسم‌سرما بہت سخت تھا۔ ہمیں پہننے کو تھوڑے کپڑے اور کھانے کو بہت کم خوراک ملتی تھی اسلئے موت نے بہتیروں کی جان لی۔ ہمارے بہت سے عمررسیدہ بھائی مر گئے لیکن ہم گواہوں کے درمیان اموات کی مجموعی شرح دیگر قیدی گروہوں کے مقابلے میں کم تھی۔ یہانتک کہ قوی فورسکوئیر بھی بیمار ہو گیا اور فروری ۱۹۴۰ میں مر گیا۔‏

ایک دوسرے کیمپ میں

فورسکوئیر کی موت کے چند روز بعد، ہم میں سے ۷۰ کو پاڈربورن کے نزدیک ویولزبرگ کے چھوٹے سے کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ ہمیں امید تھی کہ وہاں حالتیں قدرے بہتر ہونگی لیکن حقیقت اسکے برعکس تھی۔ ایک پتھر کی کان میں ہمارے پاس کام بہت سخت مگر خوراک بہت کم تھی۔ بعض دنوں میں تو ہم برف‌باری اور بارش سے پوری طرح بھیگ جاتے تھے۔ میں اس خاص مشکل وقت میں، رات کو کمبل اپنے سر پر اوڑھ لیتا اور آنسوؤں کیساتھ اپنے دل کو یہوواہ کے حضور انڈیل دیتا۔ ہر بار جب میں نے ایسا کیا، مجھے باطنی اطمینان اور ذہنی سکون محسوس ہوا، یوں میں نے خدا سے ”‏ضرورت کے وقت مدد“‏ حاصل کی۔—‏عبرانیوں ۴:‏۱۶۔‏

یہوواہ نے ہماری روحانی صحت کی دیکھ‌بھال کی۔ بوخنوالٹ کے اجتماعی کیمپ سے گواہوں کو لس‌برگ بھیجا گیا جو اپنے ساتھ بائبل لٹریچر کی صورت میں روحانی غذا لے کر آئے۔ چھوٹے گروپوں میں ہم سونے کے کمرے میں گئے جہاں ہم انکے ساتھ ایک خفیہ واچ‌ٹاور مطالعہ میں جمع ہوئے۔ کیمپ کے اندر جسمانی کھانا بھی کچھ بہتر ہو گیا تھا۔‏

میں نے یہوواہ کا اسکی مہربانی کیلئے شکر ادا کیا جب ایک ساتھی گواہ نے اسکا بندوبست کیا کہ میں ایک لوہار کی دوکان میں اسکے ساتھ کام کروں۔ ورکشاپوں میں، جہاں زیادہ‌تر گواہ کام کرتے تھے، قیدیوں کو بہتر خوراک کا راشن ملتا تھا۔ علاوہ‌ازیں، یہ جگہ گرم تھی اور یہاں ظالمانہ طریقے سے کاموں کیلئے مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔ جسمانی طور پر میں نے اتنا فائدہ اٹھایا کہ چھ ماہ کے اندر میں پھر سے صحتمند ہو گیا، اگرچہ پہلے میں بہت کمزور ہو گیا تھا۔‏

میرے بھائیوں کی بابت خبر

ویولزبرگ میں ہی مجھے اپنی بہن لزبتھ سے خبر ملی کہ ہمارے بھائی ارنسٹ نے موت تک یہوواہ کیلئے اپنی راستی کو قائم رکھا۔ چار سال کی قید کے بعد ۶ جون، ۱۹۴۱ کو برلن میں اسکا سر قلم کر دیا گیا۔ جب دوسرے گواہوں نے یہ خبر سنی تو انہوں نے آ کر مجھے مبارکباد دی۔ انکے مثبت رویے نے میرے دل پر بہت گہرا اثر کیا۔ ہمارے نزدیک وفادار رہنا بچ نکلنے سے زیادہ مطلب رکھتا تھا۔‏

دو سال بعد، یکم فروری، ۱۹۴۳ کو کونگزبرگ کے قریب کفیدناؤ میں میرے بھائی ہانز کو گولی مار دی گئی۔ ہانز ۳۴ سال کا تھا اور پانچ سال سے قید میں تھا۔ بعدازاں، اسکے قتل کے ایک چشم‌دید گواہ نے مجھے بتایا کہ آفیسر نے ہانز سے پوچھا کہ آیا اسکی کوئی آخری خواہش ہے۔ ہانز نے دعا کرنے کی اجازت مانگی جو اسے مل گئی۔ دعا نے سپاہیوں پر اسقدر اثر کیا کہ جب آفیسر نے آخرکار گولی چلانے کا حکم دیا تو ان میں سے کسی نے بھی تعمیل نہ کی۔ اس نے حکم کو دوہرایا جس پر صرف ایک گولی چلی جو ہانز کے جسم میں لگی۔ پھر آفیسر نے اپنا پستول نکالا اور خود اسے ہلاک کر دیا۔‏

راستی کی دیگر مثالیں

بوخنوالٹ سے ویلولزبرگ میں منتقل کئے گئے گواہوں میں سے ۲۷ کو ملٹری سروس کیلئے چنا گیا اور مختلف یونٹوں میں کام کرنے کیلئے بھیج دیا گیا۔ ہر ایک نے بھرتی ہونے سے انکار کر دیا، صرف ایک نے غیرمصافی فوجی کا کام قبول کیا۔ ۲۶ کو سزائے‌موت کی دھمکی دی گئی لیکن سب بیکار۔ جب وہ واپس ویولزبرگ کے کیمپ میں آئے تو کمانڈر نے دھمکی دی:‏ ”‏چار ہفتوں کے اندر تمہیں مار کر دفنا دیا جائے گا۔“‏

پھر ان وفادار بھائیوں کیساتھ خاص طور پر سخت سلوک کیا جانے لگا۔ ایس‌ایس نے تشدد کرنے، تھکا دینے، اور انہیں اذیت دیکر مار دینے کے تمام طریقے آزمائے۔ پھر بھی، ۲۶ کے ۲۶ بچ گئے!‏ بعد میں، ایسا ہی برتاؤ بعض ایسے لوگوں کے ساتھ بھی کیا جانے لگا جو گواہ نہیں تھے اور کچھ ہی عرصے کے بعد ان میں موت کی شرح بہت زیادہ تھی۔‏

راستی پر قائم رہنے والی میری بہنیں

اپریل ۱۹۴۳ کو، مجھے راونزبروک کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ بنیادی طور پر عورتوں کیلئے تھا لیکن اس میں مردوں کیلئے ایک چھوٹا سا حصہ بھی تھا۔ مجھے آٹو ریپیئر کی دوکان میں کام کرنے کیلئے بھیج دیا گیا، جو بالکل عورتوں کے کیمپ کے سامنے تھی۔ قریب سے گزرنے والی مسیحی بہنوں نے جلد ہی میری ارغوانی مثلث کو پہچان لیا۔ خفیہ پیغام‌تہنیت یا پرتپاک مسکراہٹ کا تبادلہ کرنا کتنا مسرت‌بخش تھا!‏ جلد ہی یہ خبر پھیل گئی کہ میں گرینڈما ریوولڈ کا بیٹا ہوں۔ جی‌ہاں، میری بہن ہیلینا اور میری بھابی، میرے مرحوم بھائی ہانز کی بیوی، کے ساتھ میری ماں بھی عورتوں کے اسی کیمپ میں تھی!‏

ہماری مسیحی بہنیں اس قابل ہوئیں کہ مجھے زیرجامہ اور کبھی‌کبھار روٹی کا ٹکڑا مہیا کر سکیں۔ ایک دفعہ انہوں نے ہوشیاری سے معاملات کو سازگار بنایا تاکہ میں چھپ کر اپنی پیاری ماں سے بات کر سکوں۔ اگر ہماری ملاقات کا پتہ چل جاتا تو یہ ہمارے لئے بہت بڑی مشکل کھڑی کر دیتا۔ بچھڑے ہوؤں کا کتنا پرمسرت ملاپ!‏ چند ماہ بعد، کیمپ کے آزاد کئے جانے سے ذرا پہلے، میری والدہ وفات پا گئیں۔ اس نے موت تک راستی کو قائم رکھا۔‏

بالآخر آزاد کر دئے گئے!‏

اپریل ۱۹۴۵ میں روسی اور امریکی راونزبروک کے نزدیک آ رہے تھے۔ کیمپ کو خالی کرنے میں مدد کیلئے مجھے ایک ٹریکٹر اور ٹریلر دیا گیا۔ ایک خطرناک سفر کے بعد نگران ایس‌ایس آفیسر نے ہمیں بتایا کہ امریکی قریب ہیں اور یہ کہ ہم سب اپنی مرضی کے مطابق سب کچھ کرنے کیلئے آزاد ہیں۔‏

آخرکار ہم شویرن، میکلن‌برگ ریاست پہنچے جہاں ہم ان گواہوں کی بڑی تعداد کیساتھ ملے جو زاکسن‌ہاؤزن کیمپ میں رہ چکے تھے، ان میں میرا بھائی پال تھا۔ وہ زاکسن‌ہاؤزن کی طرف سے موت کے مارچوں اور دیگر مشقتوں سے بچ گیا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد ہم نے برلن جانے والی ٹرین لی اور گواہوں کے ایک خاندان کو تلاش کیا جنہوں نے بڑی خاطرتواضع سے ہمیں اپنے ہاں رکھا۔‏

اس خاندان نے ان بہن اور بھائیوں کی مدد کرنے کیلئے بہت کچھ کیا جو کیمپوں اور جیلوں سے آزاد ہوئے تھے۔ میں نے ۱۹۴۶ میں، اسی خاندان کی بیٹی ایلی کے ساتھ شادی کر لی۔ انجام‌کار، میرے بپتسمہ پانے کیلئے انتظامات کئے گئے، یہ ایک ایسی بات تھی جو اجتماعی کیمپوں میں ممکن نہ تھی۔‏

سالوں کے دوران کنونشنوں پر ان بھائیوں سے ملنا کتنا ہیجان‌خیز رہا ہے جن کے ساتھ میں اجتماعی کیمپوں میں رہ چکا تھا!‏ بعض نے اپنے بھائیوں کیلئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں اور یہ خاص طور پر مجھے بہت عزیز تھے۔ ہمارے خاندان کے چھ افراد جو گرفتار ہوئے—‏میری ماں، میری بہن ہیلینا، اور میں، اسکے علاوہ میرے بھائی پال، ہانز اور ارنسٹ—‏انہوں نے قیدوبند میں مجموعی ۴۳ سال گزارے۔ اور میری بہن لزبتھ نے بھی ۱۹۴۵ میں اپنی موت تک خدا کیلئے اپنی راستی کو برقرار رکھا۔‏

یہوواہ کی قوت پر انحصار

شادی کرنے کے بعد، بہت سالوں تک جبتک کہ ہمارے دو بیٹے نہ ہو گئے مجھے اور ایلی کو میگڈی‌برگ کے بیت‌ایل میں اور پائنیر کام میں خدمت کرنے کے شرف سے نوازا گیا۔ ہم بہت شکرگزار ہیں کہ ان میں سے ایک، ہانز یوآکم بطور ایک بزرگ کے خدمت کر رہا ہے اور اسکی بیوی ایک پائنیر کے طور پر۔ افسوس ہے کہ، ہمارا دوسرا بیٹا اس مسیحی روش پر قائم نہیں رہا جس پر ہم نے اسکی راہنمائی کی تھی۔‏

میرے اجتماعی کیمپ کے تجربات کے وقت سے لیکر ۴۵ سے زائد سال گزر چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک ہر طرح کے غیرمستحق فضل کے خدا نے خود میری تربیت کو ختم نہیں کیا۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۱۰)‏ مجھے اکثر ۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۲ میں پولس کے الفاظ کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ:‏ ”‏جو کوئی اپنے آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گر نہ پڑے۔“‏

میں آج، ۸۱ سال کی عمر میں، شکرگزار ہوں کہ میں ابھی تک گواہی کے کام میں حصہ لے سکتا اور کلیسیا کے بزرگ کے طور پر خدمت کر سکتا ہوں۔ اور میں شکرگزار ہوں کہ میں مخصوصیت اور بپتسمہ کے مقام تک پہنچنے میں بہت سے لوگوں کی مدد کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ میں اسکو بھی یہوواہ کے غیرمستحق فضل کا ایک اظہار سمجھتا ہوں۔ —‏جیسا کہ یوزیف ریوالٹ نے بتایا۔ (‏20۔G93 2/8 P)‏

‏[‏تصویر]‏

یوزیف ریوولٹ ۱۹۴۵ میں

‏[‏تصویر]‏

تقریباً ۱۹۱۴ میں ریوولڈ خاندان۔ ماں ننھے یوزیف کو اپنی گود میں لئے ہوئے۔‏

‏[‏تصویر]‏

یوزیف اور ایلی ریوولٹ ۱۹۹۱ کی برلن کنونشن پر بیٹے ہانزیوآکم اور اسکی اہلیہ ارسلہ کے ساتھ۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں