یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏4
  • ہماری دنیا کیسے تبدیل ہو گئی ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہماری دنیا کیسے تبدیل ہو گئی ہے؟‏
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تبدیل‌شدہ صارفین کا معاشرہ
  • سائنس میں تبدیلیاں
  • سیاسی تبدیلیاں
  • ہماری بدلتی ہوئی دنیا یہ کدھر کا رخ کئے ہوئے ہے؟‏
    جاگو!‏—‏1993ء
  • بین‌الاقوامی سلامتی کے لئے انسان کے منصوبے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ناکام کوششوں کے سال
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏4

ہماری دنیا کیسے تبدیل ہو گئی ہے؟‏

کیا آپ کی دنیا تبدیل ہوئی ہے؟ قدیم یونانی فلاسفر ہیراکلیتس نے کہا قیام صرف تبدیلی کو حاصل ہے:‏ ”‏ہم سب کی زندگیوں میں تبدیلی ایک دائمی عمل ہے۔“‏

جب آپ گزشتہ ۱۰، ۲۰، ۳۰، یا اس سے بھی زیادہ کے سالوں پر غور کرتے ہیں تو آپ نے کیا تبدیلیاں دیکھی ہیں؟ شاید آپ نے نئے نظریات کی شکل میں اور روایتی قدروں کے خاتمے کی صورت میں تبدیلی واقع ہوتی دیکھی ہے۔ بلا‌شبہ، بعض تبدیلیوں کو آپ مثبت اور دیگر کو منفی انداز سے دیکھتے ہیں۔‏

اگر آپ ۷۰ برس سے زیادہ کے ہیں تو اپنی جوانی کے وقت سے لیکر آپ نے کونسی تبدیلیاں دیکھی ہیں؟ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب ٹی‌وی کا کوئی نام‌ونشان تک نہیں تھا، جب ہوائی جہاز ۱۵۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آہستہ آہستہ اڑتے تھے، جب زیادہ‌تر بین‌الااقوامی سفر بڑے بڑے بحری جہازوں کے ذریعے کیے جاتے تھے، جب منشیات کا ناجائز استعمال صرف چھپ کر افیون پینے والوں تک ہی محدود تھا، جب موٹر گاڑیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ جی‌ہاں، یقیناً آپ کی دنیا تبدیل ہوئی ہے۔‏

تبدیل‌شدہ صارفین کا معاشرہ

لیکن دنیا تو جوان لوگوں کیلئے بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ صرف ۴۵ سال پہلے، مغربی مصنوعات اور انکی تکینک ساری دنیا کی مارکیٹ پر چھائی ہوئی تھی۔ اب، بحرالکاہل کے کنارے کی مشرقی قومیں موٹرگاڑیوں کی صنعت، کمپیوٹرز، کیمروں، ٹی‌وی، اور بہتیرے الیکٹرانک آلات میں سب سے سبقت لے گئی ہیں۔‏

اسکی وضاحت اس بات سے ہو جاتی ہے جو کہ ایک تجربہ‌کار چینی سیاح نے اویک!‏ کو بتائی:‏ ”‏کوئی ۳۰ یا ۴۰ سال قبل، ایک متوسط چینی کا خواب یہ ہوتا تھا کہ اسے ایک بائیسکل اور ایک کپڑے سینے والی مشین مل جائے۔ انہیں اس وقت کے اونچے معیار کی علامتیں خیال کیا جاتا تھا۔ اب خواب یہ ہے کہ ہمارے پاس رنگین ٹی‌وی، وی‌سی‌آر، ریفریجریٹر اور موٹرسائیکل ہو۔“‏ یہ صارفین کا معاشرہ خواہ چین میں ہو یا کسی اور جگہ، اسکا ذوق اور تقاضے اب تبدیل ہو گئے ہیں۔‏

اس قسم کی نظریاتی تبدیلی بہت سی قوموں کی معیشت میں بہتری کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔ اپنی عمر کے ۴۰ کے دہوں کے اوائل میں، قطالونیہ کے ایک باشندے، پیڈرو نے بیان کیا:‏ ”‏۳۰ سال پہلے اسپین میں، تمنا یہ ہوتی تھی کہ کم‌ازکم ایک کار کے مالک تو ہوں۔ اب اسپین کے رہنے والوں کی خواہش یہ ہے کہ انکے پاس جرمن بی‌ایم‌ڈبلیو ہو!‏“‏ ریاستہائے متحدہ میں مقیم جگدیش پٹیل نے اپنے آبائی وطن انڈیا میں اپنے ایک حالیہ دورے کی بابت یوں تبصرہ کیا:‏ ”‏انڈیا کی سڑکوں پر اتنی زیادہ گاڑیاں دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ شاہراہوں پر ابھی تک وہی ہندوستانی کاریں دکھائی تو دیتی ہیں، لیکن اب ان میں باہر کی کمپنیوں کے لائسنس کے تحت انڈیا میں تیار ہونے والی جدید قسم کی کاروں، موٹراسکوٹروں اور موٹرسائیکلوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔“‏

سائنس میں تبدیلیاں

صرف ۲۵ سال پہلے تک، بہتیرے چاند کو ایک پیچیدہ سربستہ راز خیال کرتے تھے۔ اس وقت سے لیکر، انسان نے اس دور سے دکھائی دینے والے چاند کی سرزمین پر اپنے قدموں کے نشان اور سائنسی آلات چھوڑے ہیں اور وہاں سے تجزیے کیلئے چٹانوں کے نمونے لایا ہے۔ امریکہ کے خلائی شٹل کی پروازیں اب روزمرہ کے واقعے ہیں اور یو۔ایس۔ کے سائنسدان ایک مستقل خلائی اسٹیشن قائم کرنے اور مریخ پر جانے کی باتیں کر رہے ہیں۔‏

۱۵ سال پہلے کس نے ایڈز کی بابت سنا تھا؟ اب یہ ایک عالمی عذاب ہے اور لاکھوں اس کے خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔‏

سیاسی تبدیلیاں

صرف چار سال پہلے، بظاہر ایک ناقابل‌رخنہ دیوار نے برلن کے شہر کو منقسم کر دیا، ایک طرف کیمونسٹ سویت یونین اور سرد جنگ تھی۔ اب برلن کو متحدہ جرمنی کے دارالحکومت کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے اور ماضی کے سویت یونین کی ۱۵ ریاستوں میں سے ۱۱ نے خودمختار ریاستوں کی کامن‌ویلتھ کو تشکیل دے لیا ہے۔‏

صرف چند سال پہلے، نام نہاد غیرجانبدار قوموں کے کیساتھ جو کوئی حتمی فیصلہ دینے سے گریز کر رہی تھیں اور تماشائیوں کے طور پر نظارہ کر رہی تھیں، اقوام‌متحدہ بالخصوص سرمایہ‌دار اور کیمونسٹ قوتوں کے مابین کشمکش کا اکھاڑا تھی۔ اب مشرق اور مغرب کی قومیں امن اور سلامتی کی بابت گفتگو کر رہی ہیں اور یوں اقوام‌متحدہ زیادہ بااثر اور طاقتور بن گئی ہے۔ یہ پوری دنیا میں کسی بھی بحران والے علاقے میں فوج بھیج سکتی ہے۔ تین سال پہلے، ایسے ملک تھے جو یوگوسلاویہ اور چیکوسلاویہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اب یہ دونوں چھوٹی چھوٹی خودمختار ریاستوں میں بٹ گئے ہیں۔‏

ان تمام تبدیلیوں کے پیش‌نظر، کیا دنیا نے واقعی حقیقی امن، انصاف، اور خوراک اور دیگر وسائل کی منصفانہ تقسیم کے سلسلے میں ترقی کی ہے؟ کیا دنیا پہلے سے زیادہ مہذب ہو گئی ہے؟ کیا آپ مجرموں کے خطرے سے آزاد سڑکوں پر چل پھر سکتے ہیں؟ کیا ہمیں تعلیم دی گئی ہے تاکہ ہم نسل، مذہب، سیاست، طرززندگی یا زبان کی بنیاد پر کسی سے نفرت نہ کریں؟ کیا تبدیلی بالعموم نسل‌انسانی اور ہمارے گھر یعنی اس زمین کو حقیقی ترقی کی جانب لے جا رہی ہے؟ ہم کدھر کا رخ کئے ہوئے ہیں؟ اگلے مضامین ان اور دیگر اسی طرح کے سوالات کا مشاہدہ کرینگے۔ (‏3 1/8 g93)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں