میں ایک پیشہور چور تھا
ٹھک ! جج کا ہتھوڑا کمرہءعدالت میں گونجا۔ اس کے اگلے الفاظ ، اگرچہ نرم لہجے میں بولے گئے، مگر مجھے خود پر دھاڑتے ہوئے لگے۔ ”اب میں تمہیں ۱۵ سال قید کی سزا کا حکم دیتا ہوں۔“ وہ الفاظ میں کبھی نہ بھولوں گا اور نہ ان واقعات کو جو بعد میں رونما ہوئے۔ پولیس افسر فوراً مجھے کمرہءعدالت سے جیل کی اس کوٹھڑی میں لے گیا جہاں گزشتہ تین ماہ سے میرا قیام تھا۔
اگلے دن صبح سویرے، مجھے کوٹھڑی میں سے نکال کر، ایک گزرگاہ میں سے ہو کر ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جایا گیا، جہاں مجھ پر چمڑے کی ایک پیٹی باندھ دی گئی جو تقریباً پانچ انچ چوڑی تھی اور جسکا بکل پیچھے کمر پر لگتا تھا۔ سامنے کے حصہ میں دھات کے دو بڑے چھلے تھے جن کیساتھ میری ہتھکڑیاں باندھ گئیں۔ اس کارروائی کو پورا کرکے، دو افسر مجھے دوسرے بڑے کمرے میں لے گئے ، جہاں میں ایسی ہی ہتھکڑیاں لگے ہوئے آدمیوں کے ایک گروہ میں شامل ہو گیا۔ وہ آدمی دو قطاروں میں پہلو بہ پہلو کھڑے تھے۔ قطار میں مجھے اپنی پوزیشن کیطرف لایا گیا اور ایک زنجیر کو جو دونوں قطاروں کے درمیان سے گزرتی تھی اٹھایا گیا، اور اسے میری چمڑے کی پیٹی کے پہلو میں ایک تیسرے چھلے کیساتھ مقفل کر دیا گیا۔
اس کے بعد جو چھ افسر اب موجود تھے وہ ہمیں لفٹ کی طرف لے گئے جس نے ہمیں خاص طور پر بنائی گئی بس تک پہنچانا تھا۔ یہاں میں، ایک قاتل کے پہلو میں اور منشیات کا کاروبار چلانے والوں، عصمتدروں، اور ڈاکوؤں کے سامنے بیٹھا تھا۔ ہم سب ایک ہی مقام پر جا رہے تھے قیدخانہ!
آپ شاید سوچیں کہ کس چیز نے مجھے ان حالات تک پہنچایا تھا؟ میں آپ کو اپنے پسمنظر اور ان واقعات کے متعلق بتاتا ہوں جنہوں نے مجھے قیدخانہ میں پہنچایا تھا۔
میں ایک مجرم پیدا نہیں ہوا تھا
میرے والدین کی شادی دوسری عالمی جنگ کے کچھ عرصہ بعد ہی ہوئی تھی، اور ۱۹۴۷ میں میرا بڑا بھائی پیدا ہوا تھا۔ دو سال بعد میں پیدا ہوا، اور ۱۸ ماہ بعد ایک اور بھائی پیدا ہوا۔ چنانچہ تین چھوٹے بچوں کے ساتھ ، میرے والدین نے رچمنڈ، ورجینیا، یو۔ ایس۔ اے سے مغرب میں پیسیفک کوسٹ پر اوریگان کی ریاست تک کا طویل سفر طے کیا۔ پھر ہم نے ریاست واشنگٹن کے شمال میں سفر کیا اور بیلیویو کے شہر میں آباد ہو گئے۔ اس وقت، زندگی مجھے معمول کے مطابق لگتی تھی۔ اگرچہ ہمارا خاندان کچھ زیادہ قربتپسند نہ تھا، پھر بھی سیروتفریح کے لئے ہم باقاعدگی کے ساتھ اکٹھے جاتے اور مقامی لوتھرن چرچ میں حاضر ہوتے۔ ورجینیا سے آئے ہوئے ایک خاندان کے لئے خدا، یسوع مسیح اور بائبل کی تعظیم ایک معمول تھا۔ ۱۹۶۰ میں میری ننھی بہن پیدا ہوئی۔ بالآخر یہ ننھی سی بیٹی پا کر جس کی اسے ہمیشہ سے خواہش تھی، میری ماں کتنی خوش تھی!
بہر حال، تقریباً چھ ماہ بعد کوئی ایسی چیز وقوعپذیر ہوئی جس نے ہماری طرززندگی کو بدل دیا۔ ہم نے پھر سے نقلمکانی کی، اس بار گنجان کلہمت کے شہر میپل ویلی میں۔ ہم نے چرچ جانا چھوڑ دیا، اب خاندانی تفریح بھی نہ تھی اور میرے باپ نے بہت زیادہ شرابنوشی شروع کر دی۔ اس نقلمکانی کی یاد اب بھی مجھے غمگین کر دیتی ہے۔ اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک ہم رنجیدہ رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری جواںسالی کی کجرو زندگی میں اس کا بہت ہاتھ تھا۔
کیوں میں نے جرم کی زندگی کا انتخاب کیا
میپل ویلی، جیسا کہ آپ نام سن کر ہی تصور کر سکتے ہیں، ۱۹۶۰ کے عشرہ میں ایک بےتکے سے نوجوان کے لئے کوئی ولولہانگیز جگہ نہ تھی۔ چنانچہ میں اپنے لئے جوشوولولہ خود ہی بنا لیا کرتا تھا۔ سکول میں جس ناقص گروہ کے ساتھ میں رفاقت رکھتا تھا اس کی وجہ سے یہ آسان تھا۔ اوقاتسکول کے بعد کی سرگرمیاں شرابنوشی کی پارٹیوں میں تبدیل ہو جاتیں، جسکے بعد دنگا فساد ہوتا اور منشیات کا استعمال۔ ایسے متعدد مواقع پر میں لڑکھڑاتا ہوا صبح کے تین چار بجے گھر پہنچتا نشہ میں دھت۔ یا کئی دن تک میں اپنے دوستوں کیساتھ رہتا اور گھر ہی نہ آتا۔ خاصی عجیب بات تھی کہ میں جانتا تھا کہ میں غلطی کر رہا تھا، تاہم یوں لگتا تھا تھا کہ میرے والدین نے اس پر کبھی دھیان ہی نہیں دیا تھا۔
بعضاوقات ، ہم صرف اس لئے چوری کرتے کہ دیکھیں آیا ہم بچ سکیں گے۔ ایک دفعہ میں نے ایک کار چرائی اور سیر کرنے چل دیا۔ لیکن میں پکڑا گیا اور ایک سال سے زائد نوجوانوں کے لئے مقامی اصلاحی ادارے، گرینہل، میں گزارا۔
جب تک میں گرینہل سے رہا ہوا، میں ہائی سکول میں پہنچ گیا تھا۔ اب میں نے سوچا کہ جو کچھ میں نے نوجوانوں کے ”کرائم سکول“ سے ”سیکھا“ تھا اسے استعمال میں لا سکتا ہوں۔ مجھے اس چیز کا کم ہی احساس ہوا کہ بائبل کی مثل ”بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں“ اپنا اثر دکھا رہی تھی۔ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳۔
میں کوئی ۱۶ برس کا تھا جب میری ملاقات ایک مختلف شخص سے ہوئی، ایک نوجوان اسکا نام جم کارلے تھا۔ وہ اور اسکا خاندان حال ہی میں آئیڈاہو سے میرے شہر میں بسنے آئے تھے۔ جم نام سے اسے بہت کم لوگ جانتے تھے، زیادہتر وہ سپڈ کے نام سے جانا جاتا تھا، جو کہ آئیڈاہو کے مشہور آلو کے نام پر رکھا ہوا تھا۔ وہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک تھا۔
جم اور میں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ اسے دیکھ کر میں کہہ سکتا تھا کہ وہ میرے دیگر دوستوں سے مختلف ہے۔ وہ سب کیساتھ اچھی طرح سے ملتا مگر انکے غلط کاموں میں شامل نہ ہوتا۔ اس بات نے مجھے متاثر کیا۔ مجھے اسکا یہ کہنا واضح طور پر یاد ہے کہ کیوں یہ شریر نظام جلد ہی ختم ہو جائیگا اور اسکی جگہ خدا کی آسمانی بادشاہت کے تحت ایک پرامن نئی دنیا لے لے گی۔
میں اسکی بابت مزید سننا چاہتا تھا، چنانچہ دو مرتبہ میں اسکے ”چرچ“ میں حاضر ہوا جو کنگڈم ہال کہلاتا ہے۔ یہ ۱۹۶۷ میں ہوا تھا۔ جو کچھ میں نے وہاں سنا وہ دلچسپ تھا، لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ نئی دنیا تو دور کے مستقبل کی بات تھی۔ علاوہ ازیں، اس وقت تو میں مزے اڑا رہا تھا۔ میرا کاروبار ”آرڈرز“ مہیا کرنا تھا، جو کچھ بھی کوئی چاہتا اوزار، کاروں کے پرزہ جات، سٹیریو، ٹیلیویژن سیٹ۔ بلاشبہ یہ ”آرڈرز“ چوری اور فریبکاری سے مہیا کئے جاتے تھے۔ میں بھلا ایسے چرچ میں کیوں جاؤں جو میرے پھلتے پھولتے ”کاروبار“ کی مذمت کرتا تھا؟
میں نے ۱۹ برس کی عمر میں سکول چھوڑ دیا اور ہائی سکول کی اپنی محبوبہ سے شادی کر لی۔ ایک سال بعد میں ایک بیٹی یعنی رونڈا جین کا باپ بن گیا۔ اس اضافی ذمہداری کے ساتھ مجھے ان کے اخراجات پورے کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی مگر بددیانتی کے ذرائع سے۔
مجھے سچائی مل گئی ہے!
میں ابھی تک منشیات استعمال کرنے اور فروخت کرنے، کاریں چرانے، اور گھروں میں چوری کرنے کے ”کاروبار“ میں تھا۔ لیکن آخرکار اس ”کاروبار“ نے مجھے آ لیا”مجھے گرفتار کر لیا گیا اور جلد ہی میں نے خود کو ہتھکڑیوں کی پہلے بیانکردہ حالت میں اور قیدخانہ کیطرف جاتے پایا۔ اب میں ۲۰ برس کا تھا، ایک بیوی اور چھ ماہ کی ایک بیٹی کیساتھ۔ اور اب میں آئندہ ۱۵ سالوں کیلئے جیل جا رہا تھا! مجھے احساس ہوا کہ اپنی زندگی کو قابو میں لانے کیلئے مجھے کچھ کرنا ہی چاہئے۔ سیڈ نے ماضی میں مجھے بائبل کیلئے جو کچھ کہا تھا میں نے اس پر سوچنا شروع کر دیا۔
قیدخانہ کے اندر میں نے اپنی مدد آپ کتابوں کے ساتھ ساتھ بائبل پڑھنا شروع کر دی۔ میں نے سوچا، ”ان کتابوں کو پڑھنے سے ایک ذمہدار بالغ بننے میں میری مدد ہوگی۔“ انہوں نے مدد نہ کی۔ کسی چیز نے مدد نہ کی تاوقتیکہ واشنگٹن، شیلٹن کے اصلاحی مرکز کے ایک اور مکین نے مجھ سے پوچھا کہ آیا میں یہوواہ کے گواہوں کی مقامی کلیسیا کے چند گواہوں کے ساتھ بیٹھ کر بائبل پر بات چیت سننا پسند کروں گا۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ ہر ہفتہ قیدخانہ میں آتے ہیں۔ میں رضامند ہو گیا۔ ان دو گواہوں کے ساتھ پہلی ملاقات میں ہی میں جان گیا تھا کہ جو کچھ میں بائبل اور سچائی جو باعثابدی زندگی ہے کتاب سے سیکھ رہا ہوں، وہ درست ہے۔ مجھے سچائی مل گئی تھی!
قیدخانہ میں گواہی دینا
بعضاوقات گواہوں کے ساتھ میرے ہفتہوار مطالعہ میں ۱۵ قیدی بھی شریک ہو جاتے تھے۔ اسی دوران میں میری بیوی نے فیصلہ کرلیا کہ میں جیل میں پاگل ہو گیا ہوں، اور اس نے طلاق کی کارروائی شروع کر دی۔ اس بات نے میرے نئے حاصلکردہ ایمان کو شدید طور پر آزمایا۔
میں نے مزید روحانی خوراک حاصل کرنے کے ذریعے اپنے ایمان کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے پوری بائبل کو بائبل سے متعلق مطبوعات کے ساتھ پڑھنے سے آغاز کیا، بمعہ مینارنگہبانی اور جاگو! کے پرانے شماروں کے۔ میرا ایمان پختہ ہوتا جا رہا تھا۔ علاوہازیں، میں نے ہر اس شخص کو جو سنتا تھا منادی کرنا شروع کر دی۔ جلد ہی وہاں کے قیدیوں میں سے بہتیرے مجھ سے کترانے لگے۔ ماضی کو یاد کرتے ہوئے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو میرے لئے حقیقی تحفظ تھا۔
تاہم، میں نے قیدخانہ میں دیگر لوگوں کیساتھ متعدد بار دلچسپ باتچیت کی۔ ایک باتچیت تو ایک کیتھولک پادری کیساتھ تھی، جس نے کہا تھا کہ مجھے توڑموڑ کر باتیں سکھائی جا رہی ہیں اور یہ کہ لوگ جو کچھ چاہتے ہیں وہی بائبل سے کہلوا سکتے ہیں۔ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کیلئے، اس نے کہا کہ وہ مجھے دکھا دیگا کہ بائبل کہتی ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ میں نے اسکی پیشکش قبول کر لی۔ اس نے اپنی بائبل زبور پر کھولی اور اپنا ہاتھ اس پوزیشن میں رکھا کہ اسکی پہلی انگلی آیت کے کچھ حصے کو چھپائے رکھے۔ میں نے کہا: ”مہربانی سے اپنی انگلی ہٹائیں تاکہ میں پوری آیت پڑھ سکوں۔“ اس نے جواب دیا: ”صرف میری انگلی کے نیچے کا حصہ پڑھو۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، اور میں میں حیران رہ گیا کہ وہاں لکھا تھا: ”کوئی خدا نہیں۔“ اس نے کہا، ”دیکھا، یہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی خدا نہیں!“ دوبارہ میں نے پوری آیت دیکھنے کیلئے کہا۔ اس بار اس نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔ اور وہاں لکھا تھا: ”احمق نے اپنے دل میں کہا ہے کہ کوئی خدا نہیں۔“ زبور ۱۴:۱۔ کنگ جیمز ورشن۔
ذاتی ضمانت پر رہائی پائی اور پرعزم ہوا
میرے تبدیلشدہ رویہ اور چالچلن کی وجہ سے، صرف دو سال بعد مجھے ذاتی ضمانت پر قید سے رہائی دے دی گئی۔ یہ ۱۹۷۱ کے اواخر میں ہوا۔ شاید کچھ لوگوں نے سوچا کہ میں نے ضمانت پر رپائی دینے والے بورڈ کو محض بیوقوف بنانے کے لئے ”مذہب“ کو اپنا لیا تھا۔ مگر میں اب آزاد تھا اور پہلے سے کہیں زیادہ پرعزم کہ کہیں بری صحبتوں میں پھر سے نہ پھنس جاؤں۔ میں نے قصداً ایک ایسے علاقے میں بسنے کا انتخاب کیا جہاں میں جانتا تھا کہ میرے سابقہ دوست نہ ہونگے۔ میں جانتا تھا کہ اپنے پرانے دوستوں میں سے کسی کے ساتھ بھی رابطہ کرنا دانشمندی نہ ہوگی۔ انہوں نے بھی مجھ سے گریز کیا کیونکہ انہوں نے سن لیا تھا کہ میں کسی قسم کا ”پادری“ بن گیا تھا اورر ہر ایک کو منادی کر رہا تھا۔
میں نے اپنا مطالعہ جاری رکھا اور باقاعدگی کے ساتھ واشنگٹن، کینٹ میں، کوونگٹن کی کلیسیا میں حاضر ہوتا رہا۔ میری زندگی میں منادی کے کام نے مسلسل ترقیپذیر کردار ادا کیا، اور جون ۱۹۷۲ میں، میرا بپتسمہ ہوا۔ میں دنیاوی معاملات میں اور ساتھ ہی خدا کی خدمت کرنے اور اپنی بیٹی کو بائبل سکھانے کے کام میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اب تقریباً تین برس کی تھی اور اپنی ماں یعنی میری سابقہ بیوی کے ساتھ رہتی تھی۔ یہ ایک حقیقی چیلنج ثابت ہوا جو ۱۶ طویل اور مایوسکن سالوں تک جاری رہا۔ میں اعتراف کروں گا کہ ایسے اوقات بھی آئے جب میں نے محسوس کیا کہ حالات میری مرضی کی مطابقت میں کچھ زیادہ جلدی نہیں ڈھل رہے تھے۔ پھر میں صحیفوں کی ہدایت کو یاد کرتا: ”جہاں تک ہو سکے تم اپنی طرف سے سب آدمیوں کے ساتھ میلملاپ رکھو . . . [یہوواہ] فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ میں ہی دوں گا۔“ رومیوں ۱۲:۱۸، ۱۹۔
متعدد راتیں روتے اور دعا کرتے گزرتی تھیں۔ اس موقعہ پر میری دنیا بالکل پوگیٹ ساؤنڈ کے علاقہ کے مخصوص موسم کی طرح تھی، کالی گھٹاؤں والی اور بےکیف، کبھیکبھار تھوڑی سی ”دھوپ“ کے ساتھ ۔ میری ”دھوپ“ تھیوکریٹک سرگرمیوں کی صورت میں آتی، جیسے کہ اجلاس اور اسمبلیاں جہاں آپ نئے دوستانہ تعلقات قائم کر سکتے اور پرانے تعلقات کی تجدید کر سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک اسمبلی پر، کسی سے میری ملاقات ہوئی اور جس نے مجھ پر ایک دیرپا اثر چھوڑا، اور دو سال تک ایک دوسرے کو سمجھ لینے کے بعد، اگست ۱۹۷۴ میں، میری ہیوز نے اور میں نے شادی کر لی۔
اگلے سال جولائی میں، ہمارا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ہم نے ٹرے (ٹام III سے) رکھا۔ میں جانتا تھا کہ اس شادی میں پہلا درجہ ہمیشہ خدا کا ہوگا، خصوصاً جبکہ میں حال ہی میں مسیحی کلیسیا میں خدمتگزار خادم مقرر ہوا تھا۔ اس شرف کی بنا پر، مجھے احساس ہوا کہ یہوواہ کی خدمت میں میرے لئے بہترین موقعہ کا ایک نیا دروازہ کھل گیا تھا۔ میں اسکا پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے پرعزم تھا۔ میں نے خود پر اس بات کا اطلاق کیاکہ ہمیشہ خدا پر بھروسہ کروں کہ وہ مجھے روحانی ترقی کرنا سکھائے۔ جب کبھی مجھے کوئی تفویض ملتی تو میں اس پر بھروسہ کرتے ہوئے کہ وہی مجھے مطلوبہ حکمت دیگا، اسے قبول کر لیتا۔ پھر میں ۱۹۸۷ میں، بزرگ مقرر ہوا۔
میں نے ان تمام سالوں میں یہ سیکھا ہے کہ یہوواہ کی راہوں کی مطابقت میں کام کرنا ہمیشہ انتہائی دانشمندانہ روش ہوتی ہے۔ بےصبر نہ ہو جاؤ۔ اس بات نے میرے ذہن پر اس وقت مزید گہرا اثر کیا، جب میری بیٹی رونڈا جسکی عمر اس وقت ۲۰ برس تھی، ۱۹۹۰ کے موسمبہار میں ہمارے ساتھ رہنے کیلئے گھر آ گئی اور ایک بپتسمہیافتہ گواہ بن گئی۔ ایک بار پھر میری یاددہانی ہو گئی کہ سچائی میں کتنی قوت ہے۔ قانوناً سرپرستی کی وجوہات پر گزشتہ آٹھ سال تک میرا اس کیساتھ کوئی رابطہ نہ تھا۔ یہوواہ نے میری ان کوششوں پر برکت دی جب سالوں پہلے عدالتی اجازت سے مختصر ملاقاتوں کے دوران میں نے اپنی بیٹی کے ذہن میں بائبل سچائیوں کے بیج بوئے تھے۔
یوں لگتا تھا کہ رونڈا کو تقریباً وہ سب کچھ یاد تھا جو میں نے اور میری نے اسے بائبل کے بارے میں سکھایا تھا۔ اور ہماری خاندانی زندگی نے اس پر کیا خوب اثر ڈالا تھا! موسمبہار کے اس دن سے رونڈا نے بائبل کے علم میں تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے۔
میری زندگی جو کچھ تھی جب میں اس پر نگاہ کرتا ہوں اور جو کچھ یہ اب ہے جب اس پر نظر کرتا ہوں تو مجھے یہی کہنا ہے کہ خدا کی خدمت کے کاموں میں مصروف رہنا حقیقی طور پر شیطان کے پھندوں سے بچنے کیلئے بہترین حفاظت ہے۔ قیدی بنانے والی چمڑے کی اس پیٹی کے بجائے جس سے مجھے اسقدر نفرت تھی، اب میں ایک عظیم رہائی کا تجربہ کر رہا ہوں، قید سے رہائی پا کر امنوسلامتی کی حمایت کرنے والا خدا کا ایک خادم بننے کی آزادی کا۔ ٹام میکڈینئیل کا بیانکردہ۔ (11 9/8 g91)
[تصویر]
جب واشنگٹن کی ریاست کے ایک اصلاحی مرکز کے اندر میں قیدی نمبر ۶۲۶۰۲۳ تھا
[تصویر]
میکڈینئیل خاندان میری، ٹام، بیٹی رونڈا اور بیٹا ٹرے