بچے اثاثے یا بوجھ
خاندانی منصوبہبندی کے مسئلہ کا اس چیز کیساتھ بڑا قریبی تعلق ہے جس کو اکثر آبادی کا دھماکا کہا جاتا ہے۔ نسلانسانی کی تاریخ کے بیشتر حصے سے لیکر، افزائشآبادی نسبتاً کم تھی، مرنے والوں کی تعداد پیدا ہونے والوں کی تعداد کے تقریباً برابر ہی تھی بالآخر، سال ۱۸۳۰ تک، دنیا کی آبادی ایک ارب لوگوں تک پہنچ گئی۔
پھر طبی اور سائنسی پیشقدمیاں ہوئیں، جسں کا نتیجہ بیماری سے کم اموات میں ہوا، خاصکر بچپن کی بیماری۔ ۱۹۳۰ تک، دنیا کی آبادی دو ارب ہو چکی تھی۔ ۱۹۶۰ تک، ایک اور ارب کا اضافہ ہو چکا تھا۔ ۱۹۷۵ تک، ایک اور ارب۔ ۱۹۸۷ تک، دینا کی آبادی پانچ ارب تک پہنچ گئی۔
اسکو ایک دوسری طرح سے دیکھئے، اس کرہ پر لوگوں کی تعداد ہر منٹ میں ۱۷۰ لوگوں کی شرح سے بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے ہر روز کوئی ۲۵۰،۰۰۰ لوگوں کا اضافہ ہوتا ہے جو ایک بڑے شہر کیلئے کافی ہیں۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے، کہ ہر سال ۹۰ملین لوگوں سے بھی زیادہ آبادی بڑھتی ہے جو کہ تین کینیڈا یا ایک اور میکسیکو کے برابر ہے، ۹۰ فیصد سے زیادہ یہ افزائش ترقیپذیر ممالک میں ہو رہی ہے، جہاں پر دنیا کی آبادی کا ۷۵ فیصد پہلے ہی رہتا ہے۔
فکرمند حکومتیں
لیکن حکومتیں کیوں خاندانی منصوبہبندی کے ذریعے افزائشآبادی کو محدود کرنے کی متمنی ہیں؟ یواین پاپولیشن فنڈ کیلئے نائیجیریا کے قومی پروگرام کے افسر ڈاکٹر بابس ساگو، اس سوال کا جواب ایک سادہ تمثیل کیساتھ دیتا ہے جو کہ، وہ متنبہ کرتا ہے کہ ایک پیچیدہ صورتحال کو مزید سادہ بنانے کی طرف مائل ہے۔ وہ بیان کرتا ہے:
”فرض کریں ایک کسان دس ایکڑ زمین کا مالک ہے۔ اگر اس کے دس بچے ہوں اور وہ زمین کو انکے درمیان برابر تقیسیم کرے تو ہر بچے کے حصے میں ایک ایکڑ آئیگی۔ اگر ان بچوں میں سے ہر ایک کے دس بچے ہوں اور اسی طرح زمین تقیسم ہو تو ان کے ہر بچے کے حصے میں ایک ایکڑ کا صرف دسواں حصہ ہی آئیگا۔ ظاہر ہے کہ، یہ بچے اپنے دادا جیسے مالدار نہیں ہونگے جس کی دس ایکڑ اراضی تھی۔“
یہ تمثیل لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور محدود وسائل والی محدود زمین کے درمیان تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ جوں جوں آبادی بڑھتی ہے، بہتیرے ترقیپذیر ممالک موجودہ آبادی کی تعداد کیساتھ نبٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض مسائل پر غور کریں۔
وسائل۔ جب لوگوں کی تعداد بڑھتی ہے تو جنگلات، اوپری مٹی، فصلی اراضی اور تازہ پانی کے لئے تقاضے بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ؟ پوپولائی میگزین افسوس کا اظہار کرتا ہے: ”ترقیپذیر ممالک ... اکثر ان قومی وسائل کا حد سے زیادہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں جن پر مستقبل کا انحصار ہے۔“
بنیادی ذرائع۔ جب آبادی میں افزائش ہوتی ہے تو حکومتیں مناسب رہائش، سکول، صفائی کی سہولیات، سڑکیں، ہیلتھ سروسز مہیا کرنے کو حد سے زیادہ مشکل پاتی ہیں۔ بھاری قرض کے دگنے بوجھ تلے اور کم ہوتے ہوئے وسائل کیساتھ، ترقیپذیر قومیں، بڑی ضروریات کو چھوڑ کر، موجودہ آبادی ہی کی ضروریات کی نگہداشت کرنے کی سخت مشکل میں ہیں۔
روزگار۔ یواین پاپولیشن فنڈ کی اشاعت پاپولیشن اینڈ دی اینوائرمنٹ: دی اہیڈ چیلنجز بیان کرتے ہیں کہ بہتیرے ترقیپذیر ممالک میں، کام کرنے والوں کی تعداد کا ۴۰ فیصد پہلے ہی سے بےروزگار ہے۔ پوری کی پوری ترقی پذیر دنیا میں آدھے بلین سے زیادہ لوگ یا تو بےروزگار ہیں یا کم مناسب ملازمت رکھتے ہیں، ایک ایسا عدد جو تقریباً صعنتی دنیا میں تمام کام کرنے والوں کے برابر ہے۔
ان شرحوں کو مزید خراب ہونے سے روکنے کیلئے، ترقیپذیر ممالک کو ہر سال ۳۰ ملین سے زائد نئی ملازمتیں پیدا کرنی چاہئیں۔ جن لوگوں کو ان ملازمتوں کی ضرورت ہوگی وہ آج زندہ ہیں۔—وہ آج کے بچے ہیں۔ ماہرین قیاسآرائی کرتے ہیں کہ کثیر بےروزگاری ملکی فساد، شدید غربت، اور قدرتی وسائل کی مزید بربادی کا باعث بن سکتی ہے۔
کچھ عجب نہیں کہ زیادہ زیادہ سے ترقیپذیر ملک خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آگے کیا رکھا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی طبی روزنامچہ لانسٹ میں ایک اداریہ بیان کرتا ہے: ”[لوگوں کی] تعداد میں بڑھتے ہوئے اضافے کا دباؤ، خاصکر دنیا کے غریبترین ممالک تک ہی رہتے ہوئے، جس کام کا ان کو سامنا ہے اسکو بہت زیادہ بڑھاتا ہے۔ ... لاکھوں لوگ بغیر پڑھے لکھے، بےروزگار، ٹوٹےپھوٹے گھروں اور بنیادی صحت، بہبود اور صفائی کی خدمات تک دسترس کے بغیر ہی اپنی زندگیاں گزار دیں گے اور جائزہ لئے بغیر والی بڑھتی ہوئی آبادی ہی وہ بڑا عنصر ہے جو ان مسبوقالذکر مسائل کا باعث بنتا ہے۔“
فکرمند خاندان
ملکی سطح پر نصبالعین قائم کرنا اور خاندانی منصوبہبندی کے پروگرام تشکیل دینا ایک بات ہے، لیکن عوام کو قائل کرنا دیگر بات ہے۔ بہتیرے معاشروں میں بڑے خاندانوں کی حمایت کرنے والے خیال ابھی تک مضبوط ہیں۔ مثال کے طور پر نائیجیریا کی رہنے والی ایک ماں نے پیدائش کی شرح کو کم کرنے کیلئے اپنی حکومت کی حوصلہافزائی پر کہا: ”میں اپنے والد کے ۲۶ بچوں میں سے سب سے چھوٹی ہوں۔ میرے تمام بڑوں کے، بشمول مردوں اور عورتوں کے، آٹھ اور ۱۲ بچے ہیں۔ پس میں کیوں چند بچوں والی ہی رہوں؟“
تاہم، ایسا نکتۂنظر اتنا عام نہیں ہے جتنا پہلے ہوا کرتا تھا، حتی کہ نائجیریا میں بھی، جہاں اوسط درجے کی عورت چھ بچوں کو جنم دیتی ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنے سے، لاکھوں لوگ اپنے خاندانوں کو کھانا کھلانے اور کپڑا پہنانے میں بڑی مشکل میں ہیں۔ بہتیروں نے اس یوروبا کہاوت کی سچائی کو تجربے سے سیکھ لیا ہے: ”اومو برے اوشی برے“ (بچوں کی بہتات، غریبی کی بہتات)۔
بہتیرے جوڑے خاندانی منصوبہبندی کے فوائد سمجھتے ہیں، پھر بھی اسے عمل میں نہیں لاتے۔ نتیجہ؟ یونائٹیڈ نیشز چلڈرن فنڈ کی شائعکردہ دی سٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن ۱۹۹۲ نے کہا کہ اس سال کے دوران ترقیپذیر دنیا میں ۳ میں سے ۱ حمل نہ صرف غیرمنصوبہشدہ بلکہ غیرمطلوبہ ہوگا۔
خاندانی منصوبہبندی زندگیاں بچاتی ہے
معاشی مشکلات کے علاوہ، خاندانی منصوبہبندی پر غور کرنے کی ایک بڑی وجہ ماں اور اسکے بچوں کی صحت ہے۔ ایک مغربی افریقی مثل کہتی ہے ”حمل ایک جؤا ہے اور جنم دینا موت اور زندگی کی کشمکش۔“ ترقیپذیر ممالک میں ہر سال، آدھا ملین عورتیں حمل یا بچے کی پیدائش کے وقت کے دوران مر جاتی ہیں، ایک ملین بچے ماں کے بغیر رہ جاتے ہیں، اور بچہ کی پیدائش سے متعلق صحت کے نقصان کی وجہ سے اضافی پانچ ملین سے لیکر سات ملین عورتیں معذور یا اپاہج ہو جاتی ہیں۔
ترقیپذیر ممالک میں تمام عورتیں ایسے خطرہ میں نہیں پڑتیں۔ ساتھ دیا گیا بکس ظاہر کرتا ہے، وہ عورتیں زیادہ خطرے میں ہیں جو زیادہ بچے زیادہ جلدی، کثرت سے، یا زیادہ تاخیر سے پیدا کرتی ہیں۔ یواین کے ذرائع اندازہ لگاتے ہیں کہ خاندانی منصوبہبندی ایک چوتھائی سے لیکر ان اموات کی ایک تہائی تک کو روک سکتی اور لاکھوں معذوریوں کی روکتھام کر سکتی ہے۔
لیکن کیا لاکھوں کی زندگیاں بچانا محض آبادی کی افزئش کے بڑھنے کا کام انجام نہ دیگا؟ حیرت ہے، بہتیرے ماہرین کہتے ہیں کہ نہیں۔ ”شاید یہ سوچا گیا ہو،“ ۱۹۹۱ ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ بیان کرتی ہے، ”کہ، اگر زیادہ بچے بچ جائیں تو آبادی کے مسائل بدترین ہو جائیں گے۔ اسکے بالکل برعکس۔ جب والدین زیادہ پراعتماد ہوں کہ ان کے بچے بچ جائیں گے تو باروری کم ہونے کی طرف مائل ہوتی ہے۔“
تاہم ملینوں کی تعداد میں عورتیں، خاصکر غریب معاشرے میں، اکثر لگاتار جنم دیتی رہتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ معاشرہ ان سے اسکی توقع کرتا ہے، کیونکہ زیادہ بچے ہونا اس امکان کو بڑھاتا ہے کہ کچھ ضرور بچیں گے، اور اس لئے کہ شاید وہ خاندانی منصوبہبندی کی خدمات کی بابت نہیں جانتے یا اس تک پہنچ نہیں رکھتے۔
پھر بھی، وہ عورتیں جن کے خاندان بڑے ہیں وہ ضرور ان سے مطمئن ہونگی۔ وہ ہر بچے کو خدا کی طرف سے ایک برکت خیال کرتی ہیں۔ (4۔G93 2/22 P)
[بکس]
ترقیپذیر ممالک میں زیادہ خطرات والے حمل
بہت جلدی: ۱۵ سے ۱۹ سالوں کی عمر کی عورتوں کے درمیان حمل اور بچے کی پیدائش کے وقت موت کا خطرہ بہنسبت ان عورتوں کے درمیان تین گنا زیادہ ہے جو ۲۰ سے ۲۴ سالوں کی عمر کی ہیں۔ اسکے علاوہ ٹینایج (جواں سال) عورتوں کے بچے غالباً زیادہ مریں گے، وقت سے پہلے پیدا ہونگے، اور پیدائش کے وقت انکا وزن بہت کم ہوگا۔
بہت قریب: پیدائش کے درمیان وقت کا دورانیہ بڑی حد تک بچے کی بقا پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماں کے پہلے بچے کے بعد دو سال سے بھی کم عرصے میں پیدا ہونے والے بچے کا اس کی شیرخوارگی میں ہی ۶۶ فیصد سے زیادہ مرنے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر یہ بچے بچ جائیں تو اغلب ہے کہ انکی نشوونما رک جائے گی اور انکی ذہنی ترقی کو غالباً نقصان پہنچے گا۔ پانچ شیرخواروں کی اموات میں سے تقریباً ایک کو پیدائش میں مناسب وقفے کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ پیدائش میں تین یا تین زیادہ سالوں کے وقفے کم سے کم خطرہ پیش کرتے ہیں۔
بہت زیادہ: چار سے زیادہ بچے پیدا کرنا حمل اور بچے کی پیدائش کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے، خاصکر اگر پہلے والے بچوں کے درمیان دو سالوں سے زیادہ کا وقفہ نہ رکھا گیا ہو۔ چار حمل کے بعد، مائیں غالباً زیادہ انیمیا میں مبتلا ہوتی ہیں اور زیادہ جریانخون کی طرف مائل ہوتی ہیں، اور ان کے بچے معذوریوں کیساتھ پیدا ہونے کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
بہت دیر: ۳۵ سال سے زیادہ عمر کی عورتیں ان عورتوں کی نسبت جو ۲۰ سے ۲۴ سالوں کی عمر تک ہیں حمل یا بچے کی پیدائش کے وقت غالباً پانچ گنا زیادہ مرتی ہیں۔ زیادہ عمر والی عورتوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی غالباً زیادہ مرتے ہیں۔
ماخذ: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، یواین چلڈرنز فنڈ، اینڈ دی یو این پاپولیشن فنڈ۔