طلاق کا پھندا
اینڈریو اور این ایک بہترین جوڑا تھا۔ این ان دونوں میں سے خاموش طبع اور زیادہ بامروت تھی، لیکن اس کی خوشگوار خاموشی اینڈریو کی زیادہ دوستطبع شخصیت، قابو سے باہر اسکی قوت اور حسمزاح کے لئے ایک شاندار امدادی سر دکھائی دیتی تھی۔ اپنے شوہر کی موجودگی میں اسکی آنکھیں چمک اٹھتی تھیں۔ اور ہر کوئی یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ اس کا شیدائی ہے۔
تاہم، سات سالوں کے بعد، ان کی شادی ٹوٹنے لگی۔ اینڈریو کو ایک نئی ملازمت مل گئی جو کہ اس کا زیادہ وقت لے جاتی تھی۔ این اس ملازمت میں اس کی اس نئی مصروفیت اور اکثر رات گئے دیر سے گھر آنے کی پر ناراض ہونے لگی۔ جیسا کہ وہ خود بیان کرتی ہے، اپنے آپ کو اپنے کیریئر میں مصروف کرنے سے اس نے ”اس پورے خلا کو پر کرنے کی“ پوری کوشش کی۔ لیکن زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ اینڈریو الکحل کے نشے میں دھت گھر آنے لگا، اور صفائی یہ پیش کرتا کہ وہ اپنے کاروباری ساتھیوں کیساتھ باہر تھا۔ اس کا پینے کا مسئلہ اور خراب ہو گیا، اور بالآحر این کو اپنے اپارٹمنٹ سے نکل جانا پڑا۔ اینڈریو ڈیپریشن کا شکار ہو گیا۔ چند مہینوں کے اندر اندر، انکی طلاق ہو گئی۔
بہتیروں کو شاید یہ کہانی سنی سنائی لگے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، پوری دنیا میں طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ بعض طلاقیں یقینی ہوتی ہیں، بعض طلاقیں ناگزیر یا ضروری ہوتی ہیں۔ جیسا کہ بہتیرے خیال کرتے ہیں، بائبل قطعی طور پر طلاق کو ممنوع قرار نہیں دیتی۔ اس کے معیار معقول اور منصفانہ ہیں، اور حرامکاری کی بنیاد پر طلاق کی اجازت دیتے ہیں (متی ۱۹:۹)، اس کے اصول بعض انتہائی حالات کے تحت، جیسے کہ جسمانی مارپیٹ، کی حالت میں شادی کے رشتے میں علیحدگی کی بھی اجازت دیتے ہیں۔a (دیکھیں متی ۵:۳۲، ۱-کرنتھیوں ۷:۱۰، ۱۱۔) لیکن یہ اصول اینڈریو اور این کی طلاق کے پیچھے کارفرما نہ تھے۔
اینڈریو اور این مسیحی تھے اور ایک وقت تھا جب وہ شادی کا احترام کرتے تھے۔ لیکن ہم سب کی طرح، وہ بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں جو کہ بہت ہی فرق اخلاقیات کا پرچار کرتی ہے کہ شادی ختم ہونے والی چیز ہے اور یہ کہ طلاق اسے ختم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ہر سال اسی طرح کی سوچ ہزاروں جوڑوں کو متاثر کرتی ہے کہ وہ ناپختہ، غیرصحیفائی، وجوہات کی بنا پر طلاق حاصل کریں۔ اور بہتیروں کو بڑی دیر میں اس کا احساس ہوتا ہے کہ طلاق کی بابت انکے ”جدید“ ”روشن خیال“ رجحان نے انہیں ایک پھندے میں پھنسا دیا ہے۔
پھندا؟ بعض شاید کہیں کہ یہ تو ”ایک خوفناک لفظ“ ہے۔ شاید آپ بھی اسی طرح محسوس کریں جیسے کہ آجکل دوسرے کرتے ہیں کہ طلاق تو صرف تکلیفدہ شادی سے نجات پانے کا ایک مہذب طریقہ ہے۔ لیکن کیا آپ طلاق کے تاریک رخ سے بھی واقف ہیں؟ اور کیا آپ نے یہ بھی بھانپ لیا ہے کہ آج کی دنیا کیسے ناقابلبیان طریقے سے طلاق کی بابت ہمارے نظریات کو ہمیں احساس دلائے بغیر تبدیل کر سکتی ہے؟
تکمیلنفس کی کشش
اینڈریو اور این کے معاملے میں، وہ لالچ جس نے انہیں طلاق کے پھندے میں پھنسا دیا وہ ایک کامیاب کیریئر کے ذریعے تکمیلنفس کا نہایت دل فریب وعدہ تھا۔ ان کی شادی ”کیرئیر پہلے“ کی سوچ کا شکار ہو گئی۔ یہ بمشکل ہی اپنی نوعیت کا پہلا واقع تھا۔ فیملی ریلیشنز جرنل نے ۱۹۸۳ میں یہ نتیجہ اخذ کیا: ”انفرادی تکمیلنفس ایک نعرہ بن گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں، خاندانی افراد کے مابین گہرے رشتے جلد ٹوٹ رہے ہیں اور یہاں تک کہ شادی کا بندھن بھی بڑھتے ہوئے دباؤ تلے ہے۔“ اینڈریو اپنی نئی ملازمت سے اور اس کے ترقی کے وعدے سے بہت متاثر تھا۔ اس نے اضافی پراجیکٹس پر کام کرنا شروع کر دیا اور زیادہ عزت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئے کام کے بعد کا وقت اپنے ساتھی کارکنوں کے ساتھ گزارنا شروع کر دیا۔ اسی اثنا میں، این کے کیرئیر نے اسے مزید تعلیم کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے خوابوں سے اس کی نظروں کو خیرہ کر دیا۔
کامیابی کے پھندے کے پیچھے بھاگنے کا دوہرا اثر ہوا۔ سب سے پہلے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اینڈریو اور این کے پاس ایک دوسرے کیلئے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ جیسا کہ این بیان کرتی ہے: ”ہم مختلف سمتوں میں کھنچے چلے جا رہے تھے۔ اس لئے ہم معمول کے مطابق اپنی رات کو دس بجے والی محفلیں بھی نہیں جما سکتے تھے، جبکہ ہم بیٹھ کر مختلف معاملات پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ وہ بھی اپنے اگلے دن کے کام کیلئے تیاری کر رہا ہوتا تھا، اور اسی طرح میں بھی۔ گفتگو کا سلسلہ بند ہو گیا۔“
دوسرا اثر روحانی تھا۔ اپنے کیرئیرز کو اولیت دینے سے، وہ خدا کے ساتھ اپنے رشتے کو پس پشت ڈال رہے تھے بالکل اس وقت جبکہ انہیں اس کی اشد ضرورت تھی۔ باہم ملکر بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے کے ایک پروگرام نے اینڈریو کو مےنوشی کے مسئلے سے نپٹنے میں مدد دی ہوتی اور این کو بھی اس کڑی آزمائش کے وقت میں اپنے شوہر کے ساتھ ملے رہنے کی قوت بخشی ہوتی۔
لہذا اپنی شادی کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے، انہوں نے زندہ رہنے کے ایک سہارے کے طور پر طلاق کا انتخاب کرنا شروع کر دیا، شاید تمام طرح کے دباؤ سے چھٹکارا پانے کیلئے بھی۔ طلاق کے بعد، انکی خطا اور شرمندگی نے انہیں اپنی روحانی زندگی کو بالکل ہی ختم کر دینے پر مجبور کر دیا۔ اب سے لیکر انہوں نے خود کو مسیحی کہنا بھی چھوڑ دیا۔
”ماہرین“ پھندے میں پھنسنے میں مدد دیتے ہیں
بہتیرے جوڑے، جب انہیں شادی سے متعلق مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو، وہ میرج کونسلروں اور معالجوں یا اس طرح کے ماہروں کی لکھی ہوئی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ شادی کے بعض جدید ”ماہرین“ شادی کو بچانے کی بجائے طلاق کی تائید کرنے کے زیادہ ماہر ثابت ہوئے ہیں۔ حالیہ دہوں میں شادی کے خلاف ”ماہرین“ کی رائے بھوکی ٹڈیوں کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔
مثال کے طور پر، سائیکوتھراپسٹ سوزن جنٹلمین اور جینٹ مارکووٹز دی کریج ٹو ڈائورس میں یوں افسوس کا اظہار کرتی ہیں: ”یہ غیرمنطقی اعتقاد ابھی تک قائم ہے کہ طلاق شدہ لوگ ایک ایسے شفیق وجود سے تجاوز کر گئے ہیں جسے ”نارمل خاندانی زندگی“ کہا جاتا ہے۔““ وہ طلاق کے خلاف ان ”قانونی رکاوٹوں اور اخلاقی قدروں“ کو کوستے ہیں جو کہ ”صدیوں سے چلے آنے والے مذہبی اصولوں پر مبنی ہیں۔“ طلاق، وہ دلیل دیتے ہیں، اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک ”شادی کی بالآخر پختگی“ طلاق کو ”غیرضروری“ نہیں بنا دیتی۔ وہ اپنی اس کتاب کو وکیلوں، ججوں اور منسٹروں کو پیش کرتی ہیں!
”طلاق خراب نہیں ہے۔ طلاق آزادی دیتی ہے۔ طلاق کا ہر جگہ پھیل جانا اس بات کی علامت نہیں کہ معاشرے میں کوئی خرابی ہے، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ شادی کے نظام میں کوئی خرابی ہے۔“ کئی ”ماہرین“ نے اس نظریے کی تعلیم دی ہے، بالخصوص ۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کے دہوں کے جنسی انقلاب کے عروج کے دوران۔ حال ہی میں، بعض مشہور ماہرنفسیات اور ماہرانسانیات نے تو یہ قیاسآرائی بھی کی ہے کہ تمام چیزوں کی ارتقاء کی بدولت، انسان کے اندر یہ پروگرام ہے کہ ہر چند سالوں کے بعد ساتھی بدلے۔ دوسرے لفظوں میں، شادی سے باہر تعلقات اور طلاق ایک فطری عمل ہیں۔
اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس طرح کے نظریات نے کتنی شادیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن کئی دوسرے ماہرین اور زیادہ پیچیدہ طریقوں سے طلاق کی حوصلہافزائی کرتے ہیں۔ جب کہ ڈائین میڈوڈ اپنی کتاب دی کیس اگینسٹ ڈائورس، پر تحقیق کر رہی تھی تو اسے اپنی مقامی لائبریری میں پچاس ایسی کتابیں ملیں جو کہ اگر بالواسطہ طلاق کی ترغیب نہیں دیتی تھیں تو کمازکم ”طلاق کی بابت پڑھنے والے قاریوں کو خوش کر نے“ کا باعث بنتی تھیں۔ وہ آگاہ کرتی ہے: ”یہ کتب بڑی آسانی سے آپ کو تنہائی کے کھیل کے جال میں الجھا دیں گی اور آپکی ”نئی آزادی“، جیسا کہ اسے کہا جاتا ہے، کے پیچھے پڑ جائیں گی، گویا کہ یہی . . . تکمیل کا آخری ذریعہ ہے۔“
دیگرعوامل
بلاشبہ، غلط راہ پر ڈالنے والے ”ماہرین“ کے علاوہ بھی طلاق کی ترغیب دینے والے بہتیرے دیگر عوامل ہیں۔ ٹی وی، موویز، میگزین، رومانی ناول کی نشریات اکثر شادی کے خلاف جاری پروپیگنڈے کے طوفان کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ اکثر نشریات یہ پیغام دیتی ہیں کہ غیرمختتم خوشی، مسرورکن تصور، اور احساس تکمیل اکتا دینے والی بےکیف شادیشدہ زندگی سے باہر ہی حاصل ہو سکتا ہے اور یہ کہ تنہائی کی اس رنگین دھ نک کے اختتام پر اور اس آزادی کے بعد ایک اور نیا ساتھی آپکا منتظر ہے، جو کہ گھر میں موجود پہلے ساتھی سے بہت زیادہ عظیمتر ہے۔
اسطرح کے تخریبی نظریات پر محض شک کرنا ہی شاید انکے خلاف باعث حفاظت نہ ہو۔ جیسے کہ میڈوڈ اسے پیش کرتی ہے: ”آپ ایک فلم دیکھتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ یہ سب بناوٹی ہے آپ اسکے زیراثر ہوتے ہیں۔ آپ اس سے گریز نہیں کرسکتے کیونکہ کہانی کے خلاصہ اور باہمدگرعمل کو یوں جوڑا گیا ہے کہ وہ خاص کردار (عاشق شوہر؟) کیلئے ہمدردی حاصل کریں اور ویلن (لڑاکا بیوی؟) کیلئے دائمی نفرت۔ . . . جو کچھ آپ دیکھتے ہیں شاید ذاتی طور پر آپ اسے نظرانداز نہ کریں، لیکن یہ علم ہی کہ دوسرے ایسا کرتے ہیں، جسے ہمارے معاشرے میں بیشمار دوسرے ذرائع سے اچھی طرح سے پختہ کر دیا جاتا ہے، آپکے اپنے عزم مصمم اور یقین کو برباد کر دیتا ہے۔“
ہمارے ساتھی انسانوں کا چالچلن بھی ہمیں متاثر کرتا ہے۔ اگر یہ بات اس پیغام کی بابت بھی سچ ہے جو نشریات فراہم کرتی ہیں تو پھر ان دوستوں کی کیا بات ہے جنہیں ہم منتخب کرتے ہیں! دانشمندی سے بائبل آگاہ کرتی ہے: ”فریب نہ کھاؤ۔ بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) ایک اچھی شادی تمام اچھی عادات میں سے ایک ہے۔ ہم اسے برباد کر سکتے ہیں اگر ہم ان کو دوست بنا لیتے ہیں جو دستور کی قدر نہیں کرتے۔ بہتیرے جوڑوں نے خود کو طلاق کی راہ پر گامزن پایا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی شادی شدہ زندگی سے متعلق مسائل ایسے ”دوستوں“ کو بتائے ہیں بعض اوقات تو ایسے لوگوں کو جنہوں نے خود حقیقی جواز کے بغیر ہی طلاق کا انتخاب کیا ہے۔
دوسرے ناپختگی کی بدولت اس وقت قانونی مشورت کی طرف رجوع کرتے ہیں جب ان کی شادی تناؤ کا شکار ہوتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بہت سے ممالک میں قانونی نظام ایک ایسا آلہ ہے جو کہ طلاق کو فروغ دینے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ بہرصورت، وکیلوں کو طلاق کے مقدمات لینے سے نفع ہوتا ہے نہ کہ صلح کروانے سے۔
پھر بھی، شاید آپ حیران ہوں کہ ”اگر یہ سب وکلاء، معالج، نشریاتی شخصیات، اور یہاں تک کہ ہمارے دوست بھی طلاق کو فروغ دینے کیلئے ایک بردبار میلان اپنائے ہوئے ہیں تو جو کچھ وہ کہتے ہیں کیا اس کی کوئی اہمیت ہو سکتی ہے؟“ کیا اتنے زیادہ لوگ اتنی اہم چیز کی بابت غلط ہو سکتے ہیں؟ طلاق کے بعد کے بعض نتائج پر غور کرنا ہمیں اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں مدد دیگا۔ (5 2/8 g92)
[فٹنوٹ]
a دیکھیں دی واچٹاور جولائی ۱۵، ۱۹۸۹، صفحات ۸-۹، مئی ۱۵، ۱۹۸۸، صفحات ۴-۷، نومبر ۱، ۱۹۸۸، صفحات ۲۲-۲۳۔
[تصویر]
اس شادی کے بعض ”ماہرین“ شادی کو بچانے کی نسبت طلاق کی ترغیب دینے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں