طلاق کا دھماکہ
”طلاق کی جیولری۔“ یہ غیرمعمولی سرخی حال ہی میں خواتین کے ایک مقبولترین رسالے میں دکھائی دی۔ مضمون نے یہ تاکید کی: ”پس آپ کی شادی بھک سے اڑ گئی اور آپ جلا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ کیوں نہ ان تمام یادوں کو پگھلا دیا جائے جو ابھی تک آپکے جیولریبکس میں بکھری پڑی ہیں۔“ کچھ فیس لیکر ایک مقامی جیولر مطلقہ اشخاص کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اس کی بلوٹارچ کو اپنی منگنی اور شادی کی انگوٹھی پر استعمال کریں۔ اسکے بعد وہ انکے زیورات کو ایسی شکل میں ڈھال دیتا ہے کہ پھر وہ انہیں ان کی ناکام شادی کی یاد نہیں دلاتے۔
آج کے زمانے میں شادی، قلموں، پلیٹوں، ڈائپرز، اور ریزرز کی طرح، زیادہتر ڈسپوزبل شکل میں مقبول عام دکھائی دیتی ہے۔ ”جب آپ اس سے تھک جائیں تو اسے ردی سمجھیں“ یہ ہے آج کا مروجہ رجحان۔
ایک مشہور مصنف، ماہر نفسیات، اور میونخ جرمنی کے ایک معالج لارنز واچنگر نے کہا، ”شادی نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی۔“ مبالغہ آرائی؟ شاید، لیکن یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ کیوں وہ اس طرح سے محسوس کر سکتا ہے۔ اخبار سٹوٹگارٹر زیٹنگ کے مطابق، جرمنی میں ہر سال کوئی ۱۳۰،۰۰۰ شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ لیکن جرمنی میں طلاق کوئی انہونی بات نہیں۔
ایک عالمگیر عجیب واقعہ
اسی طرح کا رجحان پوری دنیا کے ممالک میں ظہورپذیر ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ریاستہائے متحدہ کو طلاق کا عالمی دارالسلطنت کہا جا سکتا ہے۔ طلاق کی سالانہ شرح ۱،۱۶۰،۰۰۰ سے تھوڑی زیادہ ہے، یا یوں کہہ لیں کہ انجام پانے والی شادیوں کی تعداد کی تقریباً نصف ہے۔ جب اس کا حساب لگایا جائے تو ہر دن کے ہر منٹ میں دو سے زائد طلاق ہوتے ہیں!
جب ماضی کی تاریخ کے وسیع پردے پر اسکا تجزیہ کیا جائے تو یہ اعدادوشمار طلاق کے دھماکے کے مترادف ہیں۔ صرف ایک سو سال پہلے ریاستہائے متحدہ میں ہر ۱۸ شادیوں میں سے ایک کا طلاق ہوتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے اچانک اضافے کے سوا، یہ شرح ۱۹۶۰ کے دہے تک آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ پھر، صرف ۲۵ سالوں کے اندر، یہ تین گنا بڑھ گئی!
۱۹۸۰ کے دہے کے وسط میں (سب سے حالیہ برس جن کیلئے قابل بھروسہ اعدادوشمار موجود ہیں)، پوری دنیا کے ممالک کے اندر طلاق کی شرح کچھ اس طرح سے تھی: سوویت یونین، ایک سال میں ۹۴۰،۰۰۰، جاپان، ۱۷۸،۰۰۰، برطانیہ، ۱۵۹،۰۰۰، فرانس، ۱۰۷،۰۰۰، کینیڈا، ۶۱،۰۰۰، آسٹریلیا، ۴۳،۰۰۰۔ یہاں تک کہ ایسے ممالک میں بھی جہاں مذہب اور قانون نے طلاق کی شرح کو کم رکھا ہے، وہاں بھی تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، ہانگ کانگ میں ابھی تک ہر ۱۷ شادیوں میں سے صرف ایک طلاق ہے، لیکن ۱۹۸۱ اور ۱۹۸۷ کے دوران وہاں بھی طلاق کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ انڈیا ٹوڈے میگزین نے یہ رپورٹ دی ہے کہ طلاق سے وابستہ کلنک کا ٹیکہ اب انڈیا کے متوسط طبقہ کے اندر ختم ہو رہا ہے۔ انڈیا کی مختلف ریاستوں کے اندر ایک ہی دہے میں طلاق کے معاملات میں ۱۰۰ فیصد سے لیکر ۳۲۸ فیصد کے اضافے سے نپٹنے کے لئے نئی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔
بلاشبہ، یہ اعدادوشمار اس دکھ درد کو بیان کرنا تو شروع نہیں کر سکتے جو کہ اس بڑی تعداد کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طلاق تقریباً ہم سب کو ہی دکھی کر دیتا ہے محض اس لئے کہ شادی ہمہ گیر ہے۔ غالباً، یا تو ہم خود شادی شدہ ہیں یا ہم شادی شدہ والدین کی اولاد ہیں یا ہم شادی شدہ لوگوں کی قربت میں ہیں۔ اس لئے اگر طلاق نے ابھی تک ہمیں دکھ نہیں دیا، تو بھی اس کا خوف ہمیں دہشتزدہ کر سکتا ہے۔
ان تمام طلاقوں کی پشت پر کیا چیز کارفرما ہے؟ سیاسی تبدیلیاں شاید جواب کا ایک جز ہوں۔ بہتیرے ممالک میں طلاق کے خلاف حکومت کی ممانعت جس کی حمایت کافی عرصہ سے مذہبی گروہ کر رہے ہیں حالیہ برسوں میں کمزور پڑ گئی ہے۔ مثال کے طور پر، ۱۹۸۰ کے دہے میں، ارجنٹینا نے ایک قانون کے غیرآئینی ہونے کا اعلان کیا جس میں کسی بھی طرح کے قانونی طلاق کی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح سے اسپین اور اٹلی نے بھی قانونی طلاق نافذ کیا۔ لیکن قانون میں ایسی تبدیلیاں ہمیشہ طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث ثابت نہیں ہوئیں۔
لہذا، قانونی نظام سے بھی بڑی کوئی چیز طلاق کی اس عالمی وبا کے پیچھے کارفرما ہے۔ مصنف جوزف ایپسٹین نے اس کی بابت بہت کچھ کہا جب اس نے یہ لکھا کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ”جب طلاق پانے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص اس بات کی باضابطہ تصدیق حاصل کرتا تھا کہ گویا اس کا اپنا چال چلن اچھا نہیں تھا۔“ لیکن آجکل، وہ لکھتا ہے، ”بعض حلقوں میں، طلاق نہ لینا اس کے لینے سے زیادہ غیرمعمولی دکھائی دیتا ہے، یہاں ایک ہی شادی کے بندھن میں قید ہو کر زندگی کے دن گزار دینے کو بھی شاید قوت متحیلہ کی کمی ظاہر کرنا خیال کیا جا ئے۔“ ڈائورسڈ ان امریکا۔
باالفاظ دیگر، شادی کی بابت لوگ جو بنیادی رجحانات رکھتے تھے وہ تبدیل ہو گئے ہیں۔ ایک رواج جو کہ بڑے عرصے تک مقدس سمجھا جاتا تھا اب اس کے لئے عزتواحترام ختم ہو رہا ہے۔ لہذا پوری دنیا میں، طلاق زیادہ قابلقبول ہوتا جا رہا ہے۔ کیوں؟ کیا چیز لوگوں کو ایک ایسی چیز کو قبول کرنے پر آمادہ کر رہی ہے جو کہ کبھی ہر جگہ ناپسند کی جاتی تھی؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ طلاق بہرصورت اس قدر خراب چیز نہ ہو؟ (3 2/8 g92)