یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو92ء 8/‏4
  • طلاق کی تلخ فصل کاٹنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • طلاق کی تلخ فصل کاٹنا
  • جاگو!‏—‏1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جذباتی اور اخلاقی نتائج
  • مالی تباہی
  • اپنی شادی کی حفاظت کریں!‏
  • طلاق کا پھندا
    جاگو!‏—‏1992ء
  • طلاق کا دھماکہ
    جاگو!‏—‏1992ء
  • طلاق—‏بچوں پر اِس کے اثرات
    جاگو!‏—‏2010ء
جاگو!‏—‏1992ء
جاگو92ء 8/‏4

طلاق کی تلخ فصل کاٹنا

یہ نہ تو وکیل ہیں نہ ہی دوست ہیں نہ ہی نشریات ہیں اور نہ ہی ”‏ماہرین“‏ ہیں جنہیں طلاق کی قیمت ادا کرنی پڑیگی۔ یہ طلاق‌شدہ جوڑے اور ان کے بچے ہی ہیں جنہیں بالآخر حساب چکانا پڑتا ہے۔‏a آزادی کے محض ایک تجربہ سے کہیں بڑھ‌کر، طلاق کی شاید ایک بوکھلا دینے والی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے۔‏

ڈائین میڈوڈ دی کیس اگینسٹ ڈائورس میں، یہ تسلیم کرتی ہے کہ بنیادی طور پر وہ ایک ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ کئے ہوئے تھی جو کہ طلاق کی بابت ”‏اخلاقی طور پر غیرجانبدار“‏ ہوگی۔ تاہم، وہ اپنا خیال بدلنے پر مجبور ہو گئی۔ کیوں؟ وہ لکھتی ہے:‏ ”‏بہت ہی سادہ سی بات ہے کہ میں نے اپنی تحقیق کے دوران یہ جان لیا کہ طلاق کا عمل اور اس کا انجام جسم، ذہن، اور روح کے لئے اس قدر بری طرح تباہ‌کن ہے کہ بیشمار معاملوں میں، جس ”‏اصلاح“‏ کا باعث یہ ہوئی ہے وہ یقیناً شادی کی ”‏بیماری“‏ سے کہیں خراب ہے۔“‏

این، جس کا ذکر پچھلے مضمون میں کیا گیا، وہ بھی اتفاق کرتی ہے کہ :‏ ”‏میں یہ خیال کرتی تھی کہ طلاق ایک چھٹکارا ہوگی۔ میں یہ سوچتی تھی کہ ایک بار میں اس شادی سے آزاد ہو جاؤں پھر میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔ لیکن طلاق سے پہلے، میرا درد مجھے یہ احساس دیتا تھا کہ میں زندہ ہوں۔ جب میں نے طلاق لے لی تو زندگی کا احساس ہی ختم ہو گیا۔ کچھ اس طرح کا خلا پیدا ہو گیا تھا کہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس ہی نہ رہا۔ یہ سب انتہائی ہولناک تھا۔ میں بیان نہیں کر سکتی کہ میں خود کو کتنا خالی محسوس کرنے لگی۔“‏ طلاق کے بعد، آزادی اور خوشی کے احساسات کے مبہم وعدے روزمرہ کی زندگی اور بقا کے بھیانک حقائق کے ہاتھوں پاش پاش ہو گئے۔‏

تلخ حقیقت یہ ہے کہ چاہے طلاق کے لئے قانونی وجوہات بھی موجود ہوں، پھر بھی اس کے نتائج تکلیف‌دہ اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ پس اگر کوئی ایسے سخت اقدام اٹھانے کی بابت سوچ رہا ہے تو یہ دانشمندی ہوگی کہ وہ۔ پہلے یسوع کی اس مشورت پر دھیان دیتے ہوئے:‏ ”‏لاگت کا حساب لگا لے۔“‏ (‏لوقا ۱۴:‏۲۸‏)‏ بالخصوص، یہ کہ اس کے بعض کونسے نقصانات ہیں، اور یہ کہ طلاق کے بعد کے بعض اثرات کیا ہوں گے؟‏

جذباتی اور اخلاقی نتائج

ایک حالیہ مطالعہ جو کہ جرنل آف میرج انیڈ دی فیملی میں شائع کیا گیا اس نے یہ ظاہر کیا کہ طلاق ناخوشی اور مایوسی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ طلاق‌یافتہ غالباً زیادہ مایوس ہوتے ہیں، اور وہ جنہوں نے ایک سے زیادہ بار طلاق لی ہے وہ غالباً اور زیادہ مایوس ہوتے ہونگے۔ ماہرعمرانیات لینور وٹزمین اپنی کتاب دی ڈائورس ریوولیوشن، میں لکھتی ہے کہ طلاق اور علیحدگی والے لوگوں میں نفسیاتی امراض کی علاج گاہوں میں داخل ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے، ان میں بیماریوں، قبل از وقت موت، اور خودکشی کی‌شرح بھی بہت زیادہ ہے۔‏

کوئی ۲۰۰ لوگوں کے اپنے مطالعہ میں، میڈوڈ نے یہ دیکھا کہ طلاق عورتوں اور آدمیوں کو اوسطاً سات سالوں یا کئی دہوں کے لئے جذباتی طور پر پاگل کر دیتی ہے۔ اس نے یہ بھی جان لیا کہ ایک چیز جسے طلاق متاثر نہیں کرتی وہ، ایسا غیرصحتمندانہ طرز عمل ہے جو کہ بنیادی طور پر اس جوڑے کی طلاق کا باعث ہوا۔ تو پھر، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں، کہ دوسری شادیاں غالباً پہلی کی نسبت کیوں زیادہ جلدی ناکام ہو جاتی ہیں!‏

طرزعمل کو بہتر بنانے کی بجائے، طلاق اکثر اخلاقیات پر شدید منفی اثر ڈالتی ہے۔ محققین نے یہ جان لیا ہے کہ طلاق کے بعد، بہتیرے آدمی اور عورتیں تھوڑے عرصہ کیلئے ایک طرح سے دوبارہ جوان بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی نئی آزادی سے لطف‌اندوز ہونے کیلئے پھر سے نئی رومانی وابستگیاں تلاش کرنے لگتے ہیں تاکہ خمیدہ عزت نفس کو بحال کرسکیں یا پھر تنہائی کو کم کر سکیں۔ لیکن ایسی خود غرض وجوہات کے لئے ملاقاتیں کرنا جنسی بداخلاقی کا باعث ہو سکتا ہے، جو کہ افسوسناک نتائج کی اپنی ایک کہانی لئے ہوئے ہے۔ اور اپنے والدین کو اس طرح کا کام کرتے دیکھنا خاص طور پر بچوں کیلئے تکلیف‌دہ اور نقصاندہ ہو سکتا ہے۔‏

تاہم، اکثراوقات، طلاق‌شدہ جوڑوں نے پہلے ہی دنیا کے اس پروپیگنڈے کی تائید کر دی ہے کہ ان کی اپنی ضروریات اور فکریں پہلا درجہ رکھتی ہیں۔ لہذا، وہ خود کو اس تکلیف کیلئے غیرجذباتی بنا لیتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد کی زندگیوں میں لائیں گے ان کے بچے، ان کے والدین، ان کے دوست۔ بعض تو یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ خدا کو بھی اس وقت دکھ پہنچ سکتا ہے جب ہم اس کے معیاروں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں زبور ۷۸:‏۴۰، ۴۱،‏ ملاکی ۲:‏۱۶۔)‏ طلاق ایک بیحد خودغرضانہ کاروبار بھی ہو سکتا ہے، بالخصوص جب یہ تحویل اور جائداد کی قانونی جنگ میں اخلاقی لحاظ سے گر جاتی ہے۔‏

مالی تباہی

لینور وٹزمین نے مزید یہ نتیجہ اخذ کیا کہ طلاق ریاستہائے متحدہ میں عورتوں کیلئے ایک ”‏مالی تباہی“‏ بھی ہے۔ خوراک ، مکان، اور حرارت جیسی ضروریات کیلئے ان کے اخراجات کو یہ اوسطاً آدھا کر دیتی ہے۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ طلاق کے بعد ان کا معیار زندگی بھی، خوفناک حد تک ۷۳ فیصد گر گیا۔‏

اس نے یہ دیکھنے کی توقع کی تھی کہ طلاق کے جدید، ”‏روشن خیال“‏ قوانین عورتوں کیلئے ایک تحفظ کا کام دیں گے۔ لیکن اس کی بجائے، اس نے یہ دیکھا کہ عورتوں نے طلاق کے بعد قطعاً مایوسی اور محرومی کے احساس کی رپورٹ دی۔ انہوں نے اچانک ویلفیئر پروگراموں، کھانے کے ٹکٹ، جائے‌پناہ، اور خوراک کیلئے امدادی اداروں کی طرف رجوع کرنے کی بابت بتایا۔ پوری ۷۰ فیصد عورتیں جن کو اس نے انٹرویو کیا انہوں نے یہ بتایا کہ وہ ہر وقت گذربسر کیلئے پریشان رہتی ہیں۔ بعض نے تو خوف اور پریشانی محسوس کرتے ہوئے، خود کو اپنے بچوں کیساتھ قید کر لیا، یہاں تک ان کے پاس اپنے لئے کوئی وقت نہیں تھا۔‏

ایک جوان آدمی جسے ہم ٹام کا نام دیں گے، اس کے والدین میں اس وقت طلاق ہوئی جب وہ آٹھ برس کا تھا، وہ یاد کرتا ہے:‏ ”‏ابو کے چلے جانے بعد، اگرچہ ہمارے پاس کھانے کو تو ہر وقت کچھ تھا، لیکن جلد ہی، سوڈے کی ایک بوتل ہی ایک پرتکلف چیز تھی۔ ہمارے پاس نئے کپڑے خریدنے کی گنجائش نہیں تھی۔ ماں کو خود ہی ہماری قمیضیں سلائی کرنی پڑتی تھیں۔ جب میں اس وقت کی ہم سب کی بچپن کی تصاویر کو دیکھتا ہوں تو یہ بیمار دکھائی دینے والے لوگوں کی ایک افسردہ تصویر ہے۔“‏

چونکہ اکثر بچوں کو عورتوں کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے اور بہتیرے باپ عدالت کی طرف سے مقرر کردہ بچوں کا خرچ جو کہ اکثر بہت ہی معمولی سا ہوتا ہے دینے میں ناکام رہ جاتے ہیں تو اس طرح طلاق عموماً آدمیوں کی نسبت عورتوں کو زیادہ مفلس بنا دیتی ہے۔ تاہم، طلاق شاید آدمیوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ کتاب ڈائورسڈ فادرز میں یہ لکھا ہے کہ صرف قانونی اخراجات ہی ایک شخص کی کل سالانہ آمدنی کا نصف کھا سکتے ہیں۔ طلاق جذباتی طور پر بھی شوہروں اور والدوں کیلئے بربادی کا باعث ہوتی ہے۔ بہتیرے اپنے بچوں کی زندگیوں میں محض ایک ملاقاتی ہی رہ جانے پر ذہنی کوفت کا اظہار کرتے ہیں۔‏

اپنی شادی کی حفاظت کریں!‏

تو پھر، یہ بمشکل ہی حیرانی کی بات ہے کہ ایسے لوگوں کے ایک مطالعہ میں جنہیں ایک سال سے طلاق ہو چکی تھی، ۸۱ فیصد شوہز باپ اور ۹۷ فیصد بیویاں/ مائیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ طلاق شاید ان کی بہت بڑی غلطی تھی اور یہ کہ انہیں اپنی شادی کو کامیاب بنانے کیلئے سخت کوشش کرنی چاہیے تھی۔ زیادہ سے زیادہ ”‏ماہرین“‏ بھی شادی کی بابت ان حقارت آمیز رجحانات کو جن کی کہ وہ کبھی تائید کرتے تھے بدحواسی سے ترک کر رہے ہیں۔ حال ہی میں، لاس اینجلز ٹائمز نے یہ تحریر کیا:‏ ”‏اس کے نتائج کا کوئی ۲۵ سال سے زیادہ عرصہ سے مشاہدہ کرنے کے بعد، بہتیرے معالج .‏ .‏ .‏ شادی کو محفوظ رکھنے کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں۔“‏

بلا‌شبہ، ”‏ماہرین“‏ کے لئے واپس مڑنا بہت آسان ہے۔ درحقیقت، انہیں صرف یہی کہنا ہے کہ ”‏اوہو! مجھے افسوس ہے!“‏ اور پھر ایک مختلف راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ ان ہزاروں لوگوں کیلئے آسان نہیں جنہوں نے ان کی مشورت پر عمل کیا تھا۔ لیکن پھر بھی، طلاق کے شکار لوگ اپنے تلخ تجربے سے یہ قطعی سبق سیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ زبور ۱۴۶:‏۳، ۴ میں خلاصہ درج ہے:‏ ”‏نہ امرا پر بھروسہ کرو نہ آدمزاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔ اس کا دم نکل جاتا ہے تو وہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ اسی دن اس کے منصوبے فنا ہو جاتے ہیں۔“‏

دوست، معالج، وکیل، یا نشریاتی شخصیات ناکامل انسانوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لہذا جب ہمیں شادی کی بابت مشورت درکار ہو تو کیوں کلی طور سے ان ہی پر بھروسہ کیا جائے؟ کیا یہ زیادہ مناسب نہ ہوگا کہ پہلے شادی کے بانی، یہوواہ خدا کی طرف رجوع کیا جائے؟ اس کے اصول ”‏ماہرین“‏ کے مشوروں کی بدلتی ہواؤں کیساتھ تبدیل نہیں ہوتے۔ وہ ہزاروں سالوں سے سچ ثابت ہو رہے ہیں، اور وہ آج بھی قابل‌عمل ہیں۔‏

اپنی طلاق کے کچھ عرصہ بعد اینڈریو اور این کو اس کا احساس ہونے لگا۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ ان کی طلاق ایک ناگوار غلطی ثابت ہوئی ہے۔ تاہم، غیرمعمولی طور پر، ابھی انہیں زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک دوسرے کو تلاش کر کے دوبارہ شادی کرلی۔ اور انہوں نے اپنی سوچ کو بدلنا شروع کر دیا۔ اینڈریو یاد کرتا ہے، ”‏مجھے یہ احساس ہوا کہ اخلاقی طور پر میرا بالکل دیوالیہ ہو چکا تھا، اور یہ کہ مجھے مدد کی ضرورت تھی۔ کئی سالوں کے بعد، پہلی دفعہ میں نے اس کی بابت دعا کی۔ میں وہی کرنا چاہتا تھا جو بالکل صحیح تھا، پس میں نے جو کچھ میں کر رہا تھا وہ سب بند کر دیا اور ان تمام قدروں کو ترک کر دیا جو میں نے دنیا میں اپنا لی تھیں۔ میں اب مزید ان کا خواہاں نہیں تھا۔“‏

این اسے یوں دوہراتی ہے:‏ ”‏ہمارے اس گذشتہ ہولناک ماضی کے باوجود اب ہم دونوں کے اکٹھے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں واقعی یہوواہ کیساتھ صحیح رہنا چاہتے تھے۔ اور ہم واقعی چاہتے تھے کہ یہ کام کرے۔“‏ اسکا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت سے لیکر سب کچھ بہت آسان ہو گیا ہے۔ ”‏اب ہم ہر وقت اپنے رشتے کی بابت محتاط رہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک پہریدار کتا۔ اور اگر ہم میں سے ایک محسوس کرتا ہے کہ یہ خراب ہو رہا ہے تو ہم اسکی بابت گفتگو کرتے ہیں۔“‏

اینڈریو اور این اب دو خوبصورت بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ وہ یہوواہ کے گواہوں کی ایک کلیسیا میں بطور خدمتگزار خادم کے کام کر رہا ہے۔ بیشک حالات بالکل کامل تو نہیں۔ اس پرانے نظام‌العمل میں کبھی بھی کوئی شادی کامل نہیں ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے، جبکہ یہ دو ناکامل لوگوں کو باہم اکٹھا کرتی ہے؟ اسی لئے بائبل ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ اس وقت سے لیکر جب گناہ دنیا میں داخل ہوا، شادی ”‏جسمانی طور پر تکلیف“‏ کا باعث بنی رہی ہے۔ لہذا شادی کو معمولی خیال کرکے اس میں داخل نہیں ہونا چاہیے، کوئی بھی جو شادی کی بابت سوچ رہا ہے وہ اپنے مستقبل کے ساتھی کو جاننے میں کافی زیادہ وقت صرف کرکے اچھا کریگا۔ اور ایک بار اس میں داخل ہو جانے کے بعد، عموماً شادی اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جتنی کہ اسکے لئے کوشش کی جاتی ہے۔‏

تاہم، واضح طور پر، طلاق کو کبھی بھی کم اہم خیال نہیں کرنا چاہیے۔ جب طلاق بالکل ضروری اور ناگزیر دکھائی دے تو یقیناً خدا ہمیں مطلوبہ مدد دیگا تاکہ ہم بعد میں آنے والے مشکل حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن اگر ہم شادی کے مقدس دستور کی بابت گھٹیا نظریہ اپنانے میں اس دنیا کے رجحان کی پیروی کرتے ہیں تو کون ہمیں ایسی حماقت کے نتائج سے بچائے گا؟ لہذا، اپنی شادی کی نگہبانی کریں۔ جب حالات ٹھیک نہ ہوں تو اس وقت سب کچھ اتار پھینکنے کیلئے تیار رہنے کی بجائے، حل تلاش کرنے کی طرف مائل ہوں۔ پلوں کو جلانے کی بجائے ان کی مرمت کرنے کی کوشش کریں۔ شادی سے متعلق مسائل کے عملی جوابات کے لئے خدا کے کلام کی طرف متوجہ ہوں۔ b حل اسی میں موجود ہیں۔ اور ان سے کام بن جاتا ہے۔ (‏8 2/8 g92)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بچوں پر طلاق کے اثرات کی بابت معلومات کیلئے اپریل ۲۲، ۱۹۹۱ کے اویک ! کے شمارے کو دیکھیں۔‏

b واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک ، انکارپوریٹیڈ کی شائع‌کردہ خاندانی زندگی کو خوشحال بنانا کو دیکھیں۔‏

‏[‏تصویر]‏

بطور خاندان ملکر کام کرنے کیلئے وقت نکالنے سے اپنی شادی کی حفاظت کریں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں