یرمیاہ
7 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا: 2 ”یہوواہ کے گھر کے دروازے میں کھڑے ہو اور یہ پیغام سناؤ: ”یہوداہ کے سب لوگو! تُم جو یہوواہ کے سامنے جھکنے کے لیے اِن دروازوں سے داخل ہوتے ہو، یہوواہ کا کلام سنو۔ 3 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہ فرماتا ہے: ”اپنی روِش اور اپنے کاموں کو سدھارو اور مَیں تمہیں اِس جگہ آباد رہنے دوں گا۔ 4 گمراہکُن باتوں پر بھروسا نہ کرو اور یہ نہ کہو: ”یہ ہے* یہوواہ کی ہیکل، یہوواہ کی ہیکل، ہاں، یہوواہ کی ہیکل!“ 5 اگر تُم واقعی اپنی روِش اور اپنے کاموں کو سدھارو گے؛ اگر تُم واقعی ایک آدمی اور اُس کے پڑوسی کے بیچ اِنصاف کرو گے؛ 6 اگر تُم پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں پر ظلم نہیں ڈھاؤ گے؛ اگر تُم اِس جگہ معصوموں کا خون نہیں بہاؤ گے اور اگر تُم دوسرے خداؤں کی پرستش کر کے خود کو نقصان نہیں پہنچاؤ گے 7 تو مَیں تمہیں اِس جگہ آباد رہنے دوں گا، ہاں، اِس ملک میں جو مَیں نے ہمیشہ کے لیے* تمہارے باپدادا کو دیا تھا۔“““
8 ”لیکن تُم گمراہکُن باتوں پر بھروسا کر رہے ہو جن سے تمہیں ذرا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ 9 تُم چوری کرتے ہو، قتل کرتے ہو، زِنا کرتے ہو، جھوٹی قسم کھاتے ہو، بعل کے سامنے قربانیاں پیش کرتے ہو* اور ایسے خداؤں کی پرستش کرتے ہو جنہیں تُم نہیں جانتے تھے۔ 10 کیا تُم یہ سب کرنے کے بعد اِس گھر میں میرے سامنے آ کر کھڑے ہو سکتے ہو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور یہ کہہ سکتے ہو: ”ہمیں بچا لیا جائے گا“ حالانکہ تُم یہ سب گھناؤنے کام کرتے ہو؟ 11 کیا میرے نام سے کہلانے والا یہ گھر تمہاری نظر میں ڈاکوؤں کا غار بن گیا ہے؟ مَیں نے خود یہ دیکھا ہے۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
12 ””لیکن اب سیلا میں میری اُس جگہ جاؤ جسے مَیں نے سب سے پہلے چُنا تھا تاکہ میرا نام وہاں رہے اور دیکھو کہ مَیں نے اپنی قوم اِسرائیل کی بُرائی کی وجہ سے اُس جگہ کا کیا حال کِیا ہے۔“ 13 یہوواہ فرما رہا ہے: ”مگر تُم یہ سب کام کرتے رہے۔ مَیں نے بار بار* تُم سے بات کی لیکن تُم نے میری نہیں سنی۔ مَیں تمہیں بُلاتا رہا مگر تُم نے جواب نہیں دیا۔ 14 اِس لیے مَیں نے جو کچھ سیلا کے ساتھ کِیا، مَیں اِس گھر کے ساتھ بھی وہی کروں گا جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور جس پر تُم بھروسا کرتے ہو، ہاں، اِس جگہ کے ساتھ جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپدادا کو دی۔ 15 مَیں تمہیں اپنی نظروں سے دُور کر دوں گا جیسے مَیں نے تمہارے سب بھائیوں یعنی اِفرائیم کی ساری اولاد کو کِیا تھا۔“
16 تُم اِن لوگوں کے لیے دُعا نہ کرو۔ اِن لوگوں کی خاطر فریاد نہ کرو، دُعا نہ کرو اور اِلتجا نہ کرو کیونکہ مَیں تمہاری نہیں سنوں گا۔ 17 کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ وہ یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں کیا کر رہے ہیں؟ 18 بیٹے لکڑی جمع کر رہے ہیں، باپ آگ جلا رہے ہیں اور بیویاں آٹا گُوندھ رہی ہیں تاکہ آسمان کی ملکہ* کے لیے ٹکیوں کے نذرانے پیش کریں۔ وہ دوسرے خداؤں کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیل کر مجھے غصہ دِلا رہے ہیں۔ 19 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن کیا وہ مجھے تکلیف پہنچا* رہے ہیں؟ نہیں، وہ خود کو تکلیف پہنچا رہے ہیں؛ وہ خود کو رُسوا کر رہے ہیں۔“ 20 اِس لیے حاکمِاعلیٰ یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو! میرا غصہ اور میرا غضب اِس جگہ پر نازل ہوگا، ہاں، اِنسانوں پر اور جانوروں پر؛ میدان کے درختوں پر اور زمین کی پیداوار پر۔ میرے غضب کی آگ جلتی رہے گی اور بُجھے گی نہیں۔“
21 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”جاؤ، جا کر اپنی دوسری قربانیوں کے ساتھ بھسم ہونے والی سالم قربانیاں بھی پیش کرو اور خود اُن کا گوشت کھاؤ 22 کیونکہ جس دن مَیں تمہارے باپدادا کو ملک مصر سے نکال کر لایا، مَیں نے اُن سے بھسم ہونے والی سالم قربانیوں اور دوسری قربانیوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور کوئی حکم نہیں دیا۔ 23 لیکن مَیں نے اُنہیں یہ حکم ضرور دیا: ”میری بات مانو۔ پھر مَیں تمہارا خدا بنوں گا اور تُم میری قوم بنو گے۔ تُم ضرور اُن سب راہوں پر چلنا جن کے حوالے سے مَیں تمہیں حکم دے رہا ہوں تاکہ تمہارا بھلا ہو۔““ 24 لیکن اُنہوں نے میری نہیں سنی اور میری بات پر کان نہیں لگایا۔ اِس کی بجائے وہ اپنے منصوبوں* کے مطابق چلتے رہے اور ڈھٹائی سے اپنے بُرے دل کی مانتے رہے۔ وہ آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے مُڑ گئے۔ 25 اُس دن سے آج تک ایسا ہی ہو رہا ہے جس دن سے تمہارے باپدادا ملک مصر سے نکلے۔ اِس لیے مَیں اپنے سب بندوں یعنی اپنے نبیوں کو تمہارے پاس بھیجتا رہا۔ مَیں ہر دن اور بار بار* اُنہیں بھیجتا رہا۔ 26 لیکن اُنہوں نے میری نہیں سنی اور میری بات پر کان نہیں لگایا بلکہ وہ ڈھیٹھ بنے رہے* اور اُنہوں نے اپنے باپدادا سے بھی زیادہ بُرے کام کیے۔
27 تُم اُن سے یہ سب باتیں کہو گے لیکن وہ تمہاری نہیں سنیں گے۔ تُم اُنہیں بُلاؤ گے لیکن وہ تمہیں جواب نہیں دیں گے۔ 28 تُم اُن سے کہو گے: ”یہ وہ قوم ہے جس نے اپنے خدا یہوواہ کی بات نہیں مانی اور اِصلاح کو قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔ وفاداری ختم ہو گئی ہے اور اُن کے بیچ اِس کا ذکر تک نہیں ہوتا۔“
29 اپنے لمبے* بال کاٹ کر پھینک دے اور بنجر پہاڑیوں پر ایک ماتمی گیت گا کیونکہ یہوواہ نے اِس پُشت کو رد کر دیا ہے جس نے اُس کا غصہ بھڑکایا ہے اور وہ اِسے ترک کر دے گا۔ 30 یہوواہ فرماتا ہے: ”یہوداہ کے لوگوں نے ایسے کام کیے ہیں جو میری نظر میں بُرے ہیں۔ اُنہوں نے اُس گھر کو ناپاک کرنے کے لیے جو میرے نام سے کہلاتا ہے، اُس میں اپنے گھناؤنے بُت کھڑے کیے ہیں۔ 31 اُنہوں نے توفت کی اُونچی جگہیں بنائیں جو ہِنّوم کے بیٹے کی وادی* میں ہے تاکہ اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو آگ میں جلائیں۔ مَیں نے اُنہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ ہی کبھی میرے دل میں ایسا کوئی خیال تک آیا تھا۔“
32 یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس لیے دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب اِسے توفت یا ہِنّوم کے بیٹے کی وادی* نہیں بلکہ وادیِقتل کہا جائے گا۔ وہ تب تک توفت میں لاشیں دفناتے رہیں گے جب تک جگہ ختم نہیں ہو جائے گی۔ 33 اِس قوم کی لاشیں آسمان کے پرندوں اور زمین کے درندوں کے لیے خوراک بن جائیں گی جنہیں ڈرا کر بھگانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ 34 مَیں یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں سے خوشی اور جشن کی آواز اور دُلہے اور دُلہن کی آواز ختم کر دوں گا کیونکہ ملک کھنڈر بن جائے گا۔““