یرمیاہ
6 اَے بِنیامین کے بیٹو! یروشلم سے دُور پناہ لو۔
تقوع میں نرسنگا* بجاؤ؛
بیتہکرِم میں آگ جلا کر اِشارہ دو
کیونکہ شمال کی طرف سے ایک آفت، ہاں، ایک بڑی تباہی آ رہی ہے!
2 صِیّون کی بیٹی ایک خوبصورت اور نازک عورت کی طرح ہے۔
3 چرواہے اور اُن کے ریوڑ آئیں گے۔
وہ اُس کی چاروں طرف اپنے خیمے لگائیں گے،
ہر چرواہا اپنے گلّے کو چرائے گا۔
4 ”اُس کے خلاف جنگ کے لیے تیار* ہو!
اُٹھو، آؤ دوپہر کے وقت اُس پر حملہ کریں!“
”ہم پر افسوس کیونکہ دن ڈھل رہا ہے؛
کیونکہ شام کے سائے لمبے ہو رہے ہیں!“
5 ”اُٹھو، آؤ رات کے وقت حملہ کریں
اور اُس کے مضبوط بُرجوں کو ڈھا دیں“
6 کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:
”درخت کاٹو اور یروشلم پر حملہ کرنے کے لیے ڈھلان بناؤ۔
وہ ایسا شہر ہے جس سے حساب لیا جانا چاہیے؛
اُس میں ظلموستم کے سوا اَور کچھ نہیں ہے۔
اُس میں ظلم اور تباہی کی گُونج سنائی دیتی ہے؛
بیماری اور آفت مسلسل میرے سامنے رہتی ہیں۔
8 اَے یروشلم! خبردار ہو جا ورنہ مَیں* تجھ سے گِھن کھا کر تجھ سے مُنہ پھیر لوں گا؛
مَیں تجھے ویران کر دوں گا، ہاں، ایک غیرآباد ملک بنا دوں گا۔“
9 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:
”وہ اِسرائیل کے بچے ہوئے حصے کو اچھی طرح جمع کر لیں گے جیسے انگور کی بیل سے آخری انگور جمع کیے جاتے ہیں۔
انگور کی بیل سے انگور جمع کرنے والے کی طرح دوبارہ اپنا ہاتھ پھیر۔“
10 ”مَیں کس سے بات کروں اور کسے خبردار کروں؟
کون میری سنے گا؟
دیکھ! اُن کے کان بند* ہیں اِس لیے وہ دھیان نہیں دے سکتے۔
دیکھ! وہ یہوواہ کے کلام کا مذاق اُڑاتے ہیں؛
اُنہیں اِس سے کوئی خوشی نہیں ملتی۔
11 اِس لیے میرے اندر یہوواہ کا غضب بھرا ہوا ہے
اور مَیں اِسے دباتے دباتے تھک گیا ہوں۔“
”اِسے گلی میں بچوں پر اُنڈیل دو
اور جوان آدمیوں کے اُن گروہوں پر بھی جو ایک ساتھ جمع ہیں۔
اُن سب کو قیدی بنا لیا جائے گا، آدمیوں کو اُن کی بیویوں کے ساتھ
اور بوڑھوں کو اُن کے ساتھ جو اُن سے بھی بوڑھے ہیں۔
12 اُن کے گھر دوسروں کے حوالے کر دیے جائیں گے
اور اُن کے کھیت اور اُن کی بیویاں بھی
کیونکہ مَیں اپنا ہاتھ اِس ملک کے باشندوں کے خلاف بڑھاؤں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
13 ”چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک بےایمانی کی کمائی کھاتا ہے؛
نبی سے لے کر کاہن تک ہر ایک دھوکےبازی کرتا ہے۔
14 وہ یہ کہتے ہوئے میرے بندوں کے زخموں* کا اُوپر اُوپر سے علاج کرتے ہیں:
”امن ہے! امن ہے!“
حالانکہ کوئی امن نہیں ہے۔
15 کیا اُنہیں اپنی گھناؤنی حرکتوں پر شرم آتی ہے؟
اُنہیں بالکل شرم نہیں آتی!
اُنہیں تو یہ تک نہیں پتہ کہ شرم ہوتی کیا ہے!
اِس لیے وہ گِرنے والوں کے ساتھ گِر جائیں گے۔
جب مَیں اُنہیں سزا دوں گا تو وہ ٹھوکر کھا کر گِر جائیں گے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
16 یہوواہ فرماتا ہے:
”چوکوں پر کھڑے ہو اور دیکھو۔
لیکن وہ کہتے ہیں: ”ہم اُس پر نہیں چلیں گے۔“
17 ”مَیں نے پہرےداروں کو مقرر کِیا جنہوں نے کہا:
”نرسنگے* کی آواز پر دھیان دو!““
لیکن اُنہوں نے کہا: ”ہم دھیان نہیں دیں گے۔“
18 ”اِس لیے اَے قومو! سنو
اور اَے جماعت! جان لے
کہ اُن کے ساتھ کیا ہوگا۔
19 اَے زمین! سُن۔
مَیں اِس قوم پر آفت لا رہا ہوں
جو اُس کی اپنی ہی سازشوں کا پھل ہے
کیونکہ اُس نے میری باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا
اور میری شریعت* کو رد کر دیا۔“
20 ”تُم سبا سے جو لوبان اور دُوردراز ملک سے جو خوشبودار سرکنڈا لاتے ہو،
وہ میرے کس کام کا ہے؟
تمہاری بھسم ہونے والی سالم قربانیاں مجھے قبول نہیں ہیں
اور تمہاری قربانیوں سے مَیں خوش نہیں ہوتا۔“
21 اِس لیے یہوواہ یہ فرماتا ہے:
”مَیں اِن لوگوں کے راستے میں ایسی چیزیں رکھوں گا
جن سے وہ ٹھوکر کھائیں گے۔
وہ ٹھوکر کھا کر گِر جائیں گے،
ہاں، باپ اور بیٹا ایک ساتھ گِریں گے
اور پڑوسی اور اُس کا ساتھی بھی
اور سب تباہ ہو جائیں گے۔“
22 یہوواہ فرماتا ہے:
”دیکھو! شمال کے ملک سے ایک قوم آ رہی ہے؛
زمین کے دُوردراز علاقوں سے ایک بڑی قوم کو جگایا جائے گا۔
23 اُن کے ہاتھ میں کمانیں اور برچھیاں ہوں گی۔
وہ ظالم ہیں اور وہ کسی پر رحم نہیں کریں گے۔
اُن کی آواز میں سمندر جیسی گرج ہوگی
اور وہ گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔
اَے صِیّون کی بیٹی! وہ ایک جنگجو آدمی کی طرح تیرے خلاف لڑنے کے لیے صفیں باندھ رہے ہیں۔“
24 ہم نے اِس کے بارے میں خبر سنی ہے۔
ہمارے ہاتھوں میں جان نہیں رہی؛
پریشانی نے ہمیں جکڑ لیا ہے۔
ہم بچے کو جنم دینے والی عورت کی طرح سخت تکلیف میں ہیں۔
25 کھیت میں نہ جاؤ؛
راستے پر نہ چلو
کیونکہ دُشمن کے پاس تلوار ہے؛
ہر طرف دہشت ہی دہشت ہے۔
26 اَے میری قوم کی بیٹی!
ٹاٹ پہن اور راکھ میں لیٹ۔
دھاڑیں مار مار کر رو اور ایسے ماتم کر جیسے کوئی اپنے اِکلوتے بیٹے کے لیے کرتا ہے
کیونکہ تباہ کرنے والا اچانک ہم پر ٹوٹ پڑے گا۔
27 ”مَیں نے تمہیں* اپنی قوم کے بیچ دھاتوں کو جانچنے والا بنایا ہے
جو اچھی طرح پرکھتا ہے؛
تُم اُن لوگوں پر دھیان دو اور اُن کی روِش کا جائزہ لو۔
28 وہ سب کے سب اِنتہائی ڈھیٹھ ہیں؛
وہ دوسروں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔
وہ تانبے اور لوہے کی طرح ہیں؛
اُن سب میں کھوٹ ہے۔
29 دھونکنیاں* جل گئی ہیں۔
اُن کی آگ سے صرف سیسہ نکلا۔
اُنہیں خالص کرنے کی سخت کوشش کی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا
اور بُرے لوگوں کو الگ نہیں کِیا گیا۔
30 لوگ اُنہیں ٹھکرائی ہوئی چاندی کہیں گے
کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں ٹھکرا دیا ہے۔“