یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو92ء 8/‏4
  • باہمت لال بیگ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • باہمت لال بیگ
  • جاگو!‏—‏1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خوراک کے چناؤ میں نخرے نہیں
  • اچھی اقدار
  • گھر کو ان سے نجات دلانا
  • دُنیا کا نظارہ کرنا
    جاگو!‏—‏1997ء
  • خود کو خوراک سے پیدا ہو نے والی بیماری سے بچائیں
    جاگو!‏—‏1996ء
جاگو!‏—‏1992ء
جاگو92ء 8/‏4

باہمت لال بیگ

اگرچہ لاکھوں لوگوں نے میکسیکو کا یہ خوش‌کن لوک گیت ”‏لا کوکاراچا“‏ (‏لال‌بیگ )‏ سنا ہوگا لیکن درحقیقت گھریلو خواتین جب اپنے باورچی‌خانہ میں ان ننھے سے کیڑوں کو چھپنے کے لئے تیزی سے حرکت کرتے ہوئے دیکھتی ہیں تو خوش ہو کر یہ گیت نہیں گاتیں۔ زیادہ‌تر لوگوں کے نزدیک لال‌بیگ غصہ دلانے والے نقصاندہ کیڑے مکوڑے ہیں۔ کمازکم ہمارے لئے تو یہ اپنی بناوٹ میں بھی پرکشش نہیں ہیں۔ یہ بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ ان کی تیز بو برداشت کے قابل نہیں۔‏

تاہم اسقدر انسانی نفرت کے باوجود لال‌بیگ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ انکی بچے پیدا کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت، قدرتی دشمنوں کی کمی اور لال‌بیگوں کی خود کو ڈھال لینے اور اپنی حفاظت کرنے کی قابلیت کے ساتھ مل کر، جلد ہی آبادی کو حیران‌کن حد تک بڑھا دیتی ہے۔ مثلاً ایک عام جرمن لال بیگ ، سال میں باآسانی ۳۵،۰۰۰ بچے پیدا کر سکتا ہے۔ یہ اوسط ہے، انتہائی تعداد نہیں، جو کہ سال میں ۱،۰۰،۰۰۰ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ کس طرح؟ جرمن لال‌بیگ کی اوتھیکا یا انڈوں کی تھیلی میں انڈوں کی تعداد ۴۸ تک ہو سکتی ہے۔مادہ لال‌بیگ سات انڈوں کی تھیلیوں کو اپنی زندگی کے اوسطاً ۱۴۰ دنوں کے دوران پیدا کرتی ہے۔ اگر لال‌بیگوں کے لئے حالات سازگار ہوں اور ہر نسل میں مادہ اتنی ہی تعداد پیدا کرے تو تھوڑے سے عرصے میں لاکھوں کی تعداد میں لال‌بیگ پیدا ہو جاتے ہیں۔‏

لال‌بیگوں کی ۲،۰۰۰ سے زیادہ اقسام گھروں سے باہر، انسانی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ لیکن چند، مثلاً جرمن لال‌بیگ انسانی گھروں کو اپنی آماجگاہ بناتے ہیں۔ درحقیقت، قومی نام (‏امریکی، آسٹریلوی، جرمن، ایشیائی، وغیرہ)‏ واقعی بے‌معنی ہیں۔ یورپیوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ لال‌بیگ کا نام اپنے ہمسایہ ملک کے نام پر رکھتے ہیں۔ اس کے روشنی سے دور بھاگنے کی بنا پر روم کے باشندوں نے اسے لوسی‌فیوگا کا نام دیا۔ انگریزی لفظ ”‏کاکروچ“‏ ہسپانوی لفظ کوکاراچا سے نکلا ہے۔‏

علم‌الحشرات کے بعض ماہر لال‌بیگ کی خوشحال خاندانی زندگی کی رپورٹ دیتے ہیں۔ بڑے لال‌بیگ چھوٹوں کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ماؤں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ انڈوں کے خول سے باہر آنے میں بچوں کی مدد کرتی ہیں۔ انڈوں سے بچے نکل آنے کے بعد انہیں اکثر اکٹھا رکھا جاتا ہے اور ماں انہیں پناہ دیتی ہے، اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی کالونی میں اکثر چند بڑے بھی پائے جائیں گے۔‏

خوراک کے چناؤ میں نخرے نہیں

لال‌بیگ تقریباً سبھی کچھ کھاتے ہیں۔ جو کچھ انسان کھاتے ہیں وہ بھی وہی کچھ کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی دوسری اشیاء مثلاً چمڑا، بال، وال‌پیپر، اور مردہ جانور۔ یہ کتابیں بھی کھاتے ہیں خاص طور پر جب وہ پسینے سے میلی کچیلی ہوں اور وہ ان کی جلد کو کھا جاتے ہیں تاکہ لئی تک پہنچ جائیں۔ دنیا کے بعض حصوں میں جھلی‌نما کاغذ قانونی دستاویزوں میں استعمال نہیں کئے جا سکتے کیونکہ لال‌بیگ اکثر انہیں خراب یا تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ گندگی اور گندے علاقوں میں مزے سے کھاتے پیتے ہیں مگر انتہائی صاف‌ستھری جگہوں میں بھی یہ کثرت سے پائے جا سکتے ہیں۔‏

دراصل، لال‌بیگوں کو زیادہ خوراک کی ضروت نہیں ہوتی۔ ایک درجن لال‌بیگ ایک ہفتے تک محض ایک ڈاک کے ٹکٹ کی لئی پر زند رہ سکتے ہیں۔ پانی ان کے لئے زیادہ ضروری ہے، اسی وجہ سے زیادہ‌تر باورچی‌خانوں اور غسل‌خانوں میں پائے جاتے ہیں۔‏

لال‌بیگوں پر ایسے بیکٹیریا اور وائرس منتقل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے جو چند ایک بیماریوں یعنی متعدی یرقان، خوراک میں زہر کی آمیزش، پیشاب کی نالی میں سوزش، جلدی بیماریاں، الرجی اور پیچش کا سبب بنتے ہیں۔ جب وہ ادھر ادھر گھومتے پھرتے ہیں تو خوراک اور برتنوں کو آلودہ کرتے ہیں، اور ناگوار بو چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے فضلے یعنی اس سیال کا جسے وہ اپنے سونگھنے والے غدودوں سے خارج کرتے ہیں اور اس گہرے رنگ کے سیال کا جسے وہ کھانے سے پہلے اپنی خوراک کو نرم کرنے کے لئے باہر اگلتے ہیں، مخلوط نتیجہ ہوتا ہے۔ لہذا گندے برتنوں کو خوب اچھی طرح سے دھو کر ابلتے ہوئے گرم پانی میں ڈالنا چاہئے ورنہ جب گرم کھانے کو برتن میں ڈالا جائے گا تو ان کی ناگوار بو دوبارہ پیدا ہو جائے گی۔‏

اچھی اقدار

کیا لال‌بیگ کے بارے میں کوئی اچھی بات بھی ہے؟ دراصل، یہ کافی پیچیدہ قسم کی چھوٹی سی مخلوق ہے۔ لال‌بیگ اپنی حسیاتی قوت کے ذریعے، ہوا کے دباؤ اور درجہءحرارت میں تبدیلی، پانی والی جگہ کی تلاش اور آنے والے شکاری سے خبردار ہونے کا پتہ لگاتا ہے۔ لال‌بیگ کے محاس (‏سامنے کے دو لمبے بالوں)‏ میں ۴۰،۰۰۰ ایسی نسیں پائی جاتی ہیں جو چھونے، چکھنے، اور سونگھنے کا کام دیتی ہیں۔ لال‌بیگ کی حس کا سب سے بڑا عضو اس کی مرکب آنکھیں ہیں جو کئی چھوٹے چھوٹے عدسوں سے بنی ہوئی ہوتی ہیں، اور پھر بھی لال‌بیگ چیزوں کو صاف طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم، یہ حرکت کے بارے میں بہت حساس ہے اور روشنی کی شدت میں چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کو بھی بہت جلد محسوس کر لیتا ہے۔ سرکی اسکے پیٹ کے کناروں پر کانٹے‌دار دو دو ملحقہ اعضا گونج، آواز اور ہوا کی سرسراہٹ کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ اور یوں اس کیڑے کے بچاؤ کے ردعمل کو حرکت دیتے ہیں تاکہ وہ تیزی سے کسی بھی قریبی شگاف یا دراڑ کے اندر بھاگ جائیں۔ خبردار ہونے کے بعد، ایک لال‌بیگ ۰۵۴۔۰ سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں ردعمل دکھا کر تیر کی سی تیزی سے بھاگ سکتا ہے!‏

ایک لال‌بیگ اپنے جسم کے دونوں اطراف پر کھلے ہوئے حصوں کے ذریعے سانس لیتا ہے۔ ایک بڑی نالی کے ذریعے خون پمپ کیا جاتا ہے جو پورے جسم کی لمبائی تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ سر کچلے جانے کے باوجود ایک لال‌بیگ ایک دن سے بھی زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے جو مادہ کے اپنے انڈوں کو حفاظت سے رکھنے کیلئے کافی ہے۔ امریکی لال‌بیگ پانی اور خوراک کے بغیر چھ ہفتے زندہ رہ سکتا ہے۔‏

ایک حیران‌کن مخلوق، ہاں، لیکن انسانوں کے لئے اس کا کیا فائدہ؟ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ یہ کھٹملوں کا جانا پہچانا دشمن ہے۔ اور اس کا سائز اور باآسانی اس کی نشوونما کے باعث امریکی لال بیگ اکثر اوقات لیبارٹریوں میں سائنسی تحقیق کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جاپانی تحقیق‌دانوں نے ایک مرتبہ لیبارٹری میں چوہوں کے امراض جگر کے علاج کے سلسلے میں لال‌بیگ کے فضلہ کو بڑی کامیابی سے استعمال کیا۔ اور اس سلسلے میں وہ پرامید تھے کہ یہ انسانوں کے لئے بھی کام میں لایا جا سکتا ہے۔ بعض ماہی‌گیر مشرقی لال بیگ کو بریم یعنی ایک قسم کی سن‌فش کے چارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ چھوٹی سی مخلوق بنیادی طور پر غلاظت خور ہے، یہ وہی کام کر رہی ہے جس کے لئے اس کو پیدا کیا گیا ہے:‏ یعنی کوڑاکرکٹ، گندگی، اور مردہ جانوروں کی لاشوں کو مٹی میں لوٹا دینے کا کام۔‏

گھر کو ان سے نجات دلانا

‏”‏یہ کیڑے مکوڑے میرے گھر میں کس طرح گھس آ ئے؟“‏ گھریلو خاتون پوچھتی ہے۔ وہ یا ان کے انڈے شاید سوداسلف کے تھیلوں ، پیاز اور آلو کی بوریوں اور مشروبات کے ڈبوں میں آ گئے ہوں۔ شاید وہ اڑ کر آ گئے ہوں۔ چونکہ لال‌بیگ خود کو چپٹا کر سکتے ہیں، شاید وہ آپکے مرکزی دروازے کے نیچے سے چل کر آئے ہوں۔ اور اگر آپ کا یا آپکے مہمانوں کا گزر کسی گندی جگہ سے ہوا ہو تو شاید یہ آپ کے جوتوں یا کپڑوں پر چڑھ کر آ گئے ہوں۔ فلیٹ‌نما گھروں میں، یہ دیواروں اور فرش کی دراڑوں میں سے داخل ہو جاتے ہیں یا پھر ”‏لال‌بیگ کی عام شاہراہوں“‏ عام پانی اور بھاپ کے پائپوں کے ذریعے۔‏

آپ انہیں کس طرح باہر نکالتے ہیں تاکہ وہ باہر ہی رہیں۔ گھر کے نظام میں حد درجہ نفاست‌پسندی لازمی ہے۔ اس بات کا یقین کر لیں کہ چھپی ہوئی جگہیں مثلاً فرش، چھت اور روشندانوں کی دراڑیں اور شگاف اکثر صاف کئے جائیں۔ چولہوں، ریفریجریٹروں اور الماریوں کے اردگرد تمام جگہوں کو صاف ستھرا رکھیں۔ کھانے کے بعد گرے ہوئے سیال کے قطروں اور روٹی کے ٹکڑوں کو فوراً اور اچھی طرح صاف کریں۔ گندے برتنوں کو رات بھر باورچی خانے کے بیسن یا الماری میں ہرگز نہ چھوڑیں۔ کھانے کو بند ڈبوں میں ذخیرہ کریں۔ کتے اور بلیوں کا خشک کھانا چونکہ لال‌بیگوں کے لئے تفریح مہیا کرتا ہے، لہذا اگر یہ کھانا ڈھکن والے ڈبوں میں رکھا جائے تو بہتر ہوگا اور صرف جانور کی ضرورت کے مطابق کھانا نکالا جائے۔ گھر میں آنے والے سوداسلف کے تھیلوں اور مشروبات کے ڈبوں کا معائنہ کیا جائے کہ کہیں کیڑےمکوڑے یا انکے انڈے ان میں چھپے نہ ہوں۔ ہر روز گھر سے کوڑے کرکٹ کا اخراج کیا جائے۔ وہ تمام ٹونٹیاں جن سے پانی ٹپکتا ہو مرمت کرائی جائیں۔ یاد رکھیں، اگرچہ، باورچی‌خانہ صاف ستھرا رکھنے سے لال‌بیگ صاحب یہ محسوس کرلے گا کہ اس کی آمد پسند نہیں کی جا رہی، لیکن اگر آپ کھانا اپنی بیٹھک یا خلوت‌گاہ میں بیٹھ کر کھاتے ہیں تو شاید آپ محسوس کریں گے کہ آپ اسے وہاں مدعو کر رہے ہیں۔‏

اگر کسی کمرے میں بہت زیادہ لال‌بیگ ہوں تو شاید کسی جراثیم‌کش دوا کا استعمال ضروری ہو جائے۔ تاہم، اسپرے کا بہت زیادہ استعمال شاید آپ کے لئے نقصاندہ ہو۔ لال‌بیگ یا تو اس سے بچیں گے یا پھر یہ زہر ان پر اثر نہ کرے گا۔ لہذا، لیبل کو دھیان سے پڑھیں اور ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔ احتیاطی تدابیر پر دھیان دیں، اور بچوں، بوڑھوں یا جنہیں سانس کی تکلیف ہو ان کا خاص خیال رکھیں۔‏

جہاں کہیں یہ بکثرت پائے جائیں وہاں‌پر کسی پیشہ‌ور کی مدد درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ لال‌بیگ کے انڈوں سے بچے نکلنے کی مدت ۳۰ دن ہوتی ہے، اسلئے شاید کچھ عرصے تک شاید ماہانہ خدمات کی ضرورت پڑے۔ اگر آپ کسی پیشہ‌ور کو بلواتے ہیں تو مندرجہ‌ذیل باتیں آپ کی مدد کریں گی۔ اس کے آنے سے پہلے باورچی‌خانہ کو خوب اچھی طرح سے صاف کریں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ کھانے پینے کی اشیاء اور برتن الماریوں میں سے ہٹا دئے گئے ہیں۔ برتنوں کو وقتی طور پر میز پر رکھ کر کسی پلاسٹک شیٹ سے ڈھک دیں۔ کھانے پینے کی اشیاء اوون یا ریفریجیریٹر میں رکھی جا سکتی ہیں۔ اور اگر پیشہ‌ور ماہر آپ کو کچھ مشورے پیش کرے یا کسی تبدیلی کی سفارش کرے تو اس پر ضرور غور کریں۔‏

لال‌بیگوں کے خلاف جنگ بڑے عرصے سے جاری ہے۔ اور لال‌بیگ بھی مسلسل اس جنگ کا جواب دے رہے ہیں۔ اور اتنے سالوں میں جتنی کیڑے مار ادویہ استعمال کی جا چکی ہیں ان میں زیادہ‌تر کے خلاف ان میں مدافعت پائی جاتی ہے۔ اب سائنس‌دان حیاتیاتی ہتھیاروں کی طرف جا رہے ہیں۔ اور انہوں نے ایک نیا مرکب یعنی مصنوعی ہارمون تیار کیا ہے جسے ہائیڈروپرین کہا جاتا ہے جو لال‌بیگوں کو کمسنی کی حالت میں رکھ کر ان کی افزائش کو روکے گا۔ تاہم، خواہ انہیں بانجھ کر دیا جائے، یہ نسل چلتی ہی رہے گی۔ لہذا، جب تک ہائیڈروپرین کے ساتھ کسی جراثیم‌کش دوا کو بھی شامل نہ کیا جائے، فوری نتائج حاصل نہ ہوں گے۔‏

بلا‌شبہ، ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان کیڑےمکوڑوں کا گھروں سے صفایا کر دیا جائے گا یا نہیں۔ فی‌الحال لا کوکاراچا موجود ہے اور اس نے بڑی عمدگی سے اپنا کام کیا ہے۔ (‏21 1/22 g92)‏

‎[Box]‎

اپنے گھر کو لال‌بیگوں سے نجات دلائیں

پورے باورچی‌خانے کو صاف‌ستھرا رکھیں۔ چولھے، الماریوں اور ریفریجریٹر کے اردگرد اور نیچے کی تمام جگہوں پر خاص توجہ دیں۔‏

ممکنہ پوشیدہ جگہوں کو اکثر صاف کریں جیسے کہ فرش، بیس‌بورڈ اور روزن۔ جہاں تک ممکن ہو باورچی‌خانوں کے شگافوں اور دراڑوں کو بند کر دیں۔‏

ردی چیزوں اورکوڑے کرکٹ کو روزانہ باہر پھینکیں۔‏

کھانے پینے کی اشیاء کو ڈبوں میں مضبوطی سے بند رکھیں۔‏

زمین پر روٹی کے ٹکڑے یا سیال وغیرہ گر جائے تو اسے فوراً اور اچھی طرح سے دور کریں۔‏

اندرون‌خانہ لائے جانے والے تمام تھیلوں اور ڈبوں کا معائنہ کریں کہ ان میں کیڑےمکوڑوں یا ان کے انڈے تو نہیں۔‏

نمی پر قابو پانے کی عادت بنائیں۔ پانی رسنے والی جگہوں کو مرمت کرائیں، اور گندے برتنوں کو رات بھر پانی میں نہ ڈبوئیں۔‏

کسی اچھی لال‌بیگ مار دوا کا استعمال کریں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں