عورتیں کیا آجکل ان کا احترام کیا جاتا ہے؟
یہ سوال اٹھنا ہی کیوں چاہیے؟ بعض متعصب مرد شاید کہیں۔ لیکن جب ہم پوری تاریخ کے دوران، اور آج کل پوری دنیا کے اندر عورتوں کیساتھ برتاؤ کا جائزہ لیتے ہیں تو چند سادہ سے سوالات ہمیں اس کے جواب کا ایک اشارہ دیتے ہیں۔
انسانی تعلقات میں، عموماً کون جابر اور کون جبر کا شکار رہا ہے؟ ازدواجی زندگی میں اولین طور پر کن کو کچلا جاتا رہا ہے؟ مردوں کو یا عورتوں کو؟ زمانۂ امن وجنگ میں کن کی عصمت دری کی جاتی رہی ہے؟ کون زمانۂ طفلی میں جنسی زیادتی کے شکار رہے ہیں؟ لڑکے یا لڑکیاں؟ کن کو انسانساختہ قوانین کے ذریعہ اکثر دوسرے درجہ کا شہری قرار دیا گیا ہے؟ کن کے ووٹ دینے کے حق کو رد کیا گیا ہے؟ کن کے پاس تعلیم حاصل کرنے کا محدود موقع تھا؟ مردوں یا عورتوں کے پاس؟
یہ سوالات آگے سے آگے اٹھائے جا سکتے ہیں، لیکن حقائق خود اپنا ثبوت دیتے ہیں۔ الزبتھ بیوملر اپنی کتاب میے یو بی دی مدر آف آ ہنڈرڈ سنز میں ہندوستان میں اپنے تجربات کی بنا پر یہ تحریر کرتی ہے: ”ایک روایتی، ہندوستانی عورت، جو ہندوستان کی چار سو ملین عورتوں اور بچیوں کے تقریباً ۷۵ فیصد کی نمائندگی کرتی ہے، گاؤں میں رہتی ہے۔ . . . وہ نہ پڑھ سکتی ہے نہ لکھ سکتی ہے اگرچہ وہ ایسا چاہتی ہے، اور اس نے اپنی جائےپیدایش سے تیس کلومیڑ دور سے زیادہ سفر شاذونادر ہی کیا ہوگا۔“ تعلیم میں عدممساوات نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں ایک مسئلہ ہے۔
جاپان میں، متعدد دیگر ممالک کی طرح، ایک عدممساوات ابھی تک موجود ہے۔ دی آساہی ائیربک برائے ۱۹۹۱ کے مطابق ، یونیورسٹی کے چار سالہ کورسوں میں طلبا کی تعداد ۱۴،۶۰۰،۰۰ ہے جبکہ طالبات کی تعداد ۶۰۰،۰۰۰ ہے۔ بلاشبہ، دنیا بھر میں عورتیں تعلیم کے۔ میدان میں اپنے کمتر مواقع کی گواہی دے سکتی ہیں۔ ”تعلیم لڑکوں کیلئے ہے“ انہیں اس رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اپنی حالیہ کتاب بیک لیش دی انڈکلیئرڈ وار اگیسنٹ امریکن ویمن میں، سوزن فالوڈی یونائیٹڈ اسٹیٹس میں عورتوں کی حیثیت کیلئے چند عین مناسب سوالات پوچھتی ہے۔ ”اگر امریکی عورتیں ایسی ہی مساوی حیثیت رکھتی ہیں تو یہ کل مفلس بالغوں کے دوتہائی کی نمائندگی کیوں کرتی ہیں؟ . . . ان کیلئے خستہ مکانیت میں رہنے اور کوئی ہیلتھ انشورنس کے نہ ملنے کے امکانات مردوں کی نسبت کہیں زیادہ کیوں ہیں، اور اس سے بھی دو چند امکانات کوئی پنشن نہ پانے کے؟“
زیادہتر عورتیں ہی ہیں جو انتہا درجہ دکھ اٹھاتی رہی ہیں۔ یہی ہیں جنہوں نے مردوں کے ہاتھوں ذلتوں، حقارتوں، جنسی ایذارسانی، اور احترام کی کمی کے زبردست وار کو برداشت کیا ہے۔ یہ ناروا برتاؤ ہرگز بھی نامنہاد ترقی پزیر ممالک تک ہی محدود نہیں۔ یو۔ایس۔ سینٹ جوڈیشری کمیٹی نے حال ہی میں عورتوں پر تشدد کے خلاف ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ یہ چند صدمہانگیز حقائق کو سامنے لائی۔ ”ہر ۶ منٹ بعد، ایک عورت کی عصمتدری ہوتی ہے، ہر ۱۵ سیکنڈ کے بعد، ایک عورت پٹتی ہے۔ . . . اس ملک میں کوئی بھی عورت پرتشدد جرم سے محفوظ نہیں۔ آجکل جیتی جاگتی امریکی عورتوں میں سے، چار میں سے تین کمازکم کسی ایک پرتشدد جرم کی شکار بنتی ہیں۔“ ایک سال میں، تین سے چار ملین عورتوں کیساتھ ان کے شوہروں نے بدسلوکی کی تھی۔ یہی افسوسناک حالت تھی جس نے ۱۹۹۰ میں عورتوں پر تشدد کے خلاف ایکٹ کا اجراء کروایا تھا۔ سینٹ رپورٹ، دی وائلنس اگیسنٹ ویمن ایکٹ آف ۱۹۹۰۔
آئیے اب دنیا بھر میں ان حالتوں میں سے چند ایک کا جائزہ لیں جن میں عورتوں نے مردوں کے ہاتھوں احترام کی کمی برداشت کی ہے۔ پھر، اس سلسلہ کے اختتامی دو مضامین میں، ہم یہ زیرغور لائیں گے کہ کیسے مرد اور عورتیں زندگی کے ہر شعبہ میں باہمی احترام ظاہر کر سکتے ہیں۔ (۳ ۷/۸ g۹۲)