روزمرہ زندگی میں عورتوں کا احترام کرنا
اگر عورتوں کو موجودہ احترام سے زیادہ دیا جانا ہے، تو تبدیلی کا آغاز کب اور کہاں سے ہونا چاہئے؟ تعصبات اور طرفداریاں عموماً کب اور کہاں سے شروع ہوتی ہیں؟ گھر سے اور سکول سے، تعمیری سالوں کے دوران۔ ہم اپنے رویوں کی تشکیل بڑی حد تک والدین کے زیراثر کرتے ہیں۔ چنانچہ، کون منطقی طور پر، مستقبل میں عورتوں کے ساتھ نوجوانوں کے رویہ پر قوی اثر ڈال سکتا ہے؟ ظاہر ہے، باپ اور ماں۔ لہذا مسئلہ کا ایک حل ایسی معقول تعلیم ہے جو گھروں سے داخل ہو کر والدین پر اثر ڈال سکتی ہو۔
عورتوں کو جس نظر سے دیکھا جاتا ہے
یہ کہ تعصب گھر سے ہی تشکیل پاتا ہے جینی اس کی مثال ہے، جو ایک شادیشدہ سیکرٹری اور چار بیٹیوں میں سے سب سے بڑی ہے، اس نے کہا: ”بحیثیت نوجوان لڑکیوں کے، ہم ہمیشہ اس حقیقت سے باخبر تھیں کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس میں آدمیوں سے زیادہ عورتیں ہیں۔ چنانچہ اگر آپ شادی کرنا چاہتی ہیں، تو آپکو اپنی ذات قابلرسائی بنانی ہوگی۔“
”اس کے علاوہ، عورتوں کو ڈھالا ہی اس طرح جاتا ہے کہ وہ خود کو کمتر مخلوق خیال کریں۔ بعضاوقات آپ کے والدین بھی آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آپ کی حیثیت لڑکوں سے کم ہے۔ جب کوئی آدمی آپ کی زندگی میں آتا ہے تو اس کے رویہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ آدمیوں سے کمتر ہیں۔“
”اور کیوں ہماری عزتنفس زیادہتر جسمانی تناسبات اور خداداد صلاحیتوں یا ان کی کمی کی بنیاد پر ہی ہونی چاہئے؟ کیا آدمیوں کو اسی طرح پرکھا جاتا ہے؟“
بیٹی، ۳۲ سال سے شادیشدہ، سابقہ سٹور مینجر، نے ایک اور نکتہ بتایا: ”عورتوں کو ان کے تجربہ، قابلیت اور ذہانت کے بجائے ان کی صنف سے کیوں پرکھا جاتا ہے؟ میں آدمیوں سے صرف اتنا چاہتی ہوں کہ وہ میری رائے سنیں۔ میری صنف کی بنا پر مجھے رد نہ کریں!
”اکثر آدمی عورتوں کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے ہم کوئی بیوقوف یا احمق ہوں اتنی بیوقوف کہ ایک صحیح فیصلہ بھی نہ کر سکیں۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ میں کیا کہتی ہوں؟ جیسا برتاؤ وہ اپنے لئے چاہیں گے ویسا ہی برتاؤ ہمارے ساتھ رکھیں۔ یہ جلد ہی ان کی سوچ کو بدل دے گا!“ وہ صرف اتنا ہی چاہتی ہے کہ آدمی اس سنہری اصول کو استعمال میں لائیں، ”جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی ان کے ساتھ کرو“ متی ۷:۱۲۔
یہ عورتیں چند واجب نکات اٹھاتی ہیں۔ ایک عورت کی حقیقی قابلیت کی بنیاد اس کی سطحی جسمانی وضع اور دلکشی یا تہذیبی تعصبات پر نہیں رکھنی چاہئے۔ ایک ہسپانوی مثل اسے یوں بیان کرتی ہے: ”ایک حسین عورت آنکھوں کو خوش کرتی ہے، ایک اچھی عورت دل کو خوش کرتی ہے۔ اگر پہلی ایک نگینہ ہے، تو دوسری ایک خزینہ ہے۔“
بائبل اسی سے مشابہہ ایک نکتہ مختلف انداز میں بیان کرتی ہے: ”آپ کی خوبصورتی کا انحصار زلفآرائی پر یا زیورات یا نفیس کپڑوں پر نہ ہو بلکہ باطنی انسانیت حلم اور نرممزاجی پر ہو جو خدا کی نظروں میں بیشقیمت ہے۔“ اور بالکل جیسے ایک کتاب کو اس کی جلد سے پرکھنا نہیں چاہئے، ویسے ہی ہمیں لوگوں کو ان کی صنف سے نہیں پرکھنا چاہئے۔ ۱-پطرس ۳:۳، ۴، فلپس۔
گھر میں احترام دکھانا
متعدد عورتوں خصوصاً ملازمت پیشہ بیویوں اور ماؤں کی جائز شکایت یہ ہے کہ شوہر گھر کے کام کاج کو عورت کے لئے اضافی کام نہیں سمجھتے، اور وہ عموماً اپنے حصے کا کام نہیں کرتے۔ سابقہ حوالہشدہ سوزن فالوڈی کہتی ہے: ”نہ ہی خود اپنے گھروں میں عورتوں کو مساوات حاصل ہیں، جہاں پر عورتیں ۷۵ فیصد گھریلو فرائض کی ذمہداری اٹھاتی ہیں۔“ اس ناانصافی کا حل کیا ہے؟
اگرچہ شاید بعض معاشروں میں متعدد شوہروں کو یہ ناخوشگوار لگے، لیکن ایک منصفانہ گھریلو بندوبست تیار کرنا چاہئے، خصوصاً اگر بیوی کو بھی باہر ملازمت کے لئے جانا ہے۔ یقیناً فرائض کو بانٹنے میں شاید کارگزاری کے ایسے میدان بھی مراد ہوں جو کہ عموماً مردوں کی ذمہداری ہوتے ہیں کار کے کاموں کی نگہداشت کرنا، صحن اور باغیچہ کی دیکھ بھال کرنا، نلوں کی مرمت، بجلی کے کام، وغیرہ جوکہ بہرحال، شاذونادر ہی اس سارے وقت کے برابر ہو جو ایک بیوی گھریلو کاموں میں صرف کرتی ہے۔ بعض ممالک میں شوہر بیویوں سے کار کو دھو کر صاف رکھنے کی توقع تک کرتے ہیں، جیسے کہ وہ “گھر ہی کا اضافی حصہ ہو!
ایک لحاظ سے، گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹانے کا یہ مشورہ شوہروں کیلئے پطرس رسول کی نصیحت کی مطابقت میں ہے کہ اپنی بیویوں کیساتھ ”عقلمندی“ سے بسر کریں۔ (۱-پطرس ۳:۷) دیگر باتوں کے ہمراہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کو محض ایک بےتعلق، کمرے میں رہنے والا ایک بےحس ساتھی یا گھر کا حصہدار نہیں ہونا چاہئے۔ اسے اپنی بیوی کی ذہانت اور تجربے کا احترام کرنا چاہئے۔ بحیثیت ایک عورت، بیوی اور ماں کے اس کی ضرورتوں کو بھی اسے سمجھنا چاہئے۔ اس میں روزی کمانے اور تنخواہ گھر میں لانے والے کی ضرورت سے زیادہ کچھ شامل ہوتا ہے، متعدد ملازمت پیشہ بیویاں بھی یہ کرتی ہیں۔ شوہر کو بیوی کی جسمانی، جذباتی، نفسیانی، جنسی اور سب سے بڑھ کر روحانی ضرورتوں کو سمجھنا چاہئے۔
ان شوہروں کے لئے جو مسیحی اصولوں پر چلنے کا دعوی کرتے ہیں، ان کے لئے ایک بھاری ذمہداری اس میں شامل ہے مسیح کے نمونہ کی نقل کرنے کی۔ اس نے ان سب کو جو ”محنت اٹھانے والے اور بوجھ سے دبے ہوئے“ ہیں، یہ کہتے ہوئے ایک دلکش دعوت دی: ”میں تم کو آرام دوں گا ... میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن، اور تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔“ (متی ۱۱:۲۸، ۲۹) مسیحی شوہروں اور والدوں کے لئے کیسا چیلنج! ہر ایک کو خود سے پوچھنا چاہئے: ”کیا میں اپنی بیوی کو آرام سے رکھتا ہوں یا زیردباؤ رکھتا ہوں؟ کیا میں نرممزاج اور قابلرسائی ہوں یا ایک جابر، خودسر، یا آمر بننا چاہتا ہوں کیا میں مسیحی اجلاسوں پر تو ”بردارنہ الفت“ کا اظہار کرتا ہوں اور گھر میں ناقابلبرداشت بن جاتا ہوں؟“ مسیحی کلیسیا میں کسی بھی شوہر کو دوہری شخصیت والا نہیں ہونا چاہئے۔ ۱-پطرس ۳:۹،۸۔
چنانچہ، ایک شوہر کی جو وضاحت، بدسلوکی کی شکار ایک مسیحی عورت نے کی، اس کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا: ”نمائش کا شوقین گھر کا مسیحی سردار جو کنگڈم ہال میں تو اس قدر اچھا ہوتا ہے اور دوسروں کیلئے تحفے تک لاتا ہے مگر اپنی بیوی کیساتھ تحقیرآمیز برتاؤ کرتا ہے۔“ ایک بیوی کیلئے واجب احترام، دباؤ اور بےعزتی کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتا۔ یقیناً، یہ دو رخی سکہ ہے، بیوی کو بھی اپنے شوہر کیلئے واجب احترام دکھانا چاہئے۔ افسیوں ۵:۳۳، ۱-پطرس ۳:۱، ۲۔
نتیجتاً مندرجہبالا کی تصدیق کرتے ہوئے، ڈاکٹر سوزن فارورڈ تحریر کرتی ہے: ”ایک اچھے رشتہ کی بنیاد باہمی احترام پر رکھی جاتی ہے۔“ یہ دونوں ساتھیوں کو کامیابی کا ذمہدار بناتا ہے۔ وہ بیان جاری رکھتی ہے: ”اس میں ایک دوسرے کی ضروریات اور جذبات کے لئے فکر اور احساس رکھنا شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان باتوں کی قدردانی بھی جو ہر ساتھی کو اتنا خاص بنا دیتی ہیں۔ ... پرمحبت ساتھی اپنے اختلافات سے نمٹنے کے لئے مؤثر طریقے تلاش کر لیتے ہیں، وہ ہر جھڑپ کو ایک جنگ کا جیتنا یا ہارنا نہیں سمجھتے۔“ مین ہو ہیٹ ویمن اینڈ دی ویمن ہو لو دیم۔
بائبل بھی شوہروں کو افسیوں ۵:۲۸ میں بہترین مشورت دیتی ہے: ”شوہروں کو لازم ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں۔ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے محبت رکھتا ہے۔“ یہ بیان کیوں سچ ہے؟ اسلئے کہ شادی ایک مشترکہ بینک اکاؤنٹ کی طرح ہے جس میں دونوں نے ۵۰ فیصد سرمایہ جمع کیا ہے۔ اگر شوہر اس رقم میں سے کچھ بھی بےجا استعمال کرتا ہے تو وہ دونوں کی مالی حیثیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسی طرح، اگر ایک شوہر کسی بھی طرح سے اپنی بیوی کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ جلد یا بدیر، اپنے آپکو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ اسکی شادی ایک مشترکہ سرمایہ کاری ہے، اگر آپ اس سرمایہ کو نقصان پہنچاتے ہیں تو نقصان دونوں فریقین کو پہنچتا ہے۔
احترام کے بارے میں یاد رکھنے کیلئے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کا تقاضہ نہیں کیا جانا چاہئے، جبکہ ہر ساتھی پر دوسرے کا احترام لازم لازم ہے، تو بھی اسکے لائق بننا ضروری ہے۔ مسیح نے کبھی اپنی برتر طاقت یا رتبہ کا اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے احترام حاصل نہیں کیا تھا۔ a اسی طرح، شادی میں شوہر اور بیوی اپنے باہمی بامروت طریقہءکار کے ذریعہ احترام کے لائق بنتے ہیں، نہکہ اسکا تقاضا کرنے کیلئے بائبل کے صحیفوں کو ہتھوڑے کے طور پر استعمال میں لانے سے۔
جائےملازمت پر احترام دکھانا
کیا آدمیوں کو اپنی مردانہ انا کیلئے عورتوں کو ایک خطرہ سمجھنے کی ضرورت ہے؟ الزبتھ فوکس۔ جینوویز نے، اپنی کتاب فیمینزم ودآؤٹ الیوژنز میں تحریر کیا: ”حقیقت میں، آجکل متعدد عورتیں وہی چاہتی ہیں جو متعدد آدمی چاہتے ہیں: ایک عورت روزی کمانا، ایک بااجر ذاتی زندگی گزارنا، اور کسی کیلئے زحمت بنے بغیر دنیا میں گزر بسر کرنا۔“ کیا اسکا یہ مطلب نکالنا چاہئے کہ یہ خواہش یا آرزو مرد کیلئے بطور ایک خطرے کے ہے۔ اس نے یہ بھی بیان کیا: ”ہم یہ تسلیم کیوں نہ کریں کہ باوجود ان تمام تبدیلیوں کے جن سے ہماری دنیا گزری ہے یا گزر سکتی ہے، اختلافات برقرار ہیں اور ان سے محظوظ ہوا جا سکتا ہے؟“
مسیحی آدمی جو فورمین یا اوورسئیر کے طور پر کام کرتے ہیں انہیں خصوصاً اپنے زنانہ ساتھی کارکنوں کی عزت کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ یاد رکھیں کہ بائبلی مفہوم میں صرف ایک ہی آدمی شادیشدہ عورت کا ”سردار“ ہوتا ہے، یعنی اس کا شوہر۔ دیگر شخص ہو سکتا ہے کہ نگرانکار کی حیثیت رکھتے ہوں اور اس کیلئے انہیں احترام بھی دیا جاتا ہو، لیکن پھر صحیح بائبلی مفہوم میں، اس عورت کا اسکے شوہر کے سوا کوئی اور آدمی ”سردار“ نہیں ہوتا۔“ افسیوں ۵:۲۲-۲۴۔
جائےملازمت پر گفتگو ہمیشہ اخلاقیواصلاحی ہونی چاہئے۔ جب آدمی ایسی گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں دوہرے مطلب یا جنسی اشارے شامل ہیں تو وہ عورتوں کے لئے احترام نہیں دکھاتے، اور نہ ہی وہ اپنی نیکنامی کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ پولس نے مسیحیوں کو تحریر کیا: ”جیساکہ مقدسوں کو مناسب ہے تم میں حرامکاری اور کسی طرح کی ناپاکی یا لالچ کا ذکر تک نہ ہو۔ اور نہ ہی بےشرمی اور بیہودہگوئی اور ٹھٹھابازی کا کیونکہ یہ لائق نہیں بلکہ برعکس اس کے شکرگزاری ہو۔“ افسیوں ۵:۳، ۴۔
ایک عورت کے احساسات کا لحاظ کئے بغیر اس کی ملازمت کی تفویض کو تبدیل کر دینا بھی احترام ظاہر نہ کرنے کا ایک اور طریقہ ہے۔ جین، ایک نرس نے کہا: ”یہ بہت اچھا ہو اگر ہمارے کام کی تفویضات میں تبدیلیاں لانے سے پہلے ہم سے مشورہ کیا جا سکے۔ یقیناً یہ اچھی نفسیات ہوگی۔ عورتوں کو ہمدردی کی اور یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کی وقعت ہے اور ان کی عزت کی جاتی ہے۔“
جائےملازمت پر احترام کا ایک پہلو وہ رکاوٹ ہے جسے بعض عورتیں ”بلوری چھت“ کہتی ہیں، اس کا مطلب ”ادارے کے تعصبات سے ہے جو عورتوں کو پرائیوٹ انڈسٹری میں اعلے مینیجر کی پوزیشن حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔“ (دی نیویارک ٹائمز، ۳ جنوری ۱۹۹۲) اس کے نتیجہ میں، یونائیٹڈ اسٹیٹس میں ایک حالیہ تحقیق نے ظاہر کیا کہ اونچی ملازمتوں کا قلیل فیصد عورتوں کے پاس ہے، یعنی ہوائی میں ۱۴ فیصد، اٹاوہ میں ۱۸ فیصد، اور لوسیآنا میں ۳۹ فیصد تک ۔ اگر احترام ظاہر کیا جائے، تو دنیاوی جائےملازمت پر ترقی کی بنیاد صنف پر نہیں رکھی جائے گی بلکہ قابلیت اور تجربہ پر۔ تحقیق کی ڈائریکٹر شیرن ہارلین نے کہا: ”یہ بہتر ہو رہا ہے، لیکن ... ابھی تک عورتوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ کی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔“ (۱۲ ۷/۸ g۹۲)
[فٹنوٹ]
a دیکھیں دی واچٹاور برائے مئی ۱۵، ۱۹۸۹، صفحات ۱۰-۲۰، ”بطور ایک شوہر کے“ اور ”... بطور ایک بیوی کے محبت اور احترام ظاہر کرنا۔“
[بکس]
احترام عورتیں کیا کر سکتی ہیں؟
خودداری پیدا کریں اور اسے برقرار رکھیں
بالکل واضح کر دیں کہ آپ اپنی موجودگی میں کیا کہنے اور کرنے کی اجازت دیتی ہیں
قابلقبول چالچلن اور گفتگو کی مناسب حدود قائم کریں
ناشائستہ اور مشتبہ مذاق کے سلسلے میں آدمیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کریں، یہ آپکو معزز عورت اور انہیں مزز مرد ظاہر نہیں کرتا
اس سے قطع نظر کہ جدید فیشن کیا ہے، دوسروں کو راغب کرنے والا لباس نہ پہنیں، جس طرح کا لباس آپ پہنتی ہیں اس سے آپکے اپنے قابلاحترام ہونے کی حد کا اظہار ہوتا ہے
اپنے باوقار طرزعمل سے احترام حاصل کریں، آدمیوں کو ویسا ہی احترام دیں جسکی آپ اپنے لئے ان سے توقع کرتی ہیں
نازنخرے والی نہ بنیں
احترام آدمی کیا کر سکتے ہیں؟
تمام عورتوں کیساتھ احترام اور عزت سے پیش آئیں، ایک برخود غلط عورت سے اپنے مرتبے کیلئے خطرہ محسوس نہ کریں
اپنی بیوی کے علاوہ کسی بھی دوسری عورت کیساتھ ، محبت کے ناموزوں الفاظ کا استمال کرتے ہوئے حد سے زیادہ شناسائی پیدا نہ کریں
غیرمیاری مذاق اور منیخیز نظروں سے دیکھنے سے گریز کریں
حد سے زیادہ تعریف نہ کریں اور نامناسب طور پر ہاتھ لگانے سے بھی گریز کریں
اس کے کام یا اسکی شخصیت کو کمتر یا گھٹا کر بیان نہ کریں
مشورہ کرنے، بات سننے اور گفتگو کرنے کے لئے غیرجانبدار طریقہ اپنائیں۔
عورت کے کام کیلئے قدردانی کا اظہار کریں
گھریلو کامکاج میں مدد دیں۔ اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ آپ کی شایانشان نہیں تو اسکی شان کی بابت کیا ہے؟
اگر آپ اپنے والدین کیساتھ رہ رہے ہیں تو اس دباؤ کا بھی لحاظ رکھیں جسے آپکی بیوی برداشت کئے ہوئے ہے۔ اب وہ آپکی اولین ذمہداری ہے اور اسے آپکی حمایت کی ضرورت ہے (متی ۱۹:۵)