یرمیاہ
8 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُس وقت یہوداہ کے بادشاہوں، حاکموں، کاہنوں، نبیوں اور یروشلم کے باشندوں کی ہڈیاں اُن کی قبروں سے نکالی جائیں گی۔ 2 اُنہیں سورج، چاند اور آسمان کی ساری چیزوں* کے سامنے بکھیر دیا جائے گا جن سے وہ پیار کرتے تھے، جن کی وہ خدمت اور پرستش کرتے تھے، جن سے وہ مشورہ مانگتے تھے اور جن کے سامنے وہ جھکتے تھے۔ اُنہیں جمع نہیں کِیا جائے گا اور نہ ہی اُنہیں دفنایا جائے گا۔ وہ زمین کی سطح پر کھاد کی طرح بن جائیں گے۔“
3 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس بُرے خاندان کا باقی بچا ہوا حصہ ہر اُس جگہ پر جہاں مَیں اِسے تتربتر کروں گا، زندگی کو نہیں بلکہ موت کو چُنے گا۔“
4 ”تُم اُن سے یہ کہنا: ”یہوواہ یہ فرماتا ہے:
”کیا وہ گِریں گے اور دوبارہ نہیں اُٹھیں گے؟
اگر کوئی ایک پیچھے ہٹے گا تو کیا دوسرا بھی پیچھے نہیں ہٹے گا؟
5 یروشلم کے یہ لوگ مجھ سے مسلسل بےوفائی کیوں کر رہے ہیں؟
اُنہوں نے فریب کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے
اور وہ پیچھے ہٹنے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔
6 مَیں نے دھیان دیا اور سنتا رہا لیکن اُن کے بولنے کا طریقہ صحیح نہیں تھا۔
کسی بھی شخص نے اپنی بُرائی سے توبہ نہیں کی اور یہ نہیں پوچھا: ”مَیں نے کیا کِیا ہے؟“
ہر کوئی بار بار اُس راہ پر لوٹتا ہے جس پر دوسرے چلتے ہیں جیسے ایک گھوڑا جنگ کے لیے سرپٹ دوڑتا ہے۔
7 آسمان میں اُڑنے والے لقلق کو بھی اپنے مقررہ وقت کا پتہ ہوتا ہے؛
فاختہ، کوہی ابابیل اور بلبل* اپنے لوٹنے* کے وقت سے واقف ہوتی ہیں۔
لیکن میری اپنی قوم یہوواہ کے عدالتی فیصلے کو نہیں سمجھتی۔““
8 ”تُم کیسے کہہ سکتے ہو: ”ہم دانشمند ہیں اور ہمارے پاس یہوواہ کی شریعت* ہے؟“
کیونکہ اصل میں تو نقلنویسوں* کا جھوٹا قلم صرف جھوٹ لکھنے کے لیے اِستعمال ہوا ہے۔
9 دانشمند آدمیوں کو شرمندہ کِیا گیا ہے۔
وہ خوفزدہ ہو گئے ہیں؛ وہ پکڑے جائیں گے۔
دیکھو! اُنہوں نے یہوواہ کے کلام کو ترک کر دیا ہے۔
اُن میں کیسی دانشمندی ہے؟
10 اِس لیے مَیں اُن کی بیویاں دوسرے آدمیوں کو دے دوں گا
اور اُن کے کھیت دوسرے مالکوں کو
کیونکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک بےایمانی کی کمائی کھاتا ہے؛
نبی سے لے کر کاہن تک ہر ایک دھوکےبازی کرتا ہے۔
11 وہ یہ کہتے ہوئے میری قوم کی بیٹی کے زخموں* کا اُوپر اُوپر سے علاج کرتے ہیں:
”امن ہے! امن ہے!“
حالانکہ کوئی امن نہیں ہے۔
12 کیا اُنہیں اپنی گھناؤنی حرکتوں پر شرم آتی ہے؟
اُنہیں بالکل شرم نہیں آتی!
اُنہیں تو یہ تک نہیں پتہ کہ شرم ہوتی کیا ہے!
اِس لیے وہ گِرنے والوں کے ساتھ گِر جائیں گے۔
جب مَیں اُنہیں سزا دوں گا تو وہ ٹھوکر کھا کر گِر جائیں گے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
13 یہوواہ فرماتا ہے: ”جب مَیں اُنہیں جمع کروں گا تو مَیں اُن کا خاتمہ کر دوں گا۔
نہ تو انگور کی بیل پر کوئی انگور باقی رہے گا اور نہ اِنجیر کے درخت پر کوئی اِنجیر؛ پتّے مُرجھا جائیں گے۔
مَیں نے اُنہیں جو کچھ بھی دیا ہے، وہ اُسے گنوا دیں گے۔““
14 ”ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟
آؤ اِکٹھے ہو کر قلعہبند شہروں میں جائیں اور وہاں مر مٹیں
کیونکہ ہمارا خدا یہوواہ ہمیں ہلاک کر دے گا۔
وہ ہمیں پینے کے لیے زہریلا پانی دیتا ہے
کیونکہ ہم نے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا ہے۔
15 ہمیں امن کی اُمید تھی لیکن کچھ اچھا نہیں ہوا؛
شفا کی اُمید تھی لیکن دہشت چھائی ہوئی ہے!
16 دان سے اُس کے گھوڑوں کے نتھنوں کی زوردار آواز سنائی دے رہی ہے۔
اُس کے طاقتور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سے پورا ملک لرز جاتا ہے۔
وہ آ کر ملک کو اور اُس کی ہر چیز کو،
ہاں، شہر کو اور اُس کے باشندوں کو نگل جاتے ہیں۔“
17 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں تمہارے بیچ سانپ بھیج رہا ہوں،
ایسے زہریلے سانپ جنہیں بس میں نہیں کِیا جا سکتا۔
وہ ضرور تمہیں ڈسیں گے۔“
18 میرا غم ناقابلِعلاج ہے؛
میرا دل بیمار ہے۔
19 دُوردراز ملک سے،
ہاں، میری قوم کی بیٹی سے مدد کی دُہائی آئی ہے:
”کیا یہوواہ صِیّون میں نہیں ہے؟
کیا صِیّون کا بادشاہ اُس میں نہیں ہے؟“
”اُنہوں نے اپنی تراشی ہوئی مورتوں سے،
ہاں، اپنے فضول خداؤں سے مجھے غصہ کیوں دِلایا ہے؟“
20 ” کٹائی کا موسم گزر گیا ہے؛ گرمی کا موسم ختم ہو گیا ہے
لیکن ہمیں بچایا نہیں گیا ہے!“
21 اپنی قوم کی بیٹی کے زخموں پر میرا دل چُور چُور ہے؛
مَیں غم میں ڈوبا ہوا ہوں۔
خوف نے مجھے جکڑا ہوا ہے۔
22 کیا جِلعاد میں کوئی بلسان* نہیں ہے؟
کیا وہاں کوئی شفا دینے والا* نہیں ہے؟
میری قوم کی بیٹی کی صحت بحال کیوں نہیں ہو رہی؟