ایندھن کی لکڑی کیا مستقبل جل کر راکھ ہو رہا ہے؟
نائیجیریا میں اویک! کے مراسلہ نگار سے
سورج غروب ہوتا ہے اور افریقی افق سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ سامپا اپنے خاوند اور بچوں کیلئے چاول پکاتی ہے۔ وہ ایک بالٹی میں سے کفچے کے ذریعے پانی نکالتی ہے اور اسے دھوئیں سے کالی الومینیم کی دیگچی میں ڈالتی ہے۔ برتن کے نیچے تھوڑی سی آگ چٹاخہ مارتی ہے، جس کے اندر تین موٹی لکڑیوں کا ایندھن ڈال دیا گیا ہے۔
قریب ہی مزید لکڑی کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ سامپا اسے ان آدمیوں سے خریدتی ہے جو اسے پہاڑوں سے لاتے ہیں۔ لکڑی اشد ضروری ہے۔ لکڑی کے بغیر آگ نہیں جلائی جا سکتی۔ آگ کے بغیر آپ چاول نہیں پکا سکتے۔
سامپا کا بڑا بیٹا کہتا ہے: ”جب ہمارے پاس لکڑی نہیں ہوتی تو ہم کھانا نہیں کھاتے۔“ وہ پہاڑی پر آباد دولتمندوں کے گھروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ”ان گھروں میں بجلی ہے۔ وہاں ایسے چولہے ہیں جو بجلی سے جلتے ہیں اور دوسرے ایسے چولہے بھی جو گیس سے جلتے ہیں۔“ وہ آگ کی طرف دیکھتے ہوئے، کندھے اچکاتا ہے اور کہتا ہے: ”ہم لکڑی استعمال کرتے ہیں۔“
جہاں تک اس کا تعلق ہے، بہت سے لوگ سامپا کے خاندان کی طرح کے حالات رکھتے ہیں۔ ترقیپذیر ممالک میں، ہر ۴ میں سے ۳ لوگ کھانا پکانے اور حرارت کیلئے اپنے واحد ذریعے کے طور پر لکڑی پر انحصار کرتے ہیں۔ مگر لکڑی کی شدید قلت ہے۔
ایفاےاو (یو این فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن) کے مطابق، ایندھن کی لکڑی کے بحران کی حد واقعی بدحواس کرنے والی ہے۔ ترقیپذیر ممالک میں تقریباً ایک بلین لوگ ایندھن کی لکڑی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر موجودہ حالات کا رخ یونہی رہا تو اس صدی کے آخر تک یہ تعداد آسانی سے دوگنی ہو سکتی ہے۔ ایفاےاو کے ایک نمائندے نے بیان کیا: ”اگر ان کے پاس پکانے کے ذرائع کی قلت ہے تو دنیا کے بھوکے لوگوں کیلئے خوراک فراہم کرنے کی قدروقیمت کم ہی ہے۔“
قلت کیوں؟
قدیم وقتوں ہی سے، نوعانسان نے ایندھن کیلئے لکڑی استعمال کی ہے۔ وجہ؟ لکڑی نہایت موزوں ہے۔ آپکو اسے جمع کرنے کیلئے مہنگے سازوسامان یا پیچیدہ ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔ جبتک کہ اسکی حد سے زیادہ لوٹ کھسوٹ نہیں کی جاتی، رسد کو نئے درختوں کی افزائش کے ذریعے قائم رکھا جا سکتا ہے۔ لکڑی کے ذریعے کھانا پکانے سے حرارت کیلئے ولایتی چولہوں اور ہیٹروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مناسب طریقے سے، لکڑی مفت ہے اور یہ اتنی ہی ممکنالحصول ہے جتنا کہ نہایت قریبی درخت ہے۔ یہ صرف گزشتہ دو سو سالوں کی بات ہے کہ دنیا کی دولتمند قوموں نے گیس، کوئلہ، اور تیل جیسے دیگر ایندھنوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ باقی ابھی تک لکڑی پر اکتفا کئے ہوئے ہیں۔
بعض ماہرین کہتے ہیں کہ آجکل مسئلے کی بنیادی وجہ آبادی کی ڈرامائی افزائش ہے۔ جب لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو نوآبادیوں کو پھیلانے، کاشتکاری کو وسیع کرنے، اور صنعت اور ایندھن کیلئے لکڑی فراہم کرنے کیلئے جنگلات کو کاٹا جاتا ہے۔ تقریباً ہر ملک کی ترقی میں جنگلات کا خاتمہ واقع ہوتا ہے۔ شمالی امریکہ اور یورپ ایسے ہی دور سے گزرے ہیں۔
لیکن آجکل کی آبادی ایک خطرناک شرح سے بڑھ رہی ہے۔ پہلے ہی، اس سیارے پر تقریباً ساڑھے پانچ ارب لوگ موجود ہیں۔ ترقیپذیر قوموں میں ہر ۲۰ تا ۳۰ سالوں میں آبادی دوگنی ہو جاتی ہے۔ جب لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، تو اسی لحاظ سے لکڑی کی طلب بڑھتی ہے۔ یہ گویا ایسے ہے کہ آبادی جنگل کو کھا جانے والا ایک دیو بن گئی ہے، جسکی بھوک ختم نہیں ہوتی، ایک ایسا حیوان جو ہر روز زیادہ بڑا اور بھوکا ہوتا جاتا ہے۔ پس ایندھن کی لکڑی کی رسد کو کھا لیا جاتا ہے، اس سے پیشتر کہ اسکی جگہ کو پر کیا جا سکے۔ ایفاےاو کے مطابق، ۲۶ ممالک میں ایک سو ملین سے زیادہ لوگ پہلے ہی سے اپنی نہایت بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ایندھن کی لکڑی حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
تاہم، شدید قلت والے ممالک میں سب رہنے والے یکساں طور پر متاثر نہیں ہوئے۔ وہ جو ایسا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں صرف وہی دوسرے ایندھن استعمال کرنے لگتے ہیں، جیسے کہ مٹی کا تیل، یا بوتل میں بند گیس۔ لکڑی کے ایندھن کا بحران غریب لوگوں کا بحران ہے، جنکی تعداد بڑھ رہی ہے۔
لوگوں پر اثر
حالیہ سالوں میں لکڑی کی قیمت دوگنی، تگنی، اور بعض جگہوں پر چوگنی ہو گئی ہے۔ آجکل، جب شہروں کے چوگرد علاقوں کو خالی کر دیا جاتا ہے تو قیمتیں مسلسل بڑھتی ہیں۔ ایشیا اور افریقہ میں بہت سے شہر اب ایسے علاقوں سے گھرے ہیں جہاں سے جنگل کا تقریباً مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ بعض شہروں کو ۱۶۰ کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلوں سے لکڑی لانی پڑتی ہے۔
بڑھتی ہوئی قیمتیں ان لوگوں کے بوجھ میں اور زیادہ اضافہ کرتی ہیں جو پہلے ہی نہایت غریب ہیں۔ مطالعوں نے ظاہر کیا ہے کہ وسطی امریکہ اور مغربی افریقہ میں مزدور طبقہ کے خاندان لکڑی کے ایندھن کی قیمت کیلئے اپنی کل آمدنی کا ۳۰ فیصد تک ادا کرتے ہیں۔ جو کچھ باقی بچتا ہے اس سے تمام دوسری چیزوں—خوراک، لباس، رہائش، آمدورفت، تعلیم—کے اخراجات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ انکے لئے یہ کہاوت درست ہے کہ ”جو کچھ برتن کے نیچے جاتا ہے اسکی قیمت اس سے زیادہ ہے جو برتن کے اندر جاتا ہے۔“
وہ کسطرح گزارا کرتے ہیں؟ جہاں لکڑی کم یا مہنگی ہے، وہاں لوگ اپنی خوراک میں گرم کھانوں کی تعداد میں کمی کر دیتے ہیں۔ وہ سستے کھانے یا کم کھانا خریدتے ہیں، جو کم متوازن غذا پر منتج ہوتا ہے۔ وہ اپنے کھانے کو پکاتے بھی کم ہیں۔ جراثیم اور طفیلی کیڑے ہلاک نہیں ہوتے، اور جسم غذائیت والے چند اجزا ہی جذب کرتا ہے۔ وہ اپنے پینے کے پانی کو ابالنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ وہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں سے ہر اس چیز کو جمع کر لیتے ہیں جو جلانے کے کام آئے گی۔
لاکھوں لوگوں نے گھٹیا قسم کے ایندھنوں، جیسے کہ بھوسا، ڈنٹھل، یا جانوروں کے سوکھے گوبر، کی طرف رجوع کیا ہے۔ جہاں لکڑی مہنگی ہے اور گوبر مہنگا نہیں، وہاں کفایتشعاری کے طور پر یہ معقول دکھائی دیتا ہے کہ گوبر کو کھیت میں ڈالنے کی بجائے جلایا جائے۔ اکثر کیلئے تو اسکے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا۔ لیکن اسکی جو قیمت ادا کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کو قیمتی نامیاتی چیزوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ وقت آنے پر زمین اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے اور خشک ہو جاتی ہے۔
اگرچہ دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو عام طور پر اپنی لکڑی کیلئے قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی، لیکن اسکی قلت اسے جمع کرنے کے وقت میں بہت اضافہ کرتی ہے۔ جنوبی امریکہ کے علاقوں میں، عورتیں اپنے دن کا ۱۰ فیصد لکڑی جمع کرنے میں صرف کرتی ہیں۔ بعض افریقی ممالک میں، ایک پورے دن کی جمعشدہ لکڑی صرف تین دنوں کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ بعض اوقات، خاندان ایک بچے کو پورا وقت ایندھن جمع کرنے کے کام پر متعین کر دیتے ہیں۔
اکثروبیشتر، دیہاتی گردوپیش کو شہر کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے قربان کر دیا جاتا ہے۔ لکڑی کے پیدا ہونے کی نسبت اسے تیزی سے کاٹا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ اسطرح رسد کم ہو جاتی ہے اور خاندان یا تو شہروں میں منتقل ہو جاتے ہیں یا اپنے لئے لکڑی جمع کرنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔
لہذا، لاکھوں لوگ ایندھن کیلئے اپنی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے زیادہ وقت اور پیسہ صرف کرتے ہیں۔ متبادل چیزیں؟ غریبوں کیلئے اسکا مطلب کم کھانا، ٹھنڈا کھانا، اور رات کے وقت روشنی کے بغیر رہنا ہے۔
جو کچھ کیا جا رہا ہے
کچھ سال پہلے لکڑی کے ایندھن کے بحران کی سنگین حات نے بینالاقوامی توجہ حاصل کرنا شروع کی۔ ورلڈ بینک اور دوسری ایجنسیوں نے جنگلات اگانے کے پراجیکٹ میں بہت زیادہ پیسہ لگایا۔ اگرچہ یہ تمام پراجیکٹ کامیاب تو نہ ہوئے، لیکن ان سے بہت کچھ سیکھا گیا تھا۔ تجربے نے ظاہر کیا کہ لکڑی کے ایندھن کے بحران کا حل محض زیادہ درخت لگانا نہیں تھا۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ منصوبہساز بعض اوقات مقامی لوگوں کے احساسات کو ملحوظ خاطر رکھنے میں ناکام رہے۔ لہذا، ایک مغربی افریقہ کے ملک میں، دیہاتیوں نے ننھے پودوں کو تباہ کر دیا کیونکہ انہیں روایتی چراگاہوں میں اگایا گیا تھا۔
ایک اور مشکل یہ تھی کہ پھر سے جنگل لگانا ایک طویلالمدتی معاملہ ہے۔ اسکے لئے ۲۵ سال تک لگ سکتے ہیں اس سے پیشتر کہ درخت خود کفیل بنیاد پر ایندھن کی لکڑی پیدا کرنے کے قابل ہوں۔ اسکا مطلب رقم لگانے اور نفع کمانے کے درمیان تاخیر ہے۔ اسکا یہ مطلب بھی ہے کہ درخت لگانا موجودہ ضرورت پورا کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا۔
بہت سے ممالک میں جنگلات لگانے کے پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔ لیکن کیا وہ مستقبل کی ضروریات کو پورا کرینگے؟ جنگلات کے ماہرین کہتے ہیں نہیں۔ درختوں کو پھر سے لگانے کی نسبت زیادہ تیزی سے کاٹا جا رہا ہے۔ ایک ورلڈواچ انسٹی ٹیوٹ کی محقق لکھتی ہیں: ”افسوس کی بات یہ ہے کہ جنگلات کے خاتمے سے پیدا ہونے والے چکر کو توڑنے کیلئے وسائل کے جس سیاسی ارادے اور وعدے کی ضرورت ہے، گرم مرطوب تیسری دنیا کے بیشتر حصے میں اسکی کمی ہے۔ اس وقت، صاف کئے گئے دس ایکڑوں کے عوض صرف ایک ایکڑ میں درخت لگائے جاتے ہیں۔ افریقہ میں فرق کہیں زیادہ ہے جہاں پر درختوں کو کاٹنے سے لگانے کا تناسب انتیس میں سے ایک کا ہے۔ تیسری دنیا کی اندازہشدہ ضروریات کو ۲۰۰۰ [کے سال] تک پورا کرنا غیرصنعتی استعمالات کیلئے درخت لگانے کی موجودہ شرح میں تیرہ گنا اضافے کا تقاضا کریگا۔“
مستقبل کے امکانات
آجکل متعدد مخلص لوگ ایندھن کی لکڑی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں مستعدی سے حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم، مستقبل کیلئے انکے اندازے مایوسکن ہیں۔ زمین کو موزوں بنانے والے محققین اپنی کتاب فیولوڈ—دی انرجی کرائسس دیٹ وونٹ گو اوے میں لکھتے ہیں: ”ایسی تمام تدابیر ملکر [لکڑی کے ایندھن کے بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے] ان بوجھوں کو مکمل طور پر کم نہیں کر سکتیں جو ایندھن کی کمی اور لکڑی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریبوں پر ڈالیں گی۔“ ایفاےاو کی تعلیمی کتاب دی فیولوڈ کرائسس اینڈ پاپولیشن—افریقہ بیان کرتی ہے: ”کسی بھی پیشقدمی کے کامیاب ہونے کا موقع اس وقت تک کم ہی ہے جبتک کہ آبادی کی افزائش پر قابو نہیں پایا جاتا۔“ تاہم، وہی اشاعت ظاہر کرتی ہے کہ آبادی مسلسل بڑھتی رہے گی ”کیونکہ آج کے والدین کی نسبت کل کے والدین کی تعداد زیادہ ہے۔ کل کے والدین تو پہلے ہی پیدا ہو چکے ہیں۔“
ایسی مایوس پیشبینیوں کے برعکس، بائبل پیشینگوئی واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ قادرمطلق خدا اس زمین پر ایک مکمل فردوس کے علاوہ کسی اور چیز کا مقصد نہیں ٹھہراتا۔ (لوقا ۲۳:۴۳) ایندھن کی لکڑی، آبادی، اور غربت سے متعلق پیچیدہ مسائل کو حل کرنا اس کی قدرت کی دسترس سے باہر نہیں۔—یسعیاہ ۶۵:۱۷-۲۵۔
کیا مستقبل جل کر راکھ ہو رہا ہے؟ ہرگز نہیں! بہت جلد ہمارے پرمحبت خالق کے متعلق یہ پیشینگوئی پوری ہو جائیگی: ”تو اپنی مٹھی کھولتا ہے اور ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔“—زبور ۱۴۵:۱۶۔ (13 12/8 g92)
[عبارت]
”اگر ان کے پاس اسے پکانے کے ذرائع کی قلت ہے تو خوراک فراہم کرنے کی قدروقیمت کم ہی ہے“