خاندانی منصوبہبندی مسیحی نکتۂنظر
۱۹۷۴، میں پہلی ورلڈ پاپولیشن کانفرنس پر، ۱۴۰ ممالک نے باضابطہ اعلان کیا کہ تمام جوڑے ”اپنے بچوں کی تعداد اور انکی پیدائش کے درمیان وقفے اور اسکی بابت معلومات رکھنے کا اور ایسا کرنے کیلئے وسائل کی بابت فیصلہ کرنے کا آزادانہ اور ذمہدارانہ بنیادی حق رکھتے ہیں۔“
بہتیرے اس فیصلہ کو اچھا خیال کرتے ہیں۔ سچ ہے، خدا نے آدم اور حوا کو، اور بعد میں نوح کے خاندان کو بتایا، کہ ”بارور ہو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو،“ لیکن کوئی ایسا حکم مسیحوں کو نہیں دیا گیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۸، ۹:۱) صحائف مسیحی جوڑوں کی نہ تو بچے پیدا کرنے کیلئے حوصلہافزائی کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس سے باز رہنے کیلئے کہتے ہیں۔ شادیشدہ جوڑے اپنے لئے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا بچے پیدا کریں یا نہ کریں اور، اگر وہ بچے پیدا کرنے کیلئے منصوبہ بناتے ہیں تو، انکے ہاں کتنے بچے ہوں گے اور کب ہونگے۔
ایک خداداد ذمہداری
کیا آپ نے غور کیا، کہ ورلڈ پاپولیشن کانفرنس کے بیان نے کہا کہ بیاہتا جوڑوں کو ”اپنے بچوں کی تعداد اور انکے درمیان وقفے کا فیصلہ ذمہداری سے کرنا چاہئے۔“؟ ذمہداری کا یہ اصول بائبل کیساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے۔ مسیحی والدین پہچانتے ہیں کہ اگرچہ بچے خدا کی طرف سے قیمتی بخشش ہیں، اس بخشش کیساتھ کافی ذمہداریاں بھی آتی ہیں۔
سب سے پہلے، بچوں کیلئے مادی چیزوں کی دیکھبھال کی ذمہداری ہے۔ بائبل کہتی ہے: ”اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“—۱-تیمتھیس ۵:۸۔
گھر کا خرچ چلانے میں محض میز پر کھانا رکھنے اور بل ادا کرنے، کی نسبت زیادہ کچھ شامل ہے، اگرچہ اکثر یہ اپنے آپ میں ایک بڑا کام ہے۔ ذمہدار مسیحی جوڑے، اپنے خاندانوں کے سائز کا منصوبہ بناتے وقت، ماں کی جسمانی تندرستی کے ساتھ ساتھ اسکی جذباتی، دماغی، اور روحانی فلاحوبہبود کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ایک بچے کی دیکھبھال کافی وقت لے لیتی ہے، اور جب متعدد بار بچے پیدا ہوں تو ماؤں کو نہ صرف اپنا آرام، تفریحطبع، شخصی نکھار، اور مسیحی کارگزاریوں میں شمولیت قربان کرنا پڑتی ہے بلکہ اپنی جسمانی اور روحانی صحت بھی۔
ذمہدار مسیحی والدین اپنے بچوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ دی سٹیٹ آف آف دی ورلڈز پاپولیشن ۱۹۹۱ کہتی ہے: ”بڑے اور بہت کم وقفہ والے خاندانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو کھانے، پہننے اور والدین کے پیار کیلئے بھائیوں اور بہنوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ وبائی امراض کیلئے بھی زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اگر یہ بچے اپنے غیرمحفوظ بچپن کے سالوں سے زندہ بچ نکلیں تو بھی زیادہ اغلب ہے کہ انکی نشوونما رک جائے گی اور انکی ذہنی ترقی کو نقصان پہنچے گا۔ بالغ زندگی میں ان بچوں کے امکانات بڑی حد تک کم ہیں۔“ یقیناً ایسا معاملہ تمام بڑے خاندانوں میں نہیں ہے، لیکن یہ ایسی بات ہے جس پر مسیحی بیاہتا جوڑوں کو بچوں کی تعداد کی بابت منصوبہ بناتے وقت غور کرنا چاہئے۔
مسیحی والدین اپنے بچوں کی روحانی طور پر نگہداشت کرنے کی ذمہداری رکھتے ہیں، جیسا کہ بائبل حکم دیتی ہے: ”اے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر انکی پرورش کرو“—افسیوں ۶:۴۔
ایک مسیحی، ایمیکا جو نائیجیریا میں قانون کی تعلیم دیتا ہے، ایک سال پہلے اسکی شادی ہوئی ہے اور وہ ایک بڑے خاندان کا باپ بننے کیلئے کسی جلدی میں نہیں ہے۔ ”میری بیوی اور میں نے باتچیت کر لی ہے کہ ہمارے کتنے بچے ہونگے۔ ہم نے پانچ بچوں کا سوچا لیکن تین کا فیصلہ کیا۔ بعد میں ہم نے نتیجہ نکالا کہ دو بہتر ہونگے۔ بائبل اصولوں کے مطابق بچوں کی پرورش کرنا مشکل ہے۔ یہ ایک بڑی ذمہداری ہے۔“
بعض مسیحی جوڑوں نے بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خدا کی خدمت کرنے میں اپنا سارا وقت وقف کر سکیں۔ افریقہ میں ایک مشنری نے بیان کیا جو اپنے شوہر کیساتھ بےاولاد رہنے پر راضی تھی: ”بچے پیدا نہ کرنے سے مجھے نہیں لگتا کہ میں کسی چیز سے محروم رہ گئی ہوں اگرچہ میرے شوہر نے اور میں نے والدین ہونے کی خوشیوں کا تجربہ نہیں کیا، ہماری زندگیاں دوسری خوشیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ بائبل سچائی سیکھنے میں دوسروں کی مدد کرنے میں مشغول رہنے سے، دنیا کے دوسرے حصوں میں ہمارے روحانی بچے ہیں۔ ہم انہیں پیار کرتے ہیں، اور وہ ہمیں پیار کرتے ہیں۔ ہمارے درمیان ایک خاص بندھن ہے۔ اچھی وجہ کیساتھ، پولس رسول نے جن کی اس نے روحانی طور پر مدد کی تھی ان کیلئے اپنی نرمی کی وجہ سے خود کو پالنے والی ماں سے تشبیہ دی—۱-تھسلنیکیوں ۲:۷، ۸۔
ضبطتولید
کیا بائبل ضبطتولید کو رد کرتی ہے؟ نہیں، یہ ایسا نہیں کرتی۔ انتخاب جوڑے پر چھوڑا گیا ہے۔ اگر ایک شادیشدہ جوڑا ضبطتولید کو عمل میں لانے کا فیصلہ کرتا ہے، تو مانعحمل طریقوں کا انتخاب ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ تاہم، ضبطتولید کا طریقہکار جس کا انتخاب ایک مسیحی جوڑا کرتا ہے اسے زندگی کی پاکیزگی کیلئے احترام سے اثرپذیر ہونا چاہئے۔ چونکہ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ ایک شخص کی زندگی حمل ٹھہرنے کے وقت شروع ہو جاتی ہے تو مسیحیوں کو ان مانعحمل طریقہکاروں سے گریز کرنا ہوگا جو نشوونما پاتے ہوئے بچے کی زندگی کا اسقاط یا خاتمہ کر دیں۔—زبور ۱۳۹:۱۶، مقابلہ کریں خروج ۲۱:۲۲، ۲۳، یرمیاہ ۱:۵۔
پس جب خاندانی منصوبہبندی کی بات آتی ہے تو بیاہتا جوڑے مناسب طریقے سے مختلف انتخاب کر سکتے ہیں۔ بعض شاید انکے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کو محدود کرنے کی خواہش کریں۔ دوسرے کچھ مانعحمل طریقوں کا استعمال کریں، شاید کوئی بچہ پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کریں۔ بہت سے ضبطتولید کے طریقہکار، ہر ایک اپنے فائدے اور نقصان کے ساتھ، دستیاب ہیں۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ کونسا طریقہکار انکے لئے بہترین ہوگا، بیاہتا جوڑوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ بعض طریقہکار دوسروں کی نسبت زیادہ اثرآفرین ہیں۔ انکو ضمنی اثرات کی بابت بھی دریافت کر لینا چاہئے۔ ڈاکٹر اور منصوبہبندی کے کلینک ضبطتولید کے طریقے کے انتخاب میں بیاہتا جوڑوں کی مدد کرنے کی خاطر مشورت پیش کرنے کیلئے لیس ہیں جو انکی ضرورت کو اچھی طرح پورا کرتا ہے۔
ایک بیاہتا جوڑا زیادہ، کم، یا بالکل ہی بچے نہ پیدا کرنے کا جو فیصلہ کرتا ہے وہ ایک ذاتی فیصلہ ہے۔ یہ ایک دوررس نتائج والا اہم فیصلہ بھی ہے۔ یہ عقلمندی کی بات ہوگی کہ شادیشدہ جوڑے معاملے پر احتیاط سے اور دعائیہ طور پر غور کریں۔ (7۔G93 2/22 P)