عورتیں گھر میں عزت پاتی ہیں؟
”ایک کے بعد ایک ، عورتوں کی ہولناک اموات ہوئیں۔ . . . گو کہ ان کی موت کے واقع ہونے کا طریقہ مختلف تھا، درپردہ حالات مختلف نہ تھے: کیوبک [کینیڈا] کی پولیس کہتی ہے کہ ہر عورت کو اس کے گذشتہ یا موجودہ شوہر یا عاشق نے مارا تھا۔ مجموعی طور پر، اس سال [۱۹۹۰] میں کیوبک میں ۲۱ عورتیں ماری گئیں، جو کہ ازدواجی زندگی میں تشدد کے بڑھنے کی شکار ہو گئی تھیں۔“ میکلینز، اکتوبر ۲۲، ۱۹۹۰۔
گھریلو تشدد، جسے کچھ لوگ ”خاندانی زندگی کا تاریک پہلو“ کہتے ہیں، ایک منتشر گھرانے کی فصل بوتا ہے اور ازدواجی ناطوں کو جیسا ہونا چاہیے اسکی بابت غلط نظریے کیساتھ بچے پیدا کرتا ہے۔ جب بچے یہ سوچتے ہیں کہ ابو ہماری امی کو کیوں زدوکوب کرتے ہیں تو والدین کیساتھ انکی حمایت منقسم ہو جاتی ہے۔ (شاذونادر، سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ امی ہمارے ابو کیساتھ کیوں جھلا کر پیش آتی ہیں؟) گھریلو تشدد کا پھل ایسے بیٹے بھی ہیں جو اکثر بڑے ہو کر خود بھی بیوی کو پیٹنے والے بن جاتے ہیں۔ پدری چھاپ انہیں افسوسناک نفسیاتی اور شخصیاتی الجھنوں میں چھوڑ دیتی ہے۔
یو۔ این کی اشاعت دی ورلڈز ویمن ۱۹۷۰-۱۹۹۰ بیان کرتی ہے: ”خیال کیا جاتا ہے کہ اپنے گھروں کی عورتوں پر آدمیوں کے حملوں کی رپورٹیں سب سے کم درجکردہ جرائم ہیں جزوی طور پر اسلئے کہ ایسے تشدد کو جرم نہیں بلکہ ایک سماجی برائی سمجھا جاتا ہے۔“
بیویوں کیساتھ بدسلوکی ریاستہائے متحدہ میں کسقدر بری ہے؟ گزشتہ مضمون میں درجکردہ سینٹ کی رپورٹ بیان کرتی ہے: ””گھریلو تشدد“ کی اصطلاح سننے میں شاید بےضرر سی لگے، لیکن جو رویہ یہ بیان کرتی ہے وہ نرمی سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اعدادوشمار ایک سنسنیخیز تصویر پیش کرتے ہیں کہ بیویوں کیساتھ بدسلوکی کسقدر سنجیدہ بلاشبہ جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔ ہر سال ۲،۰۰۰ سے ۴،۰۰۰ تک عورتیں بدسلوکی کی وجہ سے مرتی ہیں۔ ... دوسرے جرائم کے برعکس، بیویوں سے بدسلوکی ایک دیرینہ، تشدد ہے۔ یہ مسلسل دہشت انگیزی اور بار بار زخم کاری ہے۔“
ورلڈ ہیلتھ میگزین کہتا ہے: ”عورتوں پر تشدد ہر ملک اور ہر سماجی و معاشرتی طبقہ کے اندر عمل میں آتا ہے۔ متعدد تہذیبوں میں عورتوں کو پیٹنا مردوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔ معمول کے مطابق پٹائی اور عورتوں اور لڑکیوں کی عصمتدری، یہ سب اکثر اوقات نجی معاملہ خیال کیا جاتا ہے، جس سے دیگر لوگوں کا کوئی واسطہ نہیں چاہے وہ قانونی اختیارات والے یا شعبہء صحت کے افسران ہی کیوں نہ ہوں۔“ گھر سے یہ تشدد باآسانی اسکول کے ماحول تک سرایت کر سکتا ہے۔
اس کی مثال اس سے ملتی ہے جو کچھ جولائی ۱۹۹۱ میں کینیا کے ایک مخلوط بورڈنگ سکول میں ہوا تھا۔ دی نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی کہ ”طالبعلموں نے اسکول کی ۷۱ نوعمر طالبات کی عصمت دری کی اور مزید ۱۹ طالبات رات بھر کے تشدد کے دوران بورڈنگ کے کمرے میں ماری گئیں جو کہ بیان کے مطابق . . . مقامی پولیس یا استادوں کی مزاحمت کے بغیر جاری رہا۔“ جنسی تشدد کی اس دیوانگی کو کیسے بیان کیا جا سکتا تھا؟ ”اس المیہ نے اس مکروہ مردانہ برتری کو اجاگر کر دیا جو کینیا کی سماجی زندگی پر حاوی ہے“ کینیا کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے میگزین دی ویکلی ریویو کے مدیر اعلی ہلری انوینو نے تحریر کیا۔ ”ہماری عورتوں اور لڑکیوں کا نصیبہ قابلنوحہ ہے۔ . . . ہم اپنے لڑکوں کی تربیت ہی ایسی کرتے ہیں کہ وہ لڑکیوں کا کم احترام کرتے ہیں یا قطعاً کوئی احترام نہیں کر تے۔“
دنیا بھر میں اس مسئلہ کا بنیادی جز یہی ہے لڑکوں کی تربیت اکثر ایسی کی جاتی ہے کہ وہ لڑکیوں اور عورتوں کو ایک کمتر اور قابلاستحصال مخلوق سمجھتے ہیں۔ عورتوں کو ستائے جانے کے لائق اور باآسانی زیرتسلط لانے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد عورتوں کیلئے بےاحترامی اور بلاتامل مردانہ برتری میں بس معمولی سا فاصلہ رہ جاتا ہے اور اتنا ہی کم فاصلہ جان پہچان رکھنے کی وجہ سے عصمتدری یا دوستانہ ملاقات پر عصمتدری کیلئے۔ اور عصمتدری کی بابت یہ نہیں بھلایا جا سکتا کہ ”یہ حملہ چند منٹوں میں ہو کر ختم ہو سکتا ہے، لیکن احساس زندگی بھر رہتا ہے۔“ سینٹ رپورٹ۔
متعدد آدمی، ضروری نہیں کہ عورتوں پر جسمانی تشدد کرنے والے ہی ہوں تاہم انکو تحتالشعوری طور پر عورت سے بیزار، یا عورت سے نفرت رکھنے والے کہا جا سکتا ہے۔ بجائے جسمانی تشدد کے وہ نفسیاتی بدسلوکی یا نفسیاتی زدوکوب کا استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سوزن فارورڈ اپنی کتاب مین ہو ہیٹ ویمن اینڈ دی ویمن ہو لو دیم میں کہتی ہیں: ”جیسا کہ ان کی شریک حیات ان کے لئے بیان کرتی ہیں، [یہ آدمی] اکثر اوقات پرکشش اور پرمحبت بھی ہوا کرتے تھے، لیکن پل بھر میں وہ ظلم، نکتہ چینی، اور بےعزتی کرنے کا رویہ بھی اپنا لینے کے قابل تھے۔ ان کا یہ رویہ ایک وسیع احاطہ پر مشتمل تھا، واضح ڈراوے اور دھمکیوں سے لیکر مزید عیارانہ اور پوشیدہ حملوں تک ، جس نے سختی سے جھڑک دینے یا دل جلانے والی نکتہ چینی کی صورت اختیار کر لی تھی۔ انداز کچھ بھی رہا ہو، نتائج یکساں ہوتے تھے۔ عورت کو کچل کر آدمی اختیار سنبھال لیتا تھا۔ ان آدمیوں نے اس کی کوئی بھی ذمہداری لینے سے انکار کیا کہ ان کے حملوں کی وجہ سے ان کی بیویوں نے کیسا محسوس کیا تھا۔“
یسوکو، a ایک نازک سی جاپانی عورت، جو اب ۱۵ برس سے شادیشدہ ہے، اس نے اویک ! کو اپنے خاندانی تجربہ کی بابت بتایا: ”میرا باپ باقاعدگی سے میری ماں کو مارتا اور اس کیساتھ برا سلوک کرتا تھا۔ وہ اسے ٹھوکریں اور مکے مارتا، اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا، اور اس پر پتھراؤ تک کرتا۔ آپ کو معلوم ہے کیوں؟ اس لئے کہ اس نے میرے باپ کو دوسری عورت کیساتھ حرامکاری کرنے سے روکنے کی جرات کی تھی۔ بات یہ ہے کہ جاپانی معاشرہ میں، بعض آدمیوں کیلئے ایک داشتہ کا رکھنا عین معمول کے مطابق سمجھا گیا ہے۔ میری ماں ترقی پسند تھی اور اس نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ شادی کے ۱۶ سال بعد چار بچوں کیساتھ اسے طلاق مل گئی۔ میرے باپ نے بچوں کے خرچ کیلئے بھی اسے کچھ نہ دیا۔“
تاہم، جہاں کہیں بیوی پر زدوکوب کی اطلاع حکام تک پہنچائی بھی جاتی رہی، وہاں انتقام کے خواہاں شوہر کے ہاتھوں اکثر بیوی کو قتل کر دینے سے بچایا نہ جاسکا۔ متعدد موقعوں پر، ریاستہائے متحدہ جیسے ملک میں ایک دھمکائی ہوئی دہشتزدہ بیوی کے لئے قانون ناکافی رہا ہے۔ ”ایک تحقیق نے ظاہر کیا کہ شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کے قتل کی تمام وارداتوں میں سے نصف سے زیادہ ایسی تھیں جن میں گذشتہ برس پولیس کو گھریلو تشدد کی شکایت پر پانچ بار تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا۔“ (سینٹ رپورٹ) چند شدید حالات میں، خود کو مزید بدسلوکی سے بچانے کے لئے بیوی نے اپنے شوہر کو قتل کیا ہے۔
گھریلو تشدد، جسکا شکار عموماً بیویاں ہوتی ہیں، متعدد مختلف طریقوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں، ان اموات کی درجشدہ تعداد، جنہیں جہیز کی اموات کہا جاتا ہے (شوہروں کا بیویوں کو اس بنا پر جان سے مار دینا کہ وہ بیوی کو اسکے خاندان کی طرف سے دیے جانے والے جہیز سے غیرمطمئن تھا) ۱۹۸۸ میں ۲،۲۰۹ سے بڑھ کر ۱۹۹۰ میں ۴،۸۳۵ تک ہوگئی۔ تاہم، یہ اعدادوشمار مکمل یا صحیح نہیں سمجھے جا سکتے، کیونکہ بیویوں کی متعدد اموات کو دھوکا دینے کے لئے گھریلو حادثات کا نام دے دیا جاتا ہے جو عموماً دانستہ طور پر پکانے میں استعمال ہونے والے مٹی کے تیل سے جلا دی جاتی ہیں۔ ان میں ان بیویوں کی خودکشی بھی اضافہ کرتی ہے جو گھریلو مصیبتوں کو مزید برداشت نہیں کر سکتیں۔
جب انتخاب بیٹے یا بیٹیوں کا ہو
عورتوں کے خلاف انکی پیدایش بلکہ قبلاز پیدایش ہی تعصب برتا جاتا ہے۔ ایسا کیوں؟ ایک جواب کیلئے اویک ! نے ہندوستان میں بمبئی کی مادھو کا انٹرویو لیا: ”جب ایک ہندوستانی خاندان میں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو خوشی منائی جاتی ہے۔ ماں کی مشکلات ختم ہو جاتی ہیں۔ اب والدین کے پاس ایک بیٹا ہے جو بڑھاپے میں انکی دیکھ بھال کریگا۔ انکے مالی تحفظ کی ضمانت مل جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ بیٹی کو جنم دیتی ہے تو اسے ایک قصوروار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہوتا ہے کہ گویا وہ دنیا میں محض ایک بوجھ اور لے آئی ہے۔ اب والدین کو اسے بیاہنے کیلئے قیمتی جہیز مہیا کرنا ہوگا۔ اور اگر ایک ماں کے بیٹیاں ہی پیدا ہوتی رہیں تو وہ برباد کرنے والی ہے۔“ b
روزنامہ انڈین ایکسپریس نے ہندوستان میں لڑکیوں کے متعلق بیان کیا: ”انکی زندگی حقیقتاً خاندان کے زندہ رہنے کیلئے اہم نہیں سمجھی جاتی۔“ یہی ذریعہ بمبئی میں ایک سروے کا حوالہ دیتا ہے جس نے ”ظاہر کیا کہ ماں کے رحم میں ہی بچے کی جنس معلوم کر لینے کے ٹیسٹ کے بعد ۸،۰۰۰ اسقاط حمل میں سے ۷،۹۹۹ لڑکیاں تھیں۔“
الزبتھ بیوملر تحریر کرتی ہے: ”بعض ہندوستانی عورتوں کی حالت ایسی مصیبتزدہ ہے کہ اگر انکے دکھوں کو وہی توجہ مل جائے جو دنیا کے دیگر حصوں میں نسلی اور نسلیاتی اقلیت کو دی جاتی ہے تو ان کے تحفظ کا مسئلہ حقوق انسانی کے گروپ اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔“ مے یو بی دی مدر آف آ ہنڈرڈ سنز۔
”عورت کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا“
”عورت کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا“ شاید یہ ایک گھساپٹا سا جملہ معلوم دے۔ لیکن یہ ایک حقیقت کو بیان کرتا ہے جسے آدمی اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ بچوں والی عورت کے پاس کام کے کسی بندھے ہوئے جدول کی آسایش نہیں ہوتی، جیساکہ مردوں کا اکثر نو سے پانچ بجے تک کا ہوتا ہے۔ اگر ایک بچہ رات کو روتا ہے تو کون ہے جو زیادہ ممکنہ طور پر اسے چپ کرائیگا؟ صفائی، دھلائی، اور استری کون کرتا ہے؟ جب شوہر کام سے گھر واپس آتا ہے تو کون کھانا تیار کرکے اس کے سامنے پیش کرتا ہے؟ کھانے کے بعد کون برتن صاف کرتا اور پھر بچوں کو سلانے کی تیاری کرتا ہے؟ اس سب کے علاوہ، متعدد ممالک میں، کس سے پانی لانے اور بچہ کو کمر پر باندھ کر کھتیوں میں کام کرنے کی بھی توقع کی جاتی ہے؟ عموماً ماں سے۔ اسکے کام کا جدول دن کے صرف ۸ یا ۹ گھنٹے ہی نہیں، یہ عموماً ۱۲ سے ۱۴ یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ بہرصورت، اس کیلئے مقررہ وقت سے زیادہ کام کرنے کی کوئی تنخواہ نہیں ہوتی اور بارہا کوئی تشکر بھی نہیں!
ورلڈ ہیلتھ میگزین کے مطابق ، ایتھیوپیا میں ”عورتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ روزانہ ۱۶ سے ۱۸ گھنٹے کام کریں، [اور] ان کی آمدنی کی سطح اس قدر کم ہے کہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی پرورش نہیں کر سکتیں۔ . . . بھوک وہاں کا روزمرہ کا معمول ہے، اکثر حالات میں انہیں [جلانے والی لکڑی جمع کرنے اور اٹھا کر لانے والی عورتوں کو] روزانہ ایک وقت کا نامکمل کھانا ملتا ہے اور عموماً وہ اپنے گھر سے ناشتہ کئے بغیر ہی نکل جاتی ہیں۔“
سیو، جو بنیادی طور پر ہانگ کانگ سے تعلق رکھتی ہے، اب بیس برس سے شادیشدہ ہے اس نے کہا: ”چینیوں کے نظریہ کے مطابق ، آدمیوں کا مقصد انہیں گھریلو ملازمائیں اور بچے پیدا کرنے والیاں یا، دوسری انتہا پر، انہیں مورتیں کھلونے، یا جنسی چیزیں سمجھتے ہوئے عورتوں کی تحقیر کرنا ہے۔ لیکن درحقیقت، ہم عورتیں جو چاہتی ہیں وہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ باشعور مخلوق کے طور پر پیش آیا جائے۔ ہم چاہتی ہیں کہ جب بات کریں تو آدمی ہماری سنیں نہ کہ وہ ایسے ظاہر کریں گویا ہم بےجان چیزیں ہیں!“
کچھ عجب نہیں کہ کتاب مین اینڈ ویمن کہتی ہے: ”ہر جگہ، اگرچہ عورتوں کا بڑا احترام کیا جاتا ہو، تو بھی عورتوں کی نسبت آدمیوں کی کارگزاریوں کی بڑی قدرومنزلت ہے۔ اس کا ذرا سا بھی احساس نہیں کہ معاشرہ اصناف کے درمیان کرداروں اور ذمہداریوں کی تفویض کس طرح کرتا ہے، وہ ذمہداریاں جو آدمیوں سے تعلق رکھتی ہیں لازمی طور پر پورے معاشرے کی نظروں میں بلند شمار کی جاتی ہیں۔“
دراصل حقیقت یہ ہے کہ گھر میں عام طور پر عورت کے کردار کو معمولی خیال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ، دی ورلڈز ویمن ۱۹۷۰۔ ۱۹۹۰ کا دیباچہ بیان کرتا ہے: ”عورتوں کے رہائشی حالات اور خاندان کی مدد کیلئے ان کی کارگزاریاں، معاشیات اور خانہداری عام طور پر نادیدہ رہے ہیں۔ متعدد اعدادوشمار کو ایسے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ آدمیوں کی کیفیات اور انکی امدادی کارگزاریوں کی تصویر کشی کرتے ہیں، نہ کہ عورتوں کی، یا یہ کہ وہ تذکیروتانیث کو بالکل نظرانداز ہی کر دیتے ہیں۔ . . . عورتوں کا کیا ہوا خاصہ کام قطعاً کسی معاشی افادیت کا حامل نہیں سمجھا جاتا اور اسے خاطر میں ہی نہیں لایا جاتا۔“
۱۹۳۴ میں، شمالی امریکہ کے مصنف جیرلڈ ڈبلیو۔ جانسن نے جا ئے ملازمت پر عورتوں کی بابت اپنی آراء کا یوں اظہار کیا: ”عورت اکثروبیشتر ایسی ملازمت کر لیتی ہے جو مرد کرتے ہیں مگر مردوں جیسی تنخواہ شاذونادر ہی پاتی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ روزانہ مشقت کا کوئی بھی قابلتصور کام ایسا نہیں جسے بعض مرد ایک عورت کی نسبت بہتر طور پر نہ کر سکتے ہوں۔ اعلیترین زنانہ ملبوسات اور ٹوپیاں بنانے والے آدمی ہی ہیں۔ . . . بلاشبہ اعلی ترین باورچی بھی تو آدمی ہی رہے ہیں۔ . . . یہاں پر اور آجکل یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی آجر ایک عورت کو جو تنخواہ دیتا ہے اسی کام کیلئے ایک آدمی کو اس سے زیادہ تنخواہ دینے پر رضامند ہو جاتا ہے اس وجہ سے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ایک آدمی اس کام کو بہتر طور پر انجام دیگا۔“ یہ رائے اگرچہ، تضحیک بھی ہو سکتی ہے، لیکن یہ اس نے اس زمانے کے یکطرفہ میلانات کو ظاہر کیا ہے، جو دورحاضرہ کے متعدد مردوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔
احترام کی کمی ایک عالمگیر مسئلہ
ہر تہذیب نے معاشرے میں عورت کے کردار سے متعلق اپنے رویے، یک طرفہ میلان اور تعصبات کی نشوونما کی ہے۔ لیکن جواب کا حامل سوال یہ ہے، کیا یہ رویے عورت کے وقار کے لئے واجب احترام ظاہر کرتے ہیں؟ یا اسکے برعکس، ان سے عام طور پر مردانہ برتر طاقت کی وجہ سے آدمی کا صدیوں پرانا تسلط ظاہر ہوتا ہے؟ اگر عورتوں کیساتھ غلاموں جیسا یا قابلاستحصال اشیاء جیسا سلوک کیا جاتا ہے تو پھر انکے وقار کیلئے احترام کہاں گیا؟ کموبیش درجہ پر، بیشتر تہذیبوں نے عورت کے کردار کو تہہوبالا کر دیا ہے اور اسکی عزت نفس کو نقصان پہنچایا ہے۔
دنیا بھر کی بہت سی مثالوں میں سے ایک افریقہ سے ہے: ”یوروبا عورتوں [نائجیریا] کو اپنے شوہروں کی موجودگی میں خود کو انجان اور سب کچھ چپ چاپ مان لینے والی ظاہر کرنا چاہیے، اور کھانا پیش کرتے وقت انہیں اپنے شوہروں کے قدموں میں گھٹنوں کے بل رہنے کو کہا جاتا ہے۔“ (مین انیڈ ویمن) دنیا کے دیگر حصوں میں یہ تابعداری، شاید بہت سے مختلف طریقوں سے دکھائی جاتی ہے بیوی کو ایک مخصوص فاصلے پر شوہر کے پیچھے چلنا پڑے، یا جب وہ گھوڑے یا خچر پر سوار ہو تو بیوی کو پیدل چلنا ہو، یا بیوی بوجھ اٹھا کر چلے جبکہ شوہر خالی ہاتھ ہو، یا بیوی کو کھانا علیحدہ کھانا ہو، اور اسی طرح سے کئی دیگر کام۔
اپنی کتاب دی جیپنیز، میں ایڈون رائیشاور نے جس کی پیدایش اور پرورش جاپان میں ہوئی تھی لکھا: ”جاپان میں مردانہ برتری کا رویہ بڑے زوروشور سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ . . . ایک دوہرا جنسی معیار، جو آدمی کو آزاد اور عورت کو پابند کرتا ہے، ابھی تک عام ہے۔ . . . اس کے علاوہ، شادیشدہ عورتوں سے آدمیوں کی نسبت کہیں زیادہ وفاشعاری کی توقع کی جاتی ہے۔“
متعدد ممالک کی طرح، جاپان میں بھی جنسی ایذارسانی ایک مسئلہ ہے، خصوصاً دفتری اوقات میں پرہجوم زیرزمین ٹرینوں میں۔ یسوکو، جو ٹوکیو کے نواحی علاقہ ہینوسٹی کی ہے، اس نے اویک ! کو بتایا: ”جب میں جوان تھی تو ٹوکیو آتی جاتی تھی۔ اتنی شرمندگی ہوتی تھی کیونکہ بعض آدمی چٹکی بھرنے اور جہاں ہو سکتا وہاں ہاتھ لگانے کے لئے موقع سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ ہم عورتیں اسکی بابت کیا کر سکتی ہیں؟ ہمیں یہ برداشت کرنا پڑتا تھا۔ مگر یہ شرمناک بات تھی۔ صبح کو پرہجوم اوقات میں، عورتوں کیلئے علیحدہ ڈبہ ہوتا تھا، تاکہ کم سے کم کچھ عورتیں تو ان ذلتوں سے محفوظ رہ سکیں۔“
جاپان کی ایک سابقہ سکونتپذیر سو، کے پاس ان باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا اپنا ایک طریقہ تھا۔ وہ بلند آواز میں کہتی، ”فیوزا اکینائی ڈی کیوڈاسائی!“ جسکا مطلب ہے ”باز آؤ حماقت سے!“ وہ کہتی ہے: ”یہ فوری توجہ اور کاروائی کا باعث تھا۔ باقی سب لوگوں کے سامنے کوئی بھی بےعزت نہیں ہونا چاہتا۔ فوراً ایسا ہوتا تھا کہ کوئی آدمی مجھے ہاتھ نہیں لگاتا تھا!“
گھریلو دائرہ میں عورتوں کے لئے احترام کی کمی بظاہر عالمی مسئلہ ہے۔ لیکن جائے ملازمت پر عورتوں کے کردار کے بارے میں کیا ہے؟ کیا وہاں انہیں زیادہ احترام اور قدرشناسی ملتی ہے؟ (۵ ۷/۸ g۹۲)
[فٹنوٹ]
a جنکے انٹرویو لئے گئے انہوں نے نام نہ ظاہر کئے جانے کی خواہش کی ہے۔ ان تمام مضامین میں متبادل نام استعمال کئے ہیں۔
b تقریباً ہمیشہ شوہر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ بیٹیوں کی پیدایش کے سلسلے میں عورتوں کو موردالزام ٹھہرایا جاتا چاہئے۔ وہ قانون توالدوتناسل کو تو بالکل ہی نہیں جانتے۔ (اس صفحہ کے بکس کو دیکھیں۔)
[بکس]
بچے کی جنس کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
”نازائیدہ بچے کی جنس کا فیصلہ اسی لمحہ ہو جاتا ہے جب حمل ٹھہرتا ہے، اور یہ باپ ہی کا تولیدی خلیہ ہوتا ہے جو فیصلہکن ہوتا ہے۔ ہر ایک اووم، یا انڈا، جو کہ ایک عورت پیدا کرتی ہے وہ مادہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اس میں x، یا ایک مادہ کا جنسی مرکز ہوتا ہے۔ ایک آدمی میں، تولیدی خلیوں میں سے صرف نصف x مرکزے رکھتے ہیں جبکہ بقیہ نصف میں y جنسی مرکزے ہوتے ہیں، جو کہ نر جنسی مرکزہ ہوتا ہے۔ لہذا، اگر دو x جنسی مرکزے ملائیں جائیں تو نتیجہ ایک لڑکی ہوگی، اگر نر کا y مادہ کے x سے ملتا ہے تو بچہ ایک لڑکا ہوگا۔ پس آیا ایک عورت کے بیٹے پیدا ہونگے یا بیٹیاں اس کا فیصلہ نر تولیدی خلیے میں جنسی مرکزے پر ہوتا ہے۔ (اے بی سی آف دی ہیومن باڈی، ریڈرز ڈائجسٹ کی ایک اشاعت) صرف بیٹیاں ہی پیدا ہونے پر ایک آدمی کا اپنی بیوی کو الزام دینا ایک غیرمنطقی بات ہے۔ اس کے لئے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ یہ تو محض افزائش نسل کی ایک لاٹری ہے۔
[بکس/تصویر]
ایک بہت بڑا المیہ
اپنی کتاب فیمینزم ودآؤٹ الوژنز میں الزبتھ فاکسجینوویزے نے لکھا: ”اس کا یقین کرنے کی معقول وجہ ہے کہ بہتیرے آدمی . . . [ اپنی] قوت کے ایسی حالتوں کیلئے استعمال کیطرف بہت زیادہ مائل ہیں جس سے بظاہر انکو فائدہ ہوتا ہے . . . یعنی عورتوں کیساتھ اپنے ذاتی تعلقات میں۔ اگر میرا اندازہ درست ہے تو پھر ایک بہت بڑا المیہ ہمارے سامنے ہے۔“ اور یہ بہت بڑا المیہ اپنے اندر ان لاکھوں عورتوں کو سمیٹے ہوئے ہے جو کہ ہر روز ایک مردمآزار شوہر، باپ، یا دوسرے کسی بھی مرد کے ہاتھوں تکلیف اٹھاتی ہیں ایک ایسے مرد سے جو کہ ”مساوات اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں“ ناکام ہے۔
”[ریاستہائے متحدہ کی] تیس ریاستوں میں، ابھی تک عمومی طور پر شوہروں کے لئے بیویوں کیساتھ زبردستی کرنا جائز ہے، اور صرف دس ریاستوں میں گھریلو تشدد کے لئے گرفتاری کا قانون نافذ ہے . . . ایسی عورتوں کے لئے جن کے پاس بھاگ جانے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بھی کوئی اچھا متبادل نہیں۔ تشدد کا نشانہ بننے والی ایک ملین عورتوں کا تیسرا حصہ ہر سال ایمرجنسی تحفظ کی تلاش کرتی ہیں لیکن پاتی نہیں۔“ سوزن فالوڈی کی بیک لیش دی انڈکلیئرڈ وار اگینسٹ امریکن ویمن کا پیش لفظ ۔
[تصویر]
لاکھوں کے لئے گھریلو تشدد خاندانی زندگی کا ایک تاریک پہلوں ہے
[تصویر]
سینکڑوں ملین لوگ صاف پانی، بدروئیں کے نظام، یا اپنے گھروں میں بجلی کے بغیر ہی رہ رہے ہیں اگر ان کا کوئی گھر ہو