یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏4
  • جسطرح اپنے حافظے کو بہتر بنائیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جسطرح اپنے حافظے کو بہتر بنائیں
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمارے بھول جانے کی وجہ
  • جسطرح یاد رکھیں
  • یاد کرنے کی قدروقیمت
  • آپ اپنی یادداشت میں بہتری لا سکتے ہیں!‏
    جاگو!‏—‏2009ء
  • تصویریں بنانا​—‏⁠باتیں یاد رکھنے کا عمدہ طریقہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • مطالعہ کرنے کے لیے مشورہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • اہم نکتوں کی دُہرائی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏4

جسطرح اپنے حافظے کو بہتر بنائیں

آپ ایک شاندار حافظہ رکھتے ہیں!‏ کیا آپ اسکا یقین کرنا مشکل پاتے ہیں؟ ایک لمحے کیلئے ان بہت سی باتوں کی بابت سوچیں جو آپ بآسانی یاد رکھتے ہیں:‏ بچپن کے مناظر، دوستوں اور رشتہ‌داروں کے نام—‏حتی کہ کتابوں اور ٹیلی‌وژن کے غیرحقیقی کردار، اپنے پسندیدہ گیتوں کی شاعری اور دھنیں، حروف‌تہجی، گنتی کرنے کا طریقہ، ہزارہا الفاظ۔ جی‌ہاں، آپ نے پہلے ہی لاکھوں چیزوں کو یاد رکھنے کی لیاقت کا مظاہرہ کیا ہے!‏

‏”‏لیکن اگر میرا حافظہ اتنی حیرت‌انگیز شے ہے،“‏ شاید آپ سوچیں، ”‏تو میں کیوں باتیں بھول جاتا ہوں؟ میں اکثر چیزوں کو انکی صحیح جگہ پر رکھ کر کیوں بھول جاتا ہوں؟ میں کیوں سٹور پر جاتا اور یہ بھول جاتا ہوں کہ میں کس لئے آیا تھا؟ اس سے بھی بدتر، مجھے ناموں اور چہروں کو یاد رکھنے میں اتنی مشکل کیوں پیش آتی ہے—‏ٹیلی‌فون کے نمبروں اور ملاقات کے اوقات تو درکنار؟“‏ یہ عام طور پر تشویشناک باتیں ہیں۔ پھر بھی، آپکا حافظہ آپکی سوچ سے کہیں زیادہ بہتر ہے—‏اور اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔‏

ہمارے بھول جانے کی وجہ

خدا نے ہمیں یاد رکھنے کی حیرت‌انگیز لیاقت کے ساتھ خلق کیا۔ موزوں طور پر، دماغ اس چیز کے اندر ہے جسکا بائبل کے اندر شاعرانہ انداز میں ایک ”‏سونے کی کٹوری“‏—‏یادوں کا بیش‌قیمت ظرف—‏کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ (‏واعظ ۱۲:‏۶‏)‏ تو پھر، بعض اوقات ہماری یادیں ہمیں ناکام کرتی ہوئی دکھائی کیوں دیتی ہیں؟ دلچسپی کی کمی کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے۔ ایک مشہور موسیقار آرٹورو توسکانینی نے کئی گیتوں کے مکمل سازینے حافظہ سے ترتیب دئے۔ کاروباری سیٹھ چارلس شواب کو ۸،۰۰۰ ملازمین کے نام یاد تھے۔ لیکن کیا انکی یادیں انکے ذاتی دلچسپی کے حلقوں سے باہر کے موضوعات میں بھی یکساں طور پر جامع تھیں؟ غالباً نہیں۔ آپکی یادداشت خواہ کتنی بھی اچھی ہو، پھر بھی آپ کیلئے ان چیزوں کو سیکھنا اور یاد رکھنا بے‌حد مشکل ہوگا جو آپکی دلچسپی کی نہیں ہیں۔‏

ایک اور عنصر جو ہمارے بھول جانے کا سبب بن سکتا ہے وہ صورتحال یا مقام میں تبدیلی ہے۔ چیزیں اسی ماحول میں اچھی طرح یاد رہتی ہیں جس میں وہ سیکھی گئی تھیں۔ ایک آدمی اس علاقے کا دورہ کر رہا تھا جہاں اس نے پرورش پائی تھی اور وہاں اسے ایک اجنبی خاتون ملی۔ لازماً، اس نے فرض کر لیا کہ یہ ضرور وہی ہے جسکے ساتھ وہ اپنی پرانی ہمسائیگی میں پلا بڑھا تھا۔ اچانک اس نے پہچان لیا، کہ گویا وہ وہی تھی جسے وہ ہر روز دیکھتا تھا—‏حالیہ ساتھی کارندہ!‏ محض اتفاق سے وہ اسی علاقے کا دورہ کر رہی تھی۔ اسکو ایک مختلف ماحول میں دیکھنے نے اسے پل بھر میں یہ بھلا دیا کہ وہ کون تھی۔‏

خوشی کی بات ہے کہ آپکو وہ لاکھوں چھوٹی چھوٹی باتیں یاد رکھنے کی ضرورت نہیں جو ہر روز آپ کے ذہن میں ڈالی جاتی ہیں، ان میں سے زیادہ‌تر غیراہم ہوتی ہیں۔ تاہم، جب کوئی بات اہم ہو تو آپ اسکو یاد رکھنا سیکھ سکتے ہیں۔ کیسے؟ اس پر خاص توجہ دینے سے۔‏

جسطرح یاد رکھیں

فرض کریں کہ آپ کو آج رات ایک بہت ضروری فون کال کرنا ہے۔ اگر آپ اس ضرورت کی بابت محض فوری ذہنی یادداشت سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تو آپ غالباً بھول جائیں گے۔ اس لئے رکیں اور اس فون کال کے متعلق سوچیں جو آپ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ جیف بڈ ورتھ کی کتاب انسٹینٹ ری‌کال—‏ٹیپنگ یور ہڈن میموری پاور اہم معلومات کو یادداشت میں نقش کرنے کیلئے ”‏منٹ، نہ کہ سیکنڈ“‏ لینے کی سفارش کرتی ہے۔ خود کو بتائیں کہ آپ واقعی اس کال کے کرنے کو یاد رکھنے کی نیت کئے ہوئے ہیں۔ اس معاملے پر خاص توجہ دینے کے بعد آپ غالباً اسے نہیں بھولیں گے۔‏

پھر، بعض دیگر طریقے کون سے ہیں جن سے آپ ان باتوں پر خاص توجہ دے سکتے ہیں جنہیں آپ بھولنا نہیں چاہتے؟ مندرجہ‌ذیل تجاویز کا اگر اطلاق کیا جائے تو جلد ہی یہ آپ کی عادت بن جائیں گی۔‏

اپنی معلومات کو درست رکھیں:‏ ایک کمپیوٹر اس وقت تک مواد کو صحیح طرح واپس حاصل نہیں کر سکتا جبتک کہ اسے شروع میں اچھی طرح داخل نہ کیا جائے۔ بڑی حد تک، یہی بات ہماری یادوں کے سلسلے میں سچ ہے۔ مثال کیطور پر، ناموں کو سیکھنے کے معاملہ پر غور کریں۔ ڈاکٹر برونو فرسٹ اپنی کتاب سٹاپ فورگیٹنگ میں لکھتے ہیں:‏ ”‏اگر ہم صاف طور پر اور صحیح طرح نام نہیں سنتے تو ہم یاد رکھنے یا بھول جانے کی بات ہی نہیں کر سکتے۔ ہم کسی بھی ایسی چیز کو نہ تو یاد رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بھول سکتے ہیں جسے ہم کبھی جانتے ہی نہیں تھے۔ اسلئے ہمارا پہلا قدم نام کو ایک ایسے طریقے سے سننا ہونا چاہیے جس میں اسکے تلفظ اور ہجوں کی بابت کوئی شک کی گنجائش باقی نہ رہے۔“‏ آپ سے تعارف کرانے پر اگر کوئی اپنا نام صفائی سے نہیں بولتا تو اس شخص سے اسے دوہرانے کی درخواست کرنے سے جھجھک محسوس نہ کریں۔ پوچھیں کہ اسکے ہجے کیسے کئے جاتے ہیں۔‏

ذہنی تصویر بنائیں:‏ اس چیز کی تصویر بنانے کی کوشش کریں جسکو آپ یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا کوئی خاص روزمرہ کا کام ہے جسے آپ کو بھولنا نہیں چاہیے؟ پھر خود کو یہ کام کرتے ہوئے تصور کریں۔ اس ذہنی تصویر میں آپ جتنی تفصیل شامل کریں گے اتنی ہی آسانی سے آپ اسے یاد کر لیں گے۔‏

ذہنی نقشہ غیرمتعلقہ اشیاء میں تعلقات کو قائم کرنے میں بھی آپکی مدد کر سکتا ہے۔ مثال کیطور پر، تصور کریں کہ آپ نے دودھ اور ٹوتھ پیسٹ خریدنا یاد رکھنا ہے۔ آپ ایک گائے کی اپنے دانت صاف کرتے ہوئے ذہنی تصویر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا تصور نہیں جسے آپ غالباً بھول جائیں، خواہ آپ کتنی بھی کوشش کریں۔‏

زبانی بولیں:‏ بول کر خود کو کہنا کہ ”‏مجھے آج رات جان کو ضرور کال کرنا ہے،“‏ ایسا کرنے میں آپکی مدد کا ایک اور طریقہ ہے۔ دوسری طرف، کیا آپ اکثر بھول جاتے ہیں کہ آیا آپ نے دروازے کو تالا لگا دیا ہے یا چولھا بجھا دیا ہے؟ ڈاکٹر جیمز ڈی۔ وائینلینڈ کی کتاب ہاؤ ٹو امپروو یور میموری کہتی ہے:‏ ”‏کاموں کی بابت زبانی بولنے سے جب ہم انہیں کرتے ہیں عموماً مشکل کو حل کیا جا سکتا ہے، .‏.‏.‏ جب آپ گھڑی کو چابی دیتے ہیں اور الارم لگاتے ہیں تو کہیں، ”‏میں نے گھڑی کو چابی دے لی ہے اور الارم لگا لیا ہے۔“‏ جب آپ دروازے کو تالا لگاتے ہیں تو خود سے کہیں، ”‏میں نے دروازہ کو تالا لگا لیا ہے۔“‏“‏ ایسا کرنا شاید آپکو احمقانہ لگے لیکن یہ یاد رکھنے میں آپکی مدد کر سکتا ہے۔‏

اپنے موضوع میں دلچسپی پیدا کریں:‏ آپ قدرتی طور پر کسی موضوع کی طرف راغب نہیں ہونگے، لیکن اگر آپ معلومات اور انکو یاد رکھنے میں ناکامی کے نتائج کی بابت جاننے کی اپنی ضرورت کی وجوہات کو خود کو یاد کراتے ہیں تو سیکھنے کا عمل آسان ہو جائے گا۔ اسکے علاوہ، جتنا آپ کسی موضوع کی بابت سیکھتے ہیں وہ اتنا ہی آپ کیلئے اثرآفرین بن جاتا ہے۔ بائبل کہتی ہے:‏ ”‏صاحب‌فہم کو علم آسانی سے حاصل ہوتا ہے۔“‏—‏امثال ۱۴:‏۶۔‏

گنتی کریں:‏ فرض کریں کہ آپ کو اگلی صبح کام پر لے جانے کیلئے کئی مختلف چیزیں لے کر جانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ لے کر جانے والی چیزوں کی صحیح تعداد کو لکھ لینے سے، آپکے لئے کسی چیز کو پیچھے چھوڑ جانے کا امکان کم ہی ہوگا۔‏

منظم ہوں:‏ اگر آپکو اشیائے خوراک کے سٹور سے مختلف چیزیں خریدنے کی ضرورت ہے تو انہیں مختلف اقسام میں بانٹنے کی کوشش کریں۔ مثال کیطور پر، شاید آپ فیصلہ کریں کہ آپکو تین ڈیری پروڈکٹس، دو گوشت کی اشیاء، اور دو متفرق اشیاء خریدنے کی ضرورت ہے۔ چیزوں کو اس انداز سے منظم کرنا زیادہ دھیان دینے میں آپکی مدد کریگا۔‏

اسے استعمال کریں اور اس پر نظرثانی کریں:‏ آپ اپنے نام، حروف‌تہجی، یا کانٹے یا پنسل کے استعمال کے طریقہ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ آپ نے اس علم کا بارہا استعمال کیا ہے۔ مسلسل استعمال حافظہ کو مضبوط بناتا ہے اور اسے یاد کرنا آسان بناتا ہے۔ پھر وقتاًفوقتاً ان چیزوں کا ذہنی اعادہ کریں یا انکو استعمال کریں جنہیں آپ یاد رکھنا چاہتے ہیں۔ کسی کیساتھ متعارف کرائے جانے کے بعد اسکے نام کو کئی بار استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ یا کوئی نئی معلومات سیکھ لینے پر اسے اپنی گفتگو میں اس بات کا خیال رکھتے ہوئے استعمال کرنے کی کوشش کریں کہ ایسے انداز سے نہ بولیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ آپ دکھاوا کر رہے ہیں۔‏

یاد کرنے کی قدروقیمت

‏”‏لیکن اس ساری مشکل میں کیوں پڑیں؟“‏ شاید آپ پوچھیں۔ ”‏کیا محض چیزوں کو تحریر کر لینا آسان نہ ہوگا؟“‏ کیلنڈر، فہرستیں، الارم کلاکس، اپنے لئے تحریرشدہ نوٹس—‏یہ سب کے سب ایک مفید مقصد کو انجام دیتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات چیزوں کو لکھ لینا یکسر عملی نہیں ہوتا، جیسے کہ اس وقت جب آپ سماجی ماحول میں لوگوں سے مل رہے ہیں۔ اور جب آپکی سوچ سمجھ کر بنائی ہوئی خریداری کی فہرست کو ترمیم کی ضرورت ہو تو اکثر پنسل آس‌پاس نہیں ملتی۔ اسکے علاوہ، فہرست بآسانی گم ہو سکتی ہے۔ اور کیا ہو اگر آپ اپنے کیلنڈر پر دیکھنا بھول جائیں؟ پس اپنی یادداشت کی تربیت کرنا ایک سودمند کوشش ہے۔‏

آپ جتنی زیادہ مشق کریں گے یاد کرنے میں اتنی ہی کم کوشش درکار ہوگی۔ واقعی، آپ شاید جلد ہی یہ جان جائیں کہ آپ معاملات کو یاد رکھنے کو انہیں لکھنے پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے اس سے مت ڈریں کہ آپ اپنے دماغ کو کسی نہ کسی طرح درہم‌برہم کر دیں گے اور اسے کم موثر یا کم تخلیقی کر دیں گے۔ دماغ، ایک پٹھے کی مانند، استعمال کرنے سے طاقتور اور مزید موثر بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر جون منینگر کہتی ہیں:‏ ”‏زیادہ‌تر لوگ طویل‌المدت حافظہ کو ایک ایسے مرہم پٹی کرنے والے کے بڑے دراز کے طور پر خیال کرتے ہیں جسکو نئی چیزوں کیلئے جگہ بنانے کی غرض سے وقتاًفوقتاً خالی کرنا پڑتا ہے۔ غلط۔ آپکی یادداشت میں ذخیرہ کرنے کی کوئی معلوم حدود نہیں ہیں۔ آپ اپنی ساری زندگی نئی چیزیں سیکھ سکتے اور یاد رکھ سکتے ہیں۔“‏

ڈاکٹر فرسٹ اسی طرح کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ”‏یہ سوچنا مغالطہ ہوگا کہ اپنے دماغ کے خلیوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے کی غرض سے ہمیں ان سے کوئی کام نہیں لینا چاہیے اور انہیں غیرمستعملہ رکھنا چاہیے۔ حقیقت کے بالکل برعکس۔“‏ استعمال سے آپکا حافظہ مضبوط‌تر ہو جائے گا۔ (‏مقابلہ کریں عبرانیوں ۵:‏۱۴‏۔)‏ دی میموری بک کے ساتھی مصنف ہیری لیرین کی طرح، بعض یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ ”‏جیسے جیسے آپ بڑے ہوتے ہیں دراصل حافظہ اسی قدر بہتر ہوتا جاتا ہے۔“‏

خواہ ایسا ہو یا نہ ہو، آپ کے پاس حافظے کے خداداد تحفے کو استعمال کرنے سے کھونے کیلئے تو کچھ نہیں مگر پانے کیلئے بہت کچھ ہے۔ فائدے ناقابل‌فراموش ہو سکتے ہیں۔ (‏25 7/22 92 g)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں