یرمیاہ
5 یروشلم کی گلیوں میں گھومو۔
آسپاس نظر دوڑاؤ اور دھیان سے دیکھو۔
اُس کے چوکوں میں ڈھونڈو۔
اگر تمہیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اِنصاف سے کام لیتا ہو
اور وفادار رہنے کی کوشش کرتا ہو
تو مَیں یروشلم کو معاف کر دوں گا۔
2 چاہے وہ کہتے ہیں: ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم!“
لیکن پھر بھی وہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں۔
3 اَے یہوواہ! کیا تیری نظریں وفاداری کو نہیں ڈھونڈتیں؟
تُو نے اپنے بندوں کو مارا لیکن اُن پر کوئی اثر نہیں ہوا۔*
تُو نے اُنہیں تباہ کر دیا لیکن اُنہوں نے اِصلاح کو قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔
اُنہوں نے اپنے چہرے چٹان سے بھی زیادہ سخت کر لیے
اور لوٹنے سے اِنکار کر دیا۔
4 لیکن مَیں نے خود سے کہا: ”یہ ضرور معمولی لوگ ہوں گے۔
یہ بےوقوفی سے کام لیتے ہیں کیونکہ یہ یہوواہ کی راہ کو نہیں جانتے،
ہاں، اپنے خدا کے فیصلے کو نہیں جانتے۔
5 مَیں بااثر لوگوں کے پاس جاؤں گا اور اُن سے بات کروں گا
کیونکہ اُنہوں نے ضرور یہوواہ کی راہ اور اپنے خدا کے فیصلے پر دھیان دیا ہوگا۔
لیکن اُن سب نے اپنا جُوا توڑ دیا تھا
اور اِس کے بندھنوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے۔“
6 اِس لیے جنگل کا شیر اُن پر حملہ کرتا ہے؛
بنجر میدانوں کا بھیڑیا اُنہیں پھاڑ کھاتا ہے
اور تیندوا اُن کے شہروں کے پاس گھات میں بیٹھتا ہے۔
جو بھی شخص وہاں سے باہر نکلتا ہے، اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جاتے ہیں
کیونکہ اُن کے گُناہ بہت زیادہ ہیں؛
اُنہوں نے بار بار بےوفائی کی ہے۔
7 مَیں تمہیں اِس کے لیے کیسے معاف کر سکتا ہوں؟
تمہارے بیٹوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔
وہ اُن کی قسم کھاتے ہیں جو خدا نہیں ہیں۔
مَیں نے اُن کی ضرورتیں پوری کیں
لیکن وہ زِناکاری کرتے رہے
اور مل کر ایک فاحشہ کے گھر گئے۔
8 وہ جوشیلے گھوڑوں، ہاں، شہوتپرست گھوڑوں کی طرح ہیں؛
ہر کوئی دوسرے کی بیوی کو دیکھ کر ہنہناتا ہے۔
9 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا مجھے اُن سے اِن باتوں کا حساب نہیں لینا چاہیے؟
کیا مجھے* ایسی قوم سے اپنا بدلہ نہیں لینا چاہیے؟“
10 ”آؤ اور حملہ کر کے اُس کے انگور کے باغ اُجاڑ دو
لیکن اُنہیں مکمل طور پر تباہ نہ کرنا۔
اُس کی بڑھتی ہوئی کونپلوں کو لے جاؤ
کیونکہ وہ یہوواہ کی نہیں ہیں۔
11 اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے نے
مجھے دھوکا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
12 ”اُنہوں نے یہوواہ کا اِنکار کِیا ہے اور وہ کہتے رہتے ہیں:
”وہ کچھ نہیں کرے گا۔*
ہم پر کوئی آفت نہیں آئے گی؛
ہم تلوار یا قحط نہیں دیکھیں گے۔“
13 نبیوں کی باتوں میں ہوا بھری ہوئی ہے
اور اُن کے اندر خدا کا کلام نہیں ہے۔
اُن کے ساتھ ایسا ہی ہو!“
14 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:
”یہ آدمی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں
اِس لیے مَیں اپنے کلام کو تمہارے مُنہ میں آگ بناؤں گا
اور اِن لوگوں کو لکڑی۔
اور یہ آگ اُنہیں بھسم کر دے گی۔“
15 یہوواہ فرماتا ہے: ”اَے اِسرائیل کے گھرانے! مَیں تیرے خلاف دُوردراز سے ایک قوم لا رہا ہوں۔
وہ قوم لمبے عرصے سے قائم ہے۔
وہ ایک قدیم قوم ہے؛
وہ ایک ایسی قوم ہے جس کی زبان تُو نہیں جانتا
اور جس کی بولی تُو نہیں سمجھ سکتا۔
16 اُن لوگوں کے ترکش* کُھلی قبر کی طرح ہیں؛
وہ سب جنگجو ہیں۔
17 وہ تیری فصل اور تیری روٹی کو نگل جائیں گے۔
وہ تیرے بیٹوں اور تیری بیٹیوں کو نگل جائیں گے۔
وہ تیرے گلّوں اور تیرے ریوڑوں کو نگل جائیں گے۔
وہ تیری انگور کی بیلوں اور تیرے اِنجیر کے درختوں کو نگل جائیں گے۔
وہ تیرے قلعہبند شہروں کو جن پر تجھے بھروسا ہے، تلوار سے تباہ کر دیں گے۔“
18 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن مَیں اُن دنوں میں بھی تمہیں مکمل طور پر تباہ نہیں کروں گا۔ 19 جب وہ تُم سے پوچھیں گے: ”ہمارے خدا یہوواہ نے ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کِیا؟“ تو تُم اُنہیں جواب دینا: ”جیسے تُم نے مجھے چھوڑ کر اپنے ملک میں دوسرے خدا کی خدمت کی ویسے ہی تُم ایک ایسے ملک میں جو تمہارا نہیں ہے، دوسرے لوگوں کی خدمت کرو گے۔““
20 یعقوب کے گھرانے میں یہ اِعلان کرو
اور یہوداہ میں یہ پیغام سناؤ:
21 ”اَے بےوقوف اور ناسمجھ قوم!* یہ بات سُن:
اُن کی آنکھیں تو ہیں مگر وہ دیکھ نہیں سکتے؛
اُن کے کان تو ہیں مگر وہ سُن نہیں سکتے۔
22 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا تمہیں میرا خوف نہیں ہے؟
کیا تمہیں میرے سامنے کانپنا نہیں چاہیے؟
مَیں ہی ہوں جس نے ریت سے سمندر کی حد بنائی ہے،
ہاں، اُسے ایک ابدی قانون دیا ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اُس کی لہریں اُچھلتی ہیں لیکن غالب نہیں آ سکتیں؛
وہ گرجتی ہیں لیکن اپنی حد پار نہیں کر سکتیں۔
23 لیکن اِن لوگوں کا دل ڈھیٹھ اور باغی ہے؛
اِنہوں نے مُنہ موڑ لیا ہے اور اپنے راستے چل پڑے ہیں۔
24 یہ لوگ اپنے دل میں یہ نہیں کہتے:
”آؤ اپنے خدا یہوواہ کا خوف رکھیں
جو موسم کے حساب سے بارش برساتا ہے،
ہاں، خزاں کی بارش اور بہار کی بارش؛
جو ہماری خاطر کٹائی کے مقررہ ہفتوں کی حفاظت کرتا ہے۔“
25 تمہاری اپنی غلطیوں کی وجہ سے تمہیں یہ چیزیں نہیں مل رہیں؛
تُم اپنے گُناہوں کی وجہ سے اچھی چیزوں سے محروم ہو گئے ہو
26 کیونکہ میرے بندوں کے بیچ بُرے لوگ موجود ہیں۔
وہ شکار کی تاک میں رہتے ہیں جیسے ایک چڑیمار گھات لگا کر بیٹھتا ہے۔
وہ جانلیوا پھندا بچھاتے ہیں اور اِنسانوں کو پکڑتے ہیں۔
27 جیسے ایک پنجرا پرندوں سے بھرا ہوتا ہے
ویسے ہی اُن کے گھر فریب سے بھرے ہیں۔
اِسی وجہ سے وہ طاقتور اور امیر ہو گئے ہیں۔
28 وہ موٹے تازے اور نرموملائم ہو گئے ہیں؛
وہ بُرائی سے اُوپر تک بھرے ہوئے ہیں۔
وہ یتیم کا مُقدمہ نہیں لڑتے
تاکہ وہ خود کامیاب ہو سکیں
وہ غریبوں کو اِنصاف دینے سے اِنکار کرتے ہیں۔““
29 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا مجھے اُن سے اِن باتوں کا حساب نہیں لینا چاہیے؟
کیا مجھے* ایسی قوم سے اپنا بدلہ نہیں لینا چاہیے؟
30 ملک میں یہ ہولناک اور بھیانک بات ہوئی ہے:
31 نبی جھوٹی نبوّت کرتے ہیں
اور کاہن اپنے اِختیار کو اِستعمال کر کے دوسروں کو دباتے ہیں۔
میرے اپنے بندوں کو یہ سب کچھ پسند ہے۔
لیکن جب خاتمہ آئے گا تو تُم کیا کرو گے؟“